آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Sunday, 15 November 2020

Bhola By Rajinder Singh Bedi NCERT Class 10 Nawa e Urdu

بھولا

راجندر سنگھ بیدی

میں نے مایا کو پتھر کے ایک کوزے میں مکھن رکھتے دیکھا۔ چھاچھ کی کھٹاس کو دور کرنے کے لیے مایا نے کوزے میں پڑے ہوئے مکھن کو کنوئیں کے صاف پانی سے کئی بار دھویا۔ اس طرح مکھن کے جمع کرنے کی کوئی خاص وجہ تھی۔ ایسی بات عموماً مایا کے کسی عزیز کی آمد کا پتہ دیتی تھی۔ ہاں! اب مجھے یاد آیا دو دن کے بعد مایا کا بھائی اپنی بیوہ بہن سے راکھی بندھوانے کے لیے آنے والا تھا۔ یوں تو اکثر بہنیں بھائیوں کے یہاں جا کر انھیں راکھی باندھتی ہیں مگر مایا کا بھائی اپنی بہن اور بھانجے سے ملنے کے لیے خود ہی آجایا کرتا تھا اور راکھی بندھوا لیا کرتا تھا۔ راکھی بندھوا کر وہ اپنی بیوہ بہن کو یقین دلاتا تھا کہ اگر چہ اس کا سہاگ لٹ گیا ہے مگر جب تک اس کا بھائی زندہ ہے ، اس کی رکھشا، اس کی حفاظت کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر لیتا ہے۔ ننھے بھولے نے میرے اس خیال کی تصدیق کردی ۔ گنا چوستے ہوئے اس نے کہا "بابا ! پرسوں ماموں جی آئیں گے نا۔۔۔۔؟

میں نے اپنے پوتے کو پیار سے گود میں اٹھا لیا۔ بھولے کا جسم بہت نرم و نازک تھا اور اس کی آواز بہت سریلی تھی جیسے کنول کی نزاکت اور سپیدی ، گلاب کی سرخی اور بلبل کی الحانی کو اکٹھا کر دیا ہو۔ اگر چہ بھولا میری لمبی اور گھنی داڑھی سے گھبرا کر مجھے اپنا منہ چومنے کی اجازت نہ دیتا تھا۔ تاہم میں نے زبردستی اس کے سرخ گالوں پر پیار کی مہر ثبت کردی ۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا

بھولے- تیرے ماموں جی۔۔۔۔۔  تیری ماتا جی کے کیا ہوتے ہیں؟

بھولے نے کچھ تامل کے بعد جواب دیا۔”ماموں جی"۔

مایا نے استوتر پڑھنا چھوڑ دیا اور کھلکھلا کر ہنسنے لگی۔ میں اپنی بہو کے اس طرح کھل کر ہنسنے پر دل ہی دل میں بہت خوش ہوا۔ مایا بیوہ تھی اور سماج اسے اچھے کپڑے پہننے اور خوشی کی بات میں حصہ لینے سے بھی روکتا تھا۔ میں نے بار ہا مایا کو اچھے کپڑے پہنے ہنسنے کھیلنے کی تلقین کرتے ہوئے سماج کی پروا نہ کرنے کے لیے کہا تھا ۔ مگر مایا نے از خود اپنے آپ کو سماج کے روح فرسا احکام کے تابع کرلیا تھا۔ اس نے اپنے تمام اچھے کپڑے اور زیورات کی پٹاری ایک صندوق میں مقفل کر کے چابی ایک جوہڑ میں پھینک دی تھی۔

مایا نے ہنستے ہوئے اپنا پاٹھ جاری رکھا۔

 

             ہری ہری ہری ہر، ہری ہر، ہری

             میری بار کیوں دیر اتنی کری

پھر اس نے اپنے لال کو پیار سے بلاتے ہوئے کہا۔

’’ بھولے تم ننھی کے کیا ہوتے ہو؟“

  ’’بھائی !‘‘ بھولے نے جواب دیا۔

"اسی طرح تیرے ماموں جی میرے بھائی ہیں ۔"

