آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Sunday, September 30, 2018

Yeh Hai Kolkata Meri Jaan - 2

یہ ہے کولکتہ میری جان ۔۲
صحبہ عثمانی
ناخدا مسجد کا اندرونی حصّہ

صبح جب آنکھ کھلی تو ہمارے میزبان صبح کی چائے اوراردو کا اخبار لے کر حاضر تھے۔کولکتہ میں صبح سویرے چائے کے ساتھ اردو کا اخبار پڑھنے کا رواج عام ہے۔ ایک عام دوکاندار اور کم آمدنی والا مزدور بھی اخبار خرید کر پڑھنا اپنی شان سمجھتا ہے۔یہی سبب ہے کہ آزاد ہند اور اخبار مشرق کو کولکتہ میں بے پناہ عروج حاصل ہوا ۔ مغربی بنگال کے ساتھ ساتھ یہی مزاج جھارکھنڈاوربہارمیں بھی پایا جاتا ہے اور یہاں بھی اردو کے اخبارات کافی مقبول ہیں۔خیر پاپا اور ابو صبح کی چائے کے ساتھ اخبار دیکھتے رہے اور ہم سب باہر نکلنے کی تیاری  میں لگ گئے۔ ہم سب اپنا وقت بالکل ضائع کرنا نہیں چاہتے تھے۔ہم نے کھڑکی سے باہر جھانکا سامنے ناخدا مسجد نظارے کی دعوت دے رہی تھی۔

ناخدا مسجد کا خوبصورت منبر

پاپا اور ابو صبح کی نماز پڑھ کر واپس آچکے تھے۔ کچھ نمازی ابھی بھی مسج کے دروازے سے باہر آرہے تھے۔ اطراف کے دوکاندار  جس طرح اپنی دوکانیں چھوڑ گئے تھے وہ اسی طرح ترپالوں سے ڈھکی تھیں۔مسجد ان بے یار و مددگار دوکانداروں کے لیے ایک بڑا سہارا ہے جو فٹ پاتھ پر اپنی دوکانیں لگاتے ہیں۔ مسجد سے ملحق بھی بہت ساری دوکانیں ہیں جن کا کرایہ کمیٹیوں کے زیر انتظام ہے۔ہم سب نے سوچا ناخدا مسجد اندر سے دیکھنے کا یہ بہترین موقع ہے۔اس سے پہلے کے لوگوں کی بھیڑ ہو ہم خاموشی سے مسجد دیکھ آئیں۔ ہم سب فوراًہی اسے دیکھنے کے لیے اپنے کمرے سے نکل پڑے۔ مسجدکے عالیشان دروازہ پر پہنچ کر ہماری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اتنا بلند دروازہ ہم نے اس پہلے نہیں دیکھا تھا۔ اندر داخل ہونے کے بعد سامنے ہی ذرا بلندی پرسنگ مرمر کا ایک حوض نظر آیا۔یہ تقریباً دو فٹ گہرا ہےجس میں پانی بھرا رہتا ہےاور  رنگ برنگی مچھلیاں تیر تی رہتی ہیں۔ معلوم ہوا کے یہ حوض وضو بنانے کے لیے ہے۔ ہم نے اندر سے مسجد کی عمارت کو دیکھا۔مسجد کے اندر نقش و نگار نے ہمیں کافی متاثر کیا۔ وہ محراب جہاں امام مسجد خطبہ دیتے ہیں سنگ مر مر کا بنا تھا۔اور درمیانی گنبد میں کافی نقش و نگار بنے تھے۔ اونچائی اتنی تھی کہ سر اٹھاکر دیکھیں تو ٹوپی گرجائے۔ ہم نے کولکتہ کے سیر کا آغاز ایک خوبصورت مقام سے کردیا تھا۔ ہم سب ہوٹل واپس آئے۔ناشتہ ہمارا انتظار کر رہا تھا۔ ناشتے سے فارغ ہوکر ہمیں اہم مقامات کی سیر کے لیے نکلنا تھا۔گاڑی آچکی تھی اور ہمارے نکلنے میں صرف ناشتہ کرنے کی دیر تھی۔

انڈین میوزیم ۔ کولکتہ

ناشتہ کے بعد ہم سب جلدی جلدی گاڑی میں سوار ہو گئے۔ آج ہم سب کا پروگرام کولکتہ کے قومی میوزیم کو دیکھنے کا تھا۔ اس کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا۔ ہماری سب سے زیادہ دلچسپی یہاں رکھی ممیوں کے بارے میں تھیں۔ ممی صدیوں پرانی حنوط شدہ لاش کو کہتے ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ سب سے قدیم ممیاں اہرام مصر میں ہیں۔ دل میں کچھ خوف بھی تھا اور ممی دیکھنے کا جوش بھی۔ہم جہاں ٹھہرے تھے وہاں سے میوزیم کا فاصلہ زیادہ نہیں تھا۔ بائیں جانب دوکانوں کو دیکھتے ہوئے ہم جلد ہی میوزیم کے سامنے کھڑے تھے۔ ابّو نے میوزیم میں داخلے کا ٹکٹ منگوایا  اور ہم سب چیکنگ کے بعد میوزیم کے اندر داخل ہو گئے۔ یہ میوزیم مختلف حصّوں میں بٹا ہوا ہے۔ جانوروں کے ڈھانچے، قدیم سکے، نادر مورتیاں ، محفوظ کیے گئےنایاب پرندے اور خطرناک سانپ اس کے علاوہ تاریخی نوادرات۔ معلومات کا ایک سمندر تھا جس کی سیر ہمیں چند ہی گھنٹوں میں کر لینی تھی۔ اس میوزیم کا تنوع ہی اس کی شناخت تھا۔ہم ایک ہال میں داخل ہوئے سامنے ایک بڑے ہاتھی کا ڈھانچہ رکھا تھا۔ ہاتھی کی ہذیوں کو بڑے سلیقے سے سجا کر کھڑا کیا گیا تھا۔ ایسا محسوس ہوا کہ اب اس ڈھانچے پر گوشت اور چمڑہ چڑھے گا ،اس میں جان آجائے گی اور یہ زور سے چنگھاڑے گا لیکن ایسا کچھ نہیں تھا ہم اسے چھونے کو بیتاب تھے لیکن اس کا چھونا منع تھا۔ پاس ہی ایک بڑے ڈائناسور کی بھی ہڈیاں تھیں۔ شیشے کے بڑے بڑے شو کیس بنے تھے جس میں جنگلی جانور  مثلاً چیتا، شیر اور بھالو وغیرہ بالکل اپنی شکل میں موجود تھے۔ یہیں پرندوں کو بھی الگ شوکیس میں محفوظ کیا گیا تھا۔ مجھے ماہر طیور سالم علی یاد آئے جنہوں نے پرندوں کی کھالوں میں بھراؤ کر انہیں محفوظ کرنے کا علم حاصل کیا تھا۔ پرندوں کو اس شکل میں دیکھ کر ہمیں وہ بات اچھی طرح سمجھ آگئی۔ ہم نے بڑی دلچسپی سے ایک ایک پرندے کو دیکھا۔ بعض پرندے بڑے نایاب تھے۔ ریکارڈ کے لیے ہم نے ان سب کی تصویریں اتاریں۔ وہ ساری تصویریں ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔ ہم ان تصویروں کو آپ کے ساتھ ضرور شیئر کریں گے۔ اس طرح آپ اپنے گھر بیٹھے اس میوزیم کو دیکھ سکیں گے۔


