آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Tuesday 28 November 2017

حضرت شاہ کمال علی کمال ؒ

شاہ کمال

از ڈاکٹر امین چند شرما


حضرت شاہ کمال علی کمال ؒ پر ڈاکٹر امین چند شرما کا یہ مضمون ماہنامہ سب رس  میں اپریل 1972 میں شائع ہوا ہے۔ مضمون نگار حضرت شاہ کمال علی کے مقام وفات سے ناواقف ہیں۔  حضرت شاہ کمال علیؒ کا مزار  بہار کے ضلع گیا کے ایک گاؤں حضرت دیورہ  میں مرجع خلائق ہے۔ لیکن کہا جاتا ہے کہ یہ تذکرہ ان کا نہیں ہے۔ بہرحال مضمون علمی ہے اس لیے قارئین کے لیے پیش ہے۔


Saturday 25 November 2017

عالمی تجارتی میلہ 2017


عالمی تجارتی میلہ میں خریداروں  کی بھیڑ سے دوکانداروں کے چہرے کھلے
عالمی تجارتی میلہ جیسے جیسے اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے میلے میں لوگوں کی بھیڑ بڑھتی جارہی ہے۔ ہر سال کے مقابلے آدھے سے بھی کم رقبے میں لگائے جانے کے باوجود میلے سے لوگوں کی دلچسپی کم نہیں ہوئی اور دور دراز سے لوگ اس میلے کو دیکھنے کے لئے آئے اور انہوں نے یہاں جم کر خریداری کی۔

پرگتی میدان کے پویلینوں میں تعمیری کام ہونے کی وجہ سے ریاستوں کو ہینگروں میں منتقل کردیا گیا  جس کی وجہ سے ریاستوں کے روائتی سجاوٹوں میں کمی نظر آئی اور دوکانداروں کے اسٹال بھی ہر سال کی بہ نسبت کم نظر  آئے۔
اڑیسہ کے ہینگر میں کٹک کی خالص چاندی کے زیورات لوگوں کو پسند آرہے تھے۔
اتر پردیش ، کرناٹک، بہار ، جھارکھنڈ  جیسی ریاستیں  ہینگر میں اپنی روائتی آن بان دکھانے میں ناکام رہیں لیکن لوگوں کی ان ریاستوں سے دلچسپی  ویسے ہی برقرار تھی اور یہاں عام دنوں میں بھی چلنے کی جگہ نہیں تھی۔ اسکولی طلبہ بڑی تعداد میں یہاں میلے کالطف اٹھاتے دیکھے گئے۔
Lakshadeep hanger in International Trade fair 2017, Pragati Maidan , New Delhi
 لکشدیپ کے ہینگر کے باہر بنے خوشنما منظر نے لوگوں کو اپنی  جانب  متوجہ کیا  اور بچّے یہاں سیلفی لیتے نظر آئے۔ ہنر ہاٹ  میں بھی میلہ گھومنے والوں کی زبردست بھیڑ نظر آئی ۔ یہاں کاریگری کے نمونوں نے شائقین کا دل جیت لیا اور  لوگ ان کی محنت سے متاثر نظر آئے۔ 

Women entrepreneurs are showcasing there work in India International trade fair 2017.
تمل ناڈو کے ہینگر میں جے للتا کی تصویر لوگوں کو ان کی یاد دلاتی نظر آئی۔ مغربی بنگال میں ہاتھی اور بنگال ٹائیگرکے مجسمے لوگوں  کی دلچسپی کا مرکز تھے اور ان کے ساتھ سیلفی لینے کے لئے نوجوان لڑکے لڑکیاں ایک دوسرے پر سبققت لے جانے کی کوشش کر رہے تھے۔
Mahatma Bodha's  statue at India international Trade Fair 2017
میلے کے لئے آن لائن ٹکٹ کی فروخت سے بھی لوگوں کو کافی آسانی ہوئی اور پرگتی میدان پہنچ کر کسی کو ٹکٹ کے لئے پریشان نہیں ہونا پڑا۔








عالمی تجارتی میلہ 2017 کی مزید تصاویر دیکھنے کے لئے کلک کریں۔


Click here to see India International Trade Fair Photos

Wednesday 15 November 2017

Our four Servant, Guess Who? By Mayel Khairabadi

میرے چار نوکر
مائل خیر آبادی



نواب نے مامو ں کو خط لکھ دیا تھا کہ میں ۳ بجے والی ٹرین سے آ رہا ہوں نوکر کو بھیج دیجیے لیکن جب ٹرین محمود پور پہنچی تو نوکر کا کہیں پتہ نہیں تھا ۔ نواب نے پہلے پلیٹ فارم پر نظر دوڑائی  لیکن جب دو منٹ رک کر ریل  نے چلنے کی سیٹی  دی تونواب گھبرایا  اس نے جیسے تیسے ریل سے اپنا سامان اتارا اور سوچنے لگا کہ  کیا کرے ماموں کا مکان یہاں سے تین میل دور ہے یہاں نہ تو قلی نہ آس پاس مزدور ۔کس طرح اپنا سامان لادے اور تین میل کا راستہ کاٹے۔ نواب کے پاس سامان زیادہ تو نہ تھا ایک اٹیچی تھی  جس میں اس کے کپڑے وغیرہ  تھے۔ ایک چھوٹا سا بستر تھا اور ایک چھوٹی  سی ٹوکری ۔جس میں کچھ پھل اور میوے تھے۔ وہ تو کہیں  اللہ  نے بڑی مہربانی کی ایک نوجوان لڑکا ٹہلتا ہوا اسٹیشن پر آگیا اس نے  نواب کو اکیلا  بیٹھے دیکھا تو پاس آیا ۔حال پوچھا ۔نواب نے اپنی کہانی سنائی  کہ نوکر سائیکل لے کر نہیں آیا اب یہ سامان کس طرح جائے ۔"واہ  بھائی   واہ  یہ سامان ہی کتنا ہے؟"اس نو جوان کہا۔
   "کیا یہ کم ہے؟"نواب بولا۔
"یہ تو کچھ بھی نہیں ۔پھر تم ہٹے کٹے نوجوان ہو لادو اور چل دو" 
واہ کیا مجھے  نیچی ذات کا سمجھ لیا ہے۔
نہیں بھائی کوئی اپنا   کام اپنے ہاتھوں   کرکے ذلیل نہیں ہوتا ہے۔
نو جوان کی  باتیں سن کر نواب کچھ نہ کہہ سکا  اور کسی سوچ میں پڑ گیا۔ نوجوان لڑکے کو اس پر ترس آ رہا تھا ۔ترس یہ کہ سولہ سترہ سال کا ہٹا کٹا تندرست اور کام سے جی چراتا ہے ۔اس نے کہا
"تو اپنے ساتھ نوکر  کیوں نہیں رکھتے؟"
نوکر ہر گھڑی تو ساتھ   نہیں رہتے اور پھر میرے گھر دو ہی نوکر ہیں۔ دونوں گھر پر ہیں ۔آپ جب اپنا کام  اپنے ہاتھوں نہیں کر سکتے تو نوکر کو ہر وقت اپنے   ساتھ  رکھنا چاہیے۔
واہ ہر وقت نوکر کوئی کیسے ساتھ رکھ سکتا ہے اور پھر کہیں جانا ہوتو؟
"تو بھی"
"یہ کیسے ہو سکتا ہے"
ہو کیوں نہیں سکتا  میں تو اپنے نوکر  اپنے ساتھ رکھتا ہوں۔
"جھوٹ مت بکو اور جاؤ یہاں سے "نواب نے نو جوان سے کہا۔
"بھائی جھوٹ بڑا گناہ ہے۔"میں جھوٹ نہیں کہتا۔
''تو کہاں ہیں تمہارے ساتھ تمہارے نوکر؟"
یہ  دیکھو یہ میرے دو ہاتھ اور یہ دیکھو یہ میرے دونو ں پیر
یہ چاروں میرے  بڑے اچھے نوکر ہیں ۔میں ان سے جو کام کہتا ہوں جھٹ کرتے ہیں۔انھیں بلانے کی ضرورت نہیں یہ ہر وقت میرےساتھ  رہنے ہیں۔ اگر تم کہو تو میں اپنے نوکروں سے
تمہارے کام کرادوں "
نواب اس نوجوان کا منہ تکنے لگا۔ نوجوان نے نواب کی اٹیچی اٹھائی بستر بغل میں دابا اور کا کہ اپنی ٹوکری تو لے کر چلو اور اگر  یہ بھی نہ اٹھائی جاسکے تو لاؤ میرے ہاتھ میں پکڑا دو۔
نواب سچ مچ بڑا کاہل  تھا ۔ اسے ٹوکری بھی لے کر چلنا دوبھر تھا۔ اس نے نوجوان کو ٹوکری بھی دے دی۔ نوجوان تینوں چیزوں کو لے کر چلا ۔ وہ بڑا تیز چل رہا تھا۔ نواب کو بار بار اس کا ساتھ پکڑنے کے لئے دوڑنا پڑتا۔ وہ نوجوان کی خوشامد کرتا کہ بھائی ذرا دھیرے چلو۔
گھنٹہ بھر میں نواب اپنے ماموں کے گھر پہنچ گیا۔نوجوان اس کا سامان دے کر چلا تو نواب نے ایک روپیہ اسے دینا چاہا۔ نوجوان نے جواب دیا ''میرے نوکر مزدوری نہیں لیتے۔" اور وہ چلا گیا۔
نواب سوچنے لگا۔ اگر آج یہ نوجوان اسٹیشن پر نہ مل جاتا تو میں کیسے آتا۔

اس نے اپنے ہاتھوں پر نظر ڈالی۔ دونوں پیروں کو دیکھا۔ بولا''یہ نوکر تو سچ مچ مفت کے ہیں۔ کاش کے میں نے ان سے خدمت لی ہوتی۔"
آئینۂ اطفال میں اور بھی بہت کچھ

Monday 13 November 2017

منقبت حضرت سیدہ زینب رضی اللہ عنھا

 منقبت
حضرت سبطة الرسولﷺ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا

امیمہ قادری ، دارالشرف، اوپر کلہی جھریا

 خطبہ صدق و صفا کی ابتدا زینب کے نام
عظمت و ایثار  کی ہر انتہا زینب کے نام

چاہئے ہر دل کو اس فکر و عمل کی روشنی
مشعل راہ صداقت کی ضیاء زینب کے نام

تدکرے سے سیدہ کی ہوگئی روشن حیات
گلستان دل میں ہے اک در کھلا زینب کے نام

وادی کرب و بلا میں گھر لٹا، خیمہ جلا
عرش سے اتری ردائے باصفا زینب کے نام

ہوگئے بھائی بھتیجے سب جدا وا حسرتا
خوں سے لکھ کر داستان  کربلا زینب کے نام

سیدہ کے فیض سے ہم بھی ہوئے مدحت سرا
 خامۂ پرشوق ہے نغمہ سرا زینب کے نام

مجھ کو ہو سایہ عطا ان کی ردائے پاک کا
یہ پیام شوق لے جا اے صبا زینب کے نام

خود کو ماموں پر کیا عون و محمد نے نثار
اور لہو سے کردیا رنگ وفا زینب کے نام

دین پر نانا کے جب بیٹوں نے کردی جاں نثار
ہر طرف سے ہے صدائے مرحبا زینب کے نام

دیکھ لیں آنکھیں مری اس کر قد انوار کو
ہے امیمہ کا یہ عرض مدعا زینب کے نام


(۱) اشارہ ان کے والد حضرت مولانا شاہ ہلال احمد قادری مدظلہ کی کتاب "خانوادہ سیدہ زینب بنت فاطمةالزہرارضی اللہ 
عنہما کی طرف ہے۔
(بہ شکریہ المجیب)




Sunday 12 November 2017

Her days and Night By Ghayas Ahmed Gaddi

اس کے روز و شب
غیاث احمد گدی


ہر صبح جیسے ہی بالکونی سے جھانک کر نیچے کی سمت دیکھتا ہوں ۔۔۔۔۔ وہ لڑکی، وہ خوبصورت لڑکی سڑک کے سست رفتار ریلے میں بہتی ہوئی نظر آتی ہے۔
دھوپ اس کے چہرے کو چومتی،اس کی مانگ میں افشاں چنتی،دھوپ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ جگاتی تب اس کے دانتوں کی قندیلیں جھلملا اٹھتیں،اس وقت وہ ذرا ٹھہر کر کائنات پر اس ارض و سما پرنظر ڈالتی ہو اسے قدرے ہیچ نظر آتے، کہ جوان لہو رگوں میں چراغ جلائے رہتا اوردل میں غرور کی کمان تنی ہوتی۔
لیکن شام پڑتے ہی جب وہ دفتر سے   وہاں آتی،اس کی تنی تنی باہیں ڈھیلی پڑچکی ہوتیں،گیسوؤں کی گھٹا مٹیالی چہرے پر جھریاں براج چکی ہوتیں اور وہ جوان لڑکی ادھیڑ بلکہ بوڑھی دکھتی۔ نہ اس کی چال میں مستانہ وشی ہوتی نہ انداز میں شہاب کی دمک دیکھائی پڑتی۔
یہ بارہ گھنٹے اس کی زندگی میں ہر روز بیس پچیس کی مدت لئے ہوتے اور اسے بوڑھے کرکے آگے بڑھ جاتے  لیکن دوسری صبح وہ اسی طرح جوان تازہ دم اور خوبصورت دیکھائی  پڑتی۔ یہ پر اسرار کیفیت مجھے پریشان کئے رہتی اور میرا دل رو اٹھتا۔
تب ایک دن میں اپنی بیوی کو بتاتا ہوں ، یوں پہلے تو وہ یقین نہیں کرتی، پھر جب میں نے ایک دن صبح و شام اس لڑکی کو دکھا دیا اور میری بیوی صبح و شام کے فرق کو اچھی طرح سمجھ چکی تو اس کی آنکھیں پھٹی  کی پھٹی رہ گئیں۔
'' یہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔یہ ہماری آنکھوں کی خطا ہے۔"
نہیں یہ ہماری آنکھوں کی خطا نہیں ،شرافت ہے جو لڑکی کی زندگی کی تہوں میں اُتر  جاتی ہیں، اس کے بعد میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ اس بات کا پتہ لگاؤں گا کہ رات بھر کی ساری کمائی وہ دن کے بارہ گھنٹے، اس سے کس طرح چھین لیتےہیں، اور پھر رات اسے دوسرے دن کے لئے اتنا کچھ کہاں سے دیتی ہے؟
چنانچہ میں ا دن اور رات کی سی کیفیت والی لڑکی سے پوچھتا ہوں ۔ بیٹی ، یہ جو تم ہر صبح اتنا کچھ لے کر نکلتی ہو دن کے دس بارہ گھنٹے میں کہاں گما دیتی ہو؟
''بابا" اس نے اپنائیت سے ،واب دیا۔ اس وقت صبح کے دس بج رہے تھے اور حسب معمول وہ ہاتھ میں پلاسٹک کی تھیلی  دوسرے میں پرس لئے دفتر کو جارہی تھی ''بابا یہ ایک کہانی ہے،اس کے لئے آپ کو تھوڑی زحمت اٹھانے پڑے گی، اٹھائیے گا زحمت؟"
''ہاں، تھوڑی کیا بہت، تم بتاؤ مجھے کیا کرنا ہوگا۔"
تو بابا چار بجے، جب میرا دفتر بند ہوجاتا ہےآپ کو صدر دروازے پر میرا انتظار کرنا ہوگا۔ پھر میں آپکو ان ڈاکوؤں کے پاس لے جاؤں گی جو مجھے چند گھنٹوں میں کنگال  کر دیتے ہیں۔
ڈاکوؤں کے پاس؟
ہاں ڈاکوؤں کے پاس؟
میں اس خوب صورت لڑکی کی رسیلی باتوں کا جام  پئے گھر آجاتا ہوں۔ اور اپنی بیوی سے سارا واقعہ کہہ سناتا ہوں ۔پہلے وہ تعجب سے میری طرف دیکھتی ہےپھر ہنس پڑتی ہے وہ  لڑکی پاگل ہے ۔ یا پھر بہروپیا ہوگی، میں آج سارا دن سوچتی رہی ہوں کہ وہ لڑکی ضرور بہروپیا ہے۔پھر میری بیوی مجھے سمجھاتی ہے کہ وہ آپ کو پھانس رہی ہے۔ایسی لڑکیاں خوش حال مردوں کو پھانس کر انہیں بلیک میل کرتی ہیں ، پیسے لوٹتی ہیں۔
میں بیوی کی بات سن کر خاموش ہوجاتا ہوں ۔مگر میرا دل نہیں مانتا۔ بار بار اندر سے آواز آتی ہے جیسے کوئی کہہ رہا ہو یہ لڑکی کھری ہے کھری ہے بالکل کنچن ہے ۔ چنانچہ دوسرے دن میں مقررہ وقت پر اس کے دفتر کے صدر دروازے پر جا کھڑا ہوتا ہوں اور انتظار کر رہا ہوتا ہوں کہ ابھی جب وہ دن بھر کی محنت کے بعد دفتر سے نکلے گی تو بوڑھی ہوچکی ہوگی اور میں اسے پہچان بھی نہیں پاؤں گا کیونکہ میرا حیال تھا کہ دن بھر کی کڑی مشقت کے سبب ہی اس کی رونق لُٹ جاتی ہے۔
مگر ایسا نہیں ہوا۔ جب وہ دفتر کی سیڑھیاں چھلانگ کر نیچے اتری تو وہ اور بھی خوبصورت لگ رہی تھی اس کا چہرہ  کھیت میں ہل جوتنے  والے کسان کے چہرے کی طرح دمک رہا  تھا یوں ہیرا دمکتا ہے ۔
وہ دوڑی ہوئی آئی اور اس نے لپک کر میرا بازو پکڑ لیا۔ میرے من میں سنکھا جاگی۔ میری بیوی کی قیاس آرائی۔۔ میں  ذرا  محتاط ہوگیا ' (کیونکہ آدمی کا لاشعور جتنا  ایماندار ہوتا اتنا ہی بے ایمان بھی)
"چلئے" اس نے میرا بازو پکڑ کر کھینتے ہوئے کہا پہلے کینٹن میں چائے پی جائے۔ وہ خاصی بے تکلّف ہورہی تھی۔ میں خاموشی سے اس کے ساتھ کینٹن میں بیٹھ گیا اور اس کے ساتھ چائے پیتے پیتے سوچنے لگا۔ لڑکی اتنی بے باک کیوں ہے؟
مگر  مجھے اس سوال کا جواب اندر سے نہیں ملا۔ چائے ختم ہو گئی ۔ میں نے جیب میں ہاتھ ڈال کر بٹوا نکالا۔ اس میں دس دس کے نوٹ تھے۔ لڑکی نے جلدی سے بٹوہ چھین کر میری جیب میں ڈال دیا۔ یہ دیکھ کر میں گھبرا اٹھا مگر وہ بدستور بے تکلفی سے ہنستی رہی گویا کوئی بات ہی نہیں ہوئی۔ پھر لڑکی نے اپنے پرس سے  چند آنے پیسے نکالے اور  کینٹن والے لڑکے کو دے کر مجھے لئے باہر چلی آئی۔ 
اب میں یہاں سے بازار کی سمت چلتی ہوں ، جہاں مجھے رات کے لئے آٹا خریدنا ہے پھر سبزی، پھر چنے، چینی، تیل۔۔۔آٹا، پھر سبزی ،چنے، دال، تیل۔۔۔۔۔زندگی کا پہیہ انھیں اجناس کے بل بوتے چلتا ہے۔ یہ نہ ہو تو آدمی مرجائے۔ وہ لڑکی جو ساری کائنات کا حسن سمیٹے، میرے آگے آگے چل رہی ہے ،  ایک نامعلوم سے غیر مرئی دھاگے میں مجھی باندھے لئے چل رہی ہے۔ کتنی اچھی ہے، میری عمر سے آدھے عمر کی۔۔۔۔۔ میری بیٹی اگر زندہ رہ جاتی تو شاید ایسی ہی نکلتی۔ اتنی ہی بڑی ایسی ہی۔۔۔۔خوبصورت،۔۔۔۔
مگر ذہن اس سچائی سے پرے بھی دیکھتا ہے۔ میں اپنی عمر سے  بیس پچیس برس کم ہوجاتا ہوں اور اب کے اس کی چال میں جو مستانہ وشی نظر آتی ہے ، وہ کوئی اور چیز ہے، کولہوں میں چلتے سمے جو بھنور پڑتے ہیں ان میں میری اپنی کشتی مطلب ہے کشتیٔ حیات ڈوبتی ابھرتی نظر آتی ہے اور میں گلے تک پانی میں ڈوبا ہوا کھویا چلا جارہا ہوں ، کہ کائنات کا کچھ پتہ ہی نہیں چلتا۔ ماضی حال بن جاتا ہے اور سچائیاں تخیل کی رنگ آمیزی کے باعث کوئی تڑپتا ہوا قتل کردینے والا ، لوٹ لینے والا تبسم۔
عین اس وقت وہ لڑکی پلٹ کر میری طرف دیکھتی ہے اور ذرا افسردگی سے دریافت کرتی ہے، دیکھا آپ نے۔۔؟
"ہاں۔۔"میں نے کچھ بھی نہیں دیکھا تھا،دیکھ پایا تھا تو بس اتنا کہ دنیا پیچھے کی طرف بھاگی جارہی ہے۔ سرپٹ اور میں اس کے ساتھ خود۔۔۔۔۔۔۔۔
"کیا؟"یہی کہ تم بہت اچھی ہو ، بڑی خوب صورت"
"اوہ ہو بابا۔ چھوڑئیے نا میری خوبصورتی کو۔" اس نے لاپروائی  اور قطعی اطمینان سے جواب دیا۔" آپ نے دیکھا نہیں  جب میں نے بنئے سے آٹے کا بھاؤ پوچھا تو کل کے مقابلے میں آج اس نے کیلو میں دو آنے زیادہ بتائے۔"
"ہاں ہاں سنا تھا میں نے۔"
"تو بس دیکھا نہیں اسی  دم میرے چہرے کی خوبصورتی اور بانہوں کی رونق آپ سے آپ ، گھٹ گئی۔
میں نے دیکھا واقعی اس کے چہرے کا رنگ پھیکا ہوچکا تھا، اور باہیں ڈھیلی پڑچکی تھیں۔
بس اسی طرح آپ دیکھتے چلئے، میرا تھوڑا تھوڑا سب میں بٹ جائے گا۔ کچھ بنیا کی دوکان پر، کچھ سبزی والے کے پاس، کچھ دال، تیل، چنے  نمک والے کے سامنے۔
وا ایک بار مسکرائی، وہی قاتل جان لیوا تبسم۔۔۔مگر ویسا نہیں محسوس ہوا ، کچھ اور لگا، وہ آگے بڑھ گئی اور میں اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگا اور دفعتاً مجھے یاد آیا، یہ فیصلہ کون کرتا ہے کہ مونا لیزا بھری مسکراہٹ میں۔۔۔۔ایک جوان عورت کا قتل کردینے والا منصوبہ پوشیدہ تھا کہ ماں کی ممتا تھی۔لینارڈ مل جاتا تو میں پوچھ لیتا۔ ویسے اس عجیب تبسم کی وضاحت مختلف معنوں میں ہوتی رہی ہے۔
جب وہ میرے دروازے کے قریب آچکی اور میرا شانہ پکڑ کر جھنجھوڑنے کے انداز میں پوچھا،میں خیالات کی دنیا سے چونکا اور اب دیکھا تو دنگ رہ گیا۔ یہ تو کوئی اور تھی اتنی بوڑھی، اتنی بدصورت اور اتنی ہی لٹی ہوئی۔
میں اپنی بیوی کو ساری باتیں بتا چکا تو تعجب سے اس کا منہ کھلا رہ جاتا ہے کچھ دیر تک وہ چپ رہتی ہے۔ تعجب، تعجب،  تعجب۔ کتنے ہی لمحے گذر گئے۔ اچانک چونک کر پوچھتی ہے۔
"پھر رات بھر میں۔۔۔۔"
"ہاں۔ رات بھر میں اس کے پاس بہت سا اثاثہ جمع ہوجاتا ہے۔۔۔جب میں اس کے گھر گیا تو اس نے مجھے اپنے شوہر سے ملایا، جو اپاہج ہے۔اپنے تینوں خوب صورت بچوں سے ملایا جو کچے فرش پر ایک ٹاٹ کا ٹکڑا بچھائے لکھ پڑھ رہے تھے۔ جیسے ہی وہ کمرے میں داخل ہوئی، ایک بچّہ اچھل کر ماں سے لپٹ گیا، اس کی گردن میں باہیں ڈال دیں اور تھیک بچوں کے انداز میں ٹھنکنے لگا۔ ہوں ،ہوں۔۔ماں میری گیند؟پھر دوسرے بچّے نے بھی ایسا ہی کہا ماں میرا جھنجھنا؟
پھر تیسرا بھی منمنایا، اور میری کتابیں؟
ذرا پیسے بچنے دو ، پہلے تمہارے بابا کے پاؤں کی دوائیں آئیں گی۔۔۔پھر آجائیں گے جھنجھنا بھی، گیند بھی ، کتابیں بھی۔ ذرا دم لو، تمہارے بابا کے پاؤں ٹھیک ہوتے ہی وہ کام پر جانے لگیں گے نا۔۔۔۔؟
پھر میں نے دیکھا وہ آدمی تڑپ کر رہ گیا۔ نمو کیا یہ سچ ہے۔ یہ سچ ہے کہ میں کام پر۔۔۔۔۔ میرے پاؤں ٹھیک ہو جائیں گے۔
ہاں ہاں ضرور، پھر یہ مہنگائی بھی کم ہوگی، کم ہوتی جائے گی۔۔۔۔
اس کے مایوس چہرے پرسیاہیاں کھسکنے لگیں۔
پھر میں نے دیکھا اس کے بچّوں کے چہرے پر بھی نور بکھرنے لگا ۔ عین اس وقت وہ لڑکی مجھے جھنجھوڑتی ہے، دیکھا ، دیکھا، بابا۔
"کیا؟" میں پلٹ کر پوچھتا ہوں ، پھر اس لڑکی کی طرف دیکھتا ہوں۔۔۔۔۔واقعی، یہ تو وہی پہلے والی خوب صورت سجی سجیلی۔۔۔۔
میں یہ سب کہتا جارہا ہوں۔ میری بیوی انہماک سے سنتی جا رہی ہے، اور سمے کا سبک بہاؤ جاری ہے۔ پل، چھن، لمحہ، گھنٹہ۔۔۔۔۔ وقت۔۔۔۔وقت۔
مگر وہ وقت کب آئے گا؟ اچانک میری بیوی پوچھ لیتی ہے۔"جب اس کے پتی کے پاؤں۔ اس کے بچّے کے کھلونے کابیں۔۔۔۔ کب یہ مہنگائی، کم ہوگی۔
دفعتاً میں چونک اٹھتا ہوں، میری بیوی کے سوال بظاہر بہت معمولی ہیں، گر اندر اترتے ہ تھاہ نہیں لگ رہی ہے۔ واقعی وہ وقت کب آئے گا۔ میں بہت دیر تک سوچتا رہتا ہوں ۔صبح، دوپہر، شام، دن ، رات، ہفتوںمگر جواب نہیں سوجھتا۔ بہت دیر تک میری بیوی ٹکٹکی لگائے میری جانب  دیکھتی رہتی ہے۔ جب مجھ سے کوئی جواب نہیں بنتا تو میں اٹھ کھڑا ہوتا ہوں۔۔۔۔
دیکھو، میں نہیں بتا سکتا، کہ مجھے خود پتہ نہیں، البتہ کل میں شہر کے کسی عالم، کسی سیاست داں، کسی نجومی سے مل کر ضرور معلوم کروں گا۔ پھر تمہیں بتاؤں گا ۔ ضرور ضرور۔

Saturday 11 November 2017

Maulana Shah Tayyab Usmani ke Azkar e Sufiana - Shah Helal Quadri

 مولانا شاہ طیب عثمانی ندوی کے اذکارصوفیانہ
از: مولانا سید شاہ ہلال احمد قادری  
( پھلواری شریف، پٹنہ،بہار)

مولانا شاہ طیب عثمانی، ایک صوفی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے ۔ ان کا خاندان مشہور چشتی بزرگ حضرت جلال الدین کبیر الاولیاء پانی پتی قدس سرہ کی اولاد میں سے ہے اور وہ حضرت امیر المومنین عثمان غنی رضی الله عنہ کی نسل سے تھے۔

عثمانی خانوادہ اپنے دامن میں ایک طویل علمی، ادبی اور عرفانی تاریخ سمیٹے ہوئے ہے۔ یہ خانواده شروع سے فردوسی سلسلے سے وابستہ رہا ہے اور ان دونوں خانقاہوں سے صوبہ بہار میں مخدوم جہاں شیخ شرف الدین کی منیری قدس سرہ کے سلسلے کی بہت اشاعت ہوئی اور آج بھی یہ خانقاہیں فعال ہیں اور اعتدال پسندصوفيانہ فکر کی حامل ہیں۔

مولانا شاہ طبیب عثمانی اسی خاندان عثمانی کے قابل فخر فرزند تھے۔ ان کے بارے میں یہ خیال عام رہا کہ وہ خاص جماعت اسلامی کے آدمی ہیں اور جماعت اسلامی کے متعلق سب کو معلوم ہے کہ وہ تصوف اور نظام خانقاہی سے بہت مختلف جماعت ہے۔ اس جماعت کے بعض فضلاء کی تصوف پرتنقیدیں راقم کی نظر میں ہیں۔

شاہ طیب عثمانی کی نشوونما اور ان کی فکری ساخت ایک ایسے صوفیانہ ماحول میں ہوئی تھی جہاں نظام خانقاہی اپنے تمام ’’بدعتی لوازم کے ساتھ قائم تھا، یعنی وہاں نیازوفاتحہ ہوتا تھا ، عرس و سماع کی محفلیں  آراستہ ہوتی تھیں، اور بڑے اہتمام کے ساتھ موئے مبارک کی ہر سال زیارت ہوا کرتی ، مریدین ومتوسلین کو اذ کار و وظائف کی تعلیم دی جاتی تھی ، اہل خاندان سلسلہ فردوسیہ سے وابستہ تھے اور سجادہ نشینی کا سلسلہ جاری تھا۔ اس ماحول سے نکل کر شاہ طیب صاحب جس ماحول میں پہنچے وہاں ہی رسوم صوفیانہ، دستور مشخیت اور معمولات خانقاہی ’’ممنوعات شرعیہ میں شمار ہوتے تھے اور ان امور کے بارے میں اس طبقے کی رائے عام اور واضح تھی ۔ شاہ طیب صاحب، خانقاہی مسلک کی رواداری کے مطابق اس ماحول میں بغیر کسی ناخوش گواری کے سکون وانشراح کے ساتھ تعلیم حاصل کرتے رہے اور اعلی تعلیمی صلاحیت لے کر نکلے۔

