آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Wednesday, March 25, 2020

Guzra Hua Zamana - Sir Syed - NCERT Solutions Class IX Urdu


انشائیہ:
انگریزی میں انشائیہ اور مضمون دونوں کے لیے Essay کی اصطلاح  رائج ہے۔ انشائیہ ادیب کی ذہنی اور ادبی اسلوب کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ انشائیہ نگار زندگی کی عام یا خاص بات یا کیفیت کو اپنی افتاد طبع ،علمیت اور شگفتہ نگاری سے پرلطف انداز میں بیان کردیتا ہے۔ ابتدا میں تمثیلی انشائیےبھی لکھے گئے۔ انہیں رمزیے( Allegory) کہا جاتا ہے۔ ان کی بہترین مثال محمد حسین آزاد کی کتاب نیرنگ خیال ہے۔ سرسید ،شبلی ، حالی اور خواجہ حسن نظامی سے لے کر نیاز فتح پوری ، سید عابد حسین، خواجہ غلام السیدین، محمد مجیب ، رشید احمد صدیقی اور ان کے بعد کے لکھنے والوں کی بعض تحریریں انشائیہ بھی کہی جاسکتی ہیں اور مضمون بھی ۔ کنہیالال کپور، مشتاق احمد یوسفی ، یوسف ناظم، وزیرآغا اورمجتبی حسین وغیرہ ہمارے زمانے کے ممتاز انشائیہ نگار ہیں۔
سرسید احمد خاں
(1898 – 1817)
سید احمد خاں دہلی میں پیدا ہوئے ۔ سید احمد نے اپنے زمانے کے اہل کمال سے فیض حاصل کیا۔ 1839ء میں انھوں نے انگریزی سرکار کی ملازمت اختیار کی اورمختلف مقامات پر کام کیا۔ 1862ء میں جب وہ غازی پور میں تھے، انھوں نے ایک انجمن سائنٹفک سوسائٹی کے نام سے بنائی ۔ اس انجمن کا مقصد یہ تھا کہ مختلف علوم ، خاص کر سائنس کے علوم کا مطالعہ کیا جائے اور ان علوم کو ہندوستانیوں میں عام کیا جائے ۔ 1869ء میں سید احمد خاں ایک سال کے لیے انگلستان گئے۔ واپس آ کر انھوں نے انگریزی کے علمی اور سماجی رسالوں کی طرز پر اپنا ایک رسالہ تہذیب الاخلاق نکالنا شروع کیا۔
انگلستان سے واپس آ کر سید احمد خاں نے علی گڑھ میں 1875ء میں ایک اسکول کھولا ۔ یہ اسکول 1878ء میں محمڈن اینگلو اورینٹل کالج اور پھر 1920 ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شکل میں ہندوستان کا ایک نمایاں تعلیمی ادارہ بن گیا۔
1878ء میں سید احمد خاں کو سر کا خطاب ملا۔ اس لیے لوگ انھیں سرسید کے نام سے جانتے ہیں ۔ سرسید آخر عمر تک قومی کام کاج کی دیکھ بھال اور تصنیف و تالیف میں مشغول رہے۔ ان کی متعدد تصانیف میں آثار  الصنادید   اسباب بغاوت ہند اور سرکشی ضلع بجنور خاص طور پر اہمیت رکھتی ہیں ۔ ان کے مضامین کی جلدوں میں مجلس ترقی ادب لاہور سے شائع ہوئے ہیں۔ ان میں سائنس، فلسفه، مذہب اور تاریخ سے متعلق مضامین ہیں۔
جدید اردو نثر کی بنیاد ڈالنے کے ساتھ ساتھ سرسید نے اردو میں مختصر مضمون نگاری کو بھی فروغ دیا۔لمبی لمبی تحریروں کے بجائے چندصفحات میں کام کی بات کہنے کا فن سرسید نے عام کیا۔ سرسید اپنے زمانے کے مفکر اور مصلح تھے اور ان کی نثر میں، وہی وزن اور وقار ہے جوان کی شخصیت میں تھا۔
گزرا ہوا زمانہ