بھولا یہ بات نہ سمجھ سکا کہ ایک شخص کس طرح ایک ہی وقت میں کسی کا بھائی اور کسی کا ماموں ہوسکتا ہے۔ وہ تو اب تک یہی سمجھتا آیا تھا کہ اس کے ماموں جان اس کے با با جی کے بھی ماموں جی ہیں ۔ بھولے نے اس مخمصے میں پڑنے کی کوشش نہ کی اور اچک کر ماں کی گود میں جا بیٹھا اور اپنی ماں سے گیتا سننے کے لیے اصرار کرنے لگا۔ وہ گیتا محض اس وجہ سے سنتا تھا کہ وہ کہانیوں کا شوقین تھا اور گیتا کے ادھیائے کے آخر میں مہاتم سن کر وہ بہت خوش ہوتا اور پھر جو ہڑ کے کنارے اگی ہوئی دوب کی مخملی تلواروں میں بیٹھ کر گھنٹوں ان مہاتموں پر غور کیا کرتا۔

مجھے دو پہر کو اپنے گھر سے چھ میل دور اپنے مزرعوں میں پہنچنا ہوتا تھا۔ بوڑھا جسم، اس پر مصیبتوں کا مارا ہوا جوانی کے عالم میں تین تین من بوجھ اٹھا کر دوڑا کیا مگر اب بیس سیر بوجھ کے نیچے گردن پچکنے لگتی ہے۔ بیٹے کی موت نے امید کو یاس میں تبدیل کر کے کمرتوڑ دی تھی۔ اب میں بھولے کے سہارے ہی جیتا تھا ورنہ دراصل تو مر چکا تھا۔

رات کو میں تکان کی وجہ سے بستر پر لیٹتے ہی اونگھنے لگا۔ ذرا توقف کے بعد مایا نے مجھے دودھ پینے کے لیے آواز دی۔ میں اپنی بہو کی سعادت مندی پر دل ہی دل میں بہت خوش ہوا اور اسے سیکڑوں دعائیں دیتے ہوئے میں نے کہا۔

"مجھے بوڑھے کی اتنی پروا نہ کیا کرو بٹیا‘‘ -

۔۔۔۔۔بھولا ابھی تک نہ سویا تھا۔ اس نے ایک چھلانگ لگائی اور میرے پیٹ پر چڑھ گیا ، بولا۔ باباجی ! آپ آج کہانی نہیں سنائیں گے کیا؟

نہیں بیٹا میں نے آسمان پر نکلے ہوئے ستاروں کو دیکھتے ہوئے کہا۔ میں آج بہت تھک گیا ہوں ۔ کل دوپہر کو سناؤں گا۔"

بھولے نے روٹھتے ہوئے جواب دیا۔ "میں تمھارا بھولا نہیں بابا ۔ میں ماتا جی کا بھولا ہوں۔“

بھولا بھی جانتا تھا کہ میں نے اس کی ایسی بات کبھی برداشت نہیں کی ۔ میں ہمیشہ اس سے یہی سننے کا عادی تھا کہ ” بھولا بابا جی کا ہے ماتا جی کا نہیں۔ مگر اس دن ہلوں کو کندھے پر اٹھا کر چھ میل تک لے جانے اور پیدل ہی واپس آنے کی وجہ سے میں بہت تھک گیا تھا۔ شاید میں اتنا نہ تھکتا اگر میرا نیا جوتا ایڑی کو نہ دباتا اور اس وجہ سے میرے پاؤں میں ٹیسیں نہ اٹھتیں ۔ اس غیر معمولی تھکن کے باعث میں نے بھولے کی وہ بات بھی برداشت کی ۔ میں آسمان میں ستاروں کو دیکھنے لگا ۔ آسمان کے جنوبی گوشے میں ایک ستارہ مشعل کی طرح روشن تھا غور سے دیکھنے پر وہ مدھم ہونے لگا۔ میں اونگھتے اونگھتے سوگیا۔

صبح ہوتے ہی میرے دل میں خیال آیا کہ بھولا سوچتا ہوگا کہ کل رات بابا نے میری بات کس طرح برداشت کی ؟ میں اس خیال سے لرز گیا کہ بھولے کے دل میں کہیں یہ خیال نہ آیا ہو کہ اب بابا میری پروا نہیں کرتے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ صبح کے وقت اس نے میری گود میں آنے سے انکار کر دیا اور بولا ۔

"میں نہیں آؤں گا۔ تیرے پاس بابا‘‘

" کیوں بھولے؟"

"بھولا بابا جی کا نہیں۔۔۔۔۔۔ بھولا ما تا جی کا ہے۔"