میوزیم کے مختلف ہالوں میں گھومتے ہوئے اب ہم شیشے کے تابوت کے سامنے کھڑے تھا۔ دیکھا تو اس میں ایک حنوط شدہ لاش پڑی تھی۔ میرے بدن میں جھر جھری سی آگئی۔ میں ایک ممی کے سامنے کھڑی تھی۔ اس کے چہرے کا حصّہ خوفناک تھا۔ایسا لگا کسی ہارر فلم کی طرح اب وہ اپنے تابوت سے نکل جائے گی اور اس کے دانت ہماری گردن پر ہوں گے۔ ہم سب بہنیں ایک جگہ یکجا ہو گئے تھے اور تجسس بھری نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے۔


عریشہ اور اسرا آپی اس کی تصویریں لینے میں لگی تھیں۔ میں نے ہمت کرتے ہوئے اس کے قریب جا کر اس کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کی۔ ایک ڈراونی سے کھوپڑی آنکھوں کی جگہ دو بڑے سوراخ جو گہرے غار کے مانند تھے ، ناک کی جگہ خالی گڑھا اور پھر مکمل جبڑا جس پر دانت بڑے ڈراونے لگ رہے تھے۔کھوپڑی جسم پر رکھی تھی۔ ممی کا تعلق مصر سے تھا۔اہرام مصر کی ممیاں۔ کولکتہ میں بیٹھ کر مصر کی ممیاں دیکھنا ایک دلچسپ تجربہ تھا۔ممی اور اس کی نقل دونوں ایک ہی بڑے باکس میں رکھی تھیں۔
(جاری)


Saturday, September 15, 2018

Yeh Hai Kolkata Meri Jaan!

یہ ہے کولکتہ میری جان
صحبہ عثمانی

جنوری کی ایک خوبصورت شام تھی اور ہم سب دھنباد سے کولکتہ جانے والی ٹرین پر سوار تھے۔ ہم سب نے دہلی میں جاڑے کی چھٹیوں میں کولکتہ جانے کا پروگرام بنایا تھا۔ میرے پاپا نے اپنے بڑے بھائی جنہیں میں ابو بلاتی ہوں کے ساتھ کولکتہ گھومنے کا پروگرام طے کر رکھا تھا۔ وہ جمشید پور سے اپنی فیملی کے ساتھ کولکتہ کے لیے روانہ ہو چکے تھے اور ہم سب بھی کولکتہ کے راستے میں تھے۔ ان کی ٹرین ہماری ٹرین سے ایک گھنٹے پہلے پہنچنے والی تھی اور وہ لوگ اسٹیشن پر ہی ہم سب کا انتظار کرنے والے تھے۔ کولکتہ پہنچنے کا وقت جیسے جیسے نزدیک آرہا تھا ہمارا جوش بڑھتا جا رہا تھا۔ ابو ہوڑہ اسٹیشن پہنچ چکے تھے اور اب ان کا فون آرہا تھا کہ ہم کتنی دور ہیں۔ہمیں بھی اب دور سی جھلملاتی روشنیاں نظر آنے لگیں تھیں۔ رات کے ساڑھے نو بج چکے تھے اور ہم سب رات کے اندھیرے میں ہی کولکتہ کو اچھی طرح دیکھ لینا چاہتے تھے۔ کسی بھی عام شہر کی طرح وہاں بھی ریلوے لائن کے کنارے پرانی عمارتیں نظر آنے لگی تھیں۔ دیواروں پر بنگلہ میں لکھے اشتہارات جنہیں ہم صرف تصویر سے پہچان سکتے تھے نظر آنے لگے تھے کہ اچانک پاپا نے بتایا دیکھو ہوڑہ برج کا ایک حصّہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ ہم نے ٹرین کے اندر سے ہی اسٹیل کے اونچے اونچے جالی دار ستون دیکھے۔ ایسا لگا جیسے پوارا کولکتہ ہی ہماری آنکھوں کے سامنے آگیا ہو۔ ٹرین اب آہستہ آہستہ ہوڑہ اسٹیشن میں داخل ہو رہی تھی۔

شہر کولکتہ کے ریلوے اسٹیشن کا نام ہوڑہ جنکشن ہے۔ یہ اسٹیشن 1854 میں عام لوگوں کے لیے کھولا گیا۔ہگلی ندی پر بنا مشہور ہوڑہ برج اس کے قریب ہی واقع ہے۔یہ پُل ہوڑہ اور کولکتہ دو شہروں کو جوڑتا ہے۔یہ پُل ۱۹۳۶ میں بننا شروع ہوا اور ۱۹٤۲ میں مکمل ہوا ۳ فروری ۱۹٤۳ کو اسے عوام کے لیے کھول دیا گیا۔۔ ابو، سنجھلی امی اور یمنیٰ آپی اسٹیشن پر ہم سب کا انتظار کر رہے تھے۔ جیسے ہی ہم لوگوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ہمارے چہرے کھل اٹھے۔ کولکتہ کو قریب سے دیکھنے کا ہمارا خواب اب حقیقت میں بدل چکا تھا۔ ہم سب اسٹیشن پر اترے۔ ابّو کے ساتھ کئی لوگ ہمارے استقبال کے لیے کھڑے تھے۔کولکتہ اسٹیشن کافی اونچا اور بڑا تھا۔ اس اسٹیشن کی خوبی یہ تھی کہ یہاں گاڑی لینے کے لیے آپ کو اسٹیشن کے باہر نہیں جانا تھا بلکہ گاڑیوں کے اندر آپ کے اسٹیشن تک لانے کی سہولت تھی۔ میں نے یہ پہلا اسٹیشن دیکھا جہاں آپ کی کار اسٹیشن پر ہی آپ کا انتظار کر رہی تھی۔ میں ۵ گھنٹے کا سفر کر کے تھک چکی تھی۔ اسٹیشن کافی لمبا اور صاف ستھرا تھا اور ہم میں مزید پیدل چلنے کی ہمت نہیں تھی۔ہم سب جلدی جلدی دو گاڑیوں میں سوار ہو گئے۔ ہمارا قافلہ ہوٹل کی جانب روانہ ہوگیا۔ ابو نے ناخدا مسجد کے سامنے ہی ہوٹل کا کمرہ بک کرا رکھا تھا۔
CourtesyAaina
ہوگلی ندی میں اسٹیمر سے ہوڑہ برج کی ایک تصویر۔
اسٹیشن سے نکلتے ہی روشنی میں جگمگاتا ہوڑہ برج ہمارا استقبال کر رہا تھا۔ گاڑیوں کی طویل قطار سے جام جیسا منظر تھا۔ لیکن ہم خوش تھے کہ ایک تاریخی پُل کو ہمیں اتنے قریب سے دیر تک دیکھنے کا موقع مل رہا ہے۔ اب تک تصویروں میں دیکھ کر یہ برج ہمارے آنکھوں میں بس چکا تھا اور اب اتنے قریب سے دیکھ کر ایک عجیب سی خوشی کا احساس ہو رہا تھا۔ہمیں ہوڑہ برج دیکھنے کے لیے الگ سے پروگرام نہیں بنانا پڑا تھا اور اب ہم دھیرے دھیرے اس پُل سے گزرنے والے تھے۔ اس پُل کی خوبی یہ ہے اس پُل کے نیچے کوئی ستون نہیں ہے اور یہ پورا پُل معلق ہوا میں ٹنگا ہے۔ اسٹیل کے بڑے بڑے گٹروں نے سارا بوجھ ندی کے کنارے مضبوط ستونوں پر کھینچ رکھا ہے اور اس کے نیچے سے بڑے بڑے جہاز اور اسٹیمر بہ آسانی گزر سکتے ہیں۔ اس پر سے روزانہ تقریباً ایک لاکھ سے زائد گاڑیاں گزرتی ہیں اورتقریباً ڈیڑھ لاکھ لوگ اسے پیدل پار کرتے ہیں۔اب ہم ہوڑہ برج میں داخل ہو چکے تھے۔ کار کے پچھلے شیشے سے ہماری نگاہیں اس کے لوہے کے اس ستون کی بلندی دیکھنے کو بیتاب تھیں۔ لوہے کے چوڑے چوڑے گٹر ایک دوسرے سے جڑے تھے۔ اسے بنانے والے کاریگروں کا کمال تھا کہ انہوں نے بڑی کامیابی سے اس پُل کو ہوا میں نہ صرف معلق رکھا تھا بلکہ اس پر سے ہزاروں گاڑیوں کا گزرنا بھی ممکن بنایا تھا۔ سڑک بہت زیادہ چوڑی نہیں تھی۔ اور دونوں جانب سے ٹریفک کا بحال رکھنا ایک مسئلہ تھا۔ لیکن ٹریفک پولس والے بڑی مستعدی سے اپنے فرائض انجام دے رہے تھے اور گاڑیوں کو ایک ترتیب سے پار کرا رھے تھے۔ بتاتے ہیں کہ کوککتہ کی ٹریفک پولس اپنے اصولوں کی بڑی پکّی ہے۔ اور ٹریفک ضابطوںکی ان دیکھی کرنے پر سخت جرمانہ کرتی ہے۔ لہذا گاڑی چلانے اس سلسلہ میں بہت محتاط رہتے ہیں اور کوئی بھی اپنا چالان کٹوانا نہیں چاہتا۔ ہماری گاڑی ہوڑہ برج سے گزر چکی تھی۔برج کے بلند ستوں دور سے نظر آتے آتے اب ہماری نظروں سے اوجھل ہورہے تھے۔ ہم نے کولکتہ کی سب سے اہم یادگار کا دیدار کر لیا تھا۔
ناخدا مسجد کا صدر دروازہ
اب ہم اپنے ہوٹل کے قریب پہنچنے والے تھے۔دونوں جانب دوکانیں کھلی تھیں۔ ہماری گاڑی روشنی میں جگمگاتے بازار سے گزرتے ہوئے اپنے ہوٹل تک پہنچنے والی تھی کہ بیچ سڑک پر ریلوے کی پٹری نظر آنے لگی۔ معلوم ہوا اس پر ٹرام چلتا ہے۔ ٹرام کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا اور اسے بھی دیکھنے کا شوق تھا۔ لیکن اس وقت کوئی ٹرام نظر نہیں آیا۔ ہم تقریباً اپنی منزل تک پہنچ چکے تھے اور سامنے ناخدا مسجد نظر آرہی ھے۔ ہماری گاڑی ناخدا مسجد کے دروازے پر جاکر رک گئی۔

ناخدا مسجد کے صدر دروازہ پر نصب کتبہ۔(تصویر آئینہ)
مین گیٹ کے سامنے ہی ہمارا ہوٹل تھا جہاں گیٹ کے سامنے ہی دوسری منزل پر ہمارے ٹھہرنے کا انتظام تھا۔ کاؤنٹر پر ضروری خانہ پری کے بعد ہم سب اپنے کمرے میں آرام کرنے کے لیے چلے گئے۔کولکتہ جہاں اپنے سیاحتی و تاریخی مقامات کے لیے مشہور ہے وہیں خورد و نوش کے معاملے میں بھی اس کا جواب نہیں۔ یہاں غریب سے غریب اور امیر سے امیر آدمی بھی اپنے غذائی تعیش کی تسکین کر سکتا ہے۔ ایک عام انسان بھی اچھے کھانے پینے اور آسائش کا لطف اٹھا سکتا ہے۔کھانے کی خواہش نہیں تھی لیکن ہمارے میزبان دسترخوان سجا چکے تھے۔ یہ ایک بڑا ہال تھا اور اس سے ملحق ایک کمرہ تھا۔ کمرے میں میری امی، سنجھلی امی اور میری بڑی بہنوں اسرا اور یمنی کے رہنے کا نظم تھا اور ہاں یاد آیا ان سب کے ساتھ ہماری پھوپھی زاد بہن عریشہ آپی بھی تھیں۔ان کے کھلکھلاتے قہقہوں کو میں اب تک کیسے بھولی بیٹھی تھی۔ شاید میں کولکتہ کہ ذکر میں کھو گئی تھی۔اُف یہ کولکتہ۔ ہاں تو میں بتا رہی تھی کہ دسترخوان سج چکا تھا۔آپ کولکتہ جائیں اور ناخدا مسجد کے پاس ٹھہریں اور کباب پراٹھا نہ کھائیں تو آپ سے بڑا بد ذوق اور کوئی نہیں۔ یہاں کباب اور پراٹھے کا لطف ہی کچھ اور ہے۔ کولکتہ میں دو ہی چیزیں مشہور ہیں ایک رویل کی بریانی اور ناخدا کے کباب پراٹھے۔ اور ہاں جاڑوں میں حلیم کا بھی جواب نہیں۔گرمیوں میں ٹیپو سلطان کی مسجد کے قریب ملنے والے فالودے بھی کافی لذیذ ہوتے ہیں۔ اب بڑے بڑے مال کھل چکے ہیں جس کا ذکر بعد میں آئے گا وہاں مغربی اور چائینیز ڈشوں کی بھرمار ہے لیکن لوگ ابھی بھی روائتی ڈشوں کے دیوانےہیں۔

کھانے کے بعد ہم اپنے بستروں پر سونے کے لیے چلے گئے۔ نیند آنکھوں سے دور تھی آنکھ بند کرتے ہی سامنے عالیشان ہوڑہ برج آنکھوں کے سامنے آجاتا اور میں ان مزدوروں اور انجینیروں کے بارے میں سوچنے لگتی جنہوں نے اس کی تعمیر میں حصّہ لیا تھا۔ انگریز بھی ہمارے ملک میں کیسے کیسے کارنامے انجام دے گئے۔پاپا اور ابو دوسرے دن گھومنے کا پروگرام ترتیب دے رہے تھے اور میں آہستہ آہستہ نیند کی آغوش میں جا رہی تھی۔

(جاری)

Wednesday, September 12, 2018

Hockey Aur Hockey Ka Jadoogar - NCERT Solutions Class VIII Urdu

ہاکی اور ہاکی کا جادوگر

سوچیے اور بتائیے
CourtesyNCERT

سوال: ہاکی کھیلنے کے لیے کتنی جگہ چاہیے۔
جواب: ہاکی کھیلنے کے لیے ایک بڑا میدان چاہیے۔

قدیم زمانے میں ہاکی جیسا کھیل کہاں کھیلا جاتا تھا؟
جواب: قدیم زمانے میں ہاکی جیسا کھیل یونان اور ایران میں کھیلا جاتا تھے۔

سوال: فرانس میں کھیلے جانے وےلے کھیل کو کیا کہتے تھے؟
جواب: فرانس میں کھیلے جانے والے کھیل کو ہاکٹ کہتے تھے۔

سوال: ہاکی کے ضابطے کس ملک مں بنائے گئے؟
جواب: انگلینڈ میں اس کا نام ہاکٹ رکھا گیا اور وہیں اس کے ضابطے بنائے گئے۔

سوال: آئس ہاکی کیا ہے اور یہ کن کن ملکوں میں کھیلی جاتی ہے؟
جواب: آئس ہاکی بند اسٹیڈیم میں برف پر کھیلی جاتی ہے۔ اسے امریکہ اور کناڈا وغیرہ میں کھیلا جاتا ہے۔

سوال: ہاکی کی ٹیم میں کتنے کھلاڑی ہوتے ہیں؟
جواب: ہاکی کی ٹیم میں گیارہ کھلاڑی ہوتے ہیں۔

سوال: دھیان چند کون تھے اور ان کی پیدائش کہاں ہوئی؟
جواب: دھیان چند ہاکی کے ایک مشہور کھلاڑی تھے۔ ان کی پیدائش الہ آباد کے ایک راجپوت خاندان میں 29 اگست 1905 کو ہوئی۔

سوال: ہندوستانی ٹیم کے مینیجر نے کرو یا مرو کا نعرہ کیوں دیا؟
جواب: دھیان چند اور ٹیم کے بقیہ کھلاڑی اچانک بیمار پڑگئے تھے اور کپتان بھی اس وقت موجود نہیں تھے تب سب کا حوصلہ بڑھانے کے لیے ٹیم کے مینیجر نے ’کرو یا مرو’ کا نعرہ لگایا۔

سوال: لوگوں کو دھیان چند کی اسٹک کے بارے میں کیا شک تھا؟
جواب: میچ کے دوران گیند دھیان چند کی ہاکی اسٹک میں چپکی رہتی تھی۔ اس لیے لوگوں کو یہ شک ہونے لگا کہ کہیں ان کی اسٹک میں کوئی ایسی چیز تو نہیں جو گیند کو اپنے جانب کھینچے رہتی ہے۔

سوال: جرمنی کے تماشائیوں نے دھیان چند کو کیا نام دیا؟
جواب: جرمنی کے تماشائیوں نے دھیان چند کو ہاکی کا جادوگر کہنا شروع کر دیا۔

سوال: ہندوستان نے ہاکی میں پہلا طلائی تمغہ کس اولمپک مقابلے میں حاصل کیا تھا؟
جواب: 1928 میں ہندوستان نے ہالینڈ کو ہراکر اولمپک میں پہلا طلائی تمغہ حاصل کیا۔

سوال: دھیان چند کو ہاکی کا جادوگر کیوں کہا جاتا ہے؟
جواب: دھیان چند جب ہاکی کا ایک میچ کھیل رہے تھے تب گیند ہاکی اسٹک سے ایسی چپکی معلوم ہو رہی تھی جیسے اسے چپکایا گیا ہو۔ تب لوگوں کو ان پر شک ہوا۔ انہیں دوسری ہاکی اسٹک سے کھیلنے کے لیے کہا گیا۔ اس بار بھی ایسا لگا جیسے گیند ہاکی اسٹک میں چپکی ہو۔ تب سب سمجھ گئے کہ یہ ان کی کلائیوں کا کمال ہے۔تب سے انہیں ہاکی کا جادوگر کہا جانے لگا۔

سوال: دھیان چند نوجوان کھلاڑیوں کو کیا نصیحت کیا کرتے تھے؟
جواب: وہ یہ نصیحت کیا کرتے تھے کہ ذاتی شہرت یا نام کے لیے نہیں بلکہ پوری ٹیم کو یک جان ہوکر کھیلنا چاہیے تاکہ ملک کا نام روشن ہو۔

خالی جگہ

ہاکی میدان میں کھیلا جانے والا کھیل ہے۔

ہاکی کا کھیل فرانس میں ہاکٹ کے نام سے شروع ہوا۔

انگلینڈ میں اس کھیل کے ضابطے بنائے گئے۔

بند اسٹیڈیم میں بھی آئس ہاکی کھیلی جاتی ہے۔

الفاظ کے واحد جمع یہاں دیکھیں


 back

Lo Phir Basant Aayi - NCERT Solutions Class VIII Urdu

لو پھر بسنت آئی
CourtesyNCERT

سوچیے اور بتائیے

سوال: بسنت آنے پر لوگ گنگا کے کنارے کیوں جانا چاہتے ہیں؟
جواب: گنگا کے کنارے بارش کی بوندوں کی آواز بہت سہانی ہوتی ہے اس لیے لوگ اسے سننے کے لیے گنگا کے کنارے جانا چاہتے ہیں۔

سوال: بسنت میں چرند و پرند کس حال میں ہوتے ہیں؟
جواب: بسنت میں پرندوں میں خوشی کا ماحول ہوتا ہے۔ سب پرندے گا رہے ہوتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے سب میں جان آگئی ہے۔

سوال: سرسوں کون سی بات بھولی ہوتی ہے؟
جواب: سرسوں یہ بھولی ہوتی ہے کہ اس کا یہ رنگ و روپ وقتی ہے۔ کچھ وقت بعد اسے کاٹ دیا جائے گا اور وہ اتنی دلکش نہیں رہ جائے گی۔

سوال: بسنت کا موسم کب آتا ہے؟
جواب: بسنت کا موسم سردی کے بعد آتا ہے۔

مصرعے مکمل کیجیے

کھیتوں کا ہر چرندہ باغوں کا ہر پرندہ
گویا رہے گی برسوں بھولی ہوئی ہے سرسوں

نیچے دیے گئے لفظوں سے جملے بنائیے

امنگ: بادل دیکھ کر کسان کے چہرے پر امنگ چھا گئی۔

چرندہ: چرندہ سارا کھیت چر گیا۔

سبک: اس کے ہاتھ میں ایک سبک ٹوکری تھی۔

شاد: بسنت میں سب کے دل شاد ہوتے ہیں۔

با مراد: اپنی اولاد سے مل کر وہ بامراد ہو گئی۔

ہم آواز الفاظ

ایسے الفاظ جن کے معنی اور املا مختلف ہوں لیکن آواز ایک ہو ’ہم آواز الفاظ‘ کہلاتے ہیں۔

مثال:

ہال     حال

فضا     فزا

عام     آم

سدا     صدا

 back

NaHui Qaroli - NCERT Solutions Class VIII Urdu

نہ ہوئی قرولی
CourtesyNCERT

سوچیے اور بتائیے

سوال: میاں خوجی کس کے ساتھ اور کہاں آئے ہوئے تھے؟
جواب: میاں خوجی آزاد کے ساتھ لکھنؤ آئے ہوئے تھے۔

سوال: خوجی جہاں ٹھہرے ہوئے تھے وہاں کیا حادثہ پیش آیا؟
جواب: میاں خوجی پورے دن کے تھکے ہوئے کھاٹ پر سوئے تو انہیں کھٹملوں نے کاٹنا شروع کر دیا ۔ کھٹملوں کے کاٹنے سے خوجی چلائے تو لوگوں کو لگا کہ چور آگیا اور سرائے میں کہرام مچ گیا۔

سوال: سرائے میں کہرام کیوں مچ گیا؟
جواب: خوجی کے چلانے سے سب کو لگا کہ سرائے میں چور آگیا ۔ لہذا سب بھاگے جس سے کہرام مچ گیا۔

سوال: میاں خوجی کس کے ساتھ اور کہاں آئے ہوئے تھے؟
جواب: میاں خوجی آزاد کے ساتھ لکھنؤ آئے ہوئے تھے۔

سوال: خوجی جہاں ٹھہرے ہوئے تھے وہاں کیا حادثہ پیش آیا؟
جواب: میاں خوجی پورے دن کے تھکے ہوئے کھاٹ پر سوئے تو انہیں کھٹملوں نے کاٹنا شروع کر دیا ۔ کھٹملوں کے کاٹنے سے خوجی چلائے تو لوگوں کو لگا کہ چور آگیا اور سرائے میں کہرام مچ گیا۔

سوال: سرائے میں کہرام کیوں مچ گیا؟
جواب: خوجی کے چلانے سے سب کو لگا کہ سرائے میں چور آگیا ۔ لہذا سب بھاگے جس سے کہرام مچ گیا۔

سوال: میاں خوجی کے ساتھ  لوگوں نے کیا سلوک کیا؟
جواب: خوجی کو چور سمجھ کر سب نے لات گھونسوں سے ایسی تواضع کی کہ خوجی کو نانی یاد آگئی۔ سب نے لات گھونسوں سے خوجیa کے انجر پنجر ڈھیلے کر دیے۔

سوال: ’’رگ aحمیت پھڑک اٹھی‘‘ اس کی وضاحت کیجیے۔
جواب: رگ حمیت پھڑکنے کا مطلب ہے غیرت کا جاگنا۔ جب خوجی آزاد کو اپنی کہانی ایک میں چار لگا کر سنا رہے تھے اور اپنی بڑائی میں لگے تھے تب آزاد نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائی ۔اس سے ان کی غیرت جاگ گئی اور ان کی رگ حمیت پھڑک اٹھی۔

سوال: خوجی کا دوست کون تھا؟
جواب: خوجی کا دوست اازاد تھے۔

سوال: خوجی آزاد کی کون سی بات سن کر جھوم اٹھے؟
جواب: جب آزاد نے ان کی بات سن کر یہ کہا ’’درست فرمیا آپ کی ذات شریف سے یہی توقع تھی‘‘ یہ سن کر خوجی جھوم اٹھے۔

محاوروں کو جملوں میں استعمال کریں

جان پر آ بننا: موسلا دھار بارش سے پرندوں کی جان پر بن آئی۔

موت کے گھاٹ اتارنا: پولس نے چور کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

مرغ کی ایک ٹانگ: خوجی کے لیے ہر بات مرغ کی ایک ٹانگ جیسی ہے۔

بات کا بتنگڑ بنانا: خوجی کو بات کا بتنگڑ بنانے میں مزا آتا ہے۔/ میڈم ہر بات کا بتنگڑ بنا دیتی ہیں۔

پالا نہ پڑنا: بدمعاشوں سے پالا نہ پڑنا ہی اچھا ہے۔


 back

Tuesday, September 11, 2018

Maa Ka Khwab - NCERT Solutions Class VIII Urdu

ماں کا خواب 
CourtesyNCERT
سبق

سوچیے اور بتائیے

سوال: خواب میں ماں نے اپنے آپ کو کس حال میں دیکھا؟
جواب: خواب میں ماں نے اپنے آپ کو ایک اندھیری جگہ پر دیکھا جس سے وہ بہت ڈر گئی۔

سوال: ماں نے آگے بڑھ کر کیا دیکھا؟
جواب: ماں نے آگے بڑ کر بچوں کی ایک قطار دیکھی۔ یہ بچّے زمرد پوشاک پہنے اور ہاتھوں میں دیے لیے تھے۔

سوال: ماں نے اپنے بیٹے کو کس حال میں پایا؟
جواب: اس کا بیٹا قطار میں سب سے پیچھے تھا۔ وہ بہت دھیرے دھیرے چل رہا تھا۔ اس کا دیا بجھ گیا تھا۔

سوال: ماں کی بے قراری کا سبب کیاہے؟
جواب: ماں کی بےقراری کا سبب یہ ہے کہ اس کا بیٹا اسے چھوڑ کر بہت دور چلا گیا ہے۔ اس نے جب اپنے بیٹے کو یہاں دیکھا تو اس کی حالت دیکھ کر اوور بھی بے قرار ہوگئی۔

سوال: لڑکے کے ہاتھ میں دیا کیوں نہیں جل رہا تھا؟
جواب: اس کی ماں کے آنسوؤں نے اس کے دیے کو بجھا دیا تھا۔ اس لیے اس کا دیا نہیں جل رہا تھا۔

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے 

اضطراب: اپنے بیٹے کی حالت دیکھ کر ماں کا اضطراب بڑھ گیا۔

محال: مہنگائی نے لوگوں کا جینا محال کر دیا ہے۔

اجل: آخر کار اس کی اجل آگئی۔

پیچ و تاب: حامد غصّے سے پیچ و تاب کھانے لگا۔


مصرعے مکمل کیجیے

میں سوئی جو  اک شب دیکھا  یہ خواب

بڑھا اور جس سے   مرا اضطراب

سمجھتی ہے تو  ہو گیا کیا اسے

ترے آنسووں نے بجھایا اسے

ان لفظوں کے متضاد لکھیے

جواب دوربےقرارجدائیبھلائیوفا
سوال پاس قرار ملن برائی بےوفا
 back





Monday, September 10, 2018

Aasmani Dost - NCERT Solutions Class VI Urdu

آسمانی دوست

courtesyNCERT

سوچیے اور بتائیے: 

سوال: منی اپنی بالکونی سے پارک کی طرف کیا دیکھ رہی تھی؟
جواب: منی اپنی بالکونی سے پارک میں کھیلتے بچّوں کو دیکھ رہی تھی۔

سوال: منی کی ممی اسے بار بار اندر آنے کو کیوں کہہ رہی تھیں؟
جواب: منی کی ممی اسے اندر آنے کو اس لیے کہہ رہی تھیں کہ باہر بارش ہورہی تھی۔ اور وہ یہ نہیں چاہتی تھیں کہ منی بارش میں بھیگ جائے۔

سوال: منی گھسٹ گھسٹ کر کیوں چلتی تھی؟
جواب: کیونکہ وہ پیروں سے معذور تھی۔

سوال: منی اپنا کون کون سا کام خود کر لیتی تھی؟
جواب: منی اپنے دانت صاف کرلیتی تھی اور چمچے کی مدد سے کھانا بھی کھالیتی تھی۔ وہ اپنی وہیل چیئر بھی خود چلا لیتی تھی۔

سوال: منی کے اسکول میں اس سے کیا کرایا جاتا تھا؟
جواب: منی کو اسکول مں کچھ خاص قسم کی کسرت اور بولنے کی مشق کرائی جاتی تھی۔ ساتھ ہی ساتھ اسے وہی سب مضنون پڑھائے جاتے تھے جو دوسرے اسکولوں میں بچوں کو پڑھائے جاتے ہیں۔

سوال: خالی وقت میں منی کا مشغلہ کیا تھا؟
جواب: خالی وقت میں منی اپنی بالکونی سے بچّوں کو کھیلتا دیکھتی تھی۔

 سوال: منی کی گود میں اچانک کیا چیز آکر گری؟
جواب: منی کی گود میں ایک خوبصورت بطخ اچانک آسمان سے آگری۔

سوال: منی نے چوٹ کھائی ہوئی بطخ کی کس طرح مدد کی؟
جواب: منی نے اپنی ماں سے اسے کچے پکے چاول دودھ میں کچل کر دینے کے لیے کہا اور پھر رات میں اسے اپنے پاس سلایا۔

سوال: بطخ کے آنے کے بعد پڑوس کے بچّے مِنی کے پاس کیوں آئے؟
جواب: بچے بطخ کو دیکھنا اور اس کے ساتھ کھیلنا چاہتے تھے۔

سوال: انجو نے کچھ کہتے کہتے اپنا منہ جلدی سے کیوں دبا لیا؟
جواب: انجو بطخ کو انجانے میں لولی کہہ رہی تھی کہ اسے اچانک مِنی کاخیال آیا اور اس نے جلدی سے اپنا منہ دبا لیا۔

سوال: محبت بھرے بہت سے ننھے منے ہاتھ منی کو کہاں لے گئے؟
جواب: بہت سے ننھے منے ہاتھ مِنی کو پارک میں کھیلنے کے لیے لے کر گئے۔


ترتیب

Ek mazedaar kahani - NCERT Solutions Class VIII Urdu

ایک مزےدار کہانی

سوچیے اور بتائیے
سوال: جاڑا، گرمی اور برسات کا آپس میں جھگڑا کیوں ہوا؟
جواب: یہ تینوں موسم اپنے آپ کو دوسرے سے بہتر سمجھ 
رہے تھے اس لیے ان کا آپس میں جھگڑا ہو گیا۔

سوال: جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے انہوں نے کیا کیا؟
جواب: انہوں نے ایک آدم زاد سے صلاح لینے کا فیصلہ کیا۔

سوال: جاڑے کی کن خوبیں کو بڑی بی  نے بیان کیا؟
جواب: جاڑے میں انگیٹھیاں سلگ رہی ہوتی ہیں جن کے چاروں جانب بیٹھ کر گرمی کا مزا لیا جاتا ہے سرد موسم میں دولائی اوڑھ کر گرم گرم چائے کا لطف ہی کچھ اور ہوتا ہے۔

سوال: گرمی کے بارے میں بڑی بی کا کیا خیال تھا؟
جواب: گرمی میں مختلف قسم کے پھل کھانا، قلفی کھانا، طرح کی سبزیاں پھلنا اور خوبصورت پھولوں کا کھلنا بڑی بی کی نظر میں گرمی کی خوبیاں تھیں۔

سوال: مصنف نے برسات کا کیا حلیہ بتایا؟
جواب: برسات کا سانولا نمکین چہرہ تھا۔ چمکدار روشن آنکھیں، بھورے بال ان میں سے پانی ایسے ٹپک رہا تھا جیسے موتی ہو۔ ہاتھوں میں دھانی چوڑیاں کھنکھنا رہی تھیں۔

سوال: بڑی بی کو نذر میں تھیلیاں کیوں ملیں؟
جواب: بڑی بی نے سب کی تعریفیں کیں اس لیے سب نے بڑی بی کی خدمت میں تھیلیاں پیش کیں۔

سوال: بڑی بی کے گھر میں چہل پہل سے پڑوسن پر کیا اثر ہوا؟
جواب: اس سے بڑی بی کی خوشی دیکھی نہ گئی اور وہ بھی بڑی بی کی نقل میں جاکر جنگل میں بیٹھ گئی۔

سوال: بدزبان بڑھیا جاڑے کے ساتھ کس طرح پیش آئی؟
جواب: اس نے جاڑے کو بہت برا بھلا کہا۔ اس نے جاڑے کی برائی کرتے ہوئے کہا کہ جاڑے میں لوگوں کی طبیعت خراب ہوجاتی ہے۔ اور ان کی ناک بہنے لگتی ہے۔

سوال: برسات کی کون کون سی باتوں کو بڑھیا نے ناپسند کیا۔
جواب: بجلی گرنے اور بادل گرجنے سے کلیجہ ہل جاتا ہے۔ دھم دھم کی آواز آتی ہے۔ گھر سے باہر نکلتے ہی کیچڑ سے کپڑے گندے ہو جاتے ہیں۔ رات کو مچھر ستاتے ہیں۔ رات کی نیند اور دن کا چین چلا جاتا ہے۔

سوال: بڑھیا کے ساتھ برسات کا سلوک کیسا تھا؟
جواب: برسات کی نگاہ بجلی بن کر گری اوربڑی بی کے پیروں کو چاٹتی ہوئی نکل گئی۔ اور بی برسات بڑھیا کو لنگڑا کر کے منہ پر تھوک کر رخصت ہوئی۔


خالی جگہ کو صحیح لفظ بھریے

انھیں دنوں جاڑا گرمی اور برسات میں جھگڑا ہوا۔ 

باجرے کا ملیدا بن رہا ہے رس کیکھیر پک رہی ہے۔ 

میاں جاڑیں اپنی تعریفیں سن سن کر پھولے نہ سماتے تھے۔

نانی جان خدا تمہارا بھلا کرے تم نے آج میری  لاج رکھ لی۔

 پانی برس رہا ہے۔


نیچے لکھے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے

صلاح: ہمیں بڑوں کی صلاح لینی چاہیے۔

تصفیہ: ان دونوں کے درمیاں تصفیہ ہو گیا۔

بیاباں: وہ بیابان میں جا کر بیٹھ گئی۔

آدم نہ آدم زاد: دور تک آدم نہ آدم زاد تھا۔

ملہار: کسان بارش دیکھ کر ملہار گانے لگے۔

نیچے لکھے ہوئے واحد اور جمع کو الگ الگ کرکے لکھیے

واحد                                 جمع
بچا                                    بچے
تعریف                               تعریفیں
قلفی                                 قلفیاں
اشرفی                               اشرفیاں
چوڑی                                چوڑیاں
 گھٹا                                 گھٹائیں 
مہاوٹ                               مہاوٹیں
فاصلہ                                فاصلے

 back





Sunday, September 9, 2018

Barsaat Ki Baharein - NCERT Solutions Class VII Urdu

برسات کی بہاریں


CourtesyNCERT

سوچیے اور بتائیے۔

1۔’’ہرے بچھونے‘‘ سے کیا مراد ہے؟
جواب: ہرے بچھونے سے مراد ہے کہ حق نے چاروں جانب سبزہ بکھیر دیا ہے۔ ہر جانب ہریالی ہے۔

2۔’’ہر بات کے تماشے ہر گھات کی بہاریں ‘‘سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
جواب: اس سے شاعر کی مراد ہے کہ برسات میں طرح طرح کی بہاریں ہیں۔ اس میں سمزوں کی لہلہاہٹ ہے، بوندوں کی جھمجھمجماہٹ ہے،قطرات و باغات کی بہاریں ہیں غرض کہ ہر طرح کے تماشے ہیں۔

3۔تیتر’’سبحان تیری قدرت‘‘ کیوں  پکارتے ہیں؟
جواب:سبحان تیری قطرت پکار کر تیتر قدرت کی حمد و ثنا کرتے ہیں۔

4۔پرندے کس کی رٹ لگا رہے ہیں؟
جواب: پرندے یق حق کی رٹ لگا رہے ہیں وہ قدرت کی حمد و ثنا میں مصروف ہیں۔

5۔شاعر نے برسات کے موسم میں کن چیزوں کے بھیگنے کا ذکر کیا ہے؟
جواب: شاعر نے اس موسم میں گلزار، شہر و دیار و کوچہ و بازار، صحرا ،جھاڑ،بوٹے و کہسار ودلدار کے بھیگنے کا ذکر کیا ہے۔

ان لفظوں کے واحد لکھیے

بچھونےتماشےبوندوںقطراتباغات
بچھوناتماشہبوندقطرےباغ




مصرعے مکمل کیجیے

سبزوں کی لہلہاہٹ باغات کی بہاریں

بوندوں کی جھمجھماہٹ قطرات کی بہاریں

ہر جا بچھا رہا ہے سبزا ہرے بچھونے 

جنگل میں ہو رہے ہیں پیدا ہرے بچھونے

سب مست ہو رہے ہیں پہچان تیری قدرت 

تیتر پکارتے ہیں سبحان تیری قدرت 

جو مست ہو ادھر کے کرشور ناچتے ہیں 

مینڈک اچھل رہے ہیں اور مور ناچتے ہیں

 املاء درست کیجیے

باگات                 باغات

کتراط                 قطرات

صبزے               سبزے

خدرت                قدرت

ہق                      حق

عان                     آن

تیطر                   تیتر

جور                    زور



 back


ترتیب
میرا وطن

Salim Ali - NCERT Solutions Class VII Urdu

سالم علی
CourtesyNCERT
سوچیے اور بتائیے۔

1۔سالم علی کا اصل نام کیا تھا؟
جواب: سالم علی کا اصل نام معزالدین عبدالعلی تھا۔

2۔سالم علی کو اورینتھولوجسٹ کیوں کہا گیا ہے؟
جواب: سالم علی پرندوں کے علم کے ماہر تھے اس لیے انہیں ماہر طیور یعنی اورینتھولوجسٹ کہا گیا ہے۔

3۔سالم علی کے شکاری چچا کا نام کیا تھا؟
جواب: سالم علی کے شکاری چچا کا نام امیر الدین سید تھا۔

سالم علی نے نیچرل ہسٹری سوسائٹی میں جاکر کون سا کام سیکھا؟
جواب:انہوں نےوہاں چڑیوں کو پہچانا اور مردہ چڑیوں کی کھال میں بھراؤ کرنا سیکھا۔

5۔سالم علی پوری دنیا میں کیوں مشہور ہوئے؟
جواب: سالم علی نے لمبے عرصے تک پرندوں کا مطالعہ کرتے رہے۔ انہوں نے خاص لمبی مدت تک بیا کے بارے میں جانکاری حاصل کی۔تین چار مہینوں تک گھنٹوں صبح سے شام تک سالم علی اس چڑیا کے رہن سہن اور عادتوں کا مشاہدہ کرتے رہے۔1930 میں انہوں نے اپنی معلومات کو کتاب کی شکل میں پیش کیا۔اس کتاب سےپوری دنیا میں ان کی شہرت پھیل گئی۔

6۔1941 میں سالم علی کی کون سی کتاب شائع ہوئی ہے اور اس میں کیا بیان کیا گیا ہے؟
جواب: سالم علی کی1941 میں'دی بک آف انڈین برڈس نامی کتاب شائع ہوئی۔اس کتاب میں رنگین اور خوبصورت تصویروں کے ذریعہ پرندوں کی پہچان کرائی گئی اور اس کے بارے میں ضروری معلومات فراہم کی گئیں۔

7۔’’پوری دنیا میں ان کی خدمات کو قبول کیا گیا‘‘اس جملے کا کیا مطلب ہے؟
جواب: اس جملے کا مطلب ہے کہ سالم علی نے چڑیوں سے متعلق جو معلومات پیش کیں ان کا علم لوگوں کو نہیں تھا۔ اس لیے پوری دنیا نے ان کی معلو مات کو تسلیم کیا اور اعتراف کے طور پر انہیں اعزازات،ڈگریوں اور انعامات سے نوازا۔

8۔سالم علی کو کون سےقومی اعزاز ملے؟
جواب: حکومت ہند نے سالم علی کو 1958 میں پدم بھوشن، پھر 1976 میں پدم بھشن کا اعزاز دیا۔ یہ ہماری حکومت کا دوسرا سب سے بڑا اعزاز ہے۔

خالی جگہ کو صحیح لفظ سے بھریے

1۔ پرندوں کی دنیا بھی کتنی رنگارنگ دنیا ہے۔

2۔ ملک کے نامور ماہرطیورسالم علی تھے۔

3۔ سالم علی 12 نومبر1896 کو پیدا ہوئے۔

4۔ وہ دس سال کے تھے تو ایک بار کسی شکاری نے ایک گوریّا شکار کیا۔

5۔ سالم نے نیچرل ہسٹری سوسائٹی ،بمبئی کے اعزازی سکریٹری ڈبلیو ملئرڈ سے ملاقات کی۔

6۔ سالم علی نے مردہ چڑیوں کی کھال میں بھراؤ کرنا سیکھ لیا۔

7۔ سالم علی کے پاس کسی یونیورسٹی کی ڈگری نہیں تھی۔

8۔ سالم علی نے علم حیوانات  میں کورس مکمل کیا۔

9۔ انہوں نے کافی لمبے عرصے تک بیا کے بارے میں جانکاری حاصل کی۔

10۔ سالم علی کو 1976 میں پدم وبھوشن اعزاز دیا گیا۔


نیچے لکھے ہوئے لفظوں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے

پرندوں: سالم علی پرندوں کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے۔

زندگی: پرندوں کی زندگی کی قدر کرنی چاہیے۔

معلومات: ہمیں پرندوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنی چاہیے۔

فضا: باغ کی فضا خوبصورت ہے۔

اعزاز: پدم وبھوشن ایک بڑا اعزاز ہے۔

خدمات: ہمیں سالم علی کی خدمات کی قدر کرنی چاہیے۔

حکومت: حکومت نے کام میں تعاون کیا۔



 back

ترتیب

Saturday, September 8, 2018

Chiddoo - NCERT Solutions Class VII Urdu

چھدّو
CourtesyNCERT
سوچیے اور بتائیے۔

1۔چھدّو کس قسم کا لڑکا تھا؟
جواب: چھدّو ایک نٹ کھٹ بچّہ تھا جو ہر چیز کو دیکھ کر یہی کہتا میں بھی یہی کروں گا۔

2۔گھوڑے سے مل کر چھدّو کیوں خوش ہوا؟
جواب:گھوڑے سے مل کر چھدّو اس لیے خوش ہوا کیو نکہ وہ اس پر بیٹھ کر ہرجگہ گھوم پھر سکتا تھا۔

3۔چھدّو گھوڑے پر سوار ہو کر کہاں کہاں سے گزرا؟
جواب: چھدّو گھوڑے پر سوار ہوکر بڑے سے میدان، اونچے پہاڑ، گھنے جنگل اور ہرے بھرے کھیت سے گزرا۔

4۔گھوڑےکے لیے ریت پر چلنا کیوں دشوار تھا؟
جواب: گھوڑے کے لیے ریت پر چلنا اس لیے دشوار تھا کہ گھوڑے کےپاؤں ریت میں دھنس جاتے تھے۔

چھدّو نے سمندر کی سیر کیسے کی؟
جواب: چھدّو نے سمندر کی سیر مچھلی کی پتٹھ پر بیٹھ کر کی۔

6۔کالے کپڑے پہنے ہوئے عورت کون تھی اور کہاں جا رہی تھی؟
جواب: کالے کپڑے پہنے ہوئی عورت رات تھی جو آسمان سے زمین پر جا رہی تھی۔

7۔پانی سے سر نکالتے ہی چھدّو کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا؟
جواب: پانی سے سر نکالتے ہی ایک بڑا سا پرندہ اوپر سے آیا اور اس نے چھدّو کو اپنی چونچ میں اٹھاکر اسے اپنی پیٹھ پر بٹھا لیا۔

8۔پرندے کے رخ موڑتے ہی چھدّو کو گود میں کس نے اٹھا لیا؟
جواب: پرندے کے رخ موڑتے ہی چھدّو کو بادل نے اپنی گود میں اٹھا لیا۔

9۔دو گرم گرم بوندیں کس کو کہا گیا ہے؟
جواب: ماں کے آنسوؤں کو دو گرم گرم بوندیں کہا گیا ہے۔

10۔بادل نے چھدّو کو آنسو کے بارے میں کیا بتایا؟
جواب:بادل نے چھدّو کو بتایا کہ یہاس کی ماں کے آنسو ہیں۔وہ اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک گئی تھی اور ایک جگہ بیٹھ کر رو رہی تھی میں پاس سے گزرا تو اس کے یہ دو آنسو لے آیا۔

11۔چھدّو کی روتے روتے ہچکی کیوں بندھ گئی اور اس نے کیا خواہش ظاہر کی؟
جواب: چھدّو کی ہچکی اس لیے بندھ گئی کہ اسے اپنی ماں کا خیال آیا جو اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے رونے لگی تھی اس لیے چھدّو نے اپنی ماں کے پاس جانے کی خواہش ظاہر کی۔

12۔چھدّو نے آنکھیں کھولیں تو اس نے کیا دیکھا؟
جواب: چھدّو نے آنکھیں کھولیں تو اس نے دیکھا ک ماں دونوں ہاتھوں سے چمیلی کی شاخیں ہٹا رہی ہے۔ وہ خوشی سے چلا رہہی ہے کہلوگوں دیکھو میرا چھدّو یہ ہے میرا چھدّو یہ ہے۔

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کو اپنےجملے میں استعمال کیجیے

تلاب:مچھلیاں تلاب میں تیر رہیں ہیں۔

خوب صورت:باغ میں بہت خوب صورت پھول ہیں۔

سوار:پہلے لوگ گھوڑے پر سوار ہو کر دوسری جگہ جاتے تھے۔ 

رخ:اسنے جاتے جاتے اپنا رخ موڑ لیا۔

پرندہ:آسمان میں کئ طرح کے پرندے پائے جاتے ہیں۔

۔ہرا:پہرے دار پہرا دیتے دیتے سو گئے اور چوری ہو گئی۔

۔چوڑاچکلا:سامنے سے ایک چوڑا چکلا نو جوان جا رہا ہے


کالم الف سے کالم ب کو ملا کر محاورے مکمل کیجیے

سرپٹ:            دوڑنا

بانچھیں:         کھلنا

آنکھیں:          بند ہونا

موجیں:          مارنا

خوشی سے:   پھولے نہ سمانا

سسکیاں:        بندھنا



 back

ترتیب

Bahaar - NCERT Solutions Class VII Urdu

بہار
CourtesyNCERT
سوچیے اور بتائیے۔

1۔باغوں پر نکھار آنے کی کیا وجہ ہے؟
جواب: موسم بہار آنے کی وجہ سے باغوں پر نکھار آگئی ہے۔

2۔روشیں کیوں مہک رہی ہیں؟
جواب: کلیوں کے چٹکنے سے روشیں مہک رہی ہیں۔

3۔’’جنت کا در کھلا‘‘ ہونے سے شاعر کی کیا مراد ہے؟
جواب: جنت کا در کھلا ہے سے شاعر کی مراد ہے کہیہ جو خوشگوار ہوا ہے وہ جنت سے آرہی ہے۔

4۔چاندنی کیسی لگ رہی ہے؟
جواب:چاندنی ایسی لگ رہی ہے جیسے نور  کا شامیانہ تن گیا ہے۔

5۔سڑکوں پر جانے والے لوگ کیا گا رہے ہیں؟
جواب:سڑکوں پر جانے والے لوگ  افسر کی گیت گا رہے ہیں۔

مصرعے مکمل کیجیے

آیا ہے بہار کا زمانہ

کلیاں کیا کیا چٹک رہی ہیں

چڑیاں گاتی ہیں گیت پیارے

گویا جنت کا در کھلا ہے

ہر دل میں امنگ کس قدر ہے

سب پر ہی بہار کا اثر ہے

غزلیں افسر کی گا رہے ہیں

نیچے لکھے لفظوں کے جملے بنائیے

نکھار: بہار میں پھولوں پر نکھار آجاتا ہے۔

چٹک: کلیاں چٹک گئیں۔

مہک: پھولوں کی مہک پھیل گئی۔

ہرسو: وہاں ہرسو خوشی کا ماحول تھا۔

دلکشی: موسم کی دلکشی نے سب کو خوش کردیا۔

چاندنی: ہرسو چاندنی پھیل گئی۔

امنگ: بچّوں میں آزادی کی امنگ تھی۔


 back
ترتیب

خوش خبری