برس کی اخیر رات کو ایک بة هااپنے اندھیرے گھر میں اکیلا بیٹھا ہے ، رات بھی ڈراونی اور اندھیریہے ، گھٹا چھا رہی ہے بھی تڑپ تڑپ کر کڑکتی ہے، آندھی بڑے زور سے چلتی ہے، دل کانپتا ہے اور دم گھبراتا ہے ۔ بد حانہایت میں ہے مگر اس کائم نہ اندھیرے گھر پر ہے، نہ اکیلے پن پر اور نہ اندھیری رات اور بجلی کی کڑک اور آندھی کی گونج پر اور نہ برس کی اخیر رات پر۔ وہ اپنے پچھلے زمانے کو یاد کرتا ہے اور جتنا زیادہ یاد آتا ہے اتنا ہی زیادہ اس کا غم بڑھتا ہے۔ ہاتھوں سے ڈھکے ہوئے منہ پر آنکھوں سے آنسوبھی بہے چلے جاتے ہیں ۔
چلا زمانہ اس کی آنکھوں کے سامنے پھرتا ہے، اپن لڑکیں اس کو یاد آتا ہے، جب کہ اس کو کسی چیز کالم اور کسی بات کی فکر دل میں تھی۔ روپے،اشرفی کے بدلے ریوڑی اور مٹھائی ابھی گئی تھی۔ سارا گھر ماں باپ، بھائی بہن اس کو پیار کرتے تھے۔ پڑھنے کے لیے چھٹی کا وقت جلد آنے کی خوشی میں کتابیں بغل میں لیے کتب میں چلا جاتا تھا۔ مکتب کا خیال آتے ہی اس کو اپنے ہم کتب یادآتے تھے۔ وہ زیادہ مکین ہوتا تھا اور بے اختیار چلا آتا تھا " ہائے وقت، ہائے وقت! گزرے ہوئے زمانے ! افسوس کہ میں نے تجھے بہت دیر میں یاد کیا۔
پھر وہ اپنی جوانی کا زمانہ یاد کرتا تھا۔ اپنا سرخ سفید چہرہ، سڈول ڈیل بھرا بھرا بدن ، رسیلی آنکھیں ، موتی کی لڑی سے دانت ، امنگ میں بھرا ہوا دل، جذبات انسانی کے جوشوں کی خوشی اسے یاد آتی تھی ۔ اس کی آنکھوں میں اندھیرا چھائے ہوئے زمانے میں ماں باپ جو نصیحت کرتےتھے، نیکی اور خدا پرستی کی بات بتاتے تھے اور یہ کہتا تھا أو ابھی بہت وقت ہے اور بڑھاپے کے آنے کا بھی خیال بھی نہ کرتا تھا۔ اس کو یاد آتا تھ اور افسوس کرتا تھا کہ کیا اچھا ہوتا اگر ج ب ہی میںاس وقت کا خیال کرتا اور خدائی تھی اور نیکی سے اپنے دل کو سنوارتا اور موت کے لیے تیار رہتا ۔ آه وقت گزر گیا، آہ وقت گزر گیا۔ اب پچھتائے کیا ہوتا ہے۔ افسوس میں نے آپ اپنے تئیں ہمیشہ یہ کہہ کر برباد کیا کہ ابھی وقت بہت ہے۔
یہ کہہ کر وہ اپنی جگہ سے اٹھا اورٹول ٹٹول کر گھر کی تلک آیا۔ کھڑکی کھولی ، د یکھا کہ رات ویکی ہی ڈراونی ہے، اندھیری گھٹا چھا رہی ہے۔ بجلی کی کڑک سے دل چھا جاتا ہے، ہولناک آندھی چپل رہی ہے، درختوں کے پتے اڑتے ہیں اور نہتے لوٹتے ہیں، تب وہ چلا کر بولا ہائے ہائے میری گزری ہوئی زندگی بھی ایسی ہی ڈراونی ہے جیسی یہ رات یہ کہ کر پھر اپنی جگہ بیٹھا۔
اتنے میں اس کو اپنے ماں باپ، بھائی بہن، دوست آشنا یاد آئے جن کی ہڈیاں قبروں میں گل کر خاک ہو چکی تھیں ۔ ماں گویا محبت سے اس کو چھاتی سے لگائے آنکھوں میں آنسو بھرے کھڑی ہے۔ یہ ہتی ہوئی کہ ہائے بیٹا وقت گزر گیا۔ باپ کا نورانی چہرہ اس کے سامنے ہے اور اس میں سے یہ آواز آتی ہے کہ کیوں بیٹا ہم تمھارے ہی بھلے کے لیے نہ کہتے تھے۔ بھائی بین دانتوں میں انگلی دیے ہوئے خاموش ہیں اور ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی جاری ہے۔ دوست آشنا سب نمکین کھڑے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب ہم کیا کر سکتے ہیں۔
