آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Tuesday, October 31, 2017

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں 97ویں یوم تاسیس کے موقع پر دو روزہ پروگرام کا انعقاد

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں 97ویں یوم تاسیس کے موقع پر دو روزہ  پروگرام کا انعقاد

(رپورٹ: محمد سعد اللہ صدیقی)


جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ۹۷ ویں   یوم تاسیس کے موقع پر دو روزہ پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ جو کل بروز اتوار سے شروع ہوکر آج بروز پیر اختتام پزیر ہوا۔
پروگرام کی ابتدا کل صبح ۹ بجے بدست وایس چانسلر طلعت احمد ہوئی۔ پروگرام کے آغاز پر اپنی تقریر میں جناب طلعت احمد نے جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے معیار کا مختصر تعارف کرایا۔۔ مزید برآں یہ بھی بتایا کہ عصر حاضر میں جامعہ کا تعلیمی معیار اور اقتدار ایشیائی سطح پر ۲۰۰ویں نمبر پر جبکہ ہندوستانی تعلیمی سطح پر ۵ویں نمبر پر شمار کیا جا رہا ہے ۔ یہ نہایت اعزاز کی بات ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ اپنی علمی اور فنی میدان میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ جامعہ اپنی علمی، ادبی و فنی اور تاریخی اعتبار سے بیش بہا علمی خزانوں کا مخزن رہا ہےـ
اس کے بعد مختلف پروگراموں کا سلسلہ شروع ہوا، جس میں سب سے پہلے بچوں نے جامعہ کا ترانہ پیش کیا ، بعد ازاں موسیقی اور نغمے کے مسابقے کرائے گئے۔ مختلف موضوعات پر مناقشے اور مباحثات کا بھی انعقاد کرایا گیا ، جس میں جامعہ کے بچوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ کئی موضوعات پر ڈرامے بھی اسٹیج کئے گئے جس کا تعلق محض معاشرتی اور اخلاقی زندگی کی اصلاح و فلاح و بہبود تھا۔ بروز اتوار رات میں کل ہند مشاعرے کا انعقاد کیا گیا جس میں ہندوستان کے مشہور شعراء کرام اسٹیج پر جلوہ افروز تھے۔ جس کی پیشکش پولس پبلک لائبریری کی جانب سے کی گئی تھی۔
بروز سوموار یوم تاسیس پروگرام کے آخری دن بھی پروگراموں کا سلسلہ اپنے شباب پر رہا۔ سب سے پہلے پروفیسر محمد مجیب موضوع کے تعلق سے توسیعی لیکچر کا انعقاد کیا گیا جس میں الگ الگ طلبائے جامعہ نے حصہ لیا۔ بعد ازاں مختلف موضوعات کے تحت ادبی پروگرام، بیت بازی ، نکڑ ناٹک اور خطابات پیش کئے گئے۔ سب سے اخیر میں مشہور قوال نظامی برادرس نے اصوفیائے کرام و تصوف کے تعلق سے قوالی پیش کرکے اپنے بہترین فن کا مظاہرہ کیا اور سامعین کو اپنی بہترین آواز اور کلام سے محظوظ و لطف اندوز کرایا۔
یہ بات قابل ذکر ہے یوم تاسیس کے ہی تعلق سے ایک عظیم الشان تعلیمی میلہ کا انعقاد کیا گیا جس میں علحدہ علحدہ شعبہ جات کے بک اسٹال لگائے گئے۔ طلبہ و طالبات کے علاوہ ان کے اہل خانہ اور علاقہ کے لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔





غزل ۔ طاہر عثمانی

غزل

تاج العرفان حکیم شاہ محمدطاہر عثمانی فردوسیؒ


مجھے راز درون دل عیاں کرنا نہیں آتا
حدیث دل سر محفل بیاں کرنا نہیں آتا


لئے پھرتی چمن میں ہر طرف ہے نکہت گل کو
صبا کو راز غنچوں کا نہاں کرنا نہیں آتا


جبین شوق مصروف تلاش حسن مطلق ہے
مجھے سجدوں کو صرف آستاں کرنا نہیں آتا


عجب بیچارگی ہے ان اسیران محبت کی
ہیں مجبور فغاں لیکن فغاں کرنا نہیں آتا


سناؤں شرح حال قلب مضطر کس طرح طاہرؔ

مجھے افشائے راز دیگراں کرنا نہیں آتا

           

Monday, October 30, 2017

غزل۔خمار بارہ بنکوی

غزل
خمار بارہ بنکوی
اکیلے ہیں وہ اور جھنجھلا رہے ہیں
مری یاد سے جنگ فرما رہے ہیں
یہ کیسی ہوائے ترقی چلی ہے
دیے تو دیے دل بجھے جا رہے ہیں
الٰہی مرے دوست ہوں خیریت سے
یہ کیوں گھر میں پتھر نہیں آ رہے ہیں
بہشت تصور کے جلوے ہیں میں ہوں
جدائی سلامت مزے آ رہے ہیں
قیامت کے آنے میں رندوں کو شک تھا
جو دیکھا تو واعظ چلے آ رہے ہیں
بہاروں میں بھی مے سے پرہیز توبہ
خمارؔ    آپ کافر ہوئے جا رہے ہیں

Sunday, October 29, 2017

پرنسپل کا خط والدین کے نام

:رشاد عثمانی کے واٹس اپ پیغام سے

سنگاپور میں امتحانات سے قبل ایک اسکول کے پرنسپل نے بچوں کے والدین کو خط بھیجا جس کا مضمون کچھ یوں تھا۔۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ۲۰۱۵ کے سالانہ تعلیمی میلہ میں ایک طالب علم کابنایا ہوا ماڈل۔تصویر آئینہ

