آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Saturday, March 21, 2020

koi umeed bar nahi aati - Ghalib - NCERT Solutions Class X Urdu


کوئی امید بر نہیں آتی

کوئی امید بر نہیں آتی
 کوئی صورت نظر نہیں آتی

موت کا ایک دن معین ہے 
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

 آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی
اب کسی بات پر نہیں آتی

 ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں 
ورنہ کیا بات کر نہیں آتی

 کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب 
شرم تم کو مگر نہیں آتی


مرزا غالب
(1797 - 1869)



مرزا اسد اللہ خاں غالب کی ولادت آگرے میں ہوئی ۔ ابھی وہ بچے ہی تھے کہ والد کا انتقال ہو گیا۔ ان کے چچا نصر اللہ بیگ نے ان کی پرورش کی ۔ شادی کے بعد غالب دہلی آگئے ۔ یہاں کے علمی اور ادبی ماحول میں ان کے شعری ذوق کی تربیت ہوئی۔ بہت جلد انھوں نے اپنی الگ پہچان بنالی اور اعلی اوبی مقام حاصل کرلیا۔ غالب نظم اور نثر دونوں پر یکساں قدرت رکھتے تھے۔ دونوں میں ان کا انداز بہت منفرد اور دل کش ہے۔

خیال کی بلندی، مضمون آفرینی اور شوخی ان کے کلام کی نمایاں خصوصیات ہیں ۔ ان کی شاعری میں انسان کے وجود اور اس کی دنیا کے گہرے مسئلوں کا بیان ملتا ہے۔ غالب جتنے بڑے مفکر تھے اتنے ہی بڑے فنکار بھی تھے۔ اپنے کلام کی وسعت کے ساتھ ساتھ غالب اپنی صناعی اور اپنی طبا ئی کے لیے بھی ہمشیہ یاد رکھے جائیں گے ۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ غالب نے جو بلند مرتبہ شاعری میں حاصل کیا وہی مرتبہ ان کی نثر کوبھی حاصل ہے۔دیوان غالب میں بمشکل دو ہزار اشعار ہیں لیکن غالب ہندوستان ہی نہیں دنیا کے بڑے شاعروں میں شمار کیے جاتے ہیں ۔ ان کے خطوط کے مجموعے اردو معلّےٰ   اور عود ہندی کے نام سے شائع ہوئے ہیں۔

مشق

معنی یاد کیجیے:

امید بر نہ آنا:###أميد پوری نہ ہونا 

 صورت:### ##تدپیر طریقہ

معين:########طے شدہ

مگر:###### ##شاید

غور کیجیے:

آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی
 یہاں آگے کے معنی پہلے کے ہیں۔

 ورنہ کیا بات کر نہیں آتی
یہاں کر کے معنی ہیں کرنا ۔ یہ پرانا طریقہ ہے۔ آج کل اس کا استعمال اس طرح نہیں ہوتا۔

سوچے اور بتایئے:

 1. کوئی صورت نظر نہیں آتی سے کیا مراد ہے؟
جواب:


2۔ دوسرے شعر کا مفہوم بیان کیے۔
جواب:


3. کعبے جانے سے شاعر کو شرم کیوں آتی ہے؟
جواب:

عملی کام:
اس غزل کے قافیے اپنی کاپی میں لکھیے۔

0 comments:

Post a Comment

خوش خبری