ایسی حالت میں اس کو اپنی وہ باتیں یاد آتی تھیں جو اس نے نہایت بے پروائی اور بے مروتی اور کج خلقی سے اپنے ماں باپ، بھائی ، بہن ، دوست آشنا کے ساتھ برتی تھیں ۔ ماں کور نجیدہ رکھنا، باپ کو ناراض کر نا، بھائی بہن سے بے مروت رہنا، دوست آشنا کے ساتھ ہمدردی نہ کرنا یاد آتا تھا اور اس پر ان کی ہڈیوں میں سے ایسی محبت کا دیکھنا اس کے دل کو پاش پاش کرتا تھا۔ اس کا دم چھاتی میں گھٹ جا تا تھا اور یہ کہہ کر چلا اٹھتا تھا کہ ہائے وقت نکل گیا، ہائے وقت نکل گیا، اب کیوں کر اس کا بدلہ ہواوہ گھبرا کر پھر کھڑکی کی طرف دوڑ ا اور کرا تا لڑکھڑاتا کھڑکی تک پہنچا۔ اس کو کھولا اور دیکھا کہ ہوا چھ شہری ہے اور بجلی کی کڑک بھی ہے پر رات میں ہی اندھیر کی ہے۔ اس کی گھبراہٹ پچھکم ہوئی اور پھر اپنی جگہ بیٹھا۔
اتنے میں اس کو اپنا لیڈر پن یاد آیا جس میں کہ نہ وہ جوانی رہی تھی اور نہ وہ جوانی کا جوبن، نہ وہ دل رہا تھا اور نہ دل کے ولولوں کا جوش ، اس نے اپنی اس نیکی کے زمانے کو یاد کیا جس میں وہ بہ نسبت بدی کے نیکی کی طرف زیادہ مائل تھا۔ وہ اپناروزہ رکھنا ، نماز میں پڑھنی ، ج کرتا ، زکوة دینی، جھوکوں کو کھلانا، مسجد میں اور کنویں بنوانا یاد کر کر اپنے دل کو تسلی دیتا تھا۔ فقیروں اور درویشوں کو جن کی خدمت کی تھی، اپنے پیروں کی جن سے بیعت کی تھی اپنی مد دکو پکارتا تھا مگر دل کی بے قراری نہیں جاتی تھی۔ وہ دیکھتا تھا کہ اس کے ذاتی اعمال کا اسی تک خاتمہ ہے۔ جھوکے پھر ویسے ہی بھوکے ہیں ، مسجد میں ٹوٹ کر یا تو کھنڈر ہیں اور یا پھر ویسے ہی جنگل ہیں ۔ کنویں اندھے پڑے ہیں ۔ نہ پیر اور فقیر ، کوئی اس کی آواز نہیں سنتا اور نہ مدد کرتا ہے۔ اس کا دل پھر گھبراتا ہے اور سوچتا ہے کہ میں نے کیا کیا جو تمام قانی چیزوں پر دل لگایا۔ یہ پچھلی مجھے پہلے ہی کیوں نہ سوبھی ، اب کچھ بس نہیں چلتا اور پھر یہ کہ کر چلا اٹھا ہائے وقت ، ہائے وقت میں نے تجھ کو کیوں کودیا؟
وہ گھبرا کر پھر کھڑکی کی طرف دوڑا۔ اس کے پٹ کھولے تو دیکھا کہ آسمان صاف ہے، آندھی تھم گئی ہے۔ گھٹ کھل گئی ہے، تارے نکل آئے ہیں، ان کی چمک سے اندھیرا بھی کچھ کم ہو گیاہے۔ وہ دل بہلانے کے لیے تاروں بھری رات کو دیکھ رہا تھا کہ کیا کیا اس کو آسمان کے نچ میں ایک روشنی دکھائی دی اور اس میں ایک خوبصورت دلہن نظر آئی۔ اس نے کٹکی باندھ اسے دیکھنا شروع کیا۔ جوں جوں وہ اسے دیکھتا تھا وہ قریب ہوتی جاتی تھی، یہاں تک کہ وہ اس کے بہت پاس آ گئی۔ وہ اس کے حسن و جمال کو دیکھ کر حیران ہو گیا اور نہایت پاک دل اور محبت کے لہجے سے پوچھا کہ تم کون ہو، وہ بولی کہ میں ہمیشہ زندہ رہنے والی نیکی ہوں ۔ اس نے پوچھا کہ تمھاری تسخیر کا بھی کوئی عمل ہے ۔ وہ بولی ہاں ہے، نہایت آسان پر بہت مشکل ۔ جو کوئی خدا کے فرض اس بدویکی طرح جس نے کہا که والله لا از ید و لاانقص‘‘ ادا کر کر انسان کی بھلائی اور اس کی بہتری میں سعی کرے اس کی میں مسخر ہوتی ہوں ۔ دنیا میں کوئی چیز ہمیشہ رہنے والی نہیں ہے، انسان ہی