" محترم والدین!
آپ کے بچوں کے امتحانات جلد ہی شروع ہونے والے ہیں میں جانتا ہوں آپ سب لوگ اس چیز کو لے کر بہت بے چین ہیں کہ آپ کا بچہ امتحانات میں اچھی کارکردگی دکھائے۔
لیکن یاد رکھیں یہ بچے جو امتحانات دینے لگے ہیں ان میں (مستقبل کے) آرٹسٹ بھی بیٹھے ہیں جنھیں ریاضی سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
اس میں بڑی بڑی کمپنیوں کے ترجمان بھی ہوں گے جنھیں انگلش ادب اور ہسٹری سمجھنے کی ضرورت نہیں ۔
ان بچوں میں (مستقبل کے) موسیقار بھی بیٹھے ہوں گے جن کے لیے کیمسٹری کے کم مارکس کوئی معنی نہیں رکھتے ان سے ان کے مستقبل پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا۔
ان بچوں میں ایتھلیٹس بھی ہو سکتے ہیں جن کے فزکس کے مارکس سے زیادہ ان کی فٹنس اہم ہے۔
لہذا اگر آپ کا بچہ زیادہ مارکس لاتا ہے تو بہت خوب لیکن اگر وہ زیادہ مارکس نہیں لا سکا تو خدارا اسکی خوداعتمادی اور اس کی عظمت اس بچے سے نہ چھین لیجئے گا۔
اگر وہ اچھے مارکس نہ لا سکیں تو انھیں حوصلہ دیجئے گا کہ کوئی بات نہیں یہ ایک چھوٹا سا امتحان ہی تھا وہ زندگی میں  اس سے بھی کچھ بڑا کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔
اگر وہ کم مارکس لاتے ہیں تو انھیں بتا دیں کہ آپ پھر بھی ان سے پیار کرتے ہیں اور آپ انھیں ان کم مارکس کی وجہ سے جج نہیں کریں گے۔
خدارا! ایسا ہی کیجیے گا اور جب آپ ایسا کریں گے پھر دیکھیے گا آپ کا بچہ  دنیا بھی فتح کر لے گا۔۔۔ ایک امتحان اور کم مارکس آپ کے بچے سے اس کے خواب اور اس کا ٹیلنٹ نہیں چھین سکتا۔
برائے مہربانی ایسا مت سوچئے گا کہ اس دنیا میں صرف ڈاکٹر اور انجینئرز ہی خوش رہتے ہیں۔۔
آپ کا مخلص

پرنسپل۔۔۔۔۔۔۔"

ریلیاں ہی ریلیاں

گزشتہ کئی برسوں سے ہندوستان بھر میں ریلیوں کی بہار ہے۔ اسی پس منظر میں طنز و مزاح کے مشہور شاعر حضرت رضا نقوی واہی مرحوم کی ایک مشہور نظم ملاحظہ کریں۔

Saturday, October 28, 2017

روایت اور جدّت کا خوبصورت امتزاج :افتخار راغبؔ

روایت اور جدّت کا خوبصورت امتزاج :افتخار راغبؔ 


فوزیہ ربابؔ



اے دل گر اس کے حُسن پہ کرنی ہے گفتگو
حدِّ جمالیات سے آگے کی سوچنا

بالعموم بہت کم شعر ایسے ہوتے ہیں جو پڑھتے ہی قاری کے ذہن پر نقش ہو جائیں اور ضرب المثل بننے کی خصوصیت رکھتے ہوں۔ اس بھیڑ میں چند شعراء ہی ایسے ہیں جنھوں نے اپنی محنت لگن اور دیانتداری سے وادیِ سخن میں اپنا جداگانہ مقام پیدا کیا ہے۔ انھیں میں ایک افتخار راغبؔ صاحب ہیں جن کے زیادہ تر اشعار تاثر اور تاثیر سے لبریز ہیں:
دھیان اپنی جگہ نہیں راغبؔ 
لکھ دیا کس کا نام اپنی جگہ
اس نے یوں آج شب بخیر کہا
صبح تک خیریت نہیں میری
جی تو کرتا ہے اپنے لب سی لوں
تم کو کہہ کر کبھی خدا حافظ
مرے خدا مجھے اپنی امان میں رکھنا