قابل ذکر یہ ہے کہ مولانا طیب عثمانی کو فکری استقامت حاصل تھی مختلف غیر صوفیانہ ماحول میں رہ کر اور اس سے وابستہ ہوکر بھی ان کے صوفیانہ مزاج میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، جماعت اسلامی سے تادم آخر وابستہ رہنے کے باوجود وہ ایک صوفی بھی رہے۔ یہ ان کے کتاب زندگی کا اہم باب ہے اور ان کی دینی اور فکری عزیمت و استقامت کا ثبوت ہے۔ بچپن میں جوسبق ان کے قلب و ذہن نے اپنے بزرگوں سے سیکھا تھا اور باشعور ہونے کے بعد اپنے خاندانی اور خانقاہی ماحول کے مشاہدے نے جو کچھ ان کو سکھایا تھا، اور اپنے بزرگوں کی اخلاص وللہیت سے بھری زندگی کے جو نقوش ان کے قلب و ذہن پر مرتسم ہوئے تھے وہ اتنے پراثر تھے کہ ماحول کی تبدیلی اور مطالعہ کے تنوع نے اس میں شکوک پیدا کرنے کے بجائے مزید پختگی پیدا کردی، اور ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ یہ اگر شاه طیب صاحب کی سلامت قلبی کی دلیل ہے تو دوسری طرف ان کے بزرگوں کی تربیت کا کمال بھی ہے۔

مولانا طیب عثمانی کو تصوف کے بارے میں جو انشراح قلب حاصل تھا وہ مختلف مکاتب فکر کے لوگوں کے ساتھ روابط کے باوجود باقی رہا، ان کو خانقاہی معمولات پرکبھی معترض ہوتے یا اپنے بزرگوں کے طریقے پر شک و شبہ کرتے ہوئے میں نے نہیں سنا، وہ اتنی سنجیدہ طبیعت کے آدمی تھے کہ کبھی مسائل مختلفہ پر گفتگونہیں کرتے تھے اور نہ انہوں نے اپنی تحریروں میں ایسی کوئی بات لکھی ہے جس سے سمجھا جائے کہ تصوف کے کسی گوشے پران کو اعتراض تھا۔ ایکمرتبہ ان کے جماعتی دوستوں نے کسی خانقاہی رسم یا عرس پر اعتراض کیا توانہوں نے یہ جواب دیا کہ یہ توخانقاہی معمولات ہیں جس طرح جماعت کے ہفت وار اور ماہانہ پروگرام ہوتے ہیں یہ بات انہوں نے خود مجھ سے فرمائی تھی۔

مولانا طیب عثمانی مزاجاً صوفی تھے اور تصوف پر ان کے مضامین بھی ہیں ۔ انہوں نے تصوف کو پہلے پڑھا نہیں تھا بلکہ بدوشعور سے تصوف کی عملی تصویریں دیکھی تھیں، تصوف کا سب سے جامع اور عملی نمونہ انہوں نے اپنے والد گرامی حضرت مولانا شاہ قاسم عثمانی فردوسی رحمہ الله کی ذات میں پایا، اور یہ مشاہدہ ، تصوف کے متعلق انشراح باطن اور اطمینان قلب کا باعث ہوا۔ ان کے والد ماجد جو ان کے مرشد ومربی روحانی بھی تھے ،علمی وعرفانی خوبیوں سے مزین ایک صاحب نسبت بزرگ تھے ۔ انہوں نے اپنے عہد کی ایک عظیم المرتبت شخصیت زبدة العارفین قدوة الصالحین مولانا سید شاہ بدرالدین قادری پھلواروی قدس سرہ زیب سجادہ خانقاہ مجیبیہ کی صحبت اٹھائی تھی ، خاندان کی میراث عرفانی و روحانی ان کو حاصل تھی ، خانقاہ مجیبی کے قطب الارشادکی توجہ نے ان کی باطنی صلاحیتوں کو جلا بخشی ۔ مولانا طیب صاحب اپنے والد ومرشد کو تصوف کا عملی نمونہ سمجھتے تھے۔ بعد میں انہوں نے تصوف کا مطالعہ کیا ہوگا ، وہ مطالعہ ان کے علم میں اضافے کا سبب ہوا اور اپنے مشاہدات کی ان کو سندبھی مل گئی۔

انہوں نے اپنے والد کی سوانح ’’حیات دوام“ میں تصوف پر گفتگو کی ہے، اس وقت تصوف پر ان کا ایک مضمون ”تصوف کی حقیقت ۔ مکتوبات و ملفوظات مخدوم جہاں کے تناظر میں بھی میرے سامنے ہے ان تحریروں سے تصوف پر ان کے افکار و خیالات معلوم ہوتے ہیں ۔ حیات دوام میں وہ تصوف و سلوک کی حقیقت کے عنوان سے لکھتے ہیں: ۔
 ’’آج کے دور میں تصوف و احسان اور سلوک کا موضوع بڑا نازک بن گیا ہے، اس کی نت نئی تعبیریں ہیں جومختلف حضرات مختلف الفاظ ، نقطہ نظر اور اپنے انداز سے کرتے ہیں لیکن واقعہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں ابتدا سے ایک گروہ ایساموجود ہے جس نے تمام مقاصد دنیوی سے قطع نظر کر کے اپنا نصب العین محض یاد خدا اور ذکر الٰہی کو رکھا اور صدق وصفا، سلوک واحسان کے خلاف طریقوں پر عامل رہا، یہی گروہ رفتہ رفتہ گروہ صوفیہ کہلایا، اور اس کے مسلک کا نام ’’مسلک تصوف“ پڑ گیا۔یہ قدیم اکابر صوفیہ شریعت پر عامل باعمل مسلمان تھے پھر صوفی تھے۔ اور اپنے اپنے تصوف کو اسلام کے مقابل ایک جداگانہ حیثیت سے نہیں لاتے تھے بلکہ اسلام کے ماتحت اسی کی پاکیز ہ صورت کو کہتے تھے۔ تصوف ان کی نظر میں اسلام کی خالص ترین اور پاکیزه ترین تعبیرتھی۔“
(حیات دوام:۴۰)

 تصوف کے موضوع پراہل  نظر قلم اٹھاتے ہیں تو اپنے زمانے کے اہل تصوف کے بعض تسامحات کونظر انداز نہیں کرتے ، ان خامیوں کا ذکر کرنا وہ اپنی دیانت داری سمجھتے ہیں مولانا طیب عثمانی نے بھی تصوف پرتنقیدی نظر ڈالتے ہوئے جو رائے پیش کی ہے وہ ہرسلیم الطبع کے لئے قابل قبول ہے، وہ لکھتے ہیں:
’’موجودہ دور میں تصوف کی مسخ شدہ شکل جو عام طور پر نظر آتی ہے وہ اسلامی اور غیر اسلامی عناصر کا معجون مرکب بن گئی ہے جس کے اسلامی اجزاء غیر اسلای افکار ونظریات کے دھندلکوں میں چھپ کر رہ گئے ہیں، سچ تو یہ ہے کہ اسلامی تصوف تو وہ ہے جو حضرت سرور کائناتﷺ کا تھا، جو حضرت صدیق و علی مرتضی کا تھا، جو حضرت سلمان فارسی اور حضرت ابوذر غفاری کا تھا اور جس کی تعلیم حضرت جنید بغدادی، شیخ عبدالقادر جیلانی ، شیخ شہاب الدین سہروردی ، خواجہ معین الدین چشتی، محبوب الٰہی حضرت نظام الدین اولیا اور حضرت مخدوم الملک شیخ شرف الدین احمد یحیٰ منیری  نے دی۔ صحابہ کرام تابعین اور تبع تابعین کی طرح صلحاء اور اخیارامت کی زندگی بھی ہمارے لئے اسوہ اورنمونہ ہے۔ ان اہل دل بزرگوں کے حالات کو جاننا اور ان کی حقیقی اسلامی تعلیمات کی واقفیت بہم پہنچانا، ہماری سعادت ہے۔“(ص:۴۱)

شاه طيب عثمانی نے اپنے والد گرامی محبوب الاولیا شاہ قاسم فردوسیؒ کے حوالے سے حیات دوام میں تصوف سے متعلق جو باتیں لکھی ہیں وہ سب، وہ افکار ہیں جن کو شاہ طیب عثمانی کے قلب روشن نے پورے انشراح کے ساتھ قبول کیا ہے۔ حیات دوام کے مندرجات سے ان  کے صوفيانہ نظریات کھل کر واضح ہو جاتے ہیں ، مثلاً صوفیا کی جو اصطلاحات ہیں فنا، بقا، ذکر،شغل اور مراقبہ وغیرہ ان کے صحیح و برحق ہونے میں ان کو کوئی شبہ نہیں تھا۔ اپنے والد کے متعلق وہ لکھتے ہیں:
’’سلوک و احسان آپ کی زندگی کا حال بن چکا تھا، آپ نے اپنے خطوط میں تصوف و احسان کی حقیقت پر بڑی وضاحت سے روشنی ڈالی ہے، چنانچہ آپ کا ارشاد ہے: تصوف سراپا عمل ہے ،تصوف ، اتباع نبوی کا نام ہے۔ پھر فرماتے ہیں: تصوف میں منازل و مقامات اور فنا و بقا کی اصطلاحات نظری نہیں بلکہ عملی ہے۔ اسی طرح ذکر، شغل ومراقب بھی صرف ذہنی چیز نہیں ہیں بلکہ سراپا عمل ہے۔“ (ص:۴۲)

تصوف کے مخالف تصوف کے خلاف بہت کچھ کہتے اور لکھتے رہتے ہیں، اس کا جواب اپنے والد گرامی کے حوالے سے دیتے ہیں:
’’تصوف کیا ہے؟ عموماً لوگ اسے ہندوانہ جوگ یا نصرانی رہبانیت سے تعبیر کرتے ہیں ۔ آپ فرماتے ہیں : تصوف نہ ہندوانہ جوگ ہے اور نہ نصرانی رہبانیت تصوف ما سوا اللہ سے دلی تعلق کو قطع کر کے خدا کی طرف یکسوکر دینے کی تعلیم دیتا ہے۔ تصوف مادی نعمتوں کا ترک کرنا نہیں سکھاتا بلکہ ان کا صحیح  استعمال بتاتا ہے۔ حقیقت میں اسلامی تصوف محمد رسول اللہ ﷺ کی صوری و معنوی پیروی کا نام ہے۔“(م:۴۳)

تصوف کے مختلف مباحث جن کو اس زمانے میں معترضین گمرہی سے تعبیر کرتے مثلاً وحدة الوجود اور وحدة الشهود وغیرہ ۔ مولانا طیب عثمانی اپنے والد کے حوالے سے ان افکار صوفیانہ کے بارے میں یوں رقم طراز ہیں:
’’یوں تو آپ نے زندگی کے ہر شعبے میں اپنے تجدیدی فکر وعمل کے نقوش ثبت کئے ہیں جن پر آئندہ صفحات میں مختلف موضوعات و عنوانات کے تحت روشنی ڈالوں گا لیکن تصوف و احسان آپ کا عملی اور حقیقی مسلک ومشرب رہا ہے ۔ اسلامی تصوف کی روح ، توحید خالص، وحدة الوجود اور وحدة الشهود  جیسے خالص فلسفیانہ اور نظری مسئلوں کی حقیقت کو آپ نے بڑی وضاحت سے پیش کیا ہے اور جس سے عملی زندگی میں ہماری رہنمائی ہوتی ہے، تصوف میں شریعت وطریقت اور حقیقت کی حقیقی تعبیر اس طرح بیان فرمائی: جس طرح اصطلاح تصوف میں جوارح و حواس سے متعلق احکامات کو شریعت کہتے ہیں اور دل سے متعلق احکامات کوطریقت سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اسی طرح کتاب وسنت میں جو احکامات روح کی پاکی اور صفائی سے تعلق رکھتے ہیں ان کو اصطلاح تصوف میں حقیقت کہتے ہیں ۔ وحدت الوجود اور وحدت الشہود جو خالص نظری مسئلہ ہے، آپ نے اس کو سہل ممتنع بنادیا ہے جس سے حقیقت تک رسائی آسان ہو جاتی ہے چنانچہ اس مسئلے پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں: موجودات کے اندر صفات وجود کو دیکھنا’’ از اوست“ ہے اور صفات وجود کے اندر وجود دیکھنا  ’’ہمہ اوست“ ہے۔” از اوست“۔ وحدت شہود ہے۔ اور ہمہ اوست وحدت الوجود از اوست“ سیرفی الصفات .” ہمہ اوست“ سیرفی الذات ہے۔“(ص:۴۹)

ایک قدیم نظر یہ ہے کہ خطائے بزرگان گرفتن خطا است یعنی بزرگوں کی  کسی فکری، انسانی اور قلمی غلطیوں کی گرفت کرنا اور اس پر معترض ہونا خودا یک خطا ہے۔ اگرچہ اس محاورے کا یہ مفہوم بھی بیان کیا جاتا ہے کہ بزرگوں کی خطا کو درست سمجھ کر اس کو اختیار کر لینا بھی خطا ہے۔ لیکن یہ محض  ایک لفظی ہیر پھیر ہے یہ مفہوم وہی ہے جو پہلے بیان کیا گیا۔ مولانا طیب عثمانی اپنے وسیع مطالعے اور مختلف الخيال لوگوں کے درمیان رہ کر بھی اس محاورے کے عملاً قائل رہے اور کسی اختلافی مسئلے میں اپنے بزرگوں سے اختلاف تو کجا علمی نقطہ نظر سے بھی معترض نہیں ہوئے ۔ وحدة الوجود کے مسئلے پر معترضین کی تحریریں اتنی سخت ہیں کہ تصوف کا بھی مطالعہ رکھنے والے ان کو پڑھ کر جنید و بایزید سے لے کر اس عہد تک کے تمام صوفیوں کو گمراہ تصور کرنے لگتے ہیں ، مولانا طیب صاحب نے یقیناً ان تحریروں کا مطالعہ کیا ہوگا لیکن ان کی سلامت فکرنے ان کو اپنے بزرگوں سے برگشتہ نہیں کیا اور اپنے بزرگوں کی تاویلات وتشریحات کو  بلا کسی تردد کے تسلیم کرلیا۔ یہ سب باتیں شاہ طیب صاحب کے صوفیانہ افکار و مزاج کو واضح کرتی ہیں ۔ حضرت مخدوم جہاںؒ کے ملفوظات ومکتوبات کی روشنی میں تصوف پران کا ایک مختصر مضمون ہے، اس میں وہ حضرت مخدوم قدس سرہ کے متعلق لکھتے ہیں:
’’برعظیم ہند میں اولیاء الله اور اکابر صوفیاء کا ایک سلسلة الذهب نظر آتا ہے ، جن کی تعلیمات ، ریاضات ومجاہدات اور دعوت وعزیمت کے نقوش اس سر زمین میں ابھرے ہوئے نظر آتے ہیں اور جن کے قدموں کے نشانات سے یہاں کا چپہ چپہ روشن ہے۔ اس میں آٹھویں صدی ہجری کی ایک عظیم اور نادر شخصیت حضرت مخدوم جہاں شیخ شرف الدین یحیٰ منیریؒ کی ذات والا صفات بھی ہے۔ جن کا بچپن اور شباب ، مروجہ علوم کے حصول اور علوم دینیہ کی تکمیل میں گزرا۔ پھر روحانی علوم کی تکمیل اور تلاش شیخ میں آپ دہلی پہنچے، وہاں حضرت شیخ نجیب الدین فردوسی کے در دولت پر حاضر ہوئے۔ شیخ کی ایک نگاہ نے سلوک کے وہ ساری منازل طے کرادیں جن کی آپ کو ضرورت تھی اور جن کے لئے آپ کا قلب پہلے سے تیار تھا ، ضرورت صرف ایک آنچ کی تھی ، جو ایک نگاہ شیخ سے پوری ہوئی۔ پھر بیعت اور داخل سلسلہ کے بعد اجازت دے کر حضرت خواجہ شیخ نجیب الدین فردوسی نے رخصت فرمایا۔ وطن واپسیمیں جب بہیا کے جنگل سے گزرے تو مناظر قدرت سے ایسے سرشار ہوئے کہ ضبط کایارا نہ رہا، گریباں چاک کر کے جنگل کی راہ لی اور روپوش ہوگئے ، جنگل میں بارہ برس کا عرصہ ریاضت و مجاہدہ ، خلوت ومراقبہ عشق الہی کی حرارت اور بے خودی وسرمستی میں گزرا، جب ذرا سکون ہوا تو روحانیت کی تکمیل کے بعد خلق خدا کی ہدایت کی طرف متوجہ ہوئے، جو اصل مقصود تھا۔ اس عظیم و اصل مقصد کے لئے بہارشریف تشریف فرما ہوئے اور تقریباً نصف صدی سے زیادہ کا زمانہ خلق خدا کی رشد و ہدایت اور طالبین حق کی تعلیم وتربیت میں گزرا۔ اس عرصے میں لاکھوں انسانوں کے دلوں کو بدلا سینکڑوں علماء اور عارفین واصل بحق ہوئے اور جانے کتنے ہندو فقیروں اور جوگیوں نے آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ غیرمسلموں میں اسلام کی دعوت اور پیغام ہی ان کا اصل مشن تھا۔
(اسلامی معاشرہ صفحہ:۷) 

شاه طیب عثمانی کی یہ تحریر ان کے تصوف سے گہری دلچسپی اور اولیاء اللہ سے غیر معمولی عقیدت مندی کی دلیل ہے ۔ اکابر اولیاء اللہ کا تذکرہ جس احترام کا متقاضی ہے شاہ طیب صاحب کی تحریر میں وہ جذبۂ احترام بھی موجود ہے۔

مولانا شاہ طیب عثمانی فردوسی رحمه الله ، مشائخ کے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ درویش صفت تھے، اپنی تحریر کی روشنی میں فکر و عمل میں صوفی تھے لیکن یہ بات ان کے لباس ومعاشرت سے نہیں جھلکتی تھی ، یہ بھی ان کے عالی ظرف ہونے کی دلیل تھی ۔ اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے ساتھ رحم و کرم کا معاملہ کرے۔ آمین!

 (مولانا شاہ طیب  عثمانی کی سوانح ''شیرازۂ حیات" سے شکریہ کے ساتھ) 



Friday 10 November 2017

شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ میں نو وارد طلبہ کا استقبال


ڈاکٹر خالد مبشر کے فیس بُک صفحہ سے09-11-2017 کی ایک رپورٹ  ان کے شکریہ کے ساتھ۔

شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ میں نو وارد طلبہ کا استقبال
ڈاکٹر خالد مبشر

’’طلبہ کو چاہیے کہ وہ اپنی شخصیت کی نشّوو نمااور حصول علوم وفنون کے لئے حد درجہ انہماک ا ورسنجیدگی اختیار کرے۔ جامعہ علم ودانش کے ساتھ فکری وعملی تربیت پر اپنی ابتدا سے ہی خصوصی توجہ دیتی آئی ہے ‘‘۔ ان خیالات کا اظہاربزم جامعہ کی جانب سے منعقدہ شعبۂ اردو کے نو وارد طلبہ کی استقبالیہ تقریب میں ڈین فیکلٹی برائے انسانی علوم و السنہ پروفیسر وہاج الدین علوی نے کیا۔
اس موقع پر صدر شعبہ پروفیسر شہپر رسول نے طلبہ کو مبارک باد دیتے ہوئے انہیں نظم وضبط اورانکساروشائستگی کو اپنا شعار بنانے کی نصیحت کی۔ شعبۂ اردو کے طلبہ کی ادبی وثقافتی تنظیم بزم جامعہ کے ایڈوائزر پروفیسر کوثر مظہری نے اپنی استقبالیہ تقریر میں کہا کہ علمی وتخلیقی آبیاری کے لئے مطالعہ،علما واساتذہ اور اچھے دوستوں کی صحبت کے ساتھ علمی ودابی مجلسوں کی اہمیت مسلم ہے۔ ڈاکٹر خالد مبشر نے اظہار تشکر میں طلبہ وطالبات کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تاریخ وتہذیب اور اس کی علمی ودابی روایت کو سمجھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آپ اس عظیم ورثے کے امین ومحافظ بنیں۔
نووارد طلبہ کی یہ استقبالیہ تقریب رنگا رنگ پروگراموں سے بے حد دلکش ودلچسپ ہو گئی۔ بزم کا آغاز عبد الواجد کی تلاوت اور محمد مہتاب عالم کی نعت سے ہوا۔ پروگرام میں ایم اے،بی اے اور پی جی ڈپلومہ اردو ماس میڈیا میں داخلہ لینے والے نئے طلبہ وطالبات نے اپنا تعارف پیش کیا اوران کے استقبال میں انہیں شعبہ کی جانب سے فریم شدہ خوبصورت مومینٹو سے نوازا گیا جس میں اردو کے مشہوراورچنندہ اقتباسات و اشعار کندہ تھے۔ نظامت کے فرائض بزم جامعہ کے نائب صدر عمران احمد، جنرل سکریٹری محمد کامل حسین اور میڈیا کو آرڈی نیٹروسیم احمد علیمی نے انجام دئے۔ رضاء الحق نے بی اے، ایم اے اور پی جی ڈپلومہ اردو ماس میڈیا کی نمائندگی کرتے ہوئے شعبے میں داخلہ لینے والے تمام نو وارد طلبا کا استقبال کیا۔ پروگرام کے دوران سامعین کے ذوق کا خیال کرتے ہوئے فیض الرحمن، شبنم، سیف الرحمن نے غزل اور محمد عتیق الرحمن نے انشائیہ پیش کیا۔ جدیدطلبا کی جانب سے محمد کاشف بی اے آنرز اردو سمسٹر اول نے اظہار تشکر کا فریضہ انجام دیا۔
اس پروگرام میں شعبۂ اردو کے اساتذہ میں پروفیسر شہزاد انجم، پروفیسر عبد الرشید، ڈاکٹر خالد جا وید، ڈکٹر ندیم احمد، ڈاکٹر عمران احمد عندلیب، ڈاکٹر سرورالہدیٰ، ڈاکٹر مشیر احمد، ڈاکٹر تنویر حسین، ڈاکٹر عادل حیات، ڈاکٹر ابوالکلام عارف، ڈاکٹر سمیع احمد، ڈاکٹر سلطانہ واحدی اورڈاکٹر محمد آدم وغیرہ موجود تھے۔
استقبالیہ تقریب کے مختلف پروگراموں میں محمد عثمان، رضاء الدین، محمد ذکر اللہ، عافیہ خان، نداکوثر، محمدافضال ساحل، عبد الواحد رحمانی، شگفتہ، ارسلان صفدر، فلک اقبال، محمد اظہر رضا، یاسمین صدیقی، نکہت اور عاصم بدر شریک ہوئے۔

Wednesday 8 November 2017

دہلی کی آلودہ فضائیں

اگر اب بھی نہ جاگے تو۔۔۔۔
دہلی کی آلودہ فضائیں


دہلی میں فضائی آلودگی اپنے عروج پر ہے ـ آپ کی صحت کے لئے یہ صورت حال انتہائی خراب ہے ـ فضا میں صحت کے لئے خطرناک پارٹیکلس میں خطرناک حد تک اضافہ درج کیا گیا ہے. ایک رپورٹ کے مطابق رات 12 بجے کے بعد یہ اپنے عروج یعنی اے کیو آئی  700سے اوپر تھا جس میں صبح9 بجے تک کچھ بہتری آئی اس کے بعد  دن کے ایک بجے سے یہ دوبارہ بڑھنا شروع ہوا اور تین بجے تک یہ 800 سے بھی   اوپر پہنچ چکا تھا۔ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اے کیو آئی ایک ہزار سے بھی اوپر پہنچ گیا۔
کل خدیجتہ الکبری گرلس اسکول میں آلودگی کی وجہ سے ایک لڑکی کی طبیعت بگڑنے لگی اس نے سانس لینے میں تکلیف کی شکایت کی اور گھبراہٹ میں ادھر ادھر بھاگنے لگی۔ صورت حال کو دیکھتے ہوئے دہلی کے سبھی اسکول اتوار تک بند کر دیے گئے ہیں۔
 چھوٹے بچوں کے لئے آلودگی کی یہ صور ت حال بہت ہی خطرناک اور تشویشناک ہے۔اس جانب سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہےـ
دہلی کی حالت روز بروز بگڑتی جارہی ہے اور حفاظتی اقدامات کی کوئی آہٹ سنائی نہیں دیتی۔لوگوں میں سانس لینے میں دشواری کی شکایت عام ہوتی جارہی ہے لیکن حفظ ما تقدم کے طور پر کوئی قدم نہیں اٹھایا جا رہا ۔مختلف علاقوں میں ملبوں کا ڈھیر لگا ہے جس نے حالات کو اور بھی ناگفتہ بہ بنا دیا ہے۔ آنکھوں میں جلن صاف طور سےمحسوس کی جارہی ہے۔کچھ لوگوں نے ماسک لگایا ہوا ہے لیکن یہ ناکافی ہے۔
دہلی کے عوام کو چاہئے کے وہ حفاظتی انتظامات میں مزید تاخیر نہ کریں اور اس سلسلہ میں ازخود قدم اٹھائیں۔اس وقت دہلی کو پانی کے چھڑکاؤ کی سخت ضرورت ہے ـ لوگوں کو سانس لینے میں سب سے زیادہ دشواری کا سبب گرد آلود فضا ہے ۔اس کا حل ہے تعمیرات کے کام پر مکمل پابندی ، صفائی اور پانی کا چھڑکاؤ۔  ہر شخص اگر اپنے اپنے گھر کے سامنے پانی کا بھرپور چھڑکاؤ کرے تو اس پر کسی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔
 اس وقت ہمارے بچوں یعنی ملک کے مستقبل کی صحت اور جان دونوں ہی خطرے میں ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام اور حکومت دونوں ہی  خواب خرگوش سے جاگیں اور فوری اقدام کریں۔
ایک اندازہ کے مطابق دہلی میں فضائی آلودگی سے ہر سال 30 ہزار اموات ہوتی ہیں۔ اور ڈاکٹروں نے اس صورت حال کے برقرار رہنے پر سنگین حالات کا انتباہ دیا ہے۔  خاص طور سے وہ لوگ جو سانس کی بیماری یا صدر کی تکلیف میں مبتلا ہیں  ان کو سخت احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسے لوگ اپنے گھروں میں رہیں اور باہر کی سرگرمیوں سے پرہیز کریں ۔ اپنےبچوں کو بھی باہر کھیلنے کی اجازت نہ دیں اور اپنی  اور اپنے بچّوں کی صحت کا بھرپور خیال رکھیں۔ 

Tuesday 7 November 2017

حسرت موہانی ایک مجاہد آزادی ایک بے مثال شاعر

حسرتؔ موہانی
صحبہ عثمانی



حسرتؔ موہانی کااصل نام سید فضل الحسن تھا۔ وہ اترپردیش  کے قصبہ موہان ضلع اناؤ میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک کامیاب شاعر اور بے باک صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سر گرم سیاست داں اور مجاہد آزادی بھی تھے۔  ۱۹۰۳میں وہ اپنےباغیانہ خیالات کی  وجہ سے کالج سے نکالے گئے ان کی شادی ان کی چچا زاد بہن نشاط النسا بیگم سے ہوئی ۔جو ایک پڑھی لکھی ،با ہمت ،حوصلہ مند اور مستقل مزاج خاتون تھیں۔

اسی سال حسرتؔ موہانی نے ایک علمی وادبی رسالہ”اردوئے معلّیٰ“ جاری کیا۔اپریل ۱۹۰۸ کے ”اردو ئےمعلّیٰ“ میں ایک مضمون کی اشاعت پر مقدمہ چلا۔ عدالت نے انھیں دو سال قید بامشقت کی سزا سنائی اور پانچ سو روپے جرمانہ بھرنا پڑا۔حسرت موہانی  کا انتقال ۱۳ مئی ۱۹۵۱  کو لکھنؤمیں ہوا۔

حسرت موہانی ایک سچے اور صاف دل انسان تھے۔ ان کے اندر اپنے ملک کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ۔انہوں نے جیل میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور ساتھ ہی شعر و سخن کا سلسلہ بھی جاری رہا۔کہتے ہیں

ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی
اک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی

 حسرت موہانی کی زندگی بہت سادہ تھی۔ مزاج میں درویشی  تھی۔ان کاقلم آگ اگلتا۔ دل عشق و محبت کے نغمے گاتا۔ انہوں نے ایک ہی وقت میں انقلابی شاعری بھی کی اور عشقیہ شاعری بھی۔

(جاری)



  

Ghazal - Kamil Quadri

غزل
کامل  القادری

ابر گھر آتا ہے جب رازِچمن کھلتا ہے
برق لہراتی ہے غنچے کا دہن کھلتا ہے

اب بھی ہے کوئی سر بزم غزل خواں اے دوست
لب وابستہ بہ زنجیر کہن کھلتا ہے

برق خاطف سے کہو چشم عنایت ہو ادھر
پھول جھڑتے ہیں لب سوختہ تن کھلتا ہے

آبلہ پائی کا یاروں کو صلہ مل ہی گیا
نقش پا ہم صفت رنگ چمن کھلتا ہے

صورت دوست وہ پہلو سے لگے بیٹھے ہیں
کون دشمن ہے یہاں اہل وطن کھلتا ہے

بے خبر تھے تو زمانے کی خبر رکھتے تھے
اب تو خود پر بھی کہاں اپنا چلن کھلتا ہے

نالہ کرتا ہوں تو ہنس پڑتے ہیں غنچے کامل
مسکراتا ہوں تو بلبل کا دہن کھلتا ہے

خوش خبری