میں نے بھولے کو مٹھائی کے لالچ سے منا لیا، اور چند ہی لمحات میں بھولا باباجی کا بن گیا اور اپنی ننھی ٹانگوں کے گرد میرے جسم سے لپٹے ہوئے کمبل کو لپیٹنے لگا۔ مایا ہری ہر استوتر پڑھ رہی تھی۔ پھر اس نے پاؤ بھر مکھن نکالا اور اسے کوزے میں ڈال کر کنویں کے صاف پانی سے چھاچھ کی کھٹاس کو دھوڈالا ۔ اب مایا نے اپنے بھائی کے لیے سیر کے قریب مکھن تیار کر لیا تھا۔ میں بہن بھائی کے اس پیار کے جذبے پر دل ہی دل میں خوش ہو رہا تھا۔ اتنا خوش کہ میری آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے۔ میں نے دل میں کہا عورت کا دل محبت کا ایک سمندر ہوتا ہے۔ ماں ، باپ، بہن ، بھائی ، خاوند ، بچے سب سے وہ بہت ہی پیار کرتی ہے اور اتنا کرنے پربھی دوختم نہیں ہوتا۔ ایک دل کے ہوتے ہوئے بھی وہ سب کو اپنا دل دے دیتی ہے۔ بھولے نے دونوں ہاتھ میرے گالوں کی جھریوں پر رکھے مایا کی طرف سے چہرے کو ہٹا کر اپنی طرف کر لیا اور بولا۔

بابا تمھیں اپنا وعدہ یاد ہے نا۔۔۔۔۔۔؟"

" کس بات کا بیٹا؟‘‘

تمھیں آج دوپہر کو مجھے کہانی سنانی ہے۔“

"ہاں بیٹا۔" میں نے اس کا منہ چومتے ہوئے کہا۔

یہ تو بھولا ہی جانتا ہو گا کہ اس نے دوپہر کے آنے کا کتنا انتظار کیا ۔ بھولے کو اس بات کا علم تھا کہ بابا جی کے کہانی سنانے کا وقت وہی ہوتا ہے جب وہ کھانا کھا کر اس پلنگ پر جا لیٹتے ہیں جس پر وہ بابا جی یا ماتا جی کی مدد کے بغیر نہیں چڑھ سکتا تھا۔ چنانچہ وقت سے آدھ گھنٹے پیشتر ہی اس نے کھانا نکلوانے پر اصرار شروع کر دیا۔ میرے کھانے کے لیے نہیں بلکہ اپنی کہانی سنے کے چاؤ سے۔

میں نے معمول سے آدھ گھنٹہ پہلے کھانا کھایا۔ ابھی آخری نوالہ میں نے توڑا ہی تھا کہ پٹواری نے دروازے پر دستک دی۔ اس کے ہاتھ میں ہلکی سی ایک جریب تھی۔ اس نے کہا کہ خانقاہ والے کنویں پر آپ کی زمین کو ناپنے کے لیے مجھے آج ہی فرصت مل سکتی ہے ، پھر نہیں۔

دالان کی طرف نظر دوڑائی تو میں نے دیکھا، بھولا چارپائی کے چاروں طرف گھوم کر بستر بچھا رہا تھا۔ بستر بچھانے کے بعد اس نے ایک بڑا سا تکیہ بھی ایک طرف رکھ دیا اور پائینتی پر پاؤں اڑا کر چار پائی پر چڑھنے کی کوشش کرنے لگا۔ اگر چہ بھولے کا اصرار مجھے جلد روٹی کھلانا اور بستر بچھا کر میری تواضع کرنا اپنی خود غرضی پر مبنی تھا تاہم میرے خیال میں آیا۔

’’ آخر مایا کا بیٹا ہی ہے نا ایشور اس کی عمر دراز کرے۔"

میں نے پٹواری سے کہا تم خانقاہ والے کنویں کو چلو اور میں تمھارے پیچھے پیچھے آجاؤ نگا۔ جب بھولے نے دیکھا کہ میں باہر جانے کے لیے تیار ہوں تو اس کا چہرہ اس طرح مدھم پڑگیا جس طرح گزشتہ شب آسمان کے ایک کونے میں مشتعل کی مانند روشن ستاره مسلسل دیکھتے رہنے کی وجہ سے ماند پڑ گیا تھا۔ مایا نے کہا۔

”بابا جی اتنی بھی کیا جلدی ہے؟ خانقاہ والا کنواں کہیں بھاگا تو نہیں جاتا۔ آپ کم سے کم آرام تو کر لیں ۔

’’اوں ہوں‘‘ میں نے زیرلب کہا۔ " پٹواری چلا گیا تو یہ کام ایک ماہ سے ادھر نہ ہو سکے گا۔“

مایا خاموش ہوگئی ۔ بھولا منہ بسورنے لگا۔ اس کی آنکھیں نمناک ہوگئیں۔ اس نے کہا۔ ” بابا میری کہانی، میری کہانی “