پھر اس نے ہاتھ بڑھایا ہے دوستی کے لیے

افتخار راغبؔ صاحب کی شاعری روایت اور جدّت کا خوبصورت امتزاج ہے۔ یعنی ان کے یہاں ملیح روایات کی پاسداری بھی ہے اور جدّت کی شیرینی بھی، نازک احساسات و جذبات بھی ہیں تلخی و ترشی بھی، حزن و یاس کی کیفیت بھی ہے مگر فرحت و شادمانی کا جذبہ اس پر غالب ہے۔ غالبؔ سی پرکاری و زبان و بیان کے دروبست میں تخلیقی شان ہے تو میرؔ کی سادگی و سلاست حزن و یاس کے ساتھ اثر انگیزی بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔ کہتے ہیں اچھے شعر کی خوبی یہ ہے کہ اسے پڑھ کر بے ساختہ آہ یا واہ نکل جائے۔ یہ کیفیت راغبؔ صاحب کی شاعری میں بہت نمایاں طور پرموجود ہے مگر غور کرنے پر معنی و مفہوم کے نئے در وا ہوتے جاتے ہیں:
ساری دنیا کو ہرانے والی
ایک درویش سے ہاری دنیا
خوش بیاں تجھ سے زیادہ کون ہے
چپ یہاں تجھ سے زیادہ کون ہے
کیا کہوں راغبؔ ترے بارے میں اب
خوش گماں تجھ سے زیادہ کون ہے
خواہشِ ناتمام سے تکلیف
دل کو ہے دل کے کام سے تکلیف
ماتم پُرسی مت کر اے منھ زور ہَوا
کتنے پتّے ٹوٹے اب تعداد نہ گِن
افتخار راغبؔ کی شاعری حیات و کائنات کا مربوط و منضبط فلسفہ بیان کرتی ہے۔ ان کی شاعری ان کے مزاج کی آئینہ دار ہے ان کا عزمِ مصمم نیز مستقل مزاجی ان کی شاعری میں بھی خوب نظر آتی ہے۔ حکیمانہ افکار کو فلسفیانہ انداز میں بیان کرنے کے گرُ سے افتخار راغبؔ بخوبی واقف ہیں:
روک دے پرواز میری، کاٹ دے صیّاد پر
توٗ مجھے مجبور کر سکتا نہیں فریاد پر
ہم کو بس اک ذات سے امّید ہے اور کچھ نہیں
آپ کو تکیہ ہے اپنی طاقت و تعداد پر
امن کی ہر ہاتھ میں قندیل ہو
روشنی میں روشنی تحلیل ہو
مجھے تھا رہنا سدا اپنی بات پر قائم
میں سنگِ میل ہوا گردِ کارواں نہ ہوا
مشکلیں لاکھ راہِ شوق میں ہوں
شوقِ منزل سنبھال کر رکھنا
ہم ہیں قائم اصول پر اپنے
گردشِ صبح و شام اپنی جگہ
علم والوں کو علم ہے راغبؔ 
دولتِ جہل آگہی سے ملے
مچھلی کیسے رہتی ہے پانی کے بِن
حال سے میرے خوب ہیں وہ واقف لیکن
یہاں ایک لفظ ’’لیکن‘‘ سے شعر میں جو تاثیر اور کیفیت پیدا ہوئی ہے اس کو بس محسوس کیا جا سکتا ہے بیان نہیں۔
راغبؔ صاحب کی شاعری میں عمدہ تراکیب، خوبصورت استعاراتی زبان، بے ساختگی کے ساتھ ساتھ مشکل و منفرد ردیفوں میں بھی بڑے عمدہ اشعار ملتے ہیں۔ ان کی پوری شاعری پر نظر ڈالی جائے تو نئی زمینوں کی بہتات نظر آتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جو فقرہ یا لفظ ان کو پسند آجائے اسے ردیف بنا کر شاہ کار غزل کہنے پر ان کو دسترس حاصل ہے۔ ان کی شاعری کا مطالعہ کرنے پر عام طور سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ افتخار راغب ؔ چھوٹی بحر کے بڑے شاعر ہیں لیکن اس کتاب میں بڑی بحروں میں جو غزلیں نظر نواز ہوئیں ان سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بڑی بحروں پر بھی آپ کو عبور حاصل ہے :
کس جگہ کس وقت اور کس بات پر کتنا چپ رہنا ہے اُن کو علم ہے
میری شرحِ خواہش و جذبات پر کتنا چپ رہنا ہے اُن کو علم ہے
اے غزل بے قرار رہتا ہوں صرف تجھ پر نثار رہتا ہوں
تجھ پہ راغبؔ مری طبیعت ہے چین آئے تو کس طرح آئے
چھپ چھپ کر دل کیوں روتا ہے کیا عالم وحشت ہوتا ہے
رہ رہ کر جی گھبرائے گا، تب بات سمجھ میں آئے گی
اچھا لگتا ہے تم کو اگر کھیلنا میرے جذبات سے
کچھ نہ بولوں گا میں عمر بھر کھیلنا میرے جذبات سے
گجرات کی طرح ہوں میں، مجھ کو بھی غم گسار دو
کس کو بتاؤں کس طرح گزرا تھا دو ہزار دو
اُس نے کہا تھا ایک شب ’’تم نے مجھے بدل دیا‘‘
کیسے کہوں میں اُس سے اب تم نے مجھے بدل دیا
افتخار راغبؔ کی شاعری میں میریت کا عنصر نمایاں ہے۔ سادگی، سلاست، مضامین کا تنوع غرض یہ کہ تاثر اور تاثیر سے مملو آپ کی بیشتر غزلیں شاہ کار تخلیق ہیں۔آپ کی شاعری جذباتِ زندگی و عصرِ حاضر کی عکّاسی کرتی ہے۔ نیز سادگی و اصلاحِ زبان و بیان کے تو کیا کہنے۔ یہ عنصر میں نے موجودہ دور کے شعراء میں بہت کم پایا ہے:
یوں ہی رہنے لگی ہے وحشت سی
کوئی آفت نہیں محبت سی
آ محبت سے آ سکون سے رہ
دل ہے مسکن ترا سکون سے رہ
سبز پتّو ڈرو ہواؤں سے
میں تو ٹوٹا ہوا ہوں میرا کیا
لیجیے اور امتحان مرا
اور ہونا ہے کامیاب مجھے
لے کے نکلے ہو دور بین کہاں
اُن کے جیسا کوئی حسین کہاں
ایک خاص بات جو میں نے آپ کی شاعری میں محسوس کی وہ یہ کہ آپ کی شاعری میں حساسیت تو بدرجہ اتم موجود ہے مگر اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ احساس اور جنون کے درمیان جو ایک غیر مرئی لکیر ہے اس سے آپ خوب شناسا ہیں:
تمھاری مسکراہٹ کھینچتی ہے
تبسّم کی لکیریں جسم و جاں میں
دل کے دو حرفوں جیسے ہی ایک ہیں ہم
اک متحرک ہر لمحہ اور اک ساکن
پوچھا گیا تمھارے تعلق سے کچھ اگر
تم ہاں اُسے سمجھنا میں بولوں اگر نہیں
میں افتخار راغبؔ صاحب کے تینوں مجموعہ ہائے غزلیات ’’لفظوں میں احساس‘‘ ، ’’خیال چہرہ‘‘ اور ’’غزل درخت‘‘ پڑھ چکی ہوں اور چوتھا مجموعہ "یعنی تو" کے مسودے کا بھی میں نے بغور مطالعہ کر لیا ہے۔ لہٰذا یقین کامل ہے کہ راغبؔ صاحب جس قسم کی شاعری کررہے ہیں یہ ادب کا بیش قیمتی اثاثہ ثابت ہوگی۔آپ کی بیشتر غزلیں اور اشعار دل کو چھو گئے۔ اب کیا کیا لکھوں اور کیا نہ لکھوں کہ وقت کم ہے اور گفتگو طویل ہوتی جارہی ہے ۔ راغبؔ صاحب کو صمیمِ قلب سے مبارکباد پیش کرتی ہوں اور آخر میں اب ملاحظہ فرمائیں وہ غزل جو اس مکمل کتاب کی وجہِ تخلیق بنی ہے جسے پڑھتے ہی بالیقین آپ بھی مسحور ہو جائیں گے۔ آپ غزل کا لطف لیجیے اور مجھے دیجیے اجازت کہ پھر ملیں گے اگر خدا لایا:
پیکرِ مہر و وفا روحِ غزل یعنی توٗ
مِل گیا عشق کو اِک حُسن محل یعنی توٗ
شہرِ خوباں میں کہاں سہل تھا دل پر قابوٗ
مضطرب دل کو ملا صبر کا پھل یعنی توٗ
غمِ دل ہو غمِ جاناں کہ غمِ دوراں ہو
سب مسائل کا مِرے ایک ہی حل یعنی توٗ
گنگناتے ہی جسے روح مچل اُٹھتی ہے 
میرے لب پر ہے ہمیشہ وہ غزل یعنی توٗ
دفعتاً چھیڑ کے خود تارِ ربابِ الفت
میرے اندر کوئی جاتا ہے مچل یعنی توٗ
ڈھونڈ کر لاؤں کوئی تجھ سا کہاں سے آخر
ایک ہی شخص ہے بس تیرا بدل یعنی توٗ
پیاس کی زد میں محبت کا شجر یعنی میں
جس پہ برسا نہ کبھی پریٖت کا جل یعنی توٗ
قلبِ راغبؔ میں عجب شان سے ہے جلوہ فگن
دلربائی کا حسیں تاج محل یعنی توٗ


’’یعنی تو‘‘ کی تقریبِ رونمائی

بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام افتخار راغبؔ کے 
چوتھے مجموعۂ غزلیات ’’یعنی تو‘‘ کی تقریبِ رونمائی



