آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Sunday, September 30, 2018

Yeh Hai Kolkata Meri Jaan - 2

یہ ہے کولکتہ میری جان ۔۲
صحبہ عثمانی
ناخدا مسجد کا اندرونی حصّہ

صبح جب آنکھ کھلی تو ہمارے میزبان صبح کی چائے اوراردو کا اخبار لے کر حاضر تھے۔کولکتہ میں صبح سویرے چائے کے ساتھ اردو کا اخبار پڑھنے کا رواج عام ہے۔ ایک عام دوکاندار اور کم آمدنی والا مزدور بھی اخبار خرید کر پڑھنا اپنی شان سمجھتا ہے۔یہی سبب ہے کہ آزاد ہند اور اخبار مشرق کو کولکتہ میں بے پناہ عروج حاصل ہوا ۔ مغربی بنگال کے ساتھ ساتھ یہی مزاج جھارکھنڈاوربہارمیں بھی پایا جاتا ہے اور یہاں بھی اردو کے اخبارات کافی مقبول ہیں۔خیر پاپا اور ابو صبح کی چائے کے ساتھ اخبار دیکھتے رہے اور ہم سب باہر نکلنے کی تیاری  میں لگ گئے۔ ہم سب اپنا وقت بالکل ضائع کرنا نہیں چاہتے تھے۔ہم نے کھڑکی سے باہر جھانکا سامنے ناخدا مسجد نظارے کی دعوت دے رہی تھی۔

ناخدا مسجد کا خوبصورت منبر

پاپا اور ابو صبح کی نماز پڑھ کر واپس آچکے تھے۔ کچھ نمازی ابھی بھی مسج کے دروازے سے باہر آرہے تھے۔ اطراف کے دوکاندار  جس طرح اپنی دوکانیں چھوڑ گئے تھے وہ اسی طرح ترپالوں سے ڈھکی تھیں۔مسجد ان بے یار و مددگار دوکانداروں کے لیے ایک بڑا سہارا ہے جو فٹ پاتھ پر اپنی دوکانیں لگاتے ہیں۔ مسجد سے ملحق بھی بہت ساری دوکانیں ہیں جن کا کرایہ کمیٹیوں کے زیر انتظام ہے۔ہم سب نے سوچا ناخدا مسجد اندر سے دیکھنے کا یہ بہترین موقع ہے۔اس سے پہلے کے لوگوں کی بھیڑ ہو ہم خاموشی سے مسجد دیکھ آئیں۔ ہم سب فوراًہی اسے دیکھنے کے لیے اپنے کمرے سے نکل پڑے۔ مسجدکے عالیشان دروازہ پر پہنچ کر ہماری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اتنا بلند دروازہ ہم نے اس پہلے نہیں دیکھا تھا۔ اندر داخل ہونے کے بعد سامنے ہی ذرا بلندی پرسنگ مرمر کا ایک حوض نظر آیا۔یہ تقریباً دو فٹ گہرا ہےجس میں پانی بھرا رہتا ہےاور  رنگ برنگی مچھلیاں تیر تی رہتی ہیں۔ معلوم ہوا کے یہ حوض وضو بنانے کے لیے ہے۔ ہم نے اندر سے مسجد کی عمارت کو دیکھا۔مسجد کے اندر نقش و نگار نے ہمیں کافی متاثر کیا۔ وہ محراب جہاں امام مسجد خطبہ دیتے ہیں سنگ مر مر کا بنا تھا۔اور درمیانی گنبد میں کافی نقش و نگار بنے تھے۔ اونچائی اتنی تھی کہ سر اٹھاکر دیکھیں تو ٹوپی گرجائے۔ ہم نے کولکتہ کے سیر کا آغاز ایک خوبصورت مقام سے کردیا تھا۔ ہم سب ہوٹل واپس آئے۔ناشتہ ہمارا انتظار کر رہا تھا۔ ناشتے سے فارغ ہوکر ہمیں اہم مقامات کی سیر کے لیے نکلنا تھا۔گاڑی آچکی تھی اور ہمارے نکلنے میں صرف ناشتہ کرنے کی دیر تھی۔

انڈین میوزیم ۔ کولکتہ

ناشتہ کے بعد ہم سب جلدی جلدی گاڑی میں سوار ہو گئے۔ آج ہم سب کا پروگرام کولکتہ کے قومی میوزیم کو دیکھنے کا تھا۔ اس کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا۔ ہماری سب سے زیادہ دلچسپی یہاں رکھی ممیوں کے بارے میں تھیں۔ ممی صدیوں پرانی حنوط شدہ لاش کو کہتے ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ سب سے قدیم ممیاں اہرام مصر میں ہیں۔ دل میں کچھ خوف بھی تھا اور ممی دیکھنے کا جوش بھی۔ہم جہاں ٹھہرے تھے وہاں سے میوزیم کا فاصلہ زیادہ نہیں تھا۔ بائیں جانب دوکانوں کو دیکھتے ہوئے ہم جلد ہی میوزیم کے سامنے کھڑے تھے۔ ابّو نے میوزیم میں داخلے کا ٹکٹ منگوایا  اور ہم سب چیکنگ کے بعد میوزیم کے اندر داخل ہو گئے۔ یہ میوزیم مختلف حصّوں میں بٹا ہوا ہے۔ جانوروں کے ڈھانچے، قدیم سکے، نادر مورتیاں ، محفوظ کیے گئےنایاب پرندے اور خطرناک سانپ اس کے علاوہ تاریخی نوادرات۔ معلومات کا ایک سمندر تھا جس کی سیر ہمیں چند ہی گھنٹوں میں کر لینی تھی۔ اس میوزیم کا تنوع ہی اس کی شناخت تھا۔ہم ایک ہال میں داخل ہوئے سامنے ایک بڑے ہاتھی کا ڈھانچہ رکھا تھا۔ ہاتھی کی ہذیوں کو بڑے سلیقے سے سجا کر کھڑا کیا گیا تھا۔ ایسا محسوس ہوا کہ اب اس ڈھانچے پر گوشت اور چمڑہ چڑھے گا ،اس میں جان آجائے گی اور یہ زور سے چنگھاڑے گا لیکن ایسا کچھ نہیں تھا ہم اسے چھونے کو بیتاب تھے لیکن اس کا چھونا منع تھا۔ پاس ہی ایک بڑے ڈائناسور کی بھی ہڈیاں تھیں۔ شیشے کے بڑے بڑے شو کیس بنے تھے جس میں جنگلی جانور  مثلاً چیتا، شیر اور بھالو وغیرہ بالکل اپنی شکل میں موجود تھے۔ یہیں پرندوں کو بھی الگ شوکیس میں محفوظ کیا گیا تھا۔ مجھے ماہر طیور سالم علی یاد آئے جنہوں نے پرندوں کی کھالوں میں بھراؤ کر انہیں محفوظ کرنے کا علم حاصل کیا تھا۔ پرندوں کو اس شکل میں دیکھ کر ہمیں وہ بات اچھی طرح سمجھ آگئی۔ ہم نے بڑی دلچسپی سے ایک ایک پرندے کو دیکھا۔ بعض پرندے بڑے نایاب تھے۔ ریکارڈ کے لیے ہم نے ان سب کی تصویریں اتاریں۔ وہ ساری تصویریں ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔ ہم ان تصویروں کو آپ کے ساتھ ضرور شیئر کریں گے۔ اس طرح آپ اپنے گھر بیٹھے اس میوزیم کو دیکھ سکیں گے۔


میوزیم کے مختلف ہالوں میں گھومتے ہوئے اب ہم شیشے کے تابوت کے سامنے کھڑے تھا۔ دیکھا تو اس میں ایک حنوط شدہ لاش پڑی تھی۔ میرے بدن میں جھر جھری سی آگئی۔ میں ایک ممی کے سامنے کھڑی تھی۔ اس کے چہرے کا حصّہ خوفناک تھا۔ایسا لگا کسی ہارر فلم کی طرح اب وہ اپنے تابوت سے نکل جائے گی اور اس کے دانت ہماری گردن پر ہوں گے۔ ہم سب بہنیں ایک جگہ یکجا ہو گئے تھے اور تجسس بھری نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے۔


عریشہ اور اسرا آپی اس کی تصویریں لینے میں لگی تھیں۔ میں نے ہمت کرتے ہوئے اس کے قریب جا کر اس کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کی۔ ایک ڈراونی سے کھوپڑی آنکھوں کی جگہ دو بڑے سوراخ جو گہرے غار کے مانند تھے ، ناک کی جگہ خالی گڑھا اور پھر مکمل جبڑا جس پر دانت بڑے ڈراونے لگ رہے تھے۔کھوپڑی جسم پر رکھی تھی۔ ممی کا تعلق مصر سے تھا۔اہرام مصر کی ممیاں۔ کولکتہ میں بیٹھ کر مصر کی ممیاں دیکھنا ایک دلچسپ تجربہ تھا۔ممی اور اس کی نقل دونوں ایک ہی بڑے باکس میں رکھی تھیں۔
(جاری)


Saturday, September 15, 2018

Yeh Hai Kolkata Meri Jaan!