ایسی چیز ہے جو اخیر تک رہے گا ۔ پس جو بھلائی کہ انسان کی بہتری کے لیے کی جاتی ہے وہی نسل درنسل اخیر تک چلی آتی ہے۔ نماز ، روزہ ، جہاز کو اسی تک ختم ہوجاتا ہے۔ اس کی موت ان سب چیزوں کو ختم کردیتی ہے۔ ماڑی چیز میں بھی چند روز میں فنا ہو جاتی ہیں مگر انسان کی بھلائی اخیر تک جاری رہتی ہے۔ میں تمام انسانوں کی روح ہوں، جو بھی تسخیر کرنا چاہے انسان کی بھلائی میں کوشش کرے کم سے کم اپنی قوم کی بھلائی میں تو دل و جان ومال سے سائی ہو۔ یہ کہ کر وہ این غائب ہوگئی اور بڈھا پھر اپنی جگہ بیٹھا۔
اب پھر اس نے اپنا پچھلا زمانہ یاد کیا اور دیکھا کہ اس نے اپنی پچپن برس کی عمر میں کوئی کام بھی انسان کی بھلائی اور کم سے کم اپنی قومی بھلائی کا نہیں کیا تھا۔ اس کے تمام کام ذاتی غرض پرمبنیتھے۔ نیک کام جو کیے تھے ثواب کے لا پیچ اور گویا خدا کو رشوت دینے کی نظر سے کیے تھے۔ خاص قومی بھلائی کی خالص نیت سے کچھ بھی نہیں کیا تھا۔
اپنا حال سوچ کر وہ اس دل فریب دلہن کے ملنے سے مایوس ہوا۔ اپنا اخیر زمانہ دیکھ کر آ ئندہ کرنے کی بھی کچھ امید نہ پائی ۔ تب تو نہایت مایوسی کی حالت میں بے قرار ہو کر چلا اٹھا ہائے وقت، ہائے وقت، کیا پھر تھے میں بلا سکتا ہوں؟ ہائے میں دس ہزار دینار میں دیتا اگر وقت پھر آتا اور میں جوان ہوسکتا۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے ایک اور دلیری اور بے ہوش ہوگیا۔
تھوڑی دیر نہ گزری تھی کہ اس کے کانوں میں میٹھی میٹھی باتوں کی آواز آئے گی۔ اس کی پیاری ماں اس کے پاس آ کھڑی ہوئی، اس کو گلے لگا کر اس کی بیت کی ۔ اس کا باپ اس کو دکھائی دیا۔ چھوٹے چھوٹے بھائی بہن اس کے گرد کھڑےہوئے ۔ ماں نے کہا کہ بیٹا کیوں برس کے برس دن روتا ہے؟ کیوں تو بے قرار ہے؟ کس لیے تیری ہچکی بندھ گئی ہے؟ آٹھ منھے ہاتھ دھویکپڑے پان ، نوروز کی خوشی منا، تیرے بھائی بہن تیرے منتظر کھڑے ہیں۔ تب وہڑ کا جاگا اور سمجھا کہ میں نے خواب دیکھا اور خواب میں بڈھا ہو گیا تھا۔ اس نے اپنا سارا خواب اپنی ماں سے کیا۔ اس نے سن کر اس کو جواب دیا کہ بیٹا بس تو ایسا مت کر جیسا کہ اس پشیمان بڈھے نے کیا ، بلکہ ایسا کر جیسا تیری بہن نے تجھ سے کہا۔
بین کر وہ لڑ کا پینگ پر سے کود پڑا اور نہایت خوشی سے پکارا کہ او ہی میری زندگی کا پہلا دن ہے، میں بھی اس بڈھے کی طرح نہ پچھتاؤں گا اور ضرور اس دلہن کو بیاہوں گا جس نے ایسا خوبصورت اپنا چہرہ مجھ کو دکھلایا اور ہمیشہ زندہ رہنے والی نیکی اپنا نام بتلا یا۔ اوخدا، او خدا تو میری مدد کر، آمین۔
پس اے میرے پیارے نوجوان ہم وطنو! اور اے میری قوم کے کو اپنی قوم کی بھلائی پر کوشش کرو تا که اخیر وقت میں اس بڈھے کی طرح نہ پچھتا۔ ہمارا زمانہ تو خیر ہے اب خدا سے بیہ و تا ہے کہ کوئی نوجوان اٹھے اور اپنی قوم کی بھلائی میں کوشش کرے، آمین۔
(سرسید احمد خاں)
مشق
لفظ ومعنی
مکتب:مدرسہ
کج خلقی:مزاج کا کڑوا پن، روکھا پن
 نیعت کرنا:مرید بنا، اطاعت کا عہد لینا
تسخیر: قابو میں کرنا، فتح کرنا 
بدوی:عرب کے وہ باشندے جو گھر نہیں بناتے ، ریگستانوں میں رہتے ہیں اور زیادہ تر زندگی اونٹوں پر یا خیمے میں گزارتے ہیں۔
واللہلاازیدوولاانقس (عرب فقرہ) خدا کیا تم نے میں زیادہ کروں گا اور نہ کم 
سعی:کوشش
ساعی:کوشش کرنے والا
مبنی:منحصر
پشیمان:شرمندہ، پچھتانے والا

 غور کرنے کی بات 
. سرسید اپنے زمانے کے مقلر اور صلح تھے۔ ان کی نر میں وہی سنجیدگی ، وزن اور وقار ہے جو ان کے کردار میں تھا۔
. اس مضمون میں سر سید کا اسلوب بڑا افسانوی ہے۔ آخری اقتباس سے قبل ہی اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ سرسید کی کہانی کہ ہر کوئی بوڑھا نہیں بلکہ ایک کم عمر کا ہے۔ 
. رسید وقت کی اہمیت کو اچھی طرح سمجھتے تھے اور اپنی تحریروں کے ذریعے وہ قوم کےنوجوانوں کو وقت کی قدر و قیمت کا احساس دلاتے رہتے تھے۔

 سوالوں کے جواب لکھیے
 1. بوڑھا اپنی جوانی کے زمانے کو کن لفظوں میں یاد کرتا ہے؟
جواب:

 2. سرسید نے برس کی اخیر رات کا ذکر کس طرح کیا ہے؟ 
جواب:

3 بوڑھے کو جو خوبصورت دلہن نظر آئی، اس سے مصیت کی کیا مراد ہے؟
جواب:

4. ماں نے لڑکے کو کیا نصیحت کی؟ 
جواب:

5. لڑکے نے کیا عہد کیا؟ 6. آخری پیراگراف میں سرسید نے قوم کے نوجوانوں کو کیا نصیحت کی ہے؟
جواب:

عملی کام
سبق کی بلندخوانی کیجیے۔ 
مضمون میں نیکی بدی، آسان مشکل جیسے متضاد الفاظ ایک ساتھ استعمال کیے گئے ہیں ۔ آپ اسی طرح کے کچھ متضادالغفاظ سوچ کر لکھیے۔
 مندرجہ ذیل محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجیے:
 دل پاش پاش ہونا:
 ہچکی بندھنا:
ٹکٹکی باندھ کر دیکھنا:

 مندرجہ ذیل لفظوں میں سے مذکر اور مونث الگ الگ کیجیے: 
اندھیرا ، زندگی ، آشنا، جو بن کھٹر کی ، گھٹا ہیلی ، باول

0 comments:

Post a Comment

خوش خبری