قطر کی قدیم ترین اردو ادبی تنظیم، بزمِ اردو قطر (قائم شدہ 1959ء ؁) نے ۵ ا/کتوبر ۲۰۱۷ء بروز جمعرات کو دوحہ کے معروف ہوٹل ’کریسٹل پیلس ہوٹل‘ کے عالی شان ہال میں تخلیقِ کارِ کلامِ دل پذیر، علمبردارِ توازنِ لفظ و معنی ، بدرِ آسمانِ شعر و سخنِ قطر اور افتخارِ بزمِ اردو قطر جناب افتخار راغبؔ کے چوتھے مجموعۂ غزلیات ’’یعنی تو‘‘ کی تقریبِ رونمائی کا اہتمام کیا۔ پروگرام کی صدارت شاعرِ خلیج و فخر المتغزین و انڈیا اردو سوسائٹی کے بانی صدر جناب جلیلؔ نظامی نے فرمائی۔ جب کہ انڈین ایسو سی ایشن آف بہار اینڈ جھارکھنڈ قطر کے چیئرمین جناب محمد فاروق احمد اور کاروانِ اردو قطر کے نائب صدر جناب حسیب الرحمان ندوی مہمانانِ خصوصی کی نشستوں پر جلوہ افروز ہوئے۔مہمانِ اعزازی جناب افتخار راغبؔ کے علاوہ بزم کے سینئر سرپرست جناب سید عبد الحئی نے بھی اسٹیج کو پُر وقار کیا۔بزمِ اردو قطر کے صدر و معروف شاعر جناب محمد رفیق شادؔ آکولوی نے جناب افتخار راغبؔ کے معروف اشعار کے عمدہ انتخاب اور بڑے افتخار و وقار کے ساتھ نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ 
پروگرام کا باضابطہ آغاز حافظ شمس الرحمان صدیقی صاحب کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ معروف خوش گلو جناب عبد الملک قاضی نے افتخار 
راغبؔ صاحب کی نئی کتاب سے حمد پیش کی۔ چند اشعار ملاحظہ کیجیے:
آنکھوں سے کفر و جہل کی عینک اُتار دیکھ
ہر شَے میں کار سازیِ پروردگار دیکھ
کس بات کا ہو غم مجھے کیوں رنج ہو کوئی
کس ذاتِ پاک پر ہے مِرا انحصار دیکھ
کہتے ہیں بے شمار کسے کیا پتا تجھے
اُس کی عنایتیں کبھی کر کے شمار دیکھ
آنکھیں خدا نے دی ہیں تو راغبؔ صد اشتیاق
ہر چیز میں کمالِ فنِ کردگار دیکھ
ناظمِ اجلاس جناب شادؔ آکولوی نے بزمِ اردو قطر کا مختصر تعارف پیش فرمایا اور مہمانان و حاضرین کا پر جوش استقبال کیا۔ بزمِ اردو قطر کے خازن جناب غلام مصطفےٰ انجم نے جناب افتخار راغبؔ کا مختصر تعارف پیش کیا۔ آپ نے فرمایا کہ دبستان قطر کے ایک گوہرِنایاب، سنجیدہ اور مزاحیہ شاعری کے آسمان کے روشن آفتاب، بزمِ اردو قطر کی شان، سادگی و پرکاری کے ترجمان جناب افتخار راغبؔ کا تعلق ہندوستان کے صوبہ بہار سے ہے۔ مارچ ۱۹۹۹ میں قطر میں آمد کے کچھ ہی دنوں بعد آپ بزمِ اردوقطر سے وابستہ ہو گئے اور گزشتہ ۷ برس سے جنرل سکریٹری کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ آپ کے اب تک تین شعری مجموعہ ہائے کلام ’لفظوں میں احساس‘، ’خیال چہرہ‘ اور ’ غزل درخت‘ منظرِعام پر آکر مقبولیت حاصل کر چکے ہیں اور چوتھی کتاب ’’یعنی تو‘‘ کی آج تقریبِ رونمائی ہے اور آپ کی مزاحیہ شاعری کا مجموعہ بھی زیرِ ترتیب ہے۔
صاحب صدر جناب جلیلؔ نظامی اور بزم کے سرپرست جناب سید عبد الحئی کے دستِ مبارک سے کتاب کا اجرا عمل میں جن کے ساتھ مہمانانِ خصوصی جناب حسیب الرحمان و جناب فاروق احمد اور صاحب کتاب جناب افتخار راغبؔ کے علاوہ بزمِ اردو قطر کے ذمہ داران جناب ڈاکٹر فیصل حنیف، جناب شادؔ آکولوی، جناب فیروز خان، فیاض بخاری کمالؔ ، جناب وزیر احمد وزیرؔ اور جناب غلام مصطفےٰ انجم بھی شامل ہوئے۔ اجرا کے بعد انڈین ایسوسی ایشن آف بہار اینڈ جھارکھنڈ کی جانب سے جناب افتخارراغبؔ کو گلہائے عقیدت پیش کیے گئے جس میں ایسوسی ایشن کے صدر جناب محمد غفران صدیقی کے ساتھ کئی ذمہ داران بھی شامل تھے۔ جناب محمد یاور نے بھی راغبؔ صاحب کو بڑے ہی خلوص سے گلدستہ پیش کر کے مبارکباد پیش کی۔رسمی کاروائی کے بعد پروگرام کو آگے بڑھاتے ہوئے شادؔ صاحب نے راقم الحروف (فیاض بخاری کمالؔ ) کو صاحبِ کتاب کو منظوم خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے آواز دی جس کی حاضرین نے خوب پذیرائی کی۔ چند 
اشعار آپ کی خدمت میں:
بزمِ اردو کی شان ہیں راغبؔ 
پاسبانِ زبان ہیں راغبؔ 
شاعری میں مگن ہیں صبح و شام
چھٹی کس دن کی اور کیا آرام
وہ مہندس ہیں اپنے پیشے سے
ہیں اجالے ہر ایک گوشے سے
اپنے فعل و ہنر میں رخشندہ
بزمِ شعر و سخن میں تابندہ
مہمان خصوصی جناب حسیب الرحمان ندوی نے جناب افتخار راغبؔ پر لکھے چند مضامین سے اقتباسات پیش کیے۔ چند اقتباسات سے آپ بھی حظ اٹھائیے:
کلیم احمد عاجزؔ : ۔۔۔ تو میں افتخار راغبؔ صاحب کا کلام سن کر چونکاکہ اس عہد میں یہ آواز، یہ لہجہ اور یہ تیوَر اور یہ کلاسیکل اسلوب اس جوان کے ذوقِ شعر میں کیسے داخل ہو گیا؟ ۔۔۔افتخار راغبؔ کے متعلق میں ایک بات اور کہہ دوں۔ وہ بات اب شاید نو جوانوں میں کسی پر صادق آتی ہو۔ وہ یہ کہ ان میں فطری جوہرِ شاعری ہے۔ وہ شاعری پر محنت کریں نہ کریں اگر شغل ہی جاری رکھیں گے تو ان کے سامنے کشادہ اور افتادہ راہیں خود بخود نمایاں ہوتی رہیں گی۔ انھیں فطری طور پر زبان و بیان اور اسلوب پر گرفت نظر آتی ہے۔ یہ بہت خوش نصیبی کی بات ہے ۔ ۔۔۔(اقتباس مضمون: اَیں ۔۔۔ کس کی آواز ہے یہ ، کتاب: غزل درخت)
پروفیسر احمد سجّاد:۔۔۔فطرت میں جو سادگی و بے ریائی کے ساتھ حسن آفرینی ہوتی ہے وہی خصوصیات ایک فطری شاعر کے یہاں پائی جاتی ہیں،افتخار راغب ؔ کی خوش نصیبی کہ وہ ان خوبیوں سے متصف ہیں۔ کبھی کبھی تو یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ ان کی پوری شاعری سہل ممتنع کی شاعری ہے۔ صاف، سادہ، سلیس و فصیح مگر معنیٰ خیز اور فکر انگیز۔ اس لیے بہت آسان اور دلکش ہوتے ہوئے بھی جملہ تہداریوں پر عبور حاصل کرنا مشکل ہے۔ ہوا اور پانی کس قدر سہل الحصول ہیں مگر انہیں اپنی مٹھی میں قابو کرنا ناممکن ہوتا ہے یہی حال راغبؔ کی شاعری کا ہے کہ ہر شعر دل کو چھو تو لیتا ہے مگر اس کی چوپہل کیفیات کو قابو میں کرنا مشکل ہے۔۔۔۔
(اقتباس مضمون: ایک البیلا فطری شاعر ۔ افتخار راغبؔ ، کتاب: غزل درخت)
ڈاکٹر فیصل حنیف:۔۔۔اگر کسی شعر میں سادگی، سلاست، اصلیت اور واقعیت، جوش، جدت، اثر پذیری، آفاقیت، اسلوب ہو وہ یقینی طور پر اچھا شعر ہوگا۔ ان خوبیوں کی عدم موجودگی میں شعر کی اہمیت اور خوبصورتی کم ہو جائے گی۔ان خوبیوں کو پیمانہ بنا کر، راغبؔ کے کلام کو پرکھا جائے تو راغبؔ کی کتاب’غزل درخت‘ میں سرو سے سر سبز مصرعے اور گل سے رنگیں تر شعر کثیر تعداد میں ملیں گے۔ راغبؔ کے کلام میں، ان کی زبان آوری اور معجز بیانی کی بدولت آج کے زبان و ادب کے انحطاط کے دور میں زبانِ اردو کی درخشانی صورتِ مہرِ نیم روز کھل کر سامنے آتی ہے۔ افتخار راغبؔ دبستان قطر کے نمائندہ شاعر اور زبان و بیان کے اعتبار سے اپنے اکثر ہم عصر شعراء کے لیے قابلِ تقلید ہیں ۔ راغبؔ کا شعر بہت ہی نکھرا اور رواں ہوتا ہے۔ ان کا رنگِ شعر ایک ایسی خاص ادا رکھتا ہے کہ وہ اِس دبستان میں تنہا معلوم ہوتے ہیں۔ شاعری میں زبان و بیان پر انھیں قدرت ہے اور شعری عیوب و محاسن پر گہری نظر۔ راغبؔ کے کلام میں اچھا شعر ڈھونڈھنا نہیں پڑتا۔۔۔۔(اقتباس مضمون: دعوتِ کیف ، کتاب: غزل درخت)
پروفیسرعلیم اللہ حالیؔ :۔۔۔افتخار راغبؔ کے لہجے کی سادگی سب سے پہلے ہمیں اپنی طرف کھینچتی ہے۔ اکثر شعرا اپنی تخلیقی کمزوری کو چھپانے کے لیے خوب صورت تراکیب اور صناعانہ حربوں کا استعمال کرتے ہیں ، راغبؔ کی شاعری اپنی فطری سادگی کے ساتھ ہمارے سامنے آتی ہے ۔ لیکن اس سلیس اور سادہ اندازِ اظہار میں جوہرِ سخن کچھ اس طرح چمک پیدا کر دیتا ہے کہ قاری چونک جاتا ہے ، ان کے یہاں لفظوں کے استعمال میں کفایت شعاری بھی ہے، کم سے کم لفظوں میں نہایت غیر صناعانہ انداز میں افتخار راغبؔ سہل ممتنع کی خصوصیت پیدا کر دیتے ہیں۔ ۔۔۔ (اقتباس مضمون: افتخار راغبؔ میری نظر میں)
فوزیہ ربابؔ : ۔۔۔راغبؔ صاحب کی شاعری میں عمدہ تراکیب، خوبصورت استعاراتی زبان، بے ساختگی کے ساتھ ساتھ مشکل و منفرد ردیفوں میں بھی بڑے عمدہ اشعار ملتے ہیں۔ ان کی پوری شاعری پر نظر ڈالی جائے تو نئی زمینوں کی بہتات نظر آتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جو فقرہ یا لفظ ان کو پسند آجائے اسے ردیف بنا کر شاہ کار غزل کہنے پر ان کو دسترس حاصل ہے۔ ۔۔۔ایک خاص بات جو میں نے آپ کی شاعری میں محسوس کی وہ یہ کہ آپ کی شاعری میں حساسیت تو بدرجہ اتم موجود ہے مگر اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ احساس اور جنون کے درمیان جو ایک غیر مرئی لکیر ہے اس سے آپ خوب شناسا ہیں۔ ۔۔۔(اقتباس مضمون: روایت اور جدت کا خوبصورت امتزاج افتخار راغبؔ ، کتاب :یعنی تو)
ڈاکٹرحسن رضا صاحب: ۔۔۔راغبؔ کا اخلاقی شعور اسلامی تہذیب کی بنیادی قدروں سے حرارت لیتا ہے۔اس لیے وہ اپنی غزلوں میں اظہارِ محبت کے حوالے سے انسانی تعلقات میں نورِ ظلمات کی جو کیفیات پیدا ہوتی ہیں۔ ان تجربات سے جنم لینے والے تہہ در تہہ احساسات کو سادہ لفظوں میں اس طرح ڈھال دیتے ہیں کہ ہمارے احساسات ان کو گرفت میں لے سکیں اوروہ ہمارے لیے کسی پہلو سے بھی اجنبی نہ رہیں۔ اسی لیے ان کے اشعار سہل اور مانوس معلوم ہوتے ہیں۔ ۔۔۔ان کا ذہن تخلیقی اعتبار سے بڑا ذرخیز ہے۔ آس پاس کی دنیا سے انہوں نے ایک تخلیقی رشتہ استوار کر لیا ہے۔چنانچہ ’’ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن نئی شان‘‘ کی طرح ان کی شاعری میں رنگا رنگ احساسات ، ہر طرح کے جذبات گوں نا گوں تجربات سب تخلیقی عمل سے گزر کر ایک فطری معصومیت کے ساتھ شعر کے پیکرمیں ڈھلتے رہتے ہیں ۔ ان کے اظہار میں ایک بھولا پن ہے جس کی وجہ سے ان کی شاعری کی فضا میں گھن گرج نہیں ہے ،بلکہ مدھم لہجہ اور دھیمی آواز میں ان کی غزلیں بیمار و بے قرار دل کے لیے تسکین کا سامان فراہم کر دیتی ہیں۔ ۔۔۔راغبؔ کی غزلوں میں دورِ حاضر کے انسانوں میں جو دوری ،بے حسی اور بے مرووتی پائی جاتی ہے اس کا شاعرانہ اظہار بھی جابجا ہوا ہے اور ان غزلوں میں سیاسی ،کاروباری، سماجی اورذاتی تعلقات کی بے حسی سب شامل ہے۔ چنانچہ اس مطالعہ کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ راغب ؔ کی شاعری میں آج کے ماحو ل کا حسی پہلو ،ارد گرد کی داخلی فضا ،اس کا دھواں، معاشرے کا آگ اور پانی کا کھیل، حق و باطل کی کشمکش، ہجرت اور بے مکانی کا احساس ،تنہائی کا ماتم، ہجر و وصل کی داستانیں، اکیسویں صدی کے انسانوں کے مخصوص حالات کی تپش اور اس سے پیدا ہونے والی بے چینی اور اضطراب سب کا اظہار غزل کے فورم میں ڈھل کر ایک نئے جمالیاتی تجربے کے ساتھ ہوا ہے ۔جس میں عام انسان شریک ہوکر بصیرت اور جمالیاتی مسرت حاصل کرسکتا ہے۔ (اقتباس مضمون : افتخار راغبؔ کی غزل گوئی ۔ ایک تنقیدی مطالعہ ، کتاب: یعنی تو)
شادؔ آکولوی صاحب نے جناب ڈاکٹر وصی الحق وصیؔ کو منظوم خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے آواز دی۔ آپ نے فرمایا کہ:
لائقِ احترام ہے راغبؔ 
فن کا ماہِ تمام ہے راغبؔ 
اس کے اشعار سن کے دیکھو تو
شاعرِ خوش کلام ہے راغبؔ 
خوش فکر شاعر جناب مظفر نایاب نے اپنے مخصوص آواز و انداز میں صاحبِ کتاب کو منظوم ہدیۂ خلوص پیش کرتے ہوئے کہا کہ:
یہ خراج کا مصرع اک لطیف اشارہ ہے
سہلِ ممتنع ان کا قیمتی اثاثہ ہے
افتخار راغبؔ کو جانتے ہیں سب نایابؔ 
آسمانِ اردو کا خاص اِک ستارہ ہے
بزمِ اردو قطر کے چیئرمین اور گزرگاہِ خیال فورم کے بانی صدر و معروف نثر نگار جناب ڈاکٹر فیصل حنیف نے ’’یعنی تو‘‘ کے لیے لکھا ہوا اپنا مخصوص انداز کا مضمون پیش کیا جس کا عنوان بھی ’’یعنی تو‘‘ ہے جسے حاضرین خوب داد و تحسین سے نوازا۔ آپ کے تخیل نے اردو کے دو عظیم شعراء مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ اور شیخ محمد ابراہیم ذوقؔ کو ایک محفل میں رونق افروز کر دیا ہے جو جناب افتخار راغبؔ کی کتاب ’’یعنی تو‘‘ کے لیے منعقد کی گئی ہے۔افتخار راغبؔ اپنا کلام پیش کر رہے ہیں اور ہر شعر پر حضرتِ غالب اور ذوق داد و تحسین نیز تبصرہ فرما ررہے ہیں۔ چند مکالمے آپ بھی سماعت فرمائیں:
جب سے تم غزلوں کے محور ہو گئے
میرے سارے شعر خود سر ہو گئے
"طرزِ شعر نرا فسوں ہے۔ 'جب سے' نے عجب لطف دیا۔ ایسے شعر دل کو شگفتہ کرتے ہیں۔ "
"واہ مرزا اس کو کہتے ہیں کہ طبعیت نے راہ دی اور شاعر نے نباہ دی۔ شعروں کو محبوب کا ہم مزاج بنتے خال خال دیکھا ہے۔ محبوب کی خوبی کو شعر کی خوبی بنا دیا۔ واہ برخوردار!"
" خاقانیِ ہند ، مصرع گنگنانا بند کرو تو لڑکا اگلا شعر سنائے۔ "
پھول جیسے ہاتھ میں لے کر گلاب
اُس نے یوں دیکھا کہ پتھّر ہو گئے
سر اٹھا کر ظالموں سے بات کی
آج ہم اپنے برابر ہو گئے
"کیا شعر جوڑا ہے، کٹ کٹ کے جگر گرا جاتا ہے۔آج ہم اپنے برابر ہو گئے۔"
"میاں بصد افتخار یہ مضمون باندھ کر تم اپنے سے بڑے ہوگئے۔ برابر اس سے پچھلے شعر میں ہو چکے۔"
وادیِ عشق میں اب گم ہو جاؤں
مجھ میں بس جاؤ کہ میں تم ہو جاؤں
"بے ساختگی اور والہانہ پن قابلِ دید ہے۔ شعر کہنے والوں کے لیے صلائے عام ہے کہ طوافِ کوئے جاناں مسلسل تمنا کے پیچ و خم کو جب اور الجھا دے تو ایسی حدیثِ نو سوجھتی ہے۔ مرزا، تم کیا کہتے ہو؟"
"شعر گریباں گیر ہے۔ رنگینی اور نزاکت مل گئے۔عشق کی دنیا اسی سرمستی سے آباد ہے۔"
اس کے بعد جناب افتخار راغبؔ کو کلام پیش کرنے کی دعوت دی گئی۔ آپ نے سب سے پہلے ’’یعنی تو‘‘ ردیف والی غزل پیش کی اور اُس کے بعد دو غزلیں سامعین سے بے ساختہ صفحہ نمبر پوچھ کر اس صفحے کی غزلوں سے سامعین کو خوب محظوظ کیا ۔ چند اشعار حاضرِ خدمت ہیں:
پیکرِ مہر و وفا روحِ غزل یعنی توٗ
مِل گیا عشق کو اِک حُسن محل یعنی توٗ
شہرِ خوباں میں کہاں سہل تھا دل پر قابوٗ
مضطرب دل کو ملا صبر کا پھل یعنی توٗ
غمِ دل ہو غمِ جاناں کہ غمِ دوراں ہو
سب مسائل کا مِرے ایک ہی حل یعنی توٗ
ڈھونڈ کر لاؤں کوئی تجھ سا کہاں سے آخر
ایک ہی شخص ہے بس تیرا بدل یعنی توٗ
چشمِ حیرت کی تڑپ دُور کریں
خود کو اب اور نہ مستور کریں
فرطِ جذبات میں کیا کہہ بیٹھوں
لب کشائی پہ نہ مجبور کریں
اپنے ہونٹوں پہ سجا کر کسی دن
میرا اِک شعر تو مشہور کریں
آپ کو بھی مرا خیال نہیں
اب خوشی ہے کوئی ملال نہیں
کتنے احباب ہیں جواب بدست
جب مرے ہاتھ میں سوال نہیں
امن ہی چاہتے ہیں سب لیکن
کوئی مائل بہ اعتدال نہیں
اظہارِ خیال کے لیے سب سے پہلے مہمانِ خصوصی جناب فاروق احمد کو دعوت دی گئی۔ آپ نے جناب افتخار راغبؔ کو مبارکباد پیش کی اور ان کا مندرجہ ذیل مزاحیہ شعر پیش کرتے ہوئے مزاحیہ کلام کا مجموعہ جلد لانے کی گزارش کی:
موٹی عورت سے کیجیے شادی
ایک میں چار کا مزہ لیجیے
اسٹیج پر بزمِ اردو قطر کی نمائندگی کر رہے سینئر سرپرست جناب سید عبد الحئی نے افتخار راغبؔ کے فن اور شخصیت پر بھرپور تبصرہ فرمایا۔ آپ نے کہا کہ راغبؔ بر وزنِ غالبؔ میرے انتہائی پسندیدہ شاعروں میں سے ایک ہیں۔ شاعر سے زیادہ راغبؔ میرے لیے ایک بہترین شخص کی حیثیت سے اہم ہیں۔ آپ کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ تنقید خندہ پیشانی سے سنتے ہیں اور اس کا تسلّی بخش جواب دیتے ہیں یا تنقید معقول ہو تو کھلے دل سے قبول کرتے ہیں۔ آپ کے اکثر اشعار میں قرآن و حدیث کی تعلیمات کا عکس نظر آتا ہے۔ راغبؔ کے کئی اشعار ضرب المثل بن گئے ہیں ان کے کئی اشعار مختلف پروگراموں میں سنا کر ان سے زیادہ داد میں نے وصول کی ہے۔ جیسے یہ شعر کہ:
دنیا میں ہم پیڑ لگانا بھول گئے
جنت کے باغات کی باتیں کرتے ہیں
مہمانِ خصوصی جناب حسیب الرحمان نے فرمایا کہ چند سال قبل جب جناب افتخار راغبؔ کی متعلق عظیم شاعر مرحوم کلیم عاجزؔ کا ایک مضمون پڑھا تو میں حیران ہو گیا۔ اُس کے بعد میں نے ان کی پوری شاعری بہت سنجیدگی سے دوبارہ پڑھنا شروع کیا تب مجھے پتا چلا کہ ان کی شاعری کتنی اہم اور عظیم ہے۔ ناظمِ تقریب جناب شادؔ آکولوی نے دورانِ نظامت فرمایا کہ میری نظر میں افتخار راغبؔ کی شاعری قطر میں سب سے زیادہ کوٹِبل ہے اور سب سے زیادہ ان کے اشعار لوگوں کو یاد ہیں۔ آپ نے پورے پروگرام کے دوران افتخار راغبؔ تینوں کتابوں سے متعدد اشعار پیش کیے جن کو عوامی مقبولیت حاصل ہو چکی ہے۔ جیسے:
تم نے رسماَ مجھے سلام کیا
لوگ کیا کیا گمان کر بیٹھے
اک بڑی جنگ لڑ رہا ہوں میں
ہنس کے تجھ سے بچھڑ رہا ہوں میں
جیسے تم نے تو کچھ کیا ہی نہیں
سارے فتنے کی جڑ رہا ہوں میں
مٹی کے ہیں مٹی میں مل جائیں گے
رہ جائے گا چاندی سونا سمجھے نا
جب آپ کو خدا پہ مکمل یقین ہے
حیرت زدہ ہوں آپ کے ذہنی تناؤ پر
ایک اندھے کی نصیحت راغبؔ 
پیار کرنا ہے تو کر آنکھوں سے
اُس شوخیِ گفتار پر آتا ہے بہت پیار
جب پیار سے کہتے ہیں وہ شیطان کہیں کا
فن اگر لائقِ تحسین ہوا
خود بخود واہ نکل جائے گی
میں سب کچھ بھول جانا چاہتا ہوں
میں پھر اسکول جانا چاہتا ہوں
بے سبب راغبؔ تڑپ اٹھتا ہے دل
دل کو سمجھانا پڑے گا ٹھیک سے
یردیس میں رہ کر کوئی کیا پانو جمائے
گملے میں لگے پھول کی قسمت ہی الگ ہے
کس کس کو بتاؤں کہ میں بزدل نہیں راغبؔ 
اِس دور میں مفہومِ شرافت ہی الگ ہے
ترکِ تعلقات نہیں چاہتا تھا میں
غم سے ترے نجات نہیں چاہتا تھا میں
آج پھر ہو گئی بڑی تاخیر
آج پھر لگ رہا ہے خیر نہیں
اُس لفافے میں بند ہوں راغبؔ 
جس پہ نام اور پتا نہیں معلوم
مہمانِ اعزازی جناب افتخار راغبؔ نے بے حد خوشی کا اظہار کیا اور پروقار اجرا کی تقریب منعقد کرنے کے لیے بزمِ اردو قطر کے تمام ذمہ داران و اراکین کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کیا۔
صدرِ تقریب جناب جلیلؔ نظامی نے صدارتی خطبہ میں فرمایا کہ اگر اختصار میں کہا جائے تو افتخار راغبؔ کی شاعری موہوبی اور اکتسابی صلاحیت کا حسین امتزاج ہے۔ انھیں روایت اور جدّت کے حسین امتزاج میں بھی امتیازی حیثیت حاصل ہے۔ میں انھیں اٹھارہ سال سے دیکھ رہا ہوں۔ قطر چوبیس گھنٹے کا کوئی شاعر ہے تو وہ افتخار راغبؔ ہے۔ یہ شروع سے ہی اخلاص اور یکسوئی کے ساتھ اپنے فن پرکام کر رہے ہیں۔ اپنے اسی اخلاص اور طبیعت میں انکساری کے سبب آج ان کا چوتھا مجموعہ کلام منظر عام پر آیا ہے جس کی عمدہ شاعری ان کو ہمیشہ زندہ رکھے گی۔ ذوقؔ نے کہا تھا:
رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے ذوقؔ 
اولاد سے تو ہے یہی دو پشت چار پشت
صاحب صدر نے افتخار راغبؔ کی شاعری میں مزید ترقی کی دعا کی اور اس تقریب کے لے مبارک یاد پیش کی۔ آپ نے اس اہم پروگرام کی صدارت لیے منتخب کیے جانے پر بزمِ اردو قطر کا شکریہ بھی ادا کیا۔
بزم کے چیئرمین جناب ڈاکٹر فیصل حنیف نے مختلف تنظیموں کے نمائندو ں خصوصاً انڈیا اردو سوسائٹی قطر، حلقہ ادبِ اسلامی قطر، کاروانِ اردو قطر، انڈیا اردو سوسائٹی قطر، مجلس فروغِ اردو ادب قطر اور گزرگاہِ خیال فورم اور کثیر تعداد میں موجود اردو دوست و ادب نواز سامعین کا شکریہ ادا کیا۔ تقریبِ رونمائی سے قبل عشائیہ کا بھی انتظام تھا۔ ممبئی سے تشریف لائے غزل سنگر جناب نیشاد احمد نے افتخار راغب ؔ کی کئی غزلیں بھی پیش کیں جن میں’ یعنی تو‘ اور’ تیرے سرخ ہونٹ پر‘ ردیف والی غزلوں کے ساتھ مندرجہ ذیل غزل بھی شامل تھی:
تحمّل کوچ کر جائے تمھیں کیا فرق پڑتا ہے
تڑپ کر کوئی مر جائے تمھیں کیا فرق پڑتا ہے
تمھیں کیا فرق پڑتا ہے کہ ماضی سے برا ہے حال
یہ دل فردا سے ڈر جائے تمھیں کیا فرق پڑتا ہے
جسے سیلابِ الفت نے امڈنے کی ادا بخشی
وہ دریا پھر اتر جائے تمھیں کیا فرق پڑتا ہے
مرے اجزائے ہستی میں ہے کس کے دم سے جزبندی
یہ شیرازہ بکھر جائے تمھیں کیا فرق پڑتا ہے
مروّت کی کہاں قائل تمھاری ضد کی بے مہری
مجھے پامال کر جائے تمھیں کیا فرق پڑتا ہے
تمھیں تو مسکرانا ہے دلِ راغبؔ دکھانا ہے
کوئی جاں سے گزر جائے تمھیں کیا فرق پڑتا ہے

رپورٹ: سید فیاض بخاری کمالؔ 
نائب سیکریٹری، بزمِ اردو قطر

Friday, October 27, 2017

غزل ۔۔۔ڈاکٹر کلیم عاجز

غزل
ڈاکٹر کلیم عاجز
اس ناز اس انداز سے تم ہائے چلو ہو
روز ایک غزل ہم سے کہلوائے چلو ہو
رکھنا ہے کہیں پاؤں تو رکھو ہو کہیں پاؤں
چلنا ذرا آیا ہے تو اترائے چلو ہو
دیوانہ گل قیدئ زنجیر ہیں اور تم
کیا ٹھاٹ سے گلشن کی ہوا کھائے چلو ہو
مے میں کوئی خامی ہے نہ ساغر میں کوئی کھوٹ
پینا نہیں آئے ہے تو چھلکائے چلو ہو
ہم کچھ نہیں کہتے ہیں کوئی کچھ نہیں کہتا
تم کیا ہو تمہیں سب سے کہلوائے چلو ہو
زلفوں کی تو فطرت ہی ہے لیکن مرے پیارے
زلفوں سے زیادہ تمہیں بل کھائے چلو ہو
وہ شوخ ستم گر تو ستم ڈھائے چلے ہے
تم ہو کہ کلیمؔ اپنی غزل گائے چلو ہو


Thursday, October 26, 2017

प्यारा जूजू

प्यारा जूजू 

अक़्सा उस्मानी 

एक हाथी था उसका  नाम जुजु था वह  एक छोटा हाथी था इसलिए वह  नासमझ था
 एक दिन छोटा  हाथी  अपने दोस्तो के साथ जंगल मे खेल रहा था।
 खेलते खेलते जु जु को पानी बहने  की आवाज़ आई।  वह  इस आवाज़ के पीछे जाने लगा। कुछ समय बाद उस ने देखा कि वह एक बहुत ही  खूबसूरत झरने  के बीच  खड़ा  है और झरने के  पास बहुत  सारी  परियाँ खेल रही हैं।
वह भी उनके साथ खेलने लगा। बहुत देर बाद  उसे याद आया कि  उसकी माँ उसका इंतेज़ार कर रही होंगी।
वह अपने घर के लिए निकला जब वो वापस पंहुचा तो  वहाँ कुछ  नही था।
 वो बहुत  डर गया और उसे अपने घर का रास्ता भी नही पता था वो चलते चलते थक गया और एक पेड़ के नीचे बैठ गया
उसे नींद आ गई। जब उसकी आंखें खुली तो उसने देखा शाम हो रही थी।  वह  फिर चलने  लगा  वह  एक ऐसी जगह पहुंचा  जहाँ  बहुत सारे फूल थे और तितलियाँ भी थी वो वहाँ  उन तितलियों के पीछे भाग रहा था और हँस रहा था।
वह बहुत  खुश था भागते भागते वो थक गया था। वह वहीं  बैठ गया। थोड़ी देर बाद बारिश होने लगी। वह  एक पेड़ के नीचे  बैठ कर यह  नज़ारा देखने लगा कि  कैसे एक बारिश की बूंद फूलों की  पत्तियों पर गिरती है तो ऐसा   लगता  है कि  पत्तों पर  मोती हो यह देखते देखते वह भूल गया के उसे  घर जाना है।
 थोड़ी देर बाद वह  उठा और चलने लगा।  उसे रास्ते में  एक दूसरा  हाथी मिला जिसका नाम जॉनी था। वह बहुत  प्यारा  था।  जुजु उसके साथ खेलने लगा। खेलते खेलते  उसे याद आया कि  उसकी माँ परेशान हो रही होगी।  वो फिर रोने लगा उसे लगा अब वह अपनी माँ  से कभी नहीं मिल पाए गा।  अचानक उसे पीछे से आवाज़ आई "जुजु " उसने पीछे मुड़ कर देखा उसकी माँ खड़ी थी वह  उसे ढूंढ रही थी वो रोते रोते चिलाया " माँ ! मैं यहां हूँ "  वह  दौड़ कर अपनी माँ  के पास गया। उसकी माँ  ने कहा चलो घर चले।  वह लोग घर आगए। उसने फैसला क्या की अब वह अपनी माँ को छोड़ कर कहीं नहीं जाये गा।

(Story & Illustration: Aqsa Usmani)

Wednesday, October 25, 2017

رقص کرتی مچھلیاں

کیا آپ نے اپنے ڈرائنگ روم میں رنگ برنگی مچھلیوں کو رقص کرتے دیکھا ہے؟ یہ مچھلیاں خواہ سمندر کی گہرائیوں میں ہوں یاایکویریم میں اپنی حرکتوں سے آپ کو لطف اندوز کرتی ہیں۔ یہ آپ کے ڈرائنگ روم میں ہوں یا کسی میوزیم میں یہ بچوں کی توجہ کا مرکز ہوتی ہیں۔ ان کی رنگا رنگی آپ کے ذہن و دماغ کو ٹھنڈک پہنچاتی ہے اور ان کا رقص آپ کا دل جیت لیتا ہے۔ سر پر رنگوں کا تاج سجائے ان شہزادیوں کا رقص آئینہ کی ٹیم نے  کولکتہ میوزیم میں عکس بند کیا ہے۔ پیش ہے قارئین کے لئے اس کی ایک جھلک۔

Wednesday, October 11, 2017

ترانۂ بہار ۔۔۔۔۔ جوش ملیح آبادی

حضرت جوش ملیح آبادی کی ایک مشہور  نظم قارئین کی نذر ہے۔ نظم کا آہنگ قابل دید ہے۔


 


خوش خبری