"بھولے میرے بچے۔" میں نے بھولے کو ٹالتے ہوئے کہا۔ دن کو کہانی سنانے سے مسافر راستہ بھول جاتے ہیں ۔ راستہ بھول جاتے ہیں ؟‘‘ بھولے نے سوچتے ہوئے کہا۔ بابا تم جھوٹ بولتے ہو میں بابا جی کا بھولا نہیں بنتا‘‘

اب جب کہ میں تھکا ہوا بھی نہیں تھا اور پندرہ بیس منٹ استراحت کے لیے نکال سکتا تھا بھلا بھولے کی اس بات کو آسانی سے کس طرح برداشت کر لیتا۔ میں نے اپنے شانے سے چادر اتار کر چار پائی کی پائینتی پر رکھی اور اپنی دبتی ہوئی ایڑی کو جوتی کی قید سے نجات دلاتے ہوئے پلنگ پر لیٹ گیا ۔ بھولا پھر اپنے بابا کا بن گیا۔ لیٹتے ہوئے میں نے بھولے سے کہا۔

اب کوئی مسافر راستہ کھو بیٹھے تو اس کے تم ذمہ دار ہو۔"

اور میں نے بھولے کو دوپہر کے وقت سات شہزادوں اور سات شہزادیوں کی ایک لمبی کہانی سنائی ۔ کہانی میں ان کی باہمی شادی کو میں نے معمول سے زیادہ دلکش انداز میں بیان کیا ۔ بھولا ہمیشہ اس کہانی کو پسند کرتا تھا جس کے آخر میں شہزادہ اور شہزادی کی شادی ہو جائے مگر میں نے اس روز بھولے کے منہ پر خوشی کی کوئی علامت نہ دیکھی بلکہ وہ افسردہ سا منہ بنائے خفیف طور پر کانپتا رہا۔

اس خیال سے کہ پٹواری خانقاہ والے کنویں پر انتظار کرتے کرتے تھک کر اپنی ہلکی ہلکی جھنکار پیدا کرنے والی جر یب جیب میں ڈال کر کہیں اپنے گاؤں کا رخ نہ کرلے میں جلدی جلدی مگر اپنے نئے جوتے میں دبتی ہوئی ایڑی کی وجہ سے لنگڑاتا ہوا بھاگا ۔ گو مایا نے جوتی کو سرسوں کا تیل لگا دیا تھا تاہم وہ نرم مطلق نہ ہوئی تھی۔

شام کو جب میں واپس آیا تو میں نے بھولے کو خوشی سے دالان سے صحن میں اورصحن سے دالان میں کودتے پھاندتے دیکھا۔ وہ لکڑی کے ایک ڈنڈے

کو گھوڑا بنا کر اسے بھگا رہا تھا اور کہہ رہا تھا۔

 

"چل ماموں جی کے دیس ۔۔۔۔۔۔۔ رے گھوڑے ، ماموں جی کے دیس۔

ماموں جی کے دیس ، ہاں ، ہاں !ماموں جی کے دلیس ۔ گھوڑے۔۔۔۔۔

  جوں ہی میں نے دہلیز میں قدم رکھا۔ بھولے نے اپنا گانا ختم کر دیا اور بولا۔

بابا۔۔۔۔ آج ماموں جان آئیں گے نا؟‘‘

پھر کیا ہو گا بھولے ؟ میں نے پوچھا۔

"ماموں جان اگن بوٹ لائیں گے۔ ماموں جی کلو(کتا) لائیں گے۔ ماموں جی کے سر پر مکی کے بھٹوں کا ڈھیر ہوگا نا بابا ہمارے یہاں تو مکی ہوتی ہی نہیں بابا اور تو اور ... ایسی مٹھائی لائیں گے جو آپ نے خواب میں بھی نہ دیکھی ہوگی ۔"

میں حیران تھا اور سوچ رہا تھا کہ کس خوبی سے "خواب میں بھی نہ دیکھی ہوگی‘‘ کے الفاظ سات شہزادوں اور سات شہزادیوں والی کہانی کے بیان میں سے اس نے یاد رکھے تھے۔ "جیتا رہے" میں نے دعا دیتے ہوئے کہا۔ بہت ذہین لڑکا ہوگا اور ہمارے نام کو روشن کرے گا۔

شام ہوتے ہی بھولا دروازے میں جا بیٹھا تا کہ ماموں جی کی شکل دیکھتے ہی اندر کی طرف دوڑے اور پہلے پہل اپنی ماتا جی کو اور پھر مجھے اپنے ماموں جی کے آنے کی خبر سنائے۔

دیوں کو دیا سلائی دکھائی گئی ۔ جوں جوں رات کا اندھیرا گہرا ہوتا جاتا۔ دیوں کی روشنی زیادہ ہوتی جاتی ۔ متفکر انہ لہجے میں مایا نے کہا۔

"بابا جی...... ابھی تک نہیں آئے “

"کسی کام کی وجہ سےٹھہر گئے ہوں گے "۔

"ممکن ہے کوئی ضروری کام آپڑا ہو۔ راکھی کے رویئے ڈاک میں بھیج دیں گے ۔" مگر راکھی؟"

باں راکھی کی کہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انھیں اب تک تو آجانا چاہیے تھا۔"

میں نے بھولے کو زبردستی دروازے کی دہلیز پر سے اٹھایا۔ بھولے نے اپنی ماتا جی سے بھی زیادہ متفکرانہ لہجے میں کہا "ماتا جی ۔۔۔۔۔ ماموں جی کیوں نہیں آئے؟"

مایا نے بھولے کو گود میں اٹھاتے ہوئے اور پیار کرتے ہوئے کہا۔ شاید صبح کو آجائیں تیرے ماموں جی -

میرے بھولے !"

پھر بھولے نے اپنے نرم و نازک بازوؤں کو اپنی ماں کے گلے میں ڈالتے ہوئے کہا۔ ” میرے ماموں بھی تمھارے کیا ہوتے ہیں؟

جوتم ننھی کے ہو۔“

"بھائی ؟"

"تم جانو".......

"اوربنسی ( بھولے کا دوست ) کے کیا ہوتے ہیں ۔"

کچھ بھی نہیں..."

" بھائی بھی نہیں؟"

"نہیں۔۔۔۔۔"

.......اور بھولا اس عجیب بات کو سوچتا ہوا سو گیا ۔ جب میں اپنے بستر پر لیٹا تو پھر وہ مشعل کی مانند چمکتا ہوا ستاره آسمان کے ایک کونے میں میرے گھورنے کی وجہ سے ماند ہوتا ہوا دکھائی دیا۔ مجھے پھر بھولے کا چہرہ یاد آگیا جو میرے خانقاہ والے کنویں کو جانے پر تیار ہونے کی وجہ سے یوں ہی ماند پڑ گیا تھا۔ کتنا شوق ہے بھولے کو کہانی سننے کا۔ وہ اپنی ماں کو استوتر بھی پڑھنے نہیں دیتا۔ اتنا چھوٹا بچہ بھلا گیتا کو کیا سمجھے۔ مگر صرف اس وجہ سے کہ اس کے ادھیائے کا مہاتم ایک دلچسپ کہانی ہوتی ہے وہ نہایت صبر سے ادھیائے کے ختم اور مہاتم کے شروع ہونے کا انتظار کیا کرتا ہے۔

"مایا کا بھائی ابھی تک نہیں آیا۔ شاید نہ آئے ۔" میں نے دل میں کہا۔” اسے اپنی بہن کا پیار سے جمع کیا ہوا مکھن کھانے کے لیے تو آجانا چاہیے تھا۔ میں ستاروں کی طرف دیکھتے دیکھتے اونگھنے لگا۔ یکا یک مایا کی آواز سے میری آنکھ کھلی ۔ وہ دودھ کا کٹورا لیے کھڑی تھی۔

” میں نے کئی بار کہا ہے۔ تم میرے لیے اتنی تکلیف نہ کیا کرو۔۔ " میں نے کہا،

دودھ پینے کے بعد فرط شفقت سے میرے آنسو نکل آئے۔ حد سے زیادہ خوش ہو کر میں مایا کو یہی دعا دے سکتا تھا نا کہ وہ سہاگ وتی رہے۔ کچھ ایسا ہی میں نے کہنا چاہا مگر اس خیال کے آنے سے کہ اس کا سہاگ تو برس ہوئے لٹ گیا تھا میں نے کچھ نہ کچھ کہنے کی غرض سے اپنی رقت کو دباتے ہوئے کہا،

"بیٹی... تمھیں اس سیوا کا پھل ملے بغیر نہ رہے گا۔"

پھر میرے پہلو میں بچھی ہوئی چار پائی پر سے بھولا ننھی کو جو کہ اس کے ساتھ ہی سورہی تھی ، پرے دھکیلتے ہوئے اور آنکھیں ملتے ہوئے اٹھا ۔ اٹھتے ہی اس نے کہا،

"بابا ۔۔۔۔۔۔۔ ماموں جی ابھی تک کیوں نہیں آئے؟"

آجائیں گے بیٹا سو جاؤ ۔ وہ صبح سویرے آجائیں گے۔

اپنے بیٹے کو اپنے ماموں کے لیے اس قدر بیتاب دیکھ کر مایا بھی کچھ بیتاب ہوگئی ۔ عین اس طرح جس طرح ایک شمع سے دوسری شمع روشن ہوجاتی ہے۔ کچھ دیر کے بعد وہ بھولے کولٹا کر تھپکنے لگی۔

مایا کی آنکھوں میں بھی نیند آنے لگی ، یوں بھی جوانی میں نیند کا غلبہ ہوتا ہے اور پھر دن بھر کام کاج کر کے تھک جانے کی وجہ سے مایا گہری نیند سوتی تھی۔ میری نیند تو عام بوڑھوں کی سی نیند تھی۔ کبھی ایک آدھ گھنٹے تک سولیتا پھر دو گھنٹے جاگتا رہتا۔ پھر کچھ دیر اونگھنے لگ جاتا اور باقی رات اختر شماری کرتے گزار دیتا۔ میں نے مایا کوسو جانے کے لیے کہا اور بھولے کو اپنے پاس لٹا لیا۔

بتی جلتی رہنے دو ، صرف دھیمی کردو ۔۔ ۔۔ میلے کی وجہ سے بہت سے چور چکار ادھر ادھر گھوم رہے ہیں- ‘‘ میں نے سوئی ہوئی مایا سے کہا۔

سب سے بڑی بات یہ تھی کہ اس دفعہ میلے پر جو لوگ آئے تھے ان میں ایسے آدمی بھی تھے جو کہ ننھے ننھے بچوں کو اغوا کر کے لے جاتے تھے۔ پڑوس کے ایک گاؤں میں دو ایک ایسی وارداتیں ہوئی تھیں اور اسی لیے میں نے بھولے کو اپنے پاس لٹا لیا۔ میں نے دیکھا بھولا جاگ رہا تھا۔ اس کے بعد میری آنکھ لگ گئی۔

تھوڑی دیر کے بعد جب میری آنکھ کھلی تو میں نے بتی کو دیوار پر نہ دیکھا۔ گھبرا کر ہاتھ پسارا تو میں نے دیکھا کہ بھولا بھی بستر پر نہ تھا۔ میں نے اندھوں کی طرح در و دیوار سے ٹکراتے اور ٹھوکریں کھاتے ہوئے تمام چار پائیوں پر دیکھا ، مایا کو جگایا گھر کا کونہ کونہ چھانا بھولا کہیں نہ تھا ۔۔۔ !

"مایا ہم لٹ گئے۔" میں نے اپنا سر پیٹتے ہوئے کہا۔

مایا ماں تھی۔ اس کا کلیجہ جس طرح شق ہوا یہ کوئی اسی سے پوچھے۔ اپنا سہاگ لٹنے پر اس نے اتنے بال نہ نوچے تھے جتنے کہ اس وقت نوچے۔ اس کا دل بیٹھا جا رہا تھا اور وہ دیوانوں کی طرح چیخنیں مار رہی تھی۔ پاس پڑوس کی عورتیں شور سن کر جمع ہو گئیں اور بھولے کی گمشدگی کی خبر سن کر رونے پیئے لگیں۔

        میں عورتوں سے زیادہ پیٹ رہا تھا۔ آج میں نے ایک بازی گر کو اپنے گھر کے اندر گھورتے بھی دیکھا تھا مگر میں نے پروا نہیں کی تھی ۔ آہ ! وہ وقت کہاں سے ہاتھ آئے میں نے دعائیں کیں کہ کسی وقت کا دیا کام آجائے منتیں مانیں کہ بھولا مل جائے ۔ وہی اندھیرے گھر کا اجالا تھا۔ اس کے دم سے میں اور مایا جیتے تھے ۔ اسی کے آس سے ہم آڑے پھرتے تھے ۔ وہی ہماری آنکھوں کی بینائی ، وہی ہمارے جسم کی توانائی تھا۔ اس کے بغیر ہم کچھ نہ تھے۔

میں نے گھوم کر دیکھا۔ مایا بے ہوش ہوگئی تھی ۔ اس کے ہاتھ اندر کی طرف مڑ گئے تھے نسیں کھنچی ہوئی اور آنکھیں پتھرائی ہوئی تھیں اور عورتیں اس کی ناک بند کر کے ایک چمچے سے اس کے دانت کھولنے کی کوشش کررہی تھیں۔

میں سچ کہتا ہوں ایک لمحے کے لیے میں بھولے کو بھی بھول گیا۔ میرے پاؤں تلے کی زمین نکل گئی۔ ایک ساتھ گھر کے دو بشر جب دیکھتے دیکھتے ہاتھوں سے چلے جائیں تو اس وقت دل کی کیا کیفیت ہوتی ہے۔ میں نے لرزتے ہوئے ایشور کو برا بھلا کہا

کہ ان دکھوں کے دیکھنے سے پیشتر اس نے میری ہی جان کیوں نہ لے لی ۔ آہ ! مگر جس کی قضا آتی ہے اس کے سوا کسی اور کا بال تک بیکا نہیں ہوتا۔

قریب تھا کہ میں بھی مایا کی طرح گر پڑوں کہ مایا ہوش میں آ گئی۔ مجھے پہلے سے کچھ سہارا ملا ۔ میں نے دل میں کہا۔ ” میں ہی مایا کو سہارا دے سکتا ہوں اور اگر میں خود اس طرح حوصلہ چھوڑ دوں تو مایا کسی طرح نہیں بچ سکتی“ میں نے حواس جمع کرتے ہوئے کہا،

مایا بیٹی دیکھو ! مجھے یوں خانہ خراب مت کرو حوصلہ کرو۔ بچے اغوا ہوتے ہیں مگر آخرمل بھی جاتے ہیں ۔ بازی گر بچوں کو مارنے کے لیے نہیں لے جاتے ۔ پال کر بڑا کر کے کسی کام میں لانے کے لیے لے جاتے ہیں بھولا مل جائے گا۔"

ماں کے لیے یہ الفاظ بے معنی تھے۔ مجھے بھی اپنے اس طرح صبر کرنے پر گمان ہوا۔ گویا میں اس وجہ سے چپ ہو گیا ہوں کہ مجھے مایا کے مقابلے میں بھولے سے بہت کم پیار ہے مگر" نہیں"۔ میں نے کہا" آدمی کو ضرور کچھ حوصلہ دکھانا چاہیے۔"

اس وقت آدھی رات ادھرتی اور آدھی ادھر۔ جب ہمارا پڑوسی اس حادثے کی خبر تھانے میں پہنچانے کے لیے جو گاؤں سے دس کوس دور شہر میں تھا ، روانہ ہوا۔

باقی ہم سب ہاتھ ملتے ہوئے صبح کا انتظار کرنے لگے تا کہ دن نکلنے پر کچھ سجھائی دے۔

دفعتاً دروازہ کھلا اور ہم نے بھولے کے ماموں کو اندر آتے دیکھا۔ اس کی گود میں بھولا تھا۔ اس کے سر پر مٹھائی کی ٹوکریاں اور ایک ہاتھ میں بنتی تھی۔ ہمیں تو گویا دنیا کی تمام دولت مل گئی۔ مایا نے بھائی کو پانی پوچھا نہ خیریت اور اس کی گود سے بھولے کو چھین کر اسے چومنے لگی ۔ تمام اڑوس پڑوس نے مبارک باد دی ۔ بھولے کے ماموں نے کہا۔

مجھے کسی کام کی وجہ سے دیر ہوگئی تھی۔ دیر سے روانہ ہونے پر شب کی تاریکی میں میں اپنا راستہ گم کر بیٹھا تھا۔ یکا یک مجھے ایک جانب سے روشنی آتی دکھائی دی میں اس کی جانب بڑھا۔ اس خوفناک تاریکی میں پرس پور سے آنے والی سڑک پر بھولے کو بتی پکڑے

ہوئے کانٹوں میں الجھے ہوئے دیکھ کر میں ششدر رہ گیا۔ میں نے اس کے اس وقت وہاں ہونے کا سبب پوچھا تو اس نے جواب دیا"... کہ بابا جی نے آج دوپہر کے وقت مجھے کہانی سنائی تھی اور کہا تھا کہ دن کے وقت کہانی سنانے سے مسافر راستہ بھول جاتے ہیں تم دیر تک نہ آئے تو میں نے یہی جانا کہ تم راستہ بھول گئے ہو گے اور بابا نے کہا تھا اگر کوئی مسافر راستہ بھول گیا تو تم ذمہ دار ہو گے نا.... !!

راجندر سنگھ بیدی

(1915 - 1984)

راجندر سنگھ بیدی تحصیل ڈسکا ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد لاہور آگئے۔ 1932 میں طالب علمی کے زمانے میں انگریزی، اردو اور پنجابی میں نظمیں اور کہانیاں لکھنے لگے تھے۔ کچھ مدت بعد پوسٹ آفس لاہور میں کلرک ہو گئے ۔ 1943 میں ڈاک خانے کی ملازمت سے مستعفی ہو کر مرکزی حکومت کے پبلسٹی ڈپارٹمنٹ میں کام کیا اور اس کے بعد آل انڈیا ریڈیو میں بحیثیت اسٹاف آرٹسٹ کام کرنے لگے۔ 1948 میں جموں ریڈیو اسٹیشن کے ڈائرکٹر بنائے گئے لیکن ایک ہی سال میں استعفی دے کر بمبئی چلے گئے اور فلموں کے لیے لکھنے لگے۔ ان کے افسانوں کے چھے مجموعے شائع ہوئے ہیں۔ دانہ و دام (1965)" گرہن“ (1942) آزادی سے پہلے شائع ہو چکے تھے۔ کوکھ جلی (1949)، "اپنے دکھ مجھے دے دو" (1965)، "ہاتھ ہمارے قلم ہوئے ‘‘(1974) اور مکتی بودھ" (1982) آزادی کے بعد منظر عام پر آئے۔ ڈراموں کے دو مجموعے ” بے جان چیزی‘‘ (1943) اور سات کھیل‘‘ (1946) شائع ہوئے۔ راجندر سنگھ بیدی کا ناولٹ ایک چادر میلی سی (1962) ان کی تصانیف میں سب سے زیادہ مشہور ہوا۔ راجندر سنگھ بیدی نے کچھ  فلمیںں بھی بنائیں جن میں ’’ دستک‘‘ خاصی مشہور ہوئی۔ "مرزا غالب“، ’’دیوداس "، "مدھومتی" اور "انورادھا" میں بیدی کے مکا لمے بہت مشہور ہوئے۔

بیدی کے افسانوں میں ایک ہمدرد انسان کی نرمی اور دردمندی ہے۔ وہ ہر چیز کو گہری نظر سے دیکھتے ہیں ۔ بیدی نے اپنے افسانوں میں نئی تشبیہیں، نئے استعارے اور کنایے وضع کیے ہیں

غور کرنے کی بات

اس افسانے میں بھولا کی بھولی بھالی با تئیں، اس کی ذہانت اور شرارت اور پھر اچانک اس کا غائب ہو جا نا دلچسپ اور پر اثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ افسانے میں بھولا کے کردار کے ذریعے ایک بچے کی نفسیات بڑی خوبی کے ساتھ پیش کی گئی ہے۔

اس زمانے میں بیوہ عورت کا سماج میں کوئی مقام نہیں تھا اور یہ سمجھا جاتا تھا کہ جس عورت کا شوہر مر گیا ہو اسے دنیا میں جینے کا حقدار نہیں ۔ نہ تو وہ اچھا کھانا کھا سکتی ہے نہ نگین لباس پہن سکتی ہے۔ مصنف نے اس افسانے میں بوڑھے دادا کے ذریعے سماج کے اس رویے کی مخالفت کی ہے تا کہ بیوہ عورت کو سماج میں بہتر مقام حاصل ہو سکے۔

سوالوں کے جواب :

1. بھولا گیتا شوق سے کیوں سنتا تھا۔

2۔ دوپہر میں کہانی سننے کے باوجود بھولا کے چہرے پر خوشی کیوں نہیں نظر آ رہی تھی؟

3. ’’ عورت کا دل محبت کا سمندر ہوتا ہے۔ مصنف نے یہ بات کیوں کہی ہے؟

4. بھولا کہاں چلا گیا تھا اور کیوں؟

عملی کام :

بھولا کی واپسی کے منظر کو اپنے الفاظ میں بیان کیجیے۔

  اس سبق میں کچھ محاورے آئے ہیں جیسے نام روشن کرنا، آپ بھی ایسے چند محاورے تلاش کر کے لکھیے۔ افسانے میں کچھ ہندی کے الفاظ آئے ہیں انھیں لکھیے۔ افسانے کے آغاز میں راکھی باندھنے کا ذکر آیا ہے۔ اس تہوار کا کیا نام ہے اور اسے کیسے منایا جاتا ہے، اس پر ایک مختصر نوٹ لکھیے۔

 

0 comments:

Post a comment

خوش خبری