یہ ہے کولکتہ میری جان
صحبہ عثمانی

جنوری کی ایک خوبصورت شام تھی اور ہم سب دھنباد سے کولکتہ جانے والی ٹرین پر سوار تھے۔ ہم سب نے دہلی میں جاڑے کی چھٹیوں میں کولکتہ جانے کا پروگرام بنایا تھا۔ میرے پاپا نے اپنے بڑے بھائی جنہیں میں ابو بلاتی ہوں کے ساتھ کولکتہ گھومنے کا پروگرام طے کر رکھا تھا۔ وہ جمشید پور سے اپنی فیملی کے ساتھ کولکتہ کے لیے روانہ ہو چکے تھے اور ہم سب بھی کولکتہ کے راستے میں تھے۔ ان کی ٹرین ہماری ٹرین سے ایک گھنٹے پہلے پہنچنے والی تھی اور وہ لوگ اسٹیشن پر ہی ہم سب کا انتظار کرنے والے تھے۔ کولکتہ پہنچنے کا وقت جیسے جیسے نزدیک آرہا تھا ہمارا جوش بڑھتا جا رہا تھا۔ ابو ہوڑہ اسٹیشن پہنچ چکے تھے اور اب ان کا فون آرہا تھا کہ ہم کتنی دور ہیں۔ہمیں بھی اب دور سی جھلملاتی روشنیاں نظر آنے لگیں تھیں۔ رات کے ساڑھے نو بج چکے تھے اور ہم سب رات کے اندھیرے میں ہی کولکتہ کو اچھی طرح دیکھ لینا چاہتے تھے۔ کسی بھی عام شہر کی طرح وہاں بھی ریلوے لائن کے کنارے پرانی عمارتیں نظر آنے لگی تھیں۔ دیواروں پر بنگلہ میں لکھے اشتہارات جنہیں ہم صرف تصویر سے پہچان سکتے تھے نظر آنے لگے تھے کہ اچانک پاپا نے بتایا دیکھو ہوڑہ برج کا ایک حصّہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ ہم نے ٹرین کے اندر سے ہی اسٹیل کے اونچے اونچے جالی دار ستون دیکھے۔ ایسا لگا جیسے پوارا کولکتہ ہی ہماری آنکھوں کے سامنے آگیا ہو۔ ٹرین اب آہستہ آہستہ ہوڑہ اسٹیشن میں داخل ہو رہی تھی۔

شہر کولکتہ کے ریلوے اسٹیشن کا نام ہوڑہ جنکشن ہے۔ یہ اسٹیشن 1854 میں عام لوگوں کے لیے کھولا گیا۔ہگلی ندی پر بنا مشہور ہوڑہ برج اس کے قریب ہی واقع ہے۔یہ پُل ہوڑہ اور کولکتہ دو شہروں کو جوڑتا ہے۔یہ پُل ۱۹۳۶ میں بننا شروع ہوا اور ۱۹٤۲ میں مکمل ہوا ۳ فروری ۱۹٤۳ کو اسے عوام کے لیے کھول دیا گیا۔۔ ابو، سنجھلی امی اور یمنیٰ آپی اسٹیشن پر ہم سب کا انتظار کر رہے تھے۔ جیسے ہی ہم لوگوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ہمارے چہرے کھل اٹھے۔ کولکتہ کو قریب سے دیکھنے کا ہمارا خواب اب حقیقت میں بدل چکا تھا۔ ہم سب اسٹیشن پر اترے۔ ابّو کے ساتھ کئی لوگ ہمارے استقبال کے لیے کھڑے تھے۔کولکتہ اسٹیشن کافی اونچا اور بڑا تھا۔ اس اسٹیشن کی خوبی یہ تھی کہ یہاں گاڑی لینے کے لیے آپ کو اسٹیشن کے باہر نہیں جانا تھا بلکہ گاڑیوں کے اندر آپ کے اسٹیشن تک لانے کی سہولت تھی۔ میں نے یہ پہلا اسٹیشن دیکھا جہاں آپ کی کار اسٹیشن پر ہی آپ کا انتظار کر رہی تھی۔ میں ۵ گھنٹے کا سفر کر کے تھک چکی تھی۔ اسٹیشن کافی لمبا اور صاف ستھرا تھا اور ہم میں مزید پیدل چلنے کی ہمت نہیں تھی۔ہم سب جلدی جلدی دو گاڑیوں میں سوار ہو گئے۔ ہمارا قافلہ ہوٹل کی جانب روانہ ہوگیا۔ ابو نے ناخدا مسجد کے سامنے ہی ہوٹل کا کمرہ بک کرا رکھا تھا۔
CourtesyAaina
ہوگلی ندی میں اسٹیمر سے ہوڑہ برج کی ایک تصویر۔
اسٹیشن سے نکلتے ہی روشنی میں جگمگاتا ہوڑہ برج ہمارا استقبال کر رہا تھا۔ گاڑیوں کی طویل قطار سے جام جیسا منظر تھا۔ لیکن ہم خوش تھے کہ ایک تاریخی پُل کو ہمیں اتنے قریب سے دیر تک دیکھنے کا موقع مل رہا ہے۔ اب تک تصویروں میں دیکھ کر یہ برج ہمارے آنکھوں میں بس چکا تھا اور اب اتنے قریب سے دیکھ کر ایک عجیب سی خوشی کا احساس ہو رہا تھا۔ہمیں ہوڑہ برج دیکھنے کے لیے الگ سے پروگرام نہیں بنانا پڑا تھا اور اب ہم دھیرے دھیرے اس پُل سے گزرنے والے تھے۔ اس پُل کی خوبی یہ ہے اس پُل کے نیچے کوئی ستون نہیں ہے اور یہ پورا پُل معلق ہوا میں ٹنگا ہے۔ اسٹیل کے بڑے بڑے گٹروں نے سارا بوجھ ندی کے کنارے مضبوط ستونوں پر کھینچ رکھا ہے اور اس کے نیچے سے بڑے بڑے جہاز اور اسٹیمر بہ آسانی گزر سکتے ہیں۔ اس پر سے روزانہ تقریباً ایک لاکھ سے زائد گاڑیاں گزرتی ہیں اورتقریباً ڈیڑھ لاکھ لوگ اسے پیدل پار کرتے ہیں۔اب ہم ہوڑہ برج میں داخل ہو چکے تھے۔ کار کے پچھلے شیشے سے ہماری نگاہیں اس کے لوہے کے اس ستون کی بلندی دیکھنے کو بیتاب تھیں۔ لوہے کے چوڑے چوڑے گٹر ایک دوسرے سے جڑے تھے۔ اسے بنانے والے کاریگروں کا کمال تھا کہ انہوں نے بڑی کامیابی سے اس پُل کو ہوا میں نہ صرف معلق رکھا تھا بلکہ اس پر سے ہزاروں گاڑیوں کا گزرنا بھی ممکن بنایا تھا۔ سڑک بہت زیادہ چوڑی نہیں تھی۔ اور دونوں جانب سے ٹریفک کا بحال رکھنا ایک مسئلہ تھا۔ لیکن ٹریفک پولس والے بڑی مستعدی سے اپنے فرائض انجام دے رہے تھے اور گاڑیوں کو ایک ترتیب سے پار کرا رھے تھے۔ بتاتے ہیں کہ کوککتہ کی ٹریفک پولس اپنے اصولوں کی بڑی پکّی ہے۔ اور ٹریفک ضابطوںکی ان دیکھی کرنے پر سخت جرمانہ کرتی ہے۔ لہذا گاڑی چلانے اس سلسلہ میں بہت محتاط رہتے ہیں اور کوئی بھی اپنا چالان کٹوانا نہیں چاہتا۔ ہماری گاڑی ہوڑہ برج سے گزر چکی تھی۔برج کے بلند ستوں دور سے نظر آتے آتے اب ہماری نظروں سے اوجھل ہورہے تھے۔ ہم نے کولکتہ کی سب سے اہم یادگار کا دیدار کر لیا تھا۔
ناخدا مسجد کا صدر دروازہ
اب ہم اپنے ہوٹل کے قریب پہنچنے والے تھے۔دونوں جانب دوکانیں کھلی تھیں۔ ہماری گاڑی روشنی میں جگمگاتے بازار سے گزرتے ہوئے اپنے ہوٹل تک پہنچنے والی تھی کہ بیچ سڑک پر ریلوے کی پٹری نظر آنے لگی۔ معلوم ہوا اس پر ٹرام چلتا ہے۔ ٹرام کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا اور اسے بھی دیکھنے کا شوق تھا۔ لیکن اس وقت کوئی ٹرام نظر نہیں آیا۔ ہم تقریباً اپنی منزل تک پہنچ چکے تھے اور سامنے ناخدا مسجد نظر آرہی ھے۔ ہماری گاڑی ناخدا مسجد کے دروازے پر جاکر رک گئی۔

ناخدا مسجد کے صدر دروازہ پر نصب کتبہ۔(تصویر آئینہ)
مین گیٹ کے سامنے ہی ہمارا ہوٹل تھا جہاں گیٹ کے سامنے ہی دوسری منزل پر ہمارے ٹھہرنے کا انتظام تھا۔ کاؤنٹر پر ضروری خانہ پری کے بعد ہم سب اپنے کمرے میں آرام کرنے کے لیے چلے گئے۔کولکتہ جہاں اپنے سیاحتی و تاریخی مقامات کے لیے مشہور ہے وہیں خورد و نوش کے معاملے میں بھی اس کا جواب نہیں۔ یہاں غریب سے غریب اور امیر سے امیر آدمی بھی اپنے غذائی تعیش کی تسکین کر سکتا ہے۔ ایک عام انسان بھی اچھے کھانے پینے اور آسائش کا لطف اٹھا سکتا ہے۔کھانے کی خواہش نہیں تھی لیکن ہمارے میزبان دسترخوان سجا چکے تھے۔ یہ ایک بڑا ہال تھا اور اس سے ملحق ایک کمرہ تھا۔ کمرے میں میری امی، سنجھلی امی اور میری بڑی بہنوں اسرا اور یمنی کے رہنے کا نظم تھا اور ہاں یاد آیا ان سب کے ساتھ ہماری پھوپھی زاد بہن عریشہ آپی بھی تھیں۔ان کے کھلکھلاتے قہقہوں کو میں اب تک کیسے بھولی بیٹھی تھی۔ شاید میں کولکتہ کہ ذکر میں کھو گئی تھی۔اُف یہ کولکتہ۔ ہاں تو میں بتا رہی تھی کہ دسترخوان سج چکا تھا۔آپ کولکتہ جائیں اور ناخدا مسجد کے پاس ٹھہریں اور کباب پراٹھا نہ کھائیں تو آپ سے بڑا بد ذوق اور کوئی نہیں۔ یہاں کباب اور پراٹھے کا لطف ہی کچھ اور ہے۔ کولکتہ میں دو ہی چیزیں مشہور ہیں ایک رویل کی بریانی اور ناخدا کے کباب پراٹھے۔ اور ہاں جاڑوں میں حلیم کا بھی جواب نہیں۔گرمیوں میں ٹیپو سلطان کی مسجد کے قریب ملنے والے فالودے بھی کافی لذیذ ہوتے ہیں۔ اب بڑے بڑے مال کھل چکے ہیں جس کا ذکر بعد میں آئے گا وہاں مغربی اور چائینیز ڈشوں کی بھرمار ہے لیکن لوگ ابھی بھی روائتی ڈشوں کے دیوانےہیں۔

کھانے کے بعد ہم اپنے بستروں پر سونے کے لیے چلے گئے۔ نیند آنکھوں سے دور تھی آنکھ بند کرتے ہی سامنے عالیشان ہوڑہ برج آنکھوں کے سامنے آجاتا اور میں ان مزدوروں اور انجینیروں کے بارے میں سوچنے لگتی جنہوں نے اس کی تعمیر میں حصّہ لیا تھا۔ انگریز بھی ہمارے ملک میں کیسے کیسے کارنامے انجام دے گئے۔پاپا اور ابو دوسرے دن گھومنے کا پروگرام ترتیب دے رہے تھے اور میں آہستہ آہستہ نیند کی آغوش میں جا رہی تھی۔

(جاری)

Wednesday, September 12, 2018

Lo Phir Basant Aayi - NCERT Solutions Class VIII Urdu


لو پھر بسنت آئی
CourtesyNCERT

لو پھر بسنت آئی

لو پھر بسنت آئی

پھولوں پر رنگ لائی

چلو بے درنگ
لبِ آب گنگ
بجے جل ترنگ
 من پر امنگ چھائی

پھولوں پر رنگ لائی
لو پھر بسنت آئی
کھیتوں کا ہر چرنده
کھیتوں کا ہر چرنده
باغوں کا ہر پرنده
کوئی گرم خیز
کوئی نغمہ ریز
سبک اور تیز 
پھر ہو گیا ہے زندہ
باغوں کا ہر پرنده
کھیتوں کا ہر چرنده
پھولی ہوئی ہے سرسوں
 پھولی ہوئی ہے سرسوں
پھولی ہوئی ہے سرسوں
نہیں کچھ بھی یاد
 یونہی با مراد
 یونہی شاد شاد
 یونہی با مراد
 یونہی شاد شاد گویا
 گویا رہے گی برسوں
بھولی ہوئی ہے سرسوں
 پھولی ہوئی ہے سرسوں
لو پھر بسنتآئی 
لو پھر بسنت آئی
پھولوں پر رنگ لائی

سوچیے اور بتائیے

سوال: بسنت آنے پر لوگ گنگا کے کنارے کیوں جانا چاہتے ہیں؟
جواب: گنگا کے کنارے بارش کی بوندوں کی آواز بہت سہانی ہوتی ہے اس لیے لوگ اسے سننے کے لیے گنگا کے کنارے جانا چاہتے ہیں۔

سوال: بسنت میں چرند و پرند کس حال میں ہوتے ہیں؟
جواب: بسنت میں پرندوں میں خوشی کا ماحول ہوتا ہے۔ سب پرندے گا رہے ہوتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے سب میں جان آگئی ہے۔

سوال: سرسوں کون سی بات بھولی ہوتی ہے؟
جواب: سرسوں یہ بھولی ہوتی ہے کہ اس کا یہ رنگ و روپ وقتی ہے۔ کچھ وقت بعد اسے کاٹ دیا جائے گا اور وہ اتنی دلکش نہیں رہ جائے گی۔

سوال: بسنت کا موسم کب آتا ہے؟
جواب: بسنت کا موسم سردی کے بعد آتا ہے۔

مصرعے مکمل کیجیے

کھیتوں کا ہر چرندہ باغوں کا ہر پرندہ
گویا رہے گی برسوں بھولی ہوئی ہے سرسوں

نیچے دیے گئے لفظوں سے جملے بنائیے

امنگ(جوش): بادل دیکھ کر کسان کے چہرے پر امنگ چھا گئی۔

چرندہ(کرنے والا): چرندہ سارا کھیت چر گیا۔

سبک(نازک): اس کے ہاتھ میں ایک سبک ٹوکری تھی۔

شاد(خوشی): بسنت میں سب کے دل شاد ہوتے ہیں۔

با مراد(جس کی مراد پوری ہو گئی ہو): اپنی اولاد سے مل کر وہ بامراد ہو گئی۔

ہم آواز الفاظ

ایسے الفاظ جن کے معنی اور املا مختلف ہوں لیکن آواز ایک ہو ’ہم آواز الفاظ‘ کہلاتے ہیں۔

مثال:

ہال     حال

فضا     فزا

عام     آم

سدا     صدا

 back

NaHui Qaroli - NCERT Solutions Class VIII Urdu

نہ ہوئی قرولی
CourtesyNCERT

سوچیے اور بتائیے

سوال: میاں خوجی کس کے ساتھ اور کہاں آئے ہوئے تھے؟
جواب: میاں خوجی آزاد کے ساتھ لکھنؤ آئے ہوئے تھے۔

سوال: خوجی جہاں ٹھہرے ہوئے تھے وہاں کیا حادثہ پیش آیا؟
جواب: میاں خوجی پورے دن کے تھکے ہوئے کھاٹ پر سوئے تو انہیں کھٹملوں نے کاٹنا شروع کر دیا ۔ کھٹملوں کے کاٹنے سے خوجی چلائے تو لوگوں کو لگا کہ چور آگیا اور سرائے میں کہرام مچ گیا۔

سوال: سرائے میں کہرام کیوں مچ گیا؟
جواب: خوجی کے چلانے سے سب کو لگا کہ سرائے میں چور آگیا ۔ لہذا سب بھاگے جس سے کہرام مچ گیا۔

سوال: میاں خوجی کس کے ساتھ اور کہاں آئے ہوئے تھے؟
جواب: میاں خوجی آزاد کے ساتھ لکھنؤ آئے ہوئے تھے۔

سوال: خوجی جہاں ٹھہرے ہوئے تھے وہاں کیا حادثہ پیش آیا؟
جواب: میاں خوجی پورے دن کے تھکے ہوئے کھاٹ پر سوئے تو انہیں کھٹملوں نے کاٹنا شروع کر دیا ۔ کھٹملوں کے کاٹنے سے خوجی چلائے تو لوگوں کو لگا کہ چور آگیا اور سرائے میں کہرام مچ گیا۔

سوال: سرائے میں کہرام کیوں مچ گیا؟
جواب: خوجی کے چلانے سے سب کو لگا کہ سرائے میں چور آگیا ۔ لہذا سب بھاگے جس سے کہرام مچ گیا۔

سوال: میاں خوجی کے ساتھ  لوگوں نے کیا سلوک کیا؟
جواب: خوجی کو چور سمجھ کر سب نے لات گھونسوں سے ایسی تواضع کی کہ خوجی کو نانی یاد آگئی۔ سب نے لات گھونسوں سے خوجیa کے انجر پنجر ڈھیلے کر دیے۔

سوال: ’’رگ aحمیت پھڑک اٹھی‘‘ اس کی وضاحت کیجیے۔
جواب: رگ حمیت پھڑکنے کا مطلب ہے غیرت کا جاگنا۔ جب خوجی آزاد کو اپنی کہانی ایک میں چار لگا کر سنا رہے تھے اور اپنی بڑائی میں لگے تھے تب آزاد نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائی ۔اس سے ان کی غیرت جاگ گئی اور ان کی رگ حمیت پھڑک اٹھی۔

سوال: خوجی کا دوست کون تھا؟
جواب: خوجی کا دوست اازاد تھے۔

سوال: خوجی آزاد کی کون سی بات سن کر جھوم اٹھے؟
جواب: جب آزاد نے ان کی بات سن کر یہ کہا ’’درست فرمیا آپ کی ذات شریف سے یہی توقع تھی‘‘ یہ سن کر خوجی جھوم اٹھے۔

محاوروں کو جملوں میں استعمال کریں

جان پر آ بننا: موسلا دھار بارش سے پرندوں کی جان پر بن آئی۔

موت کے گھاٹ اتارنا: پولس نے چور کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

مرغ کی ایک ٹانگ: خوجی کے لیے ہر بات مرغ کی ایک ٹانگ جیسی ہے۔

بات کا بتنگڑ بنانا: خوجی کو بات کا بتنگڑ بنانے میں مزا آتا ہے۔/ میڈم ہر بات کا بتنگڑ بنا دیتی ہیں۔

پالا نہ پڑنا: بدمعاشوں سے پالا نہ پڑنا ہی اچھا ہے۔

نیچے لکھے ہوۓ لفظوں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے
قائد مند
بیزاری(اُکتا جانا)
صدمہ
قرولي
بسیرا
 back

Tuesday, September 11, 2018

Maa Ka Khwab - NCERT Solutions Class VIII Urdu

ماں کا خواب 
CourtesyNCERT
سبق



ماں کا خواب
علامہ اقبال

میں سوئی جو اک شب تو دیکھا یہ خواب 
بڑھا اور جس سے مرا اضطراب

یہ دیکھا کہ میں جا رہی ہوں کہیں
اندھیرا ہے اور راہ ملتی نہیں

 لرزتا تھا ڈر سے مرا بال بال
 قدم کا تھا دہشت سے اٹھنا محال

جو کچھ حوصلہ پا کے آگے بڑھی
 تو دیکھا قطار ایک لڑکوں کی تھی

زمرد کی پوشاک پہنے ہوئے 
ویسے سب کے ہاتھوں میں جلتے ہوئے

وہ چپ چاپ تھے آگے پیچھے رواں
خدا جانے جانا تھا ان کو کہاں

 اسی سوچ میں تھی کہ میرا پسر
 مجھے اس جماعت میں آیا نظر

وہ پیچھے تھا اور تیز چلتا نہ تھا
د یا اس کے ہاتھوں میں جلتا نہ تھا 

کہا میں نے پہچان کر میری جاں
 مجھے چھوڑ کر آگئے تم کہاں

جدائی میں رہتی ہوں میں بے قرار
پروتی ہوں ہر روز اشکوں کے ہار

 نه پروا ہماری ذرا تم نے کی
آ گئے چھوڑ، اچھی وفا تم نے کی

جو بچے نے دیکھا مرا پیچ و تاب
دیا اس نے منہ پھیر کر یوں جواب

 رلاتی ہے تجھ کو جدائی مری 
نہیں اس میں کچھ بھی بھلائی مری

یہ کہہ کر وہ کچھ دیر تک چپ رہا
دیا پھر دکھا کر یہ کہنے لگا

 سمجھتی ہے تو ہو گیا کیا اسے
 ترے آنسوؤں نے بجھایا اسے


معنی یاد کیجیے

 شب:۔۔۔۔ رات
اضطراب:۔۔۔۔ بےچینی
لرزنا:۔۔۔۔ کانپنا
راہ:۔۔۔۔ راستہ
سیاہی:۔۔۔۔  کالاپن، اندھیرا
دہشت:۔۔  ۔۔خوف، ڈر
محال:۔۔۔۔ مشکل
حوصلہ: ۔۔۔۔۔۔ہمت
زمرد: ۔۔۔سبز رنگ کے قیمتی پتھر کا نام
رواں:  ۔۔۔۔۔چلتے ہوئے
زمردی پوشاک: ۔۔۔۔۔۔ ہرا لباس
پسر: ۔۔۔--۔۔۔۔ بیٹا
 جماعت:۔۔۔۔۔۔گروہ
پیچ و تاب کھانا ( محاورہ):۔۔۔۔دل ہی دل میں غم و غصہ سے گھٹنا، بیقرار ہونا



سوچیے اور بتائیے

سوال: خواب میں ماں نے اپنے آپ کو کس حال میں دیکھا؟
جواب: خواب میں ماں نے اپنے آپ کو ایک اندھیری جگہ پر دیکھا جس سے وہ بہت ڈر گئی۔

سوال: ماں نے آگے بڑھ کر کیا دیکھا؟
جواب: ماں نے آگے بڑ کر بچوں کی ایک قطار دیکھی۔ یہ بچّے زمرد پوشاک پہنے اور ہاتھوں میں دیے لیے تھے۔

سوال: ماں نے اپنے بیٹے کو کس حال میں پایا؟
جواب: اس کا بیٹا قطار میں سب سے پیچھے تھا۔ وہ بہت دھیرے دھیرے چل رہا تھا۔ اس کا دیا بجھ گیا تھا۔

سوال: ماں کی بے قراری کا سبب کیاہے؟
جواب: ماں کی بےقراری کا سبب یہ ہے کہ اس کا بیٹا اسے چھوڑ کر بہت دور چلا گیا ہے۔ اس نے جب اپنے بیٹے کو یہاں دیکھا تو اس کی حالت دیکھ کر اوور بھی بے قرار ہوگئی۔

سوال: لڑکے کے ہاتھ میں دیا کیوں نہیں جل رہا تھا؟
جواب: اس کی ماں کے آنسوؤں نے اس کے دیے کو بجھا دیا تھا۔ اس لیے اس کا دیا نہیں جل رہا تھا۔

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے 

اضطراب(بے چینی): اپنے بیٹے کی حالت دیکھ کر ماں کا اضطراب بڑھ گیا۔

محال(مشکل): مہنگائی نے لوگوں کا جینا محال کر دیا ہے۔

اجل(موت): آخر کار اس کی اجل آگئی۔

پیچ و تاب(اندر ہی اندر آگ بگولا ہونا) : حامد غصّے سے پیچ و تاب کھانے لگا۔


مصرعے مکمل کیجیے

میں سوئی جو  اک شب دیکھا  یہ خواب

بڑھا اور جس سے   مرا اضطراب

سمجھتی ہے تو  ہو گیا کیا اسے

ترے آنسووں نے بجھایا اسے

ان لفظوں کے متضاد لکھیے

جواب دوربےقرارجدائیبھلائیوفا
سوال پاس قرار ملن برائی بےوفا


پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے۔

مانے والا
 بنانے والا
دیکھنے والا 

یہ الفاظ سے کام کرنے والے کو ظاہر کرتے ہیں۔ انھیں اسم فاعل کہتے ہیں۔ پانی اسم فاعل " والا کے ساتھ بتایئے۔

غور کرنے کی بات

  اس نظم میں ایک ماں کا خواب بیان کیا گیا ہے جو اپنے بیٹے کو ٹرکوں کی ایسی جماعت کے ساتھ دیکھتی ہے جن کے ہاتھوں میں جلتے ہوئے دیے ہیں مگر اس کے بیٹے کا دیا بجھا ہوا ہے اور وہ دوسرے لڑکوں کے پیچھے آہستہ آہستہ چل رہا ہے۔ یہ دیکھ کر بیٹے کی جدائی میں روتی ہوئی ماں کو صدمہ پہنچتا ہے وہ نیچے سے شکایت کرتی ہے کہ وہ اسے چھوڑ  کر کیوں چلا آیا اور اس کا دیا بجھا ہوا کیوں ہے، بچہ جو ماں کے رونے دھونے سے خود بھی غمگین ہے۔ ماں سے کہتا ہے کہ میرے دیے کو اس کے آنسوؤں نے بجھایا ہے۔ 

اس سبق میں یہ بات پوشیدہ ہے کہ ماں باپ کے رونے دھونے سے بچوں کا حوصلہ پست ہوتا ہے اور انھیں آگے بڑھنے میں رکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔







 back





Monday, September 10, 2018

Aasmani Dost - NCERT Solutions Class VI Urdu

آسمانی دوست

courtesyNCERT

سوچیے اور بتائیے: 

سوال: منی اپنی بالکونی سے پارک کی طرف کیا دیکھ رہی تھی؟
جواب: منی اپنی بالکونی سے پارک میں کھیلتے بچّوں کو دیکھ رہی تھی۔

سوال: منی کی ممی اسے بار بار اندر آنے کو کیوں کہہ رہی تھیں؟
جواب: منی کی ممی اسے اندر آنے کو اس لیے کہہ رہی تھیں کہ باہر بارش ہورہی تھی۔ اور وہ یہ نہیں چاہتی تھیں کہ منی بارش میں بھیگ جائے۔

سوال: منی گھسٹ گھسٹ کر کیوں چلتی تھی؟
جواب: کیونکہ وہ پیروں سے معذور تھی۔

سوال: منی اپنا کون کون سا کام خود کر لیتی تھی؟
جواب: منی اپنے دانت صاف کرلیتی تھی اور چمچے کی مدد سے کھانا بھی کھالیتی تھی۔ وہ اپنی وہیل چیئر بھی خود چلا لیتی تھی۔

سوال: منی کے اسکول میں اس سے کیا کرایا جاتا تھا؟
جواب: منی کو اسکول مں کچھ خاص قسم کی کسرت اور بولنے کی مشق کرائی جاتی تھی۔ ساتھ ہی ساتھ اسے وہی سب مضنون پڑھائے جاتے تھے جو دوسرے اسکولوں میں بچوں کو پڑھائے جاتے ہیں۔

سوال: خالی وقت میں منی کا مشغلہ کیا تھا؟
جواب: خالی وقت میں منی اپنی بالکونی سے بچّوں کو کھیلتا دیکھتی تھی۔

 سوال: منی کی گود میں اچانک کیا چیز آکر گری؟
جواب: منی کی گود میں ایک خوبصورت بطخ اچانک آسمان سے آگری۔

سوال: منی نے چوٹ کھائی ہوئی بطخ کی کس طرح مدد کی؟
جواب: منی نے اپنی ماں سے اسے کچے پکے چاول دودھ میں کچل کر دینے کے لیے کہا اور پھر رات میں اسے اپنے پاس سلایا۔

سوال: بطخ کے آنے کے بعد پڑوس کے بچّے مِنی کے پاس کیوں آئے؟
جواب: بچے بطخ کو دیکھنا اور اس کے ساتھ کھیلنا چاہتے تھے۔

سوال: انجو نے کچھ کہتے کہتے اپنا منہ جلدی سے کیوں دبا لیا؟
جواب: انجو بطخ کو انجانے میں لولی کہہ رہی تھی کہ اسے اچانک مِنی کاخیال آیا اور اس نے جلدی سے اپنا منہ دبا لیا۔

سوال: محبت بھرے بہت سے ننھے منے ہاتھ منی کو کہاں لے گئے؟
جواب: بہت سے ننھے منے ہاتھ مِنی کو پارک میں کھیلنے کے لیے لے کر گئے۔


ترتیب

Ek mazedaar kahani - NCERT Solutions Class VIII Urdu

ایک مزےدار کہانی

ایک مزے دار کہانی کا اصل متن: 

ایک بڑھیا جنگل بیابان میں جہاں نہ آدم نہ آدم زاد، ایک بڑے درخت کے پینے بیٹھی تھی۔ خدا کا کرنا کیا ہوا کہ انھیں دنوں جاڑا، گرمی اور برسات میں جھگڑا ہوا۔ جاڑا کہتا میں اچھا گرمی کہتی میں ابھی ، برسات ہی میں تھی۔ آخر یہ صلاح ہوئی کہ چلو، چل کر کسی آدم زاد سے پوچھیں۔ ان کا جو ادھر گزر ہوا تینوں نے کہا:”لو بھی وہ سامنے ایک بوڑھی بیٹھی ہے چلو اس سے پوچھیں “
سب سے پہلے میں جاڑے آئے۔ گوری گوری رنگت، کے ایسے جیسے انار کا دانہ ۔ سفید لمبی ڈاڑھی، موٹا سا روئی کا گلہ پہنے خوب اوڑھے لپٹے آئے۔ ان کا آنا تھا کہ بڑی بی کو تھرتھری چھوٹ گئی ۔ میاں جاڑے نے آ کر کہا:
بی بی سلام‘۔ بڑی بی نے کہا: جیتے رہو، بال کے خوش رہیں، مگر بیٹا ذرا دھوپ چھوڑ کر کھڑے رہو۔ مجھے تو تمھارے آنے سے گپیں لگ رہی ہے۔ خیر میں جاڑے ذرا ہٹ کر کھڑے ہوئے اور کہا: ” بڑی ہی ایک بات پوچھوں؟‘‘ بڑی بی نے کہا: ہاں بیٹا ضرور پوچھو۔ میاں جاڑے نے کہا: " بڑی بی جاڑا کیا؟‘‘
بڑی بی نے کہا : بیٹا! جاڑے کا کیا کہنا۔ سبحان اللہ! مہاوٹ برس رہی ہے۔ دالانوں کے پردے پڑے ہیں۔ انگیٹھیاں سلگ رہی ہیں ، لیاقوں میں دبکے پڑے ہیں۔ چائے بن رہی ہے۔ خود پی رہے ہیں، دوسروں کو پیا رہے ہیں ۔ ہوئی اور چنے والا آیا گرم گرم چنے لیے۔ طرح طرح کے میوے آرہے ہیں۔ سب مزے لے لے کر کھا رہے ہیں ۔ حلوہ سوہن بن رہا ہے۔ باجرے کا ملیدہ بن رہا ہے۔ اس کی کھیر پک رہی ہے۔ ادھر کھایا ادھر م - خون چلووں بڑھ رہا ہے۔ چہرے سرخ ہورہے ہیں۔ بیٹا جاڑا، جاڑے کا کیا کہنا ، سبحان اللہ‘‘
میاں جاڑے تھے کہ اپنی تعریفیں سن سن کر پھولے نہ سماتے تھے۔ جب بڑی بی چیلی ہوئیں تو میاں جاڑے نے کہا :'' بڑی بی، خدا تم کو زندہ رکھے، تم نے میرا دل خوش کر دیا۔ یہ لو ایک ہزار اشرفی کی تھیلی ۔ خرچ ہو جائے تو اگے جاڑے میں مجھ سے اور آ کر لے جانا
میاں جاڑے پہنے اور گرمی مکتی ہوئی سامنے آئیں ۔ روشن آنکھیں، میں کالی چوٹی، گلے میں موتیوں کا کنٹھا، ہاتھوں میں مولسری کی لڑیاں جس میں کرن کی ہوئی ۔ ہرے ڈورے کی پیازی اوڑھنی۔ غرض بڑے ٹھئے سے آئیں
اور آتے ہی کہا: |
نانی جان سلام ؟
میں یہ پوچھے آئی ہوں کہ اپنی جان گری کیسی ، بڑی بی نے کہا: بیٹا گرمی، گرمی کا کیا کہنا۔ سبحان اللہ! دن کا وقت ہے۔ خس خانوں میں پڑے ہیں۔ پچھے جھلے جارہے ہیں۔ برف کی قلفیاں کھائی جا رہی ہیں فصل کے میوے آرہے ہیں۔ تلی پتلی لکڑیاں ہیں ۔ شام کو اٹھے، نہائے دھوئے ، سفید کپڑے پہنے کس کا عطر ملا صحن میں چڑ کا ہو گیا ہے۔ گھڑ وچیوں پر گورے کورے مٹکے رکھے ہیں ۔ رات ہوئی کوٹھوں پر پینگ بچھ گئے ۔ بیٹا! گرمی کا کیا کہنا۔ سبحان اللہ؟
بی گرمی کا یہ حال تھا کہ تولیں سنی جاتی تھیں اور نہال ہوتی جاتی تھیں۔ جب بڑی کی تعریف کرتے کرتے
تھک کر چپ ہو گئیں تو بی گری نے چپکے سے نکال کر ایک ہزار اشرفی کی تھیلی ان کے ہاتھ میں دی اور کہا کہ :” نانی جان ! خدا تمھارا بھلا کرے۔ تم نے آج میری لاج رکھ لی۔ میں ہر سال آیا کرتی ہوں۔ جب آؤں جو لینا ہو مجھ سے بے کھٹکے لے لیا ہے۔ بھلا آپ جیسے چاہنے والے مجھے ملتے کہاں ہیں ۔
بی گری ذرا ہی تھیں کہ برسات خانم چم چم کرتی بانچھیں ۔ سانول مکین چهره، پیچکدار روشن آنکھیں، بھورے بال۔ ان میں سے پانی کی باریک باریک بوندیں اس طرح پک رہی تھیں جیسے موتی ۔ ہاتھوں میں دھانی چوڑیاں۔ غرض ان کے آتے ہی برکھا رت چھا گئی۔ انھوں نے بڑھ کر کہا: ”اماں جان سلام ؟ بڑی بی نے کہا: بیٹی! جیتی رہو۔ ہونہ ہوتم بی گری کی بہن برسات خانم ہو؟ کی برسات نے کہا: جی ہاں! میں بھی پو چھنے آئی ہوں کہ میں
کیسی ہوں؟
بڑی بی نے کہا:”بی برسات تمھارا کیا کہنا! تم نہ ہو تو لوگ جئیں ہی کیسے؟ مینہ چھم چھم برس رہا ہے۔ باغوں میں کھم گڑے ہیں ۔ جھولے پڑے ہیں۔ عورتیں ہیں کہ ہاتھوں میں مہندی رچی ہے۔ نرخ نرخ جوڑے، دھانی چوڑیاں پہنے جھول رہی ہیں ۔ کچھ جھول رہی ہیں، کچھ جھلا رہی ہیں ۔ ماہبار گائے جا رہے ہیں۔ اؤ دی اؤ دی گھٹائیں آئی ہوئی ہیں ۔ برسات ! بھئی برسات کا کیا کہنا۔ سبحان الله! از
کی برسات نے بھی ایک ہزار کی تھیلی بڑی بی کی نذر کی اور رخصت ہوئیں ۔ شام ہو چکی تھی۔ بڑی بی تھیلیاں سمیٹ سائٹ خوشی خوشی گھر آ گئیں۔ گھر میں بہار آ گئی۔
پڑوں میں ہی ایک اور بڑھا رہی تھی۔ اس نے بڑی بی کے گھر جو یہ چہل پہل دیکھی تو اس سے نہ رہا گیا۔ پوچھا: یہ رو پریم کہاں سے لائیں؟ بڑی بی نے کہا: مجھ کو یہ روپیہ جاڑے، گرمی اور برسات نے دیا ہے۔
پڑون بڑھیا آفت کی پڑی تھی۔ ایک دن گھر والوں سے لڑ جھگڑ کر جنگل میں جا بیٹھی۔ خدا کا کرنا تھا کہ جاڑا، | گری، برسات اسی دن پھر ملے۔ ایک نے دوسرے سے پوچھا: کہ بھئی، بڑھیا نے کیا تصفیہ کیا؟ جاڑے نے کہا: بھئی وہ بڑھیا غضب کی تھی۔ انہیں بتایا کہ تینوں میں کون اچھا ہے۔ سب ہی کی تعریفیں کر کے مفت میں تین ہزار اشرفیاں مار لیں ۔ غرض تینوں جلے بھنے آگے بڑھے۔ دیکھا کہ ایک بڑھیا شیٹھی رو رہی ہے۔ پہلے میاں جاڑے کی ہے۔ ان کا آنا تھا کہ بڑھیا سردی سے تھر تھر کانپنے گی۔
جاڑے نے کہا: " بڑی بی سلام ! مزاج تو اچھا ہے۔ بڑھیا بولی: چل بڈ ھے! پرے ہٹ ۔ بڑی بی ہوگی تیری ماں ۔ اب جاتا ہے یا نہیں۔ میاں جاڑے نے کہا: " بڑی بی، میں جاڑا ہوں ۔ یہ بتانا میں کیسا ہوں؟
بڑی بی نے کہا: ”اس بڑھاپے میں بھی آپ اپنی تعریف چاہتے ہیں؟ لو اپنی تعریف شو! آپ نے اس کو فانج ہوا، اس کو لقوہ ہوا۔ ہاتھ پاؤں پھٹے جارہے ہیں۔ تاک شو مرد بہہ رہی ہے۔ دانت ہیں کہ کڑ کڑے نہ رہے ہیں ۔ کپڑے ادھر پہنے ادھر میلے ہوئے ۔ لیاف ذرا کھلا اور ہوا سر سے سی ۔ بچھو نے برف ہورہے ہیں ۔ توبہ تو به
آگ کی بھی تو گرمی جاتی رہتی ہے۔ لیئے اپنی تعریف نی یا کچھ اور سناؤں؟
جاڑا جلا ہوا تو پہلے سے ہی تھا۔ اب جو بڑھیا کی جلی کٹی باتیں سنیں تو جل کر کوئلہ ہو گیا۔ اپنی ٹھوڑی پٹڑ کر ڈاڑھی کی جو ہوا دی تو بڑھیا کو لقوہ ہو گیا۔ چلتے چلتے دو تین ٹھوکریں رسید کیں۔ ذرا فاصلے پر بی گری اور برسات کھڑی تھیں ان سے کہا: ”او جاؤ ! بڑھیا سے اپنا تصفیہ کر لاؤ، ہم تو ہار گئے ‘‘
کی گرمی خوشی خوشی بڑھیا کے پاس آئیں اور کہا: ” نانی اماں! میں ہوں گرمی ۔ تم سے یہ پوچھے آئی ہوں کہ گرمی کیسی؟
یہ سننا تھا کہ بڑھیا کے تو آگ ہی لگ گئی ۔ گرمی، گرمی کا کیا کہنا۔ سبحان اللہ! واہ واہ!! پسینہ بہہ رہا ہے۔ کپڑوں سے با آرہی ہے۔ بیج کو کپڑے بدلے شام تک چاٹ ہو گئے۔ کھانا کھایا اسی طرح ہضم نہیں ہوتا۔ سینے پر رکھا ہوا ہے۔ صبح ہوئی اور لو چلنی شروع ہوئی۔ اس کو لو گی، اس کو لو گی۔ اس کو ہیضہ ہوا۔ مہ جھلسا جاتا ہے۔ ہونٹوں پر پڑی بھی ہوئی ہے۔ پانی پیتے پیتے ہی بیزار ہو جاتا ہے۔ تمھاری جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ چل دور ہو میرے سامنے سے نہیں تو ایک بے نقط سناؤں گی کہ تمام عمر یاد رکھے گی ‘‘
اگر تو آگ بگولہ ہوگئیں ۔ کہا: ہر بڑھیا ھے اس بدزبانی کا مزہ چکھاتی ہوں۔ مجھے تو کیا بجھتی ہے۔ یہ کہہ کر جو پھونک ماری تو ایسا معلوم ہوا کہ ؤ لگ گئی۔ بڑھیا تو ہائے گرمی، ہائے گرمی کرتی رہی۔ بی گری پڑھ پر ایک دو تھر مارچلتی بنیں۔
جب ان کو بھی روی صورت بنائے آتے دیکھا تو بی برسات دل میں بہت خوش ہوئیں اور مجھیں کہ چلو میں نے پالا مار لیا۔ بڑی مشکتی منکاتی بڑھیا کے پاس گئیں اور کہا: میں برسات ہوں ۔ اچھا بتاؤ تو برسات کیسی؟
بڑھیا نے کہا: " برسات سے خدا بچائے۔ بجلی چمک رہی ہے۔ بادل گرج رہے ہیں ۔ کلیجہ بالا جاتا ہے۔ وهما | دهم کی آوازیں آرہی ہیں ۔ ذرا پاؤں باہر رکھا اور چھینٹے سر سے اوپر ہو گئے۔ ذرا تیز چلے اور جوتیاں کیچڑ میں پینس کر رہ گئیں۔ رات کو پچھر ہیں کہ ستائے جارہے ہیں ۔ نہ رات کو نیند، نہ دن کو چین اور پھر اس پر بھی یہ سوال کہ نانی جان میں کیسی ہوں ۔ نانی جان سے تعریف ن لی؟ اب تو دل ٹھنڈا ہو گیا۔ اے ہے! یہ بے موسم کی گرمی کیسی؟ خدا خیر کرے۔‘‘ بڑھیا یہ کہ رہی تھی کہ کی برسات کی نگاہ بجلی بن کر گری اور بڑی بی کے پائوں کو جانتی ہوئی نکل گئی اور في برسات بڑھیا کانگڑ کر منہ پرتھوک کر رخصت ہوئیں۔
بات یہ ہے کہ الله شکر خورے کو شگر ہی دیتا ہے۔ جو لوگ خوش مزاج ہوتے ہیں وہ ہر حال میں خوش رہتے ہیں اور موئے رونی صورت تو ہمیشہ جوتیاں کھاتے ہیں۔
(مرزا فرحت اللہ بیگ)


معنی باد کیجیے

بیابان:۔۔۔۔۔۔ جنگل
آدم نہ آدم زاد:۔۔۔۔۔۔  جہاں کسی انسان یا جاندار کا نام و نشان نہ ہو
صلاح:۔۔۔۔۔۔  مشورہ، رائے
کِلّے :۔۔۔۔۔۔ درخت کی وہ کونپل جوکلی کی طرح پھوٹتی ہے
دگلہ:۔۔۔۔۔۔  روئی دارلبادہ، سردی کا ایک لباس
سبحان اللہ :۔۔۔۔۔۔ پاک ذات ہے اللہ کی شکر گزاری کے اظہار کے لیے کہا جا تا ہے 
مہاوٹ:۔۔۔۔۔۔  جاڑے کی بارش
ملیدہ:۔۔۔۔۔۔  مالیده ) نمک ، گڑ یا شکر اور روٹی کو خوب مل کر تیار کی جانے والی ایک غذا
کنٹھا:۔۔۔۔۔۔  پھولوں کا ہار، موٹے موٹے موتیوں کی مالا
خس :۔۔۔۔۔۔ ایک قسم کی گھاس 
گھڑونچی:۔۔۔۔۔۔  گھڑےرکھنے کا اسٹینڈ جو بالعموم لکڑی کا ہوتا ہے
نہال ہونا ( محاورہ):۔۔۔۔۔۔  بہت خوش ہونا، سرشار ہونا
آفت کی پڑیا:۔۔۔۔۔۔  بہت زیادہ تیز ، چالاک
لاج رکھنا ( محاورہ) :۔۔۔۔۔۔ شرم رکھنا ، عزت آبرو کا خیال رکھنا
ملہارگانا ( محاورہ) :۔۔۔۔۔۔  برسات کے موسم کا گیت
نذر کرنا:۔۔۔۔۔۔  پیش کرنا، بھینٹ دینا
تصفیہ:۔۔۔۔۔۔  فیصلہ
فالج:۔۔۔۔۔۔  ایک ایسی بیماری جس میں جسم کا کوئی حصہ بے حس ہو جاتا ہے 
آگ لگنا ( محاورہ):۔۔۔۔۔۔  بہت زیادہ غصہ ہونا
لقوہ:۔۔۔۔۔۔ ایک ایسی بیماری جس سے منہ ٹیڑھا ہو جاتا ہے
آگ بگولہ ہونا (محاورہ) :۔۔۔۔۔۔  بہت غصہ میں ہونا
کلیجہ دہلنا ( محاورہ) :۔۔۔۔۔۔ بہت زیا دہ خوف کھانا


سوچیے اور بتائیے
سوال: جاڑا، گرمی اور برسات کا آپس میں جھگڑا کیوں ہوا؟
جواب: یہ تینوں موسم اپنے آپ کو دوسرے سے بہتر سمجھ 
رہے تھے اس لیے ان کا آپس میں جھگڑا ہو گیا۔

سوال: جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے انہوں نے کیا کیا؟
جواب: انہوں نے ایک آدم زاد سے صلاح لینے کا فیصلہ کیا۔

سوال: جاڑے کی کن خوبیں کو بڑی بی  نے بیان کیا؟
جواب: جاڑے میں انگیٹھیاں سلگ رہی ہوتی ہیں جن کے چاروں جانب بیٹھ کر گرمی کا مزا لیا جاتا ہے سرد موسم میں دولائی اوڑھ کر گرم گرم چائے کا لطف ہی کچھ اور ہوتا ہے۔

سوال: گرمی کے بارے میں بڑی بی کا کیا خیال تھا؟
جواب: گرمی میں مختلف قسم کے پھل کھانا، قلفی کھانا، طرح کی سبزیاں پھلنا اور خوبصورت پھولوں کا کھلنا بڑی بی کی نظر میں گرمی کی خوبیاں تھیں۔

سوال: مصنف نے برسات کا کیا حلیہ بتایا؟
جواب: برسات کا سانولا نمکین چہرہ تھا۔ چمکدار روشن آنکھیں، بھورے بال ان میں سے پانی ایسے ٹپک رہا تھا جیسے موتی ہو۔ ہاتھوں میں دھانی چوڑیاں کھنکھنا رہی تھیں۔

سوال: بڑی بی کو نذر میں تھیلیاں کیوں ملیں؟
جواب: بڑی بی نے سب کی تعریفیں کیں اس لیے سب نے بڑی بی کی خدمت میں تھیلیاں پیش کیں۔

سوال: بڑی بی کے گھر میں چہل پہل سے پڑوسن پر کیا اثر ہوا؟
جواب: اس سے بڑی بی کی خوشی دیکھی نہ گئی اور وہ بھی بڑی بی کی نقل میں جاکر جنگل میں بیٹھ گئی۔

سوال: بدزبان بڑھیا جاڑے کے ساتھ کس طرح پیش آئی؟
جواب: اس نے جاڑے کو بہت برا بھلا کہا۔ اس نے جاڑے کی برائی کرتے ہوئے کہا کہ جاڑے میں لوگوں کی طبیعت خراب ہوجاتی ہے۔ اور ان کی ناک بہنے لگتی ہے۔

سوال: برسات کی کون کون سی باتوں کو بڑھیا نے ناپسند کیا۔
جواب: بجلی گرنے اور بادل گرجنے سے کلیجہ ہل جاتا ہے۔ دھم دھم کی آواز آتی ہے۔ گھر سے باہر نکلتے ہی کیچڑ سے کپڑے گندے ہو جاتے ہیں۔ رات کو مچھر ستاتے ہیں۔ رات کی نیند اور دن کا چین چلا جاتا ہے۔

سوال: بڑھیا کے ساتھ برسات کا سلوک کیسا تھا؟
جواب: برسات کی نگاہ بجلی بن کر گری اوربڑی بی کے پیروں کو چاٹتی ہوئی نکل گئی۔ اور بی برسات بڑھیا کو لنگڑا کر کے منہ پر تھوک کر رخصت ہوئی۔


خالی جگہ کو صحیح لفظ بھریے

انھیں دنوں جاڑا، گرمی اور برسات میں جھگڑا ہوا۔ 

باجرے کا ملیدا بن رہا ہے رس کی کھیر پک رہی ہے۔ 

میاں جاڑے اپنی تعریفیں سن سن کر پھولے نہ سماتے تھے۔

نانی جان خدا تمہارا بھلا کرے تم نے آج میری  لاج رکھ لی۔

 مینہہ چھم چھم برس رہا ہے۔


نیچے لکھے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے

صلاح(مشورہ): ہمیں بڑوں کی صلاح لینی چاہیے۔

تصفیہ(فیصلہ): ان دونوں کے درمیاں تصفیہ ہو گیا۔

بیاباں(جنگل): وہ بیابان میں جا کر بیٹھ گئی۔

آدم نہ آدم زاد: دور تک آدم نہ آدم زاد تھا۔

ملہار(برسات کے موسم میں گانے والے گیت): کسان بارش دیکھ کر ملہار گانے لگے۔

نیچے لکھے ہوئے واحد اور جمع کو الگ الگ کرکے لکھیے

واحد  ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ جمع
بچا    ۔۔۔۔۔۔   بچے
تعریف ۔۔۔۔۔ تعریفیں
قلفی ۔۔۔==۔۔قلفیاں
اشرفی۔۔۔۔۔۔ اشرفیاں
چوڑی۔۔۔۔۔۔ چوڑیاں
 گھٹا ۔۔۔۔۔۔ گھٹائیں 
مہاوٹ ۔۔۔۔۔مہاوٹیں
فاصلہ  ۔۔۔۔۔ فاصلے


پڑھیے اور سمجھیے۔ 
سورج نکل رہا ہے
اکبرا بھی ناشتہ کر رہا ہے
اوپر کے جملوں میں خط کشیدہ الفاظ سے پتہ چلتا ہے کہ کام شروع تو ہوا لیکن ابھی ختم نہیں ہوا۔ انھیں حال نا تمام کہتے ہیں ۔ 
چاند نکل آیا ہے
 وہ اسکول جا چکی ہے
 اوپر کے جملوں میں خط کشیدہ افعال سے پتہ چلتا ہے کہ کام ختم ہو چکا ہے انھیں حال تمام کہتے ہیں۔

غور کرنے کی بات

مرزا فرحت اللہ بیگ اس کہانی کے مصنف ہیں ۔ وہ اردو کے ممتاز نثر نگار تھے۔ وہ اپنی مخصوص انداز میں دلی کی بول چال کی زبان اس خوب صورتی سے لکھتے ہیں کہ پڑھنے والوں کو مزہ آتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کوئی سچ مچ ہمارے سامنے بیٹھا مزے دارکہانی سنا رہا ہو۔ انھوں نے اس کہانی میں جاڑا، گرمی اور برسات کی اچھائیوں اور برائیوں کو اپنے مخصوص دلچسپ انداز میں بیان کیا ہے۔

 ہندستان میں تین موسم ہوتے ہیں : موسم سرما، گرما اور برسات۔ اس کے علاوہ ایک اور موسم بھی کئی ملکوں میں ہوتا ہے جسے موسم بہار کہتے ہیں۔ ان موسموں کی اپنی اپنی خوبیاں اور کمیاں ہیں۔ ہر موسم میں اللہ تعالی نے مختلف پھول، پھل اور سبزیاں انسان کےلیے پیدا کیں۔ برسات کے موسم کا خاص طور پر کسان بڑا استعمال کرتے ہیں ۔ اس موسم میں کئی تہوار بھی ہوتے ہیں۔ باغوں میں جھولے پڑ جاتے ہیں ۔ ملہار اور گیت گائے جاتے ہیں۔


 back





Sunday, September 9, 2018

Barsaat Ki Baharein - NCERT Solutions Class VII Urdu

برسات کی بہاریں


CourtesyNCERT

سوچیے اور بتائیے۔

1۔’’ہرے بچھونے‘‘ سے کیا مراد ہے؟
جواب: ہرے بچھونے سے مراد ہے کہ حق نے چاروں جانب سبزہ بکھیر دیا ہے۔ ہر جانب ہریالی ہے۔

2۔’’ہر بات کے تماشے ہر گھات کی بہاریں ‘‘سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
جواب: اس سے شاعر کی مراد ہے کہ برسات میں طرح طرح کی بہاریں ہیں۔ اس میں سمزوں کی لہلہاہٹ ہے، بوندوں کی جھمجھمجماہٹ ہے،قطرات و باغات کی بہاریں ہیں غرض کہ ہر طرح کے تماشے ہیں۔

3۔تیتر’’سبحان تیری قدرت‘‘ کیوں  پکارتے ہیں؟
جواب:سبحان تیری قطرت پکار کر تیتر قدرت کی حمد و ثنا کرتے ہیں۔

4۔پرندے کس کی رٹ لگا رہے ہیں؟
جواب: پرندے یق حق کی رٹ لگا رہے ہیں وہ قدرت کی حمد و ثنا میں مصروف ہیں۔

5۔شاعر نے برسات کے موسم میں کن چیزوں کے بھیگنے کا ذکر کیا ہے؟
جواب: شاعر نے اس موسم میں گلزار، شہر و دیار و کوچہ و بازار، صحرا ،جھاڑ،بوٹے و کہسار ودلدار کے بھیگنے کا ذکر کیا ہے۔

ان لفظوں کے واحد لکھیے

بچھونےتماشےبوندوںقطراتباغات
بچھوناتماشہبوندقطرےباغ




مصرعے مکمل کیجیے

سبزوں کی لہلہاہٹ باغات کی بہاریں

بوندوں کی جھمجھماہٹ قطرات کی بہاریں

ہر جا بچھا رہا ہے سبزا ہرے بچھونے 

جنگل میں ہو رہے ہیں پیدا ہرے بچھونے

سب مست ہو رہے ہیں پہچان تیری قدرت 

تیتر پکارتے ہیں سبحان تیری قدرت 

جو مست ہو ادھر کے کرشور ناچتے ہیں 

مینڈک اچھل رہے ہیں اور مور ناچتے ہیں

 املاء درست کیجیے

باگات                 باغات

کتراط                 قطرات

صبزے               سبزے

خدرت                قدرت

ہق                      حق

عان                     آن

تیطر                   تیتر

جور                    زور



 back


ترتیب
میرا وطن

خوش خبری