آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Friday, March 8, 2019

عالمی یوم خواتین پر خصوصی مضمون

اسلامی معاشرے میں خواتین کا مقام

( یہ مضمون 8 مارچ 2014 کو شائع ہوا تھا مضمون کی
 افادیت دیکھتے ہوئے اسے از سر نو پیش کیا جارہا ہے۔)

آج یوم خواتین ہے۔دنیا بھر میں خواتین اپنی شناخت کی بقا کے لئے منصوبے بنا رہی ہیں۔معاشرے میں اپنی حیثیت کو تسلیم کرانے کے لئے جد وجہد کے راستے تلاش کر رہی ہیں اور اس اندھی دوڑ میں اسلام کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔حالانکہ وہ سب اس حقیقت سے لاعلم ہیں کہ خواتین کے حقوق کو تسلیم کرنے اور انہیں ایک انقلابی حیثیت دینے میں اسلام سب مذاہب سے آگے ہے۔

کیا اسلامی معاشرے میں خواتین  کے ملازمت اختیار کرنے کو آج بھی معیوب سمجھا جاتا ہے؟ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی لڑکیوں سے یہ توقع کی جاتی ہے  کہ وہ شادی کے بعد اپنے گھر کی چہاردیواری تک محدود رہیں۔ لڑ کیوں کو ملازمت کے’’ قبیح فعل‘‘ سے بعض رکھنے کے لئے اسلامی احکامات کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے۔

بے شک اسلام نے شرم و حیا کو عورتوں کا زیور بتایا ہےاور اسے پردے میں رہنے کی تلقین کی ہے،لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ اسلام نے شرعی حدود میں خواتین کے کام کرنے کو کبھی غلط نہیں سمجھا۔اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ اسلام نے عورتوں کو دیگر مذاہب کے مقابلے کہیں زیادہ آزادی دی ہےاور پوری طرح ان کے حقوق کی حفاظت کی ہےخواتین کو اپنی فلاح و بہبود کے لئے کسی دوسرے کی جانب دیکھنے کی قطعی ضرورت نہیں۔اسلام نے ان کو وہ تمام آزادی فراہم کی ہے جن سے وہ جائز طریقے پر اپنی ضروریات کی تکمیل کرسکتی ہیں۔ہندوستانی معاشرے میں عورتوں سے جو ناروا سلوک کیا جاتا ہے اس کا اسلامی تعلیمات سے کوئی واسطہ نہیں بلکہ یہ اس تہذیب کی دین ہے جس کی بنیاد مردوں کے آمرانہ مزاج پر رکھی گئی ہے۔غور طلب بات یہ ہے کہ آحر وہ کون سے عوامل ہیں جنہوں نے صنف نازک کو اپنی تہذیب و تمدن سے بغاوت پر آمادہ کیا۔ وہ کیا وجوہات ہیں جنہیں انہوں نے ان طاقتوں کا آلہ کار بنادیا جو ہمارے تہذیب و تمدن اور اسلامی شناخت کو ملیا میٹ کردینا چاہتی ہیں۔ اگر ہم نے فوری طور پر اپنا محاسبہ نہ کیا اور اس کے سد باب  کی کوشش نہ کی گئی تو حالات مزید نازک ہوتے چلے جائیں گے۔

آج ہندوستانی معاشرے میں مسلم خواتین اپنی ہم وطنوں کی طرح ملازمتیں اختیار کر رہی ہیں۔انہیں اس معاملہ میں یکلحت یہ کہ کر روکا نہیں جاسکتا کہ اسلام انہیں اس کی اجازت نہیں دیتا۔اسلام نے عورتوں و مردوں سب کو مساویانہ حقوق دیے ہیں ساتھ ہی اس نے سبھی معاملے میں ایک حد مقرر کی ہے، اصول و ضوابط مقرر کیے ہیں۔ کوئی بھی شخص خواہ وہ مر د ہو یا عورت اپنی حد سے تجاوز نہیں کر سکتا۔اسلام دین فطرت ہے اور اس نے تمام فطری تقاضوں کوملحوظ خاطر رکھا ہے۔اب اس صورت میں اپنی جانب سے سخت رویہ اپنایا جائے گاتو ظاہر ہے اس کے رد عمل میں وہ نتائج ظہور پذیر ہوں گے جو معاشرے کے لئے خطر ناک ہیں لیکن انسانی ضرورتوں اور فطری تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک درمیانی راستہ اختیار کیا جائے تو تمام مسئلوں سے بہ آسانی نمٹا جا سکتا ہے۔

بے جا رکاوٹوں اور حد سے زیادہ پابندیوں کی وجہ سے عورتوں میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ مرد اپنی قوامیت ثابت کرنے کے لئے ان کو دبا کر رکھنا چاہتے ہیں ۔ وہ یہ سمجھتی ہیں کہ اسلام نے انہیں جو اختیارات دیے ہیں انہیں اس سے محروم رکھا جاتا ہے اور اسلام  کے نام پر ان کا استحصال کیا جاتا ہے۔ممعاشرے کےعملی شواہد بھی ان کے اس الزام کی تائید کرتے ہیں۔ہندوستانی معاشرے میں خواتین کے ساتھ پردے اور گھریلو ذمہ داریوں کے کے نام پر جو ناروا سلوک عام رکھا گیا اس کی مثال مہیں ملتی۔بے بسی اور کم مائیگی کے احساس نے ان کے اندر  بغاوت پیدا کردی ہے اور اپنی جائز ضرورتوں اور مطالبوں کے حصول کے لئے انہوں نے غلط راستہ اختیار کرلیا ہے۔معاشرے میں عورتوں میں جو یہ آزادی پائی جاتی ہے اس کے لئے بہت حد تک مرد ذمہ دار ہیں۔اگر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں معاشرے میں بیداری پیدا کی جاتی اور عورتوں کے حقوق سلب نہ کئے جاتے تو آج یہ صورت حال پیدا نہ ہوتی۔

اسلام مرد و عورت کی جداگانہ اور منفرد حیثیت کو تسلیم تو کرتا ہے لیکن اس کے نزدیک ان دونوں کے درمیان کسی مادی کشاکش یا مفاداتی تصادم کا کوئی  وجود نہیں۔اسلام میں مرد اور عورت دونوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں بلکہ بعض معاملوں میں عورتوں کو مردوں پر سبقت حