آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Sunday, 30 September 2018

Yeh Hai Kolkata Meri Jaan - 2

یہ ہے کولکتہ میری جان ۔۲
صحبہ عثمانی
ناخدا مسجد کا اندرونی حصّہ

صبح جب آنکھ کھلی تو ہمارے میزبان صبح کی چائے اوراردو کا اخبار لے کر حاضر تھے۔کولکتہ میں صبح سویرے چائے کے ساتھ اردو کا اخبار پڑھنے کا رواج عام ہے۔ ایک عام دوکاندار اور کم آمدنی والا مزدور بھی اخبار خرید کر پڑھنا اپنی شان سمجھتا ہے۔یہی سبب ہے کہ آزاد ہند اور اخبار مشرق کو کولکتہ میں بے پناہ عروج حاصل ہوا ۔ مغربی بنگال کے ساتھ ساتھ یہی مزاج جھارکھنڈاوربہارمیں بھی پایا جاتا ہے اور یہاں بھی اردو کے اخبارات کافی مقبول ہیں۔خیر پاپا اور ابو صبح کی چائے کے ساتھ اخبار دیکھتے رہے اور ہم سب باہر نکلنے کی تیاری  میں لگ گئے۔ ہم سب اپنا وقت بالکل ضائع کرنا نہیں چاہتے تھے۔ہم نے کھڑکی سے باہر جھانکا سامنے ناخدا مسجد نظارے کی دعوت دے رہی تھی۔

ناخدا مسجد کا خوبصورت منبر

پاپا اور ابو صبح کی نماز پڑھ کر واپس آچکے تھے۔ کچھ نمازی ابھی بھی مسجد کے دروازے سے باہر آرہے تھے۔ اطراف کے دوکاندار  جس طرح اپنی دوکانیں چھوڑ گئے تھے وہ اسی طرح ترپالوں سے ڈھکی تھیں۔مسجد ان بے یار و مددگار دوکانداروں کے لیے ایک بڑا سہارا ہے جو فٹ پاتھ پر اپنی دوکانیں لگاتے ہیں۔ مسجد سے ملحق بھی بہت ساری دوکانیں ہیں جن کا کرایہ کمیٹیوں کے زیر انتظام ہے۔ہم سب نے سوچا ناخدا مسجد کو اندر سے دیکھنے کا یہ بہترین موقع ہے۔اس سے پہلے کے لوگوں کی بھیڑ ہو ہم خاموشی سے مسجد دیکھ آئیں۔ ہم سب فوراًہی اسے دیکھنے کے لیے اپنے کمرے سے نکل پڑے۔ مسجدکے عالیشان دروازہ پر پہنچ کر ہماری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ کسی مسجد کا اتنا بلند دروازہ ہم نے اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا۔ اندر داخل ہونے کے بعد سامنے ہی ذرا بلندی پرسنگ مرمر کا ایک حوض نظر آیا۔یہ تقریباً دو فٹ گہرا ہےجس میں پانی بھرا رہتا ہےاور  رنگ برنگی مچھلیاں تیر تی رہتی ہیں۔ معلوم ہوا  کہ حوض وضو بنانے کے لیے ہے۔ ہم نے اندر سے مسجد کی عمارت کو دیکھا۔مسجد کے اندر نقش و نگار نے ہمیں کافی متاثر کیا۔ وہ محراب و منبر جہاں امام مسجد خطبہ دیتے ہیں سنگ مر مر کا بنا تھا۔اور درمیانی گنبد میں کافی نقش و نگار بنے تھے۔ اونچائی اتنی تھی کہ سر اٹھاکر دیکھیں تو ٹوپی گرجائے۔ ہم نے کولکتہ کے سیر کا آغاز ایک خوبصورت اور پاکیزہ مقام سے کردیا تھا۔ ہم سب ہوٹل واپس آئے۔ناشتہ ہمارا انتظار کر رہا تھا۔ ناشتے سے فارغ ہوکر ہمیں اہم مقامات کی سیر کے لیے نکلنا تھا۔گاڑی آچکی تھی اور ہمارے نکلنے میں صرف ناشتہ کرنے کی دیر تھی۔

انڈین میوزیم ۔ کولکتہ

ناشتہ کے بعد ہم سب جلدی جلدی گاڑی میں سوار ہو گئے۔ آج ہم سب کا پروگرام کولکتہ کے قومی میوزیم کو دیکھنے کا تھا۔ اس کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا۔ ہماری سب سے زیادہ دلچسپی یہاں رکھی ممیوں کے بارے میں تھیں۔ ممی صدیوں پرانی حنوط شدہ لاش کو کہتے ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ سب سے قدیم ممیاں اہرام مصر میں ہیں۔ دل میں کچھ خوف بھی تھا اور ممی دیکھنے کا جوش بھی۔ہم جہاں ٹھہرے تھے وہاں سے میوزیم کا فاصلہ زیادہ نہیں تھا۔ بائیں جانب دوکانوں کو دیکھتے ہوئے ہم جلد ہی میوزیم کے سامنے کھڑے تھے۔ ابّو نے میوزیم میں داخلے کا ٹکٹ منگوایا  اور ہم سب چیکنگ کے بعد میوزیم کے اندر داخل ہو گئے۔ یہ میوزیم مختلف حصّوں میں بٹا ہوا ہے۔ جانوروں کے ڈھانچے، قدیم سکے، نادر مورتیاں ، محفوظ کیے گئےنایاب پرندے اور خطرناک سانپ اس کے علاوہ تاریخی نوادرات۔ معلومات کا ایک سمندر تھا جس کی سیر ہمیں چند ہی گھنٹوں میں کر لینی تھی۔ اس میوزیم کا تنوع ہی اس کی شناخت تھا۔ہم ایک ہال میں داخل ہوئے سامنے ایک بڑے ہاتھی کا ڈھانچہ رکھا تھا۔ ہاتھی کی ہذیوں کو بڑے سلیقے سے سجا کر کھڑا کیا گیا تھا۔ ایسا محسوس ہوا کہ اب اس ڈھانچے پر گوشت اور چمڑہ چڑھے گا ،اس میں جان آجائے گی اور یہ زور سے چنگھاڑے گا لیکن ایسا کچھ نہیں تھا ہم اسے چھونے کو بیتاب تھے لیکن اسے چھونا منع تھا۔ پاس ہی ایک بڑے ڈائناسور کی بھی ہڈیاں تھیں۔ شیشے کے بڑے بڑے شو کیس بنے تھے جس میں جنگلی جانور  مثلاً چیتا، شیر اور بھالو وغیرہ بالکل اپنی اصل شکل میں موجود تھے۔ یہیں پرندوں کو بھی الگ شوکیس میں محفوظ کیا گیا تھا۔ مجھے اپنی کتاب کے سبق میں پڑھائے گئے ماہر طیور سالم علی یاد آئے جنہوں نے پرندوں کی کھالوں میں بھراؤ کر انہیں محفوظ کرنے کا علم حاصل کیا تھا۔ پرندوں کو اس شکل میں دیکھ کر ہمیں وہ بات اچھی طرح سمجھ آگئی۔ ہم نے بڑی دلچسپی سے ایک ایک پرندے کو دیکھا۔ بعض پرندے بڑے نایاب تھے۔ ریکارڈ کے لیے ہم نے ان سب کی تصویریں اتاریں۔ وہ ساری تصویریں ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔ ہم ان تصویروں کو آپ کے ساتھ ضرور شیئر کریں گے۔ اس طرح آپ اپنے گھر بیٹھے اس میوزیم کو دیکھ سکیں گے۔


میوزیم کے مختلف ہالوں میں گھومتے ہوئے اب ہم شیشے کے تابوت کے سامنے کھڑے تھا۔ دیکھا تو اس میں ایک حنوط شدہ لاش پڑی تھی۔ میرے بدن میں جھر جھری سی آگئی۔ میں ایک ممی کے سامنے کھڑی تھی۔ اس کے چہرے کا حصّہ خوفناک تھا۔ایسا لگا کسی ہارر فلم کی طرح اب وہ اپنے تابوت سے نکل جائے گی اور اس کے دانت ہماری گردن پر ہوں گے۔ ہم سب بہنیں ایک جگہ یکجا ہو گئے تھے اور تجسس بھری نظروں سے سے دیکھ رہے تھے۔


عریشہ اور اسرا آپی اس کی تصویریں لینے میں لگی تھیں۔ میں نے ہمت کرتے ہوئے اس کے قریب جا کر اس کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کی۔ ایک ڈراونی سے کھوپڑی آنکھوں کی جگہ دو بڑے سوراخ جو گہرے غار کے مانند تھے ، ناک کی جگہ خالی گڑھا اور پھر مکمل جبڑا جس پر دانت بڑے ڈراونے لگ رہے تھے۔کھوپڑی جسم پر رکھی تھی۔ ممی کا تعلق مصر سے تھا۔اہرام مصر کی ممیاں۔ کولکتہ میں بیٹھ کر مصر کی ممیاں دیکھنا ایک دلچسپ تجربہ تھا۔ممی اور اس کی نقل دونوں ایک ہی بڑے باکس میں رکھی تھیں۔
(جاری)

Saturday, 15 September 2018

Yeh Hai Kolkata Meri Jaan!

صحبہ عثمانی
جنوری کی ایک خوبصورت شام تھی اور ہم سب دھنباد سے کولکتہ جانے والی ٹرین پر سوار تھے۔ ہم سب نے دہلی میں جاڑے کی چھٹیوں میں کولکتہ جانے کا پروگرام بنایا تھا۔ میرے پاپا نے اپنے بڑے بھائی جنہیں میں ابو بلاتی ہوں کے ساتھ کولکتہ گھومنے کا پروگرام طے کر رکھا تھا۔ وہ جمشید پور سے اپنی فیملی کے ساتھ کولکتہ کے لیے روانہ ہو چکے تھے اور ہم سب بھی کولکتہ کے راستے میں تھے۔ ان کی ٹرین ہماری ٹرین سے ایک گھنٹے پہلے پہنچنے والی تھی اور وہ لوگ اسٹیشن پر ہی ہم سب کا انتظار کرنے والے تھے۔ کولکتہ پہنچنے کا وقت جیسے جیسے نزدیک آرہا تھا ہمارا جوش بڑھتا جا رہا تھا۔ ابو ہوڑہ اسٹیشن پہنچ چکے تھے اور اب ان کا فون آرہا تھا کہ ہم کتنی دور ہیں۔ہمیں بھی اب دور سے جھلملاتی روشنیاں نظر آنے لگیں تھیں۔ رات کے ساڑھے نو بج چکے تھے اور ہم سب رات کے اندھیرے میں ہی کولکتہ کو اچھی طرح دیکھ لینا چاہتے تھے۔ کسی بھی عام شہر کی طرح وہاں بھی ریلوے لائن کے کنارے پرانی عمارتیں نظر آنے لگی تھیں۔ دیواروں پر بنگلہ میں لکھے اشتہارات جنہیں ہم صرف تصویر سے پہچان سکتے تھے نظر آنے لگے تھے کہ اچانک پاپا نے بتایا دیکھو ہوڑہ برج کا ایک حصّہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ ہم نے ٹرین کے اندر سے ہی اسٹیل کے اونچے اونچے جالی دار ستون دیکھے۔ ایسا لگا جیسے پوارا کولکتہ ہی ہماری آنکھوں کے سامنے آگیا ہو۔ ٹرین اب آہستہ آہستہ ہوڑہ اسٹیشن میں داخل ہو رہی تھی۔
شہر کولکتہ کے ریلوے اسٹیشن کا نام ہوڑہ جنکشن ہے۔ یہ اسٹیشن 1854 میں عام لوگوں کے لیے کھولا گیا۔ہگلی ندی پر بنا مشہور ہوڑہ برج اس کے قریب ہی واقع ہے۔یہ پُل ہوڑہ اور کولکتہ دو شہروں کو جوڑتا ہے۔یہ پُل 1936 میں بننا شروع ہوا اور 1942 میں مکمل ہو31 فروری1943 کو اسے عوام کے لیے کھول دیا گیا۔۔ ابو، سنجھلی امی اور یمنیٰ آپی اسٹیشن پر ہم سب کا انتظار کر رہے تھے۔ جیسے ہی ہم لوگوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ہمارے چہرے کھل اٹھے۔ کولکتہ کو قریب سے دیکھنے کا ہمارا خواب اب حقیقت میں بدل چکا تھا۔ ہم سب اسٹیشن پر اترے۔ ابّو کے ساتھ کئی لوگ ہمارے استقبال کے لیے کھڑے تھے۔کولکتہ اسٹیشن کافی اونچا اور بڑا تھا۔ اس اسٹیشن کی خوبی یہ تھی کہ یہاں گاڑی لینے کے لیے آپ کو اسٹیشن کے باہر نہیں جانا تھا بلکہ گاڑیوں کو اندر آپ کے اسٹیشن تک لانے کی سہولت تھی۔ میں نے یہ پہلا اسٹیشن دیکھا جہاں آپ کی کار اسٹیشن پر ہی آپ کا انتظار کر رہی تھی۔ میں ۵ گھنٹے کا سفر کر کے تھک چکی تھی۔ اسٹیشن کافی لمبا اور صاف ستھرا تھا اور ہم میں مزید پیدل چلنے کی ہمت نہیں تھی۔ہم سب جلدی جلدی دو گاڑیوں میں سوار ہو گئے۔ ہمارا قافلہ ہوٹل کی جانب روانہ ہوگیا۔ ابو نے ناخدا مسجد کے سامنے ہی ہوٹل کا کمرہ بک کرا رکھا تھا۔
CourtesyAaina
ہوگلی ندی میں اسٹیمر سے ہوڑہ برج کی ایک تصویر۔
اسٹیشن سے نکلتے ہی روشنی میں جگمگاتا ہوڑہ برج ہمارا استقبال کر رہا تھا۔ گاڑیوں کی طویل قطار سے جام جیسا منظر تھا۔ لیکن ہم خوش تھے کہ ایک تاریخی پُل کو ہمیں اتنے قریب سے دیر تک دیکھنے کا موقع مل رہا ہے۔ اب تک تصویروں میں دیکھ کر یہ برج ہمارے آنکھوں میں بس چکا تھا اور اب اتنے قریب سے دیکھ کر ایک عجیب سی خوشی کا احساس ہو رہا تھا۔ہمیں ہوڑہ برج دیکھنے کے لیے الگ سے پروگرام نہیں بنانا پڑا تھا اور اب ہم دھیرے دھیرے اس پُل سے گزرنے والے تھے۔ اس پُل کی خوبی یہ ہے اس پُل کے نیچے کوئی ستون نہیں ہے اور یہ پورا پُل معلق ہوا میں ٹنگا ہے۔ اسٹیل کے بڑے بڑے گٹروں نے سارا بوجھ ندی کے کنارے مضبوط ستونوں پر کھینچ رکھا ہے اور اس کے نیچے سے بڑے بڑے جہاز اور اسٹیمر بہ آسانی گزر سکتے ہیں۔ اس پر سے روزانہ تقریباً ایک لاکھ سے زائد گاڑیاں گزرتی ہیں اورتقریباً ڈیڑھ لاکھ لوگ اسے پیدل پار کرتے ہیں۔اب ہم ہوڑہ برج میں داخل ہو چکے تھے۔ کار کے پچھلے شیشے سے ہماری نگاہیں اس کے لوہے کے اس ستون کی بلندی دیکھنے کو بیتاب تھیں۔ لوہے کے چوڑے چوڑے گٹر ایک دوسرے سے جڑے تھے۔ اسے بنانے والے کاریگروں کا کمال تھا کہ انہوں نے بڑی کامیابی سے اس پُل کو ہوا میں نہ صرف معلق رکھا تھا بلکہ اس پر سے ہزاروں گاڑیوں کا گزرنا بھی ممکن بنایا تھا۔ سڑک بہت زیادہ چوڑی نہیں تھی۔ اور دونوں جانب سے ٹریفک کا بحال رکھنا ایک مسئلہ تھا۔ لیکن ٹریفک پولس والے بڑی مستعدی سے اپنے فرائض انجام دے رہے تھے اور گاڑیوں کو ایک ترتیب سے پار کرا رھے تھے۔ بتاتے ہیں کہ کوککتہ کی ٹریفک پولس اپنے اصولوں کی بڑی پکّی ہے۔ اور ٹریفک ضابطوں کی ان دیکھی کرنے پر سخت جرمانہ کرتی ہے۔ لہذا گاڑی چلانے والے اس سلسلہ میں بہت محتاط رہتے ہیں اور کوئی بھی اپنا چالان کٹوانا نہیں چاہتا۔ ہماری گاڑی ہوڑہ برج سے گزر چکی تھی۔برج کے بلند ستون دور سے چھوٹے ہوتے ہوتے اب ہماری نظروں سے اوجھل ہورہے تھے۔ ہم نے کولکتہ کی سب سے اہم یادگار کا دیدار کر لیا تھا۔
ناخدا مسجد کا صدر دروازہ
اب ہم اپنے ہوٹل کے قریب پہنچنے والے تھے۔دونوں جانب دوکانیں کھلی تھیں۔ ہماری گاڑی روشنی میں جگمگاتے بازار سے گزرتے ہوئے اپنے ہوٹل تک پہنچنے والی تھی کہ بیچ سڑک پر ریلوے کی پٹری نظر آنے لگی۔ معلوم ہوا اس پر ٹرام چلتا ہے۔ ٹرام کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا اور اسے بھی دیکھنے کا شوق تھا۔ لیکن اس وقت کوئی ٹرام نظر نہیں آیا۔ ہم تقریباً اپنی منزل تک پہنچ چکے تھے اور سامنے ناخدا مسجد نظر آرہی تھی۔ ہماری گاڑی ناخدا مسجد کے دروازے پر جاکر رک گئی۔

ناخدا مسجد کے صدر دروازہ پر نصب کتبہ۔(تصویر آئینہ)
مین گیٹ کے سامنے ہی ہمارا ہوٹل تھا جہاں گیٹ کے سامنے ہی دوسری منزل پر ہمارے ٹھہرنے کا انتظام تھا۔ کاؤنٹر پر ضروری خانہ پری کے بعد ہم سب اپنے کمرے میں آرام کرنے کے لیے چلے گئے۔کولکتہ جہاں اپنے سیاحتی و تاریخی مقامات کے لیے مشہور ہے وہیں خورد و نوش کے معاملے میں بھی اس کا جواب نہیں۔ یہاں غریب سے غریب اور امیر سے امیر آدمی بھی اپنے غذائی تعیش کی تسکین کر سکتا ہے۔ ایک عام انسان بھی اچھے کھانے پینے اور آسائش کا لطف اٹھا سکتا ہے۔کھانے کی خواہش نہیں تھی لیکن ہمارے میزبان دسترخوان سجا چکے تھے۔ یہ ایک بڑا ہال تھا اور اس سے ملحق ایک کمرہ تھا۔ کمرے میں میری امی، سنجھلی امی اور میری بڑی بہنوں اسرا، یمنی اور چھوٹی بہن اقصیٰ کے رہنے کا نظم تھا اور ہاں یاد آیا ان سب کے ساتھ ہماری پھوپھی زاد بہن عریشہ آپی بھی تھیں۔ان کے کھلکھلاتے قہقہوں کو میں اب تک کیسے بھولی بیٹھی تھی۔ شاید میں کولکتہ کے ذکر میں کھو گئی تھی۔اُف یہ کولکتہ۔ ہاں تو میں بتا رہی تھی کہ دسترخوان سج چکا تھا۔آپ کولکتہ جائیں اور ناخدا مسجد کے پاس ٹھہریں اور کباب پراٹھا نہ کھائیں تو آپ سے بڑا بد ذوق اور کوئی نہیں۔ یہاں کباب اور پراٹھے کا لطف ہی کچھ اور ہے۔ کولکتہ میں دو ہی چیزیں مشہور ہیں ایک روئل کی بریانی اور ناخدا کے کباب پراٹھے۔ اور ہاں جاڑوں میں حلیم کا بھی جواب نہیں۔گرمیوں میں ٹیپو سلطان کی مسجد کے قریب ملنے والے فالودے بھی کافی لذیذ ہوتے ہیں۔ اب بڑے بڑے مال کھل چکے ہیں جس کا ذکر بعد میں آئے گا وہاں مغربی اور چائینیز ڈشوں کی بھرمار ہے لیکن لوگ ابھی بھی روائتی ڈشوں کے دیوانےہیں۔

کھانے کے بعد ہم اپنے بستروں پر سونے کے لیے چلے گئے۔ نیند آنکھوں سے دور تھی آنکھ بند کرتے ہی سامنے عالیشان ہوڑہ برج آنکھوں کے سامنے آجاتا اور میں ان مزدوروں اور انجینیروں کے بارے میں سوچنے لگتی جنہوں نے اس کی تعمیر میں حصّہ لیا تھا۔ انگریز بھی ہمارے ملک میں کیسے کیسے کارنامے انجام دے گئے۔پاپا اور ابو دوسرے دن گھومنے کا پروگرام ترتیب دے رہے تھے اور میں آہستہ آہستہ نیند کی آغوش میں جا رہی تھی۔

Wednesday, 12 September 2018

Hockey Aur Hockey Ka Jadoogar - NCERT Solutions Class 8 Urdu

ہاکی اور ہاکی کا جادوگر
CourtesyNCERT
Courtesy NCERT

فٹ بال، والی بال اور کرکٹ کی طرح ہاکی بھی میدانی آؤٹ ڈور کھیل ہے۔ کہتے ہیں کہ قدیم یونان اور ایران میں باکی سے ملتا جلتا ایک کھیل کھیلا جاتا تھا۔ میکسیکو میں پڑوسی قبیلے دوستانہ ماحول میں ایک دوسرے کو اس کھیل کی دعوت دیتے۔ کھیل طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک چلتا تھا۔ گول کئی کئی میل کے فاصلے پر ہوتے اور ہرٹیم میں تقریباً ایک ہزار کھلاڑی ہوتے تھے۔ کھیل اتنے جنگلی انداز میں کھیلا جاتا کہ کبھی کبھی کھلاڑیوں کے سر پھٹ جاتے اور ہاتھ پاؤں تک ٹوٹ جاتے تھے۔
صدیوں بعد ہاکی کا کھیل فرانس میں ہاکٹ (HOQUET) کے نام سے شروع ہوا۔ پندرھویں صدی عیسوی میں یہ رود بارِ انگلستان پار کر کے انگلستان (انگلینڈ) پبنچ گیا۔ وہاں اس کا نام با کی رکھا گیا۔ انگلینڈ ہی میں اس کھیل کے ضابطے بنائے گئے ۔ اسکول کے لڑکے جنگلوں سے چھڑیاں کاٹتے اور ان کو موڑ کر گیندوں سے ہاکی کھیلتے ۔ ابتدا میں کھلاڑیوں کی کوئی تعداد مقرر نہ تھی۔ بعد میں ایک ٹیم کے لیے گیارہ کھلاڑیوں کی تعداد طے کر دی گئی۔ باکی کا میدان سوگز (91میٹر ) لمبا اور ساٹھ گز (54 میٹر) چوڑا ہوتا ہے۔ امریکہ اور کناڈا وغیرہ میں میدانی ہاکی (فیلڈ ہاکی کے علاوہ بند اسٹیڈیم میں برف پر ہا کی (آئس ہاکی ) بھی کھیلی جاتی ہے۔
ہندوستان میں ہاکی کا کھیل انگریزوں کے ذریعے پہنچا۔ 1885 میں ملک کا پہلا ہاکی کلب کلکتہ میں قائم ہوا۔ ہنودستان نے پہلی دفعہ 1928 کے اولمپک کھیلوں میں ہالینڈ کو فائنل میں ہرا کر ہاکی میں طلائی تمغہ حاصل کیا۔ اس کے بعد کے تقریباً چالیس سال تک ہندوستانی ٹیم ہاکی کے کھیل میں ساری دنیا پر چھائی رہی۔
ہندستانی ہاکی کی تاریخ میجر دھیان چند کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔ وہ الہ آباد کے ایک راجپوت خاندان میں 29 اگست 1905 کو پیدا ہوئے۔ سولہ سال کی عمر میں فوج میں معمولی سپاہی کی حیثیت سے بھرتی ہوئے اور میجرکے عہدے تک ترقی کی ۔ وہ فوج کے ایک افسر کی نگرانی میں ہاکی کھیلنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے ایک عظیم کھلاڑی بن گئے۔
ہندوستان کی ہاکی ٹیم نے جب پہلی بار اولمپک کھیلوں میں حصہ لیا تو فائنل میں ہندوستان اور ہالینڈ کا مقابلہ تھا۔ دھیان چند اور ٹیم کے دوسرے ساتھی اچانک بیمار ہو گئے۔ کپتان بھی اس وقت موجود نہیں تھے۔ ٹیم کے منیجر نے” کرو یا مرو“ کا نعرہ دیا ۔ دھیان چند کو تیز بخار تھا لیکن انھوں نے سوچا کہ میں تو فوجی ہوں اور ایک فوجی کو دلیری کے ساتھ جنگ میں جانا ہی چاہیے۔ چنانچہ ہندوستانی ٹیم تمام طاقت بٹور کر میدان میں کود پڑی۔ اس میچ میں ہندوستان نے ہالینڈ کو تین گول سے ہرایا، جن میں سے دو گول وهیان چند نے کیے تھے۔ 1936 کے برلن اولمپک مقابلوں میں دھیان چند کو ہندوستان کی ہاکی ٹیم کا کپتان چنا گیا۔ فائنل مقابلہ ہندوستان اور جرمنی کی ٹیموں کے درمیان تھا۔ یہ مقابلہ بڑا سخت ثابت ہوا۔ میچ کے درمیان گیند ہر وقت دھیان چند کی ہاکی اسٹک کے ساتھ چپکی رہتی تھی۔ گیند کو اپنے قابو میں رکھنے کے اس عجیب طریقے کو دیکھ کر تماشائی حیران رہ گئے ۔ مقابلے کا انتظار کرنے والے کچھ لوگوں کو یہ شک ہونے لگا کہ کہیں دھیان چند کی اسٹک میں کوئی ایسی چیز تو نہیں لگی ہے جو گیند کو اپنی جانب کھینچے رہتی ہے۔ چنانچہ دھیان چند کو دوسری اسٹک سے کھیلنے کے لیے کہا گیا۔ دوسری اسٹک سے بھی دھیان چند نے دھڑا دھڑ گولوں کا تانتا باندھ دیا۔ اب جرمن حکّام کو یقین ہو گیا کہ جادو اسٹک کا نہیں، بلکہ دهیان چند کی لچک دار اور مضبوط کلائیوں کا ہے۔ وہاں کے تماشائیوں نے اسی وقت سےدھیان چند کوہاکی کا جادوگر کہنا شروع کردیا۔ اس اولمپک میں ہندوستانی ٹیم نے کل  38 گول کیے جن میں سے گیارہ اکیلے دھيان چند ہی نے کیے تھے۔
ساری دنیا میں مشہور ہونے کے بعد بھی دھیان چند میں کبھی بھی غرور پیدا نہیں ہوا۔ وہ کہتے تھے:” ہاکی کے میدان میں جو تھوڑی بہت خدمت مجھ سے ہوسکی اس کا سبب ہے میرے ملک کے باشندوں کی مجھ سے محبت‘‘
میجر دھیان چند نوجوان کھلاڑیوں سے ہمیشہ یہی کہتے تھے کہ ذاتی شہرت یا نام کے لیے نہیں بلکہ پوری ٹیم کو یک جان ہو کر کھیلنا چاہیے، تا کہ ملک کا نام روشن ہو۔ ہاکی کے جادوگر کا انتقال دلّی میں 3 دسمبر 1979 کو ہوا۔
(ادارہ)

سوچیے اور بتائیے
سوال: ہاکی کھیلنے کے لیے کتنی جگہ چاہیے۔
جواب: ہاکی کھیلنے کے لیے ایک بڑا میدان چاہیے۔

قدیم زمانے میں ہاکی جیسا کھیل کہاں کھیلا جاتا تھا؟
جواب: قدیم زمانے میں ہاکی جیسا کھیل یونان اور ایران میں کھیلا جاتا تھے۔

سوال: فرانس میں کھیلے جانے وےلے کھیل کو کیا کہتے تھے؟
جواب: فرانس میں کھیلے جانے والے کھیل کو ہاکٹ کہتے تھے۔

سوال: ہاکی کے ضابطے کس ملک مں بنائے گئے؟
جواب: انگلینڈ میں اس کا نام ہاکٹ رکھا گیا اور وہیں اس کے ضابطے بنائے گئے۔

سوال: آئس ہاکی کیا ہے اور یہ کن کن ملکوں میں کھیلی جاتی ہے؟
جواب: آئس ہاکی بند اسٹیڈیم میں برف پر کھیلی جاتی ہے۔ اسے امریکہ اور کناڈا وغیرہ میں کھیلا جاتا ہے۔

سوال: ہاکی کی ٹیم میں کتنے کھلاڑی ہوتے ہیں؟
جواب: ہاکی کی ٹیم میں گیارہ کھلاڑی ہوتے ہیں۔

سوال: دھیان چند کون تھے اور ان کی پیدائش کہاں ہوئی؟
جواب: دھیان چند ہاکی کے ایک مشہور کھلاڑی تھے۔ ان کی پیدائش الہ آباد کے ایک راجپوت خاندان میں 29 اگست 1905 کو ہوئی۔

سوال: ہندوستانی ٹیم کے مینیجر نے کرو یا مرو کا نعرہ کیوں دیا؟
جواب: دھیان چند اور ٹیم کے بقیہ کھلاڑی اچانک بیمار پڑگئے تھے اور کپتان بھی اس وقت موجود نہیں تھے تب سب کا حوصلہ بڑھانے کے لیے ٹیم کے مینیجر نے ’کرو یا مرو’ کا نعرہ لگایا۔

سوال: لوگوں کو دھیان چند کی اسٹک کے بارے میں کیا شک تھا؟
جواب: میچ کے دوران گیند دھیان چند کی ہاکی اسٹک میں چپکی رہتی تھی۔ اس لیے لوگوں کو یہ شک ہونے لگا کہ کہیں ان کی اسٹک میں کوئی ایسی چیز تو نہیں جو گیند کو اپنے جانب کھینچے رہتی ہے۔

سوال: جرمنی کے تماشائیوں نے دھیان چند کو کیا نام دیا؟
جواب: جرمنی کے تماشائیوں نے دھیان چند کو ہاکی کا جادوگر کہنا شروع کر دیا۔

سوال: ہندوستان نے ہاکی میں پہلا طلائی تمغہ کس اولمپک مقابلے میں حاصل کیا تھا؟
جواب: 1928 میں ہندوستان نے ہالینڈ کو ہراکر اولمپک میں پہلا طلائی تمغہ حاصل کیا۔

سوال: دھیان چند کو ہاکی کا جادوگر کیوں کہا جاتا ہے؟
جواب: دھیان چند جب ہاکی کا ایک میچ کھیل رہے تھے تب گیند ہاکی اسٹک سے ایسی چپکی معلوم ہو رہی تھی جیسے اسے چپکایا گیا ہو۔ تب لوگوں کو ان پر شک ہوا۔ انہیں دوسری ہاکی اسٹک سے کھیلنے کے لیے کہا گیا۔ اس بار بھی ایسا لگا جیسے گیند ہاکی اسٹک میں چپکی ہو۔ تب سب سمجھ گئے کہ یہ ان کی کلائیوں کا کمال ہے۔تب سے انہیں ہاکی کا جادوگر کہا جانے لگا۔

سوال: دھیان چند نوجوان کھلاڑیوں کو کیا نصیحت کیا کرتے تھے؟
جواب: وہ یہ نصیحت کیا کرتے تھے کہ ذاتی شہرت یا نام کے لیے نہیں بلکہ پوری ٹیم کو یک جان ہوکر کھیلنا چاہیے تاکہ ملک کا نام روشن ہو۔

خالی جگہ کو بھریے
ہاکی میدان میں کھیلا جانے والا کھیل ہے۔
ہاکی کا کھیل فرانس میں ہاکٹ کے نام سے شروع ہوا۔
انگلینڈ میں اس کھیل کے ضابطے بنائے گئے۔
بند اسٹیڈیم میں بھی آئس ہاکی کھیلی جاتی ہے۔
1928 میں ہالینڈ کو فائنل میں ہراکر طلائی تمغہ حاصل کیا۔
پوری ٹیم کو یکجا ہوکر کھیلنا چاہیے

واحد کی جمع اور جمع کی واحد لکھیے
طریقہ : طریقے
صدیوں : صدی
ضابطہ : ضوابط
حکّام : حاکم
خدمت : خدمات

بلند آواز سے پڑھیے۔
 یونان۔۔۔۔۔۔۔قبیلے ۔۔۔۔۔صدی۔۔۔۔۔۔۔ طلائی۔۔۔۔۔۔۔شہرت۔۔۔۔۔۔۔تمغه۔۔۔۔۔۔۔عظیم۔۔۔۔۔۔منیجر۔۔۔۔۔۔لچک دار۔۔۔۔۔۔۔مغرور۔۔۔۔۔۔ خدمت۔۔۔۔۔۔۔ باشندہ

پڑھیے اور سمجھیے۔
احمد نے ایک خط لکھا
 یاسمین سنترے کھائے گی
 پہلے جملے میں لکھا اور دوسرے جملے میں کھائے گی‘ سے کام کا کرنا ظاہر ہوتا ہے یہ الفاظ ”فعل “ہیں۔
 احمد اوریاسمین الفاظ کام کرنے والے کو ظاہر کرتے ہیں جو لفظ کام کرنے والے کے لیے آتا ہے اسے ”فاعل“ کہتے ہیں ۔ ان جملوں میں فعل اور فاعل کے علاوہ کچھ اور باتیں کہی گئی ہیں ۔ پہلے جملے میں لکھنے کا اثر خط‘ پر اور دوسرے جملے میں کھانے کا اثر سنترے پر ہوتا ہے۔ لفظ ”خط اور سنترے“ اسم ہیں ۔ جس اسم پر عمل کا اثر ظاہر ہو اسے ”مفعول‘‘ کہتے ہیں۔
غور کرنے والی بات
* کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کھیلو گے کودو گے ہو گے خراب پڑھو گے لکھو گے بنو گے نواب“ اس کا مطلب نہیں ہے کہ بچوں کو کھیلنا نہیں چاہیے تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ کھیل کود میں حصہ لے کر جسمانی صحت کی طرف توجہ دینا بھی ضروری ہے۔ شخصیت کی مکمل ترقی کے لیے پڑھنا لکھنا اور کھیل دونوں لازم ہیں کیوں کہ صحت مند جسم ہی میں صحت مند دماغ ہوتا ہے۔

الفاظ کے واحد جمع یہاں دیکھیں



کلک برائے دیگر اسباق

Lo Phir Basant Aayi - NCERT Solutions Class VIII Urdu


لو پھر بسنت آئی
حفیظ جالندھری

CourtesyNCERT

لو پھر بسنت آئی
لو پھر بسنت آئی
پھولوں پر رنگ لائی
چلو بے درنگ
لبِ آب گنگ
بجے جل ترنگ
من پر امنگ چھائی
پھولوں پر رنگ لائی
لو پھر بسنت آئی
کھیتوں کا ہر چرنده
کھیتوں کا ہر چرنده
باغوں کا ہر پرنده
کوئی گرم خیز
کوئی نغمہ ریز
سبک اور تیز
پھر ہو گیا ہے زندہ
باغوں کا ہر پرنده
کھیتوں کا ہر چرنده
پھولی ہوئی ہے سرسوں
پھولی ہوئی ہے سرسوں
پھولی ہوئی ہے سرسوں
نہیں کچھ بھی یاد
یونہی با مراد
یونہی شاد شاد
یونہی با مراد
یونہی شاد شاد گویا
گویا رہے گی برسوں
بھولی ہوئی ہے سرسوں
پھولی ہوئی ہے سرسوں
لو پھر بسنت آئی
لو پھر بسنت آئی
پھولوں پر رنگ لائی
معنی یاد کیجیے
بسنت : ہندستان کی چھ اتوں میں سے پہلی رت کا نام جو چیت سے بیساکھ تک رہتی ہےموسم بہار۔ وسط مارچ سے اخیر مئی تک کا موسم
درنگ : دیر
بے درنگ : بغیر دیر کیے، بلا جھجک
لپ آب گنگ : دریائے گنگا کے کنارے
جل ترنگ : ایک باجے کا نام جسے پیالوں میں پانی بھر کرتیلیوں سےبجایا جاتا ہے۔ہر پیالی میں پانی کی مقدار الگ الگ ہوتی ہے
من : دل، جی
امنگ : جوش، ولولہ
چرندہ : چرنے والا
گرم خیز : تیز چلنے والا ، یہاں مراد اچھل کود کرنے والا ہے
نغمہ ریز : سریلی آواز میں گانے والا، چہچہانے والا
سبک : بلکا، نازک ، لطیف
سرسوں : رائی
بامراد : مراد پایا ہوا، جس کی مراد پوری ہوگئی ہو
شاد : خوش
سوچیے اور بتائیے
سوال: بسنت آنے پر لوگ گنگا کے کنارے کیوں جانا چاہتے ہیں؟
جواب: گنگا کے کنارے بارش کی بوندوں کی آواز بہت سہانی ہوتی ہے اس لیے لوگ اسے سننے کے لیے گنگا کے کنارے جانا چاہتے ہیں۔

سوال: بسنت میں چرند و پرند کس حال میں ہوتے ہیں؟
جواب: بسنت میں پرندوں میں خوشی کا ماحول ہوتا ہے۔ سب پرندے گا رہے ہوتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے سب میں جان آگئی ہے۔

سوال: سرسوں کون سی بات بھولی ہوتی ہے؟
جواب: سرسوں یہ بھولی ہوتی ہے کہ اس کا یہ رنگ و روپ وقتی ہے۔ کچھ وقت بعد اسے کاٹ دیا جائے گا اور وہ اتنی دلکش نہیں رہ جائے گی۔

سوال: بسنت کا موسم کب آتا ہے؟
جواب: بسنت کا موسم سردی کے بعد آتا ہے۔

مصرعے مکمل کیجیے
کھیتوں کا ہر چرندہ باغوں کا ہر پرندہ
گویا رہے گی برسوں بھولی ہوئی ہے سرسوں

نیچے دیے گئے لفظوں سے جملے بنائیے
امنگ(جوش): بادل دیکھ کر کسان کے چہرے پر امنگ چھا گئی۔
چرندہ(چرنے والاجانور): چرندہ سارا کھیت چر گیا۔
سبک(نازک): اس کے ہاتھ میں ایک سبک ٹوکری تھی۔
شاد(خوشی): بسنت میں سب کے دل شاد ہوتے ہیں۔
با مراد(جس کی مراد پوری ہو گئی ہو): اپنی اولاد سے مل کر وہ بامراد ہو گئی۔

ہم آواز الفاظ
ایسے الفاظ جن کے معنی اور املا مختلف ہوں لیکن آواز ایک ہو ’ہم آواز الفاظ‘ کہلاتے ہیں۔
مثلاً
ہال : حال
فضا : فزا
عام : آم
سدا : صدا

غور کرنے کی بات
*  حفیظ جالندھری نے مناظر فطرت اور موسم پر بہت سے گیت او نظمیں لکھی ہیں۔ ان نظموں کو ترنم سے پڑھا جائے تو  ایک  خاص لطف آتا ہے۔ 
*  اس نظم میں لب اور آپ کے ساتھ اضافت لگی ہوئی ہے۔ اضافت اس زر کو کہتے ہیں جو دو لفظوں کے درمیان پہلے لفظ کے آخر میں لگایا جاتا ہے۔ غور کیجیے کہ اضافت کے استعمال کے بعد معنی کس طرح اخذ کیے جاتے ہیں ۔ مثلا آب گنگ ”       کا پانی‘‘۔ ’’لب آب گنگ“ دریائے گنگا کے کنارے آباد ہے۔


کلک برائے دیگر اسباق

Na Hui Qaroli - NCERT Solutions Class VIII Urdu

نہ ہوئی قرولی
پنڈت رتن ناتھ سرشار
CourtesyNCERT
نہ ہوئی قرولی
میاں خوبی اور آزاد کولکھنؤ آئے کافی دن ہو چکے تھے۔ لکھنؤ کے سیر سپاٹے اور یہاں کے نوابوں کی محفلوں سے ان
کے دل اوب چکے تھے۔ سرائے میں قیام تھا۔ ترکی کا سفر سوار تھا اور دونوں سفر کی تیاری میں مصروف تھے کہ ایک رات عجیب واقعہ پیش آیا۔
جیسے ہی خوجی دن بھر کے تھکے ہارے پنگ پر دراز ہوئے ، ذرا ' دیر میں ان کی آنکھ لگ گئی۔ آپ جانیں کہ سرائے کے کھاٹ کھٹملوں کا بیرا۔ پچھلے پہر سے ہی کھٹملوں نے میاں خوبی کو جھنجھوڑ نا شروع کر دیا۔ بدن بھر کا خون جونک کی طرح پی لیا جسم پانی کر دیا۔ ایک طرف ح / تھکن، دوسری طرف نیند کا غلبہ اور اس پر کھٹملوں کی ہوش ۔ میاں خوجی بھلا اٹھے ۔ آنکھ کھل گئی ۔ چراغ روشن کیا۔ دیکھا تو ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں کھیل بستر پر ینگ رہے ہیں۔ انھیں جو دیکھا تو میاں خوبی کا پارہ چڑھ گیا۔ چہرہ بھبھوکا ہو گیا اور لگے غصے میں پینے چلانے۔
2011
’’ارے لانا میری قرولی۔ لانا میری قرولی۔ ابھی ان کھل گید لوں کو موت کے گھاٹ اتارتا ہوں ۔ اتنی قرولیاں بجھونکوں گا کہ چھٹی کا دودھ یاد آجائے ۔ انھوں نے کیا سمجھا ہے ۔ ارے لانا میری قرولی۔ کہاں گئی میری قرولی؟‘‘ میاں خوبی نے بہا تک لگائی۔ اور یوں دھاڑ دھاڑ کر چیے تو تمام سراۓ والوں کی نیند حرام ہوگئی۔ وہ یہ سمجھے کہ چور آ گیا۔ ہر طرف لینا، پڑھنا جانے نہ پائے کا شور مچ گیا۔
ساری سرائے میں ہلڑ مچ گیا۔ ہڑبونگ کا یہ عالم کہ کوئی آنکھ ملتا اندھیرے میں ٹولتا ہے کوئی دیدے پھاڑ پھاڑ کر اپنی گٹھری کو ٹول ٹول کر دیکھتا ہے۔ کوئی کھاٹ کے نیچے سے اپنا صندوق کھینچتا ہے۔ کوئی مارے ڈر کے آنکھیں بند کیے دینا پڑا ہے۔ کوئی لائشی ہاتھ میں لیے چور کے پیچھے بھاگتا ہے۔ چور چور۔ لینا پڑنا۔ جانے نہ پائے۔ جاگتے رہنا کے شوہر سے کہرام مچ گیا۔
میاں خوجی نے جو لینا، پڑنا، جانے نہ پائے جاگتے رہنا۔ چور چور کی آوازیں سنیں تو خود بھی غل مچانے لگے۔
بائیں بائیں! خبردار۔ جانے نہ پائے لانا میری قرولی۔ اے چور گیدی ۔ کٹہرے رہنا۔ میں ابھی قرولی لے کر آتا ہوں ۔“
اب میاں خوبی کو یہ کون بتائے کہ یہ شگوفر خود ان کا ہی چھوڑا ہوا ہے۔ یہ وہ سوتے دیکھتل کا نتے نہ وہ چین چلاتے اور نبھل کا چور نت۔ بات کا اگر تو خود انھوں نے ہی بنایا تھا۔
اب میاں خوبی کی رگ بهادری بچھڑک اٹھی، ایک دم سے کنڈی کھول کر چور پر لپک پڑے۔ آؤ دیکھا نہ تا گلا پھاڑ کر چیخنے چلانے لگے۔ لینا۔ لینا۔ لینا جانے نہ پائے۔ اور ایک طرف کو جدھر سے زیادہ آوازیں آرہی تھیں، تیزی سے بڑھے۔ چاروں طرف اندھیرا تھا۔ کسی چیز سے کرائے اور ٹھوکر کھائی اور اڑ ڑادهم اوندھے منہ زمین پر آ رہے۔ بدقسمتی سے وہاں کمہار کے برتن رکھے تھے۔ ان پر جو گرے تو برتن چکنا چور ہو گئے۔ جسم سے خون رہنے لگا۔
کمہار نے جو دیکھا کہ کوئی برتنوں پر سے کود کر بھاگ رہا ہے تو اس نے بھی چیخنا شروع کر دیا۔
چور چور، پڑو ، پکڑو، جانے نہ پائے ۔ یہ سن کر خوبی برتنوں پر پڑے پڑے خودبھی پینے لگے ۔ چور چور نہ ہوئی قر ولی ورنہ...........
مسافر بھٹیارے، حوالی موالی کوئی ڈنڈا لیے ہے، کوئی بید گھماتا ہے کوئی لکڑی کہلاتا ہے اور میاں خوبی ٹوٹے ہوئے برتنوں پر ہے دم پڑے آواز میں لگا رہے ہیں۔
نہ ہوئی قرولی ورنہ.............
کمہار نے جو دیکھا کہ ایک آدمی پڑا ہے تو سمجھا کہ سہی چور ہے آگے بڑھ کر گلا پڑا۔ جھٹکے سے زمین سے کھینچا اور سیدھا کھڑا کر دیا۔ اور زور زور سے چلانے لگا۔
”ارے دوڑو۔ چور پکڑ لیا۔ چور پکڑ لیا‘‘
آنے والوں نے خوجی کو چور سمجھ کر ایسی خاطر تواضع کی ، اتنا مارا کوٹا ، اتنا ٹھونکا بجایا۔ اتنے لات گھونسے رسید کہے کہ میاں کے انجر پنجر ڈھیلے ہو گئے۔
اندھیری رات تھی ۔ گھٹا ٹوپ اندھیرا۔ کسی کو کیا معلوم کہ یہ چور ہے یا میاں خوجی ۔ لوگوں کو تو شکار ہاتھ آ گیا تھا۔ میاں خوجی چور بن گئے اور ہے بھاؤ کے سہتے رہے ۔ یار لوگوں نے تاک تاک کر زناٹے کے ہاتھ لگائے۔
لم
جب لوگ مار مار کر تھک گئے تو مسافروں میں سے کسی نے کہا۔
”اے ٹھہرو ٹھہرو۔ یہ تو وہی خوبی ہے جو پانچ سات روز سے اس سرائے میں ڈیرہ جمائے ہے۔ فورا چراغ جلایا گیا، لوگوں نے پایا تو دیکھا کہ یہ تو وہی تیرہویں صدی کا بالشحیا خوبی ہے۔ سب نے ایک زبان ہو کر کہار سے کہا۔
چھوڑ دے۔ چھوڑ دے۔ چور نہیں ہے، خوبی ہے۔ برتنوں کے دام ہم دیں گے ۔‘‘
اللہ اللہ کر کے میاں خوبی کی جان بھی۔ کچومر تو نکل ہی چکا تھا۔ بے دم ہو چکے تھے۔ جیسے ہی کمہار نے انھیں چھوڑا ان کی رگ حمیت پچھڑک اٹھی زمین پر بیٹھ گئے۔ کہنے لگے۔ ”ارے کمہار گیری بہتا ہے بیماروں قرولی ‘‘
یار لوگوں نے جب خوبی کی حالت غیر دیکھی تو کوئی جسم دبانے لگا۔ کسی نے سر ہلایا۔ کسی نے سہارا دیا اور میاں خوجی ذرا سی دیر میں گرد جھاڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔
ادھر آزاد کو خبر لی کہ خودہی چوری کرتے پکڑے گئے ہیں۔ کسی مسافر کی ٹوپی چرا لی تھی ۔ کسی نے آزادکو بتایا کہ کمہار کی ہنڈیا چرانے گئے تھے۔ جاگ پڑ گئی ۔ پکڑے گئے ۔ ہے بھاؤ کی پڑیں۔ غرض کہ جتنے منہ اتنی باتیں۔
آزاد کو بہت صدمہ ہوا کہ ان کا ساتھی اور چوری کی علت میں گرفتار ہو مگر یہ بات ان کے دل کو نہیں لگتی تھی ، انھیں یقین نہیں آتا تھا۔ بھلا ان کا یار خوبی ایسا کرے
وہ چوری چکاری کیا جانے؟ وہ تو بس فقرہ بازی جانتا ہے شیخی بگھارتا ہے اور دون کی لیتا ہے۔ بھلا چوری چکاری بھی کرتا تو کمہار کی منڈیوں کی؟
آزاد کو غصہ آ گیا۔ جلدی سے چار پائی سے اترے اور لکڑی ہاتھ میں لی کہ جو بولے گا اس کو مزہ چکھا دوں گا۔ اور خوبی کی مزاج پرسی کو چلا۔
ابھی آزاد اپنی کوٹری سے باہر نکلے ہی تھے کہ ان کے کان میں آواز آئی۔
بات تیرے گیدی کی ۔ بڑا آزاد بنا پھرتا ہے۔ ایسے آزاد بہت دیکھے ہیں ۔ مردود چار پائی پر پڑا خرخر کیا کیا اور ہماری خبر نہ لی ۔‘‘
یہ سن کر آزادمسکرائے ۔ ابھی دو قدم چلے ہوں گے کہ کیا دیکھتے ہیں کہ خوبی جھومتا جھامتا چلا آتا ہے اور بڑبڑاتا جاتا ہے۔
نہ ہوئی قرولی ورنہ اس وقت کہار کی لاش پھڑکتی ہوتی »
خوبی لڑکھڑاتا۔ جھومتا جامتا آزاد کی کوٹھری تک چلا آیا مگر آنکھوں کا اندھا نام مین سکھ ، اتنا بھی نہ سوجھا کہ آزاد کھڑا ہے۔ جب قریب پہنچا تو آزاد نے کہا۔
خیر ہم کو پیچھے گالیاں دینا۔ اب یہ بتاؤ کہ ہاتھ پر تو نہیں ٹوٹے ۔
ہاتھ پاؤں ‘‘ خوبی بولا۔ ”ہونہ۔ یہ لوہے کی سلاخیں ہیں ۔ پاس آدمی گھیرے ہوئے تھے۔ پورے پاس۔ وہ وہ ہاتھ دکھائے کہ سب دنگ رہ گئے چنلیوں میں گھیرا توڑ، لوگوں کو بکھیر کر رکھ دیا۔ نہ ہوئی قرولی اس وقت تم امیر علیہ السلام کی چار پانچ لاشیں پھڑک رہی ہوتیں۔
آزاد مزاج داں تھے مسکرا کر کہا۔ ” وہ کیسے ؟ (
فوجی نے فورا ہاتھ چھینک کر کہا۔ ” واللہ ! میں اس وقت پٹھڑی بنا ہوا تھا۔ بس کیفیت تھی کہ دو آدمی اس کندھے تو دس آدمی اس کند ھے۔ میں جو پھیرا تو کسی کو انٹی دی۔ وہ دھم سے زمین پر گرا۔ کسی کو کولہے پر لاد کر مارا۔ کھٹ سے چھپر کھٹ کی پٹی پر۔ دو چار تو میرے رعب میں آ کر ہی گر پڑے۔ دس بارہ کی ہڈی پسلی ایک کر دی۔ جو میرے سامنے آیا اسے نیچا دکھایا۔ مار مار کے کشتوں کے پشتے لگا ہے۔ اور وہ مہارگیری تو ساری عمر یاد رکھے گا کہ کس سے واسطہ پڑا تھا۔
آزاد نے بہت غور سے یہ سب کچھ سنا اور کہا ” درست فرمایا آپ کی ذات شریف سے مہی توقع تھی۔ مرداں چنیں کنند . (لینی بہادر ایسا ہی کرتے ہیں) |
اچھا اب آپ کچھ دیر آرام کیسے منح سویرے نواب صاحب کے ہاں حاضری دینا ہے کہ تم دنیا ہے، ان سے رخصت بھی ہو لیں گے ۔‘‘
خوبی یہ سن کر جھوم اٹھے اور کہا۔ ”والله آزاد! تم بھی عالم میں انتخاب ہو لیکن یہ ترکی کا سفر اور وہ بھی بری راستے سے ذرا خطرناک ہے۔ خیر کچھ دیر آرام کر لو شب بخیر شب بخیر‘‘
پنڈت رتن ناتھ سرشار کے ’’ فسانہ آزا سے ماخوز)

معنی یاد کیجیے
عجیب : انوکھی
یورش : حملہ، چڑھائی
بسیرا : سرائے ،ٹھہرنے کی جگہ
غلبہ : چھا جانا
ہڑبونگ : ادهم بازی ، فتنہ پرداز
حوالی موالی : خوشامدی، ساتھ رہنے والے
خاطر تواضع : کھلا نا پلانا، یہاں بطور طنز پٹائی مراد ہے
حمیت : غیرت
صدمہ : دُکھ
قرولی : شکاری کا چاقو، (ایک خاص طرح کا چاقو جومڑا ہوا ہوتا ہے)

سوچیے اور بتائیے
سوال: میاں خوجی کس کے ساتھ اور کہاں آئے ہوئے تھے؟
جواب: میاں خوجی آزاد کے ساتھ لکھنؤ آئے ہوئے تھے۔

سوال: خوجی جہاں ٹھہرے ہوئے تھے وہاں کیا حادثہ پیش آیا؟
جواب: میاں خوجی پورے دن کے تھکے ہوئے کھاٹ پر سوئے تو انہیں کھٹملوں نے کاٹنا شروع کر دیا ۔ کھٹملوں کے کاٹنے سے خوجی چلائے تو لوگوں کو لگا کہ چور آگیا اور سرائے میں کہرام مچ گیا۔

سوال: سرائے میں کہرام کیوں مچ گیا؟
جواب: خوجی کے چلانے سے سب کو لگا کہ سرائے میں چور آگیا ۔ لہذا سب بھاگے جس سے کہرام مچ گیا۔

سوال: میاں خوجی کس کے ساتھ اور کہاں آئے ہوئے تھے؟
جواب: میاں خوجی آزاد کے ساتھ لکھنؤ آئے ہوئے تھے۔

سوال: خوجی جہاں ٹھہرے ہوئے تھے وہاں کیا حادثہ پیش آیا؟
جواب: میاں خوجی پورے دن کے تھکے ہوئے کھاٹ پر سوئے تو انہیں کھٹملوں نے کاٹنا شروع کر دیا ۔ کھٹملوں کے کاٹنے سے خوجی چلائے تو لوگوں کو لگا کہ چور آگیا اور سرائے میں کہرام مچ گیا۔

سوال: سرائے میں کہرام کیوں مچ گیا؟
جواب: خوجی کے چلانے سے سب کو لگا کہ سرائے میں چور آگیا ۔ لہذا سب بھاگے جس سے کہرام مچ گیا۔

سوال: میاں خوجی کے ساتھ  لوگوں نے کیا سلوک کیا؟
جواب: خوجی کو چور سمجھ کر سب نے لات گھونسوں سے ایسی تواضع کی کہ خوجی کو نانی یاد آگئی۔ سب نے لات گھونسوں سے خوجی کے انجر پنجر ڈھیلے کر دیے۔

سوال: ’’رگِ حمیت پھڑک اٹھی‘‘ اس کی وضاحت کیجیے۔
جواب: رگ حمیت پھڑکنے کا مطلب ہے غیرت کا جاگنا۔ جب خوجی آزاد کو اپنی کہانی ایک میں چار لگا کر سنا رہے تھے اور اپنی بڑائی میں لگے تھے تب آزاد نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائی ۔اس سے ان کی غیرت جاگ گئی اور ان کی رگ حمیت پھڑک اٹھی۔

سوال: خوجی کا دوست کون تھا؟
جواب: خوجی کے دوست اازاد تھے۔

سوال: خوجی آزاد کی کون سی بات سن کر جھوم اٹھے؟
جواب: جب آزاد نے ان کی بات سن کر یہ کہا ’’درست فرمایا آپ کی ذات شریف سے یہی توقع تھی‘‘ یہ سن کر خوجی جھوم اٹھے۔

محاوروں کو جملوں میں استعمال کریں
جان پر آ بننا : موسلا دھار بارش سے پرندوں کی جان پر بن آئی۔
موت کے گھاٹ اتارنا : پولس نے انکاؤنٹر میں بدمعاش کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
مرغ کی ایک ٹانگ : خوجی کے لیے ہر بات مرغ کی ایک ٹانگ جیسی ہے۔
بات کا بتنگڑ بنانا : خوجی کو بات کا بتنگڑ بنانے میں مزا آتا ہے۔/
میڈم ہر بات کا بتنگڑ بنا دیتی ہیں۔
پالا نہ پڑنا : بدمعاشوں کے لیے پولس سے پالا نہ پڑنا ہی اچھا ہے۔

نیچے لکھے ہوۓ لفظوں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے
فائدہ مند : صبح سویرے اٹھنا صحت  کے لیے فائدہ مند ہے۔
بیزاری(اُکتا جانا) : نیند سےجگانے پر اس نے بیزاری سے میری طرف دیکھا۔
صدمہ : اسرار جامعی کی موت کی خبر سن کر اسے گہرا صدمہ ہوا۔
قرولي : افسوس کے قرولی نہ ہوئی ورنہ سب کو ٹھیک کر دیتا۔
بسیرا : اس درخت پر چڑیلوں کا بسیرا تھا۔


کلک برائے دیگر اسباق

Tuesday, 11 September 2018

Maa Ka Khwab - NCERT Solutions Class VIII Urdu


ماں کا خواب 
CourtesyNCERT




ماں کا خواب
علامہ اقبال

میں سوئی جو اک شب تو دیکھا یہ خواب
بڑھا اور جس سے مرا اضطراب
یہ دیکھا کہ میں جا رہی ہوں کہیں
اندھیرا ہے اور راہ ملتی نہیں
لرزتا تھا ڈر سے مرا بال بال
قدم کا تھا دہشت سے اٹھنا محال
جو کچھ حوصلہ پا کے آگے بڑھی
تو دیکھا قطار ایک لڑکوں کی تھی
زمرد سی پوشاک پہنے ہوئے
دیے سب کے ہاتھوں میں جلتے ہوئے
وہ چپ چاپ تھے آگے پیچھے رواں
خدا جانے جانا تھا ان کو کہاں
اسی سوچ میں تھی کہ میرا پسر
مجھے اس جماعت میں آیا نظر
وہ پیچھے تھا اور تیز چلتا نہ تھا
د یا اس کے ہاتھوں میں جلتا نہ تھا
کہا میں نے پہچان کر میری جاں
مجھے چھوڑ کر آگئے تم کہاں
جدائی میں رہتی ہوں میں بے قرار
پروتی ہوں ہر روز اشکوں کے ہار
نه پروا ہماری ذرا تم نے کی
گئے چھوڑ، اچھی وفا تم نے کی
جو بچے نے دیکھا مرا پیچ و تاب
دیا اس نے منہ پھیر کر یوں جواب
رلاتی ہے تجھ کو جدائی مری
نہیں اس میں کچھ بھی بھلائی مری
یہ کہہ کر وہ کچھ دیر تک چپ رہا
دیا پھر دکھا کر یہ کہنے لگا
سمجھتی ہے تو ہو گیا کیا اسے
ترے آنسوؤں نے بجھایا اسے
سبق
معنی یاد کیجیے
شب : رات
اضطراب : بےچینی
لرزنا : کانپنا
راہ : راستہ
سیاہی : کالاپن، اندھیرا
دہشت : خوف، ڈر
محال : مشکل
حوصلہ : ہمت
زمرد : سبز رنگ کے قیمتی پتھر کا نام
رواں : چلتے ہوئے
زمردی پوشاک : ہرا لباس
پسر : بیٹا
جماعت : گروہ
پیچ و تاب کھانا (محاورہ) : دل ہی دل میں غم و غصہ سے گھٹنا، بیقرار ہونا

سوچیے اور بتائیے
سوال: خواب میں ماں نے اپنے آپ کو کس حال میں دیکھا؟
جواب: خواب میں ماں نے اپنے آپ کو ایک اندھیری جگہ پر دیکھا جس سے وہ بہت ڈر گئی۔

سوال: ماں نے آگے بڑھ کر کیا دیکھا؟
جواب: ماں نے آگے بڑھ کر بچوں کی ایک قطار دیکھی۔ یہ بچّے زمرد پوشاک پہنے اور ہاتھوں میں دیے لیے تھے۔

سوال: ماں نے اپنے بیٹے کو کس حال میں پایا؟
جواب: اس کا بیٹا قطار میں سب سے پیچھے تھا۔ وہ بہت دھیرے دھیرے چل رہا تھا۔ اس کا دیا بجھ گیا تھا۔

سوال: ماں کی بے قراری کا سبب کیاہے؟
جواب: ماں کی بےقراری کا سبب یہ ہے کہ اس کا بیٹا اسے چھوڑ کر بہت دور چلا گیا ہے۔ اس نے جب اپنے بیٹے کو یہاں دیکھا تو اس کی حالت دیکھ کر اور بھی بے قرار ہوگئی۔

سوال: لڑکے کے ہاتھ میں دیا کیوں نہیں جل رہا تھا؟
جواب: اس کی ماں کے آنسوؤں نے اس کے دیے کو بجھا دیا تھا۔ اس لیے اس کا دیا نہیں جل رہا تھا۔

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے 

اضطراب(بے چینی): اپنے بیٹے کی حالت دیکھ کر ماں کا اضطراب بڑھ گیا۔

محال(مشکل): مہنگائی نے لوگوں کا جینا محال کر دیا ہے۔

اجل(موت): آخر کار اس کی اجل آگئی۔

پیچ و تاب(اندر ہی اندر آگ بگولا ہونا) : حامد غصّے سے پیچ و تاب کھانے لگا۔


مصرعے مکمل کیجیے

میں سوئی جو  اک شب تو دیکھا  یہ خواب

بڑھا اور جس سے   مرا اضطراب

سمجھتی ہے تو  ہو گیا کیا اسے

ترے آنسووں نے بجھایا اسے

ان لفظوں کے متضاد لکھیے
وفا : بے وفائی
جواب : سوال
دور : پاس
بےقرار : قرار
جدائی : ملن
بھلائی : برائی

پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے۔

مارنے والا
 بنانے والا
دیکھنے والا 

یہ الفاظ  کام کرنے والے کو ظاہر کرتے ہیں۔ انھیں اسم فاعل کہتے ہیں۔ پانچ اسم فاعل " والا“ کے ساتھ بتایئے۔
کتاب والا
سبزی والا
قلفی والا
چائے والا
کباڑوالا

غور کرنے کی بات
  اس نظم میں ایک ماں کا خواب بیان کیا گیا ہے جو اپنے بیٹے کو لڑکوں کی ایسی جماعت کے ساتھ دیکھتی ہے جن کے ہاتھوں میں جلتے ہوئے دیے ہیں مگر اس کے بیٹے کا دیا بجھا ہوا ہے اور وہ دوسرے لڑکوں کے پیچھے آہستہ آہستہ چل رہا ہے۔ یہ دیکھ کر بیٹے کی جدائی میں روتی ہوئی ماں کو صدمہ پہنچتا ہے وہ بچّے سے شکایت کرتی ہے کہ وہ اسے چھوڑ  کر کیوں چلا آیا اور اس کا دیا بجھا ہوا کیوں ہے، بچہ جو ماں کے رونے دھونے سے خود بھی غمگین ہے۔ ماں سے کہتا ہے کہ میرے دیے کو اس کے آنسوؤں نے بجھایا ہے۔ 

اس سبق میں یہ بات پوشیدہ ہے کہ ماں باپ کے رونے دھونے سے بچوں کا حوصلہ پست ہوتا ہے اور انھیں آگے بڑھنے میں رکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔



کلک برائے دیگر اسباق

Monday, 10 September 2018

Aasmani Dost - NCERT Solutions Class VI Urdu

آسمانی دوست

courtesyNCERT

سوچیے اور بتائیے: 

سوال: منی اپنی بالکونی سے پارک کی طرف کیا دیکھ رہی تھی؟
جواب: منی اپنی بالکونی سے پارک میں کھیلتے بچّوں کو دیکھ رہی تھی۔

سوال: منی کی ممی اسے بار بار اندر آنے کو کیوں کہہ رہی تھیں؟
جواب: منی کی ممی اسے اندر آنے کو اس لیے کہہ رہی تھیں کہ باہر بارش ہورہی تھی۔ اور وہ یہ نہیں چاہتی تھیں کہ منی بارش میں بھیگ جائے۔

سوال: منی گھسٹ گھسٹ کر کیوں چلتی تھی؟
جواب: کیونکہ وہ پیروں سے معذور تھی۔

سوال: منی اپنا کون کون سا کام خود کر لیتی تھی؟
جواب: منی اپنے دانت صاف کرلیتی تھی اور چمچے کی مدد سے کھانا بھی کھالیتی تھی۔ وہ اپنی وہیل چیئر بھی خود چلا لیتی تھی۔

سوال: منی کے اسکول میں اس سے کیا کرایا جاتا تھا؟
جواب: منی کو اسکول مں کچھ خاص قسم کی کسرت اور بولنے کی مشق کرائی جاتی تھی۔ ساتھ ہی ساتھ اسے وہی سب مضنون پڑھائے جاتے تھے جو دوسرے اسکولوں میں بچوں کو پڑھائے جاتے ہیں۔

سوال: خالی وقت میں منی کا مشغلہ کیا تھا؟
جواب: خالی وقت میں منی اپنی بالکونی سے بچّوں کو کھیلتا دیکھتی تھی۔

 سوال: منی کی گود میں اچانک کیا چیز آکر گری؟
جواب: منی کی گود میں ایک خوبصورت بطخ اچانک آسمان سے آگری۔

سوال: منی نے چوٹ کھائی ہوئی بطخ کی کس طرح مدد کی؟
جواب: منی نے اپنی ماں سے اسے کچے پکے چاول دودھ میں کچل کر دینے کے لیے کہا اور پھر رات میں اسے اپنے پاس سلایا۔

سوال: بطخ کے آنے کے بعد پڑوس کے بچّے مِنی کے پاس کیوں آئے؟
جواب: بچے بطخ کو دیکھنا اور اس کے ساتھ کھیلنا چاہتے تھے۔

سوال: انجو نے کچھ کہتے کہتے اپنا منہ جلدی سے کیوں دبا لیا؟
جواب: انجو بطخ کو انجانے میں لولی کہہ رہی تھی کہ اسے اچانک مِنی کاخیال آیا اور اس نے جلدی سے اپنا منہ دبا لیا۔

سوال: محبت بھرے بہت سے ننھے منے ہاتھ منی کو کہاں لے گئے؟
جواب: بہت سے ننھے منے ہاتھ مِنی کو پارک میں کھیلنے کے لیے لے کر گئے۔

دیگر اسباق کے لیے کلک کریں

Ek mazedaar kahani - NCERT Solutions Class 8 Urdu

ایک مزےدار کہانی
مرزا فرحت اللہ بیگ
Courtesy NCERT

ایک بڑھیا جنگل بیابان میں جہاں نہ آدم نہ آدم زاد، ایک بڑے درخت کے نیچے بیٹھی تھی۔ خدا کا کرنا کیا ہوا کہ انھیں دنوں جاڑا، گرمی اور برسات میں جھگڑا ہوا۔ جاڑا کہتا میں اچھا ،گرمی کہتی میں اچھی ، برسات کہتی میں اچھی۔ آخر یہ صلاح ہوئی کہ چلو، چل کر کسی آدم زاد سے پوچھیں۔ ان کا جو ادھر گزر ہوا تینوں نے کہا:”لو بھئی وہ سامنے ایک بڑھیا بیٹھی ہے چلو اس سے پوچھیں “
سب سے پہلے میاں جاڑے آئے۔ گوری گوری رنگت، کلّے ایسے جیسے انار کا دانہ ۔ سفید لمبی ڈاڑھی، موٹا سا روئی کا دوگلہ پہنے، خوب اوڑھے لپپٹے آئے۔ ان کا آنا تھا کہ بڑی بی کو تھرتھری چھوٹ گئی ۔ میاں جاڑے نے آ کر کہا:
”بی بی سلام“۔ بڑی بی نے کہا: ”جیتے رہو، بال بچّے خوش رہیں، مگر بیٹا ذرا دھوپ چھوڑ کر کھڑے رہو۔ مجھے تو تمھارے آنے سے کپکپی لگ رہی ہے۔“ خیر میاں جاڑے ذرا ہٹ کر کھڑے ہوئے اور کہا: ” بڑی ہی ایک بات پوچھوں؟‘‘ بڑی بی نے کہا: ”ہاں بیٹا ضرور پوچھو۔“ میاں جاڑے نے کہا: " بڑی بی جاڑا کیسا؟‘‘
بڑی بی نے کہا : ”بیٹا! جاڑے کا کیا کہنا۔ سبحان اللہ! مہاوٹ برس رہی ہے۔ دالانوں کے پردے پڑے ہیں۔ انگیٹھیاں سلگ رہی ہیں ، لحافوں میں دبکے پڑے ہیں۔ چائے بن رہی ہے۔ خود پی رہے ہیں، دوسروں کو پلا رہے ہیں ۔ صبح ہوئی اور چنے والا آیا، گرم گرم چنے لیے۔ طرح طرح کے میوے آرہے ہیں۔ سب مزے لے لے کر کھا رہے ہیں ۔ حلوہ سوہن بن رہا ہے۔ باجرے کا ملیدہ بن رہا ہے۔ رس کی کھیر پک رہی ہے۔ اِدھر کھایا اُدھر ہضم - خون چلّوؤں بڑھ رہا ہے۔ چہرے سُرخ ہورہے ہیں۔ بیٹا جاڑا، جاڑے کا کیا کہنا ، سبحان اللہ!‘‘
میاں جاڑے تھے کہ اپنی تعریفیں سن سن کر پھولے نہ سماتے تھے۔ جب بڑی بی چُپکی ہوئیں تو میاں جاڑے نے کہا :” بڑی بی، خدا تم کو زندہ رکھے، تم نے میرا دل خوش کر دیا۔ یہ لو ایک ہزار اشرفی کی تھیلی ۔ خرچ ہو جائے تو اگلے جاڑے میں مجھ سے اور آ کر لے جانا۔“
میاں جاڑے ہٹے اور گرمی مٹکتی ہوئی سامنے آئیں ۔ روشن آنکھیں، لمبی کالی چوٹی، گلے میں موتیوں کا کنٹھا، ہاتھوں میں مولسری کی لڑیاں جس میں کرن ٹکی ہوئی ۔ ہرے ڈورے کی پیازی اوڑھنی۔ غرض بڑے ٹھسّے سے آئیں اور آتے ہی کہا:
”نانی جان سلام !“
میں یہ پوچھنے آئی ہوں کہ نانی جان گرمی کیسی ؟“ بڑی بی نے کہا: ”بیٹا گرمی، گرمی کا کیا کہنا۔ سبحان اللہ! دن کا وقت ہے۔ خس خانوں میں پڑے ہیں۔ پنکھے جھلے جارہے ہیں۔ برف کی قلفیاں کھائی جا رہی ہیں۔ فصل کے میوے آرہے ہیں۔ پتلی پتلی ککڑیاں ہیں ۔ شام کو اٹھے، نہائے دھوئے ، سفید کپڑے پہنے،خَس کا عطر ملا، صحن میں چھڑکاؤ ہو گیا ہے۔ گھڑ ونچیوں پر کورے کورے مٹکے رکھے ہیں ۔ رات ہوئی کوٹھوں پر پلنگ بچھ گئے ۔ بیٹا! گرمی کا کیا کہنا۔ سبحان اللہ!“
بی گرمی کا یہ حال تھا کہ تعریفیں سنتی جاتی تھیں اور نہال ہوتی جاتی تھیں۔ جب بڑی بی تعریف کرتے کرتے تھک کر چپ ہو گئیں تو بی گرمی نے چپکے سے نکال کر ایک ہزار اشرفی کی تھیلی ان کے ہاتھ میں دی اور کہا کہ :” نانی جان! خدا تمھارا بھلا کرے۔ تم نے آج میری لاج رکھ لی۔ میں ہر سال آیا کرتی ہوں۔ جب آؤں جو لینا ہو مجھ سے بے کھٹکے لے لیا کیجیے۔ بھلا آپ جیسے چاہنے والے مجھے ملتے کہاں ہیں ۔“
بی گرمی ذرا ہٹی تھیں کہ برسات خانم چھم چھم کرتی پہنچیں ۔ سانولا نمکین چهره، چمکدار روشن آنکھیں، بھورے بال۔ ان میں سے پانی کی باریک باریک بوندیں اس طرح ٹپک رہی تھیں جیسے موتی ۔ ہاتھوں میں دھانی چوڑیاں۔ غرض ان کے آتے ہی برکھا رت چھا گئی۔ انھوں نے بڑھ کر کہا: ”اماں جان سلام!“ بڑی بی نے کہا: ”بیٹی! جیتی رہو۔ ہونہ ہوتم بی گرمی کی بہن برسات خانم ہو؟ “بی برسات نے کہا: ”جی ہاں! میں بھی پو چھنے آئی ہوں کہ میں کیسی ہوں؟“
بڑی بی نے کہا:”بی برسات تمھارا کیا کہنا! تم نہ ہو تو لوگ جئیں ہی کیسے؟ مینہ چھم چھم برس رہا ہے۔ باغوں میں کھم گڑے ہیں ۔ جھولے پڑے ہیں۔ عورتیں ہیں کہ ہاتھوں میں مہندی رچی ہے۔ سُرخ سُرخ جوڑے، دھانی چوڑیاں پہنے جھول رہی ہیں ۔ کچھ جھول رہی ہیں، کچھ جُھلا رہی ہیں ۔ ملہار گائے جا رہے ہیں۔ اؤ دی اؤ دی گھٹائیں آئی ہوئی ہیں ۔ برسات ! بھئی برسات کا کیا کہنا۔ سبحان الله!“
بی برسات نے بھی ایک ہزار کی تھیلی بڑی بی کی نذر کی اور رخصت ہوئیں ۔ شام ہو چلی تھی۔ بڑی بی تھیلیاں سمیٹ سماٹ خوشی خوشی گھر آ گئیں۔ گھر میں بہار آ گئی۔
پڑوس میں ہی ایک اور بڑھیا رہتی تھی۔ اس نے بڑی بی کے گھر جو یہ چہل پہل دیکھی تو اس سے نہ رہا گیا۔ پوچھا: ”یہ رو پیہ تم کہاں سے لائیں؟“ بڑی بی نے کہا: ”مجھ کو یہ روپیہ جاڑے، گرمی اور برسات نے دیا ہے۔“
پڑوسن بڑھیا آفت کی پڑیا تھی۔ ایک دن گھر والوں سے لڑ جھگڑ کر جنگل میں جا بیٹھی۔ خدا کا کرنا تھا کہ جاڑا،  گرمی، برسات اسی دن پھر ملے۔ ایک نے دوسرے سے پوچھا: ”کہو بھئی، بڑھیا نے کیا تصفیہ کیا؟“ جاڑے نے کہا: ”بھئی وہ بڑھیا غضب کی تھی۔یہ انہیں بتایا کہ تینوں میں کون اچھا ہے۔ سب ہی کی تعریفیں کر کے مفت میں تین ہزار اشرفیاں مار لیں ۔ “ غرض تینوں جلے بھنے آگے بڑھے۔ دیکھا کہ ایک بڑھیا یٹھی رو رہی ہے۔ پہلے میاں جاڑے پہنچے۔ ان کا آنا تھا کہ بڑھیا سردی سے تھر تھر کانپنے لگی۔
جاڑے نے کہا: ” بڑی بی سلام ! مزاج تو اچّھا ہے۔“ بڑھیا بولی: ”چل بڈ ھے! پرے ہٹ ۔ بڑی بی ہوگی تیری ماں ۔ اب جاتا ہے یا نہیں۔“ میاں جاڑے نے کہا: ” بڑی بی، میں جاڑا ہوں ۔ سچ بتانا میں کیسا ہوں؟“
بڑی بی نے کہا: ”اس بڑھاپے میں بھی آپ اپنی تعریف چاہتے ہیں؟ لو اپنی تعریف سنو! آپ آئے اس کو فالج ہوا، اس کو لقوہ ہوا۔ ہاتھ پاؤں پھٹے جارہے ہیں۔ ناک سُڑ سُڑ بہہ رہی ہے۔ دانت ہیں کہ کڑ کڑبج رہے ہیں ۔ کپڑے ادھر پہنے ادھر میلے ہوئے ۔  لحاف ذرا کھلا اور ہوا سر سے گھسی ۔ بچھو نے برف ہورہے ہیں ۔ توبہ تو به! آگ کی بھی تو گرمی جاتی رہتی ہے۔ لیجئے اپنی تعریف سنی یا کچھ اور سناؤں؟“
جاڑا جلا ہوا تو پہلے سے ہی تھا۔ اب جو بڑھیا کی جلی کٹی باتیں سنیں تو جل کر کوئلہ ہو گیا۔ اپنی ٹھوڑی پکڑ کر ڈاڑھی کی جو ہوا دی تو بڑھیا کو لقوہ ہو گیا۔ چلتے چلتے دو تین ٹھوکریں رسید کیں۔ ذرا فاصلے پر بی گرمی اور برسات کھڑی تھیں ان سے کہا: ”لو جاؤ ! بڑھیا سے اپنا تصفیہ کرا لاؤ، ہم تو ہار گئے۔ ‘‘
بی گرمی خوشی خوشی بڑھیا کے پاس آئیں اور کہا: ” نانی اماں! میں ہوں گرمی ۔ تم سے یہ پوچھنے آئی ہوں کہ گرمی کیسی؟“
یہ سننا تھا کہ بڑھیا کے تو آگ ہی لگ گئی ۔ گرمی، گرمی کا کیا کہنا۔ سبحان اللہ! واہ واہ!! پسینہ بہہ رہا ہے۔ کپڑوں سے بو آرہی ہے۔ صبح کو کپڑے بدلے شام تک چِکٹ ہو گئے۔ کھانا کھایا کسی طرح ہضم نہیں ہوتا۔ سینے پر رکھا ہوا ہے۔ صبح ہوئی اور لو چلنی شروع ہوئی۔ اِس کو لو لگی، اُس کو لو لگی۔ اُس کو ہیضہ ہوا۔ منہ جھلسا جاتا ہے۔ ہونٹوں پر پپڑی جمی ہوئی ہے۔ پانی پیتے پیتے جی بیزار ہو جاتا ہے۔ تمھاری جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ چل دور ہو میرے سامنے سے نہیں تو ایسی بے نقط سناؤں گی کہ تمام عمر یاد رکھے گی۔ ‘‘
بی گرمی تو آگ بگولہ ہوگئیں ۔ کہا: ”ٹھہر بڑھیا تجھے اس بدزبانی کا مزہ چکھاتی ہوں۔ مجھے تو کیا سمجھتی ہے۔“ یہ کہہ کر جو پھونک ماری تو ایسا معلوم ہوا کہ لؤ لگ گئی۔ بڑھیا تو ہائے گرمی، ہائے گرمی کرتی رہی۔ بی گرمی پیٹھ پر ایک دو ہتھڑ مارچلتی بنیں۔
جب ان کو بھی روکھی صورت بنائے آتے دیکھا تو بی برسات دل میں بہت خوش ہوئیں اور سمجھیں کہ چلو میں نے پالا مار لیا۔ بڑی مٹکتی منکاتی بڑھیا کے پاس گئیں اور کہا: ”میں برسات ہوں ۔ اچھا بتاؤ تو برسات کیسی؟“
بڑھیا نے کہا: ” برسات سے خدا بچائے۔ بجلی چمک رہی ہے۔ بادل گرج رہے ہیں ۔ کلیجہ ہلا جاتا ہے۔ دهما | دهم کی آوازیں آرہی ہیں ۔ ذرا پاؤں باہر رکھا اور چھینٹے سر سے اوپر ہو گئے۔ ذرا تیز چلے اور جوتیاں کیچڑ میں پھنس کر رہ گئیں۔ رات کو مچھر ہیں کہ ستائے جارہے ہیں ۔ نہ رات کو نیند، نہ دن کو چین اور پھر اس پر بھی یہ سوال کہ نانی جان میں کیسی ہوں ۔ نانی جان سے تعریف سن لی؟ اب تو دل ٹھنڈا ہو گیا۔ اے ہے! یہ بے موسم کی گرمی کیسی؟ خدا خیر کرے۔‘‘ بڑھیا یہ کہہ رہی تھی کہ کی برسات کی نگاہ بجلی بن کر گری اور بڑی بی کے پاؤں کو چاٹتی ہوئی نکل گئی اور بی برسات بڑھیا لنگڑ کر منہ پرتھوک کر رخصت ہوئیں۔
بات یہ ہے کہ الله شکّر خورے کو شکّر ہی دیتا ہے۔ جو لوگ خوش مزاج ہوتے ہیں وہ ہر حال میں خوش رہتے ہیں اور موئے رونی صورت تو ہمیشہ جوتیاں کھاتے ہیں۔



معنی یاد کیجیے
بیابان : جنگل
آدم نہ آدم زاد : جہاں کسی انسان یا جاندار کا نام و نشان نہ ہو
صلاح : مشورہ، رائے
کِلّے : درخت کی وہ کونپل جوکلی کی طرح پھوٹتی ہے
دگلہ : روئی دارلبادہ، سردی کا ایک لباس
سبحان اللہ : پاک ذات ہے اللہ کی شکر گزاری کے اظہار کے لیے کہا جا تا ہے
مہاوٹ : جاڑے کی بارش
ملیدہ : (مالیده ) نمک ، گڑ یا شکر اور روٹی کو خوب مل کر تیار کی جانے والی ایک غذا
کنٹھا : پھولوں کا ہار، موٹے موٹے موتیوں کی مالا
خس : ایک قسم کی گھاس
گھڑونچی : گھڑےرکھنے کا اسٹینڈ جو بالعموم لکڑی کا ہوتا ہے
نہال ہونا ( محاورہ) : بہت خوش ہونا، سرشار ہونا
آفت کی پڑیا : بہت زیادہ تیز ، چالاک
لاج رکھنا ( محاورہ) : شرم رکھنا ، عزت آبرو کا خیال رکھن
ملہارگانا ( محاورہ) : برسات کے موسم کا گیت
نذر کرنا : پیش کرنا، بھینٹ دینا
تصفیہ : فیصلہ
فالج : ایک ایسی بیماری جس میں جسم کا کوئی حصہ بے حس ہو جاتا ہے
آگ لگنا ( محاورہ) : بہت زیادہ غصہ ہونا
لقوہ : ایک ایسی بیماری جس سے منہ ٹیڑھا ہو جاتا ہے
آگ بگولہ ہونا (محاورہ) : بہت غصہ میں ہونا
کلیجہ دہلنا ( محاورہ) : بہت زیا دہ خوف کھانا

سوچیے اور بتائیے
سوال: جاڑا، گرمی اور برسات کا آپس میں جھگڑا کیوں ہوا؟
جواب: یہ تینوں موسم اپنے آپ کو دوسرے سے بہتر سمجھ رہے تھے اس لیے ان کا آپس میں جھگڑا ہو گیا۔

سوال: جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے انہوں نے کیا کیا؟
جواب: انہوں نے ایک آدم زاد سے صلاح لینے کا فیصلہ کیا۔

سوال: جاڑے کی کن خوبیں کو بڑی بی  نے بیان کیا؟
جواب: جاڑے میں انگیٹھیاں سلگ رہی ہوتی ہیں جن کے چاروں جانب بیٹھ کر گرمی کا مزا لیا جاتا ہے سرد موسم میں دولائی اوڑھ کر گرم گرم چائے کا لطف ہی کچھ اور ہوتا ہے۔

سوال: گرمی کے بارے میں بڑی بی کا کیا خیال تھا؟
جواب: گرمی میں مختلف قسم کے پھل کھانا، قلفی کھانا، طرح کی سبزیاں پھلنا اور خوبصورت پھولوں کا کھلنا بڑی بی کی نظر میں گرمی کی خوبیاں تھیں۔

سوال: مصنف نے برسات کا کیا حلیہ بتایا؟
جواب: برسات کا سانولا نمکین چہرہ تھا۔ چمکدار روشن آنکھیں، بھورے بال ان میں سے پانی ایسے ٹپک رہا تھا جیسے موتی ہو۔ ہاتھوں میں دھانی چوڑیاں کھنکھنا رہی تھیں۔

سوال: بڑی بی کو نذر میں تھیلیاں کیوں ملیں؟
جواب: بڑی بی نے سب کی تعریفیں کیں اس لیے سب نے بڑی بی کی خدمت میں تھیلیاں پیش کیں۔

سوال: بڑی بی کے گھر میں چہل پہل سے پڑوسن پر کیا اثر ہوا؟
جواب: اس سے بڑی بی کی خوشی دیکھی نہ گئی اور وہ بھی بڑی بی کی نقل میں جاکر جنگل میں بیٹھ گئی۔

سوال: بدزبان بڑھیا جاڑے کے ساتھ کس طرح پیش آئی؟
جواب: اس نے جاڑے کو بہت برا بھلا کہا۔ اس نے جاڑے کی برائی کرتے ہوئے کہا کہ جاڑے میں لوگوں کی طبیعت خراب ہوجاتی ہے۔ اور ان کی ناک بہنے لگتی ہے۔

سوال: برسات کی کون کون سی باتوں کو بڑھیا نے ناپسند کیا۔
جواب: بجلی گرنے اور بادل گرجنے سے کلیجہ ہل جاتا ہے۔ دھم دھم کی آواز آتی ہے۔ گھر سے باہر نکلتے ہی کیچڑ سے کپڑے گندے ہو جاتے ہیں۔ رات کو مچھر ستاتے ہیں۔ رات کی نیند اور دن کا چین چلا جاتا ہے۔

سوال: بڑھیا کے ساتھ برسات کا سلوک کیسا تھا؟
جواب: برسات کی نگاہ بجلی بن کر گری اوربڑی بی کے پیروں کو چاٹتی ہوئی نکل گئی۔ اور بی برسات بڑھیا کو لنگڑا کر کے منہ پر تھوک کر رخصت ہوئی۔

خالی جگہ کو صحیح لفظ بھریے
انھیں دنوں جاڑا، گرمی اور برسات میں جھگڑا ہوا۔
باجرے کا ملیدا بن رہا ہے رس کی کھیر پک رہی ہے۔
میاں جاڑے اپنی تعریفیں سن سن کر پھولے نہ سماتے تھے۔
نانی جان خدا تمہارا بھلا کرے تم نے آج میری  لاج رکھ لی۔
مینہہ چھم چھم برس رہا ہے۔

نیچے لکھے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے
صلاح (مشورہ) : ہمیں بڑوں کی صلاح لینی چاہیے۔
تصفیہ (فیصلہ) : ان دونوں کے درمیاں تصفیہ ہو گیا۔
بیاباں (جنگل) : وہ بیابان میں جا کر بیٹھ گئی۔
: ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بھار آئی ہے۔
آدم نہ آدم زاد : دور تک آدم نہ آدم زاد تھا۔
ملہار (برسات کے موسم میں گانے والے گیت) : کسان بارش دیکھ کر ملہار گانے لگے۔


نیچے لکھے ہوئے واحد اور جمع کو الگ الگ کرکے لکھیے
واحد : جمع
بچا : بچے
تعریف : تعریفیں
قلفی : قلفیاں
اشرفی : اشرفیاں
چوڑی : چوڑیاں
گھٹا : گھٹائیں
مہاوٹ : مہاوٹیں
فاصلہ : فاصلے

پڑھیے اور سمجھیے۔
سورج نکل رہا ہے
اکبرا بھی ناشتہ کر رہا ہے
اوپر کے جملوں میں خط کشیدہ الفاظ سے پتہ چلتا ہے کہ کام شروع تو ہوا لیکن ابھی ختم نہیں ہوا۔ انھیں حال نا تمام کہتے ہیں ۔
چاند نکل آیا ہے
وہ اسکول جا چکی ہے
اوپر کے جملوں میں خط کشیدہ افعال سے پتہ چلتا ہے کہ کام ختم ہو چکا ہے انھیں حال تمام کہتے ہیں۔

غور کرنے کی بات
* مرزا فرحت اللہ بیگ اس کہانی کے مصنف ہیں ۔ وہ اردو کے ممتاز نثر نگار تھے۔ وہ اپنی مخصوص انداز میں دلی کی بول چال کی زبان اس خوب صورتی سے لکھتے ہیں کہ پڑھنے والوں کو مزہ آتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کوئی سچ مچ ہمارے سامنے بیٹھا مزے دارکہانی سنا رہا ہو۔ انھوں نے اس کہانی میں جاڑا، گرمی اور برسات کی اچھائیوں اور برائیوں کو اپنے مخصوص دلچسپ انداز میں بیان کیا ہے۔

* ہندستان میں تین موسم ہوتے ہیں : موسم سرما، گرما اور برسات۔ اس کے علاوہ ایک اور موسم بھی کئی ملکوں میں ہوتا ہے جسے موسم بہار کہتے ہیں۔ ان موسموں کی اپنی اپنی خوبیاں اور کمیاں ہیں۔ ہر موسم میں اللہ تعالی نے مختلف پھول، پھل اور سبزیاں انسان کےلیے پیدا کیں۔ برسات کے موسم کا خاص طور پر کسان بڑا استعمال کرتے ہیں ۔ اس موسم میں کئی تہوار بھی ہوتے ہیں۔ باغوں میں جھولے پڑ جاتے ہیں ۔ ملہار اور گیت گائے جاتے ہیں۔

کلک برائے دیگر اسباق

خوش خبری