آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Tuesday, February 25, 2014

نشتر

مونگ پهلی ہی سہی. ........

الیکشن کی آمد آمد ہے، ریلیاں،  بینرس اور پروپیگنڈہ کا بازار گرم ہے. سیاسی پارٹیوں کی تجوریوں کا منہ کهلا ہے، عوام سے لوٹی گئی دولت کا کچھ حصہ عوام پر خرچ کیا جا رہا ہے. جس سے کچھ نہ کچھ بهلا عام آدمی کا بھی ہورہا ہے. پنٹنگ ،  ہورڈنگ ، اسٹیج،  جھنڈا ، ٹوپی وغیرہ بنانے کا کام زور و شور سے جاری ہے. انتخابی جلسوں میں بھیڑ لگانے کے لئے کوئی نہ کوئی پارٹی کچھ گھنٹوں کے لئے ہی سہی انہیں روزگار دے رہی ہے۔ غریب عوام کا چولہا جل رہا ہے. 
 عوام پرانی باتیں بهول جاتے ہیں، لہٰذا عوام کو پهر سے  بیوقوف بنانے اور کچھ جهوٹے سچے وعدوں کے بیچ کچھ نہ کچھ کام بهی دیکهنے میں آرہا ہے، جیسے نالیوں کی صفائی،  تهوک سے ہی سہی مگر کی جانے والی سڑکوں کی مرمت. 
ان چار مہینوں کے بعد کسی نہ کسی پارٹی کی حکومت بن جائے گی اور عوام کی چار ماہ کی بہار کے بعد شروع ہوگا پنچ سالہ موسم خزاں اور پارلیمنٹ تک پہنچنے والے لیڈروں کا پنچ سالہ موسم بہار.
 پهر وہی گهپلے اور مادر وطن کو لوٹ کر ذاتی تجوری بهرنے کا دور۔
میرا ماننا ہے کہ جتنا وزن ایک الیکشن کرانے میں ملک پر پڑتا بے اس سے کئی گنا زیادہ ان لیڈروں کے گهپلوں اور ذاتی تجوریاں  بهرنے میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی ہوڑ سے پڑتا ہے تو کیا اس سے اچھا یہ نہیں کہ ایک الیکشن کے بعد دوسرا الیکشن آتا رہے اور مونگ پھلی یا کم از کم ایک کپ چائے ہی سہی عوام کو بهی  کچھ نہ کچھ ملتارہے. 

0 comments:

Post a Comment

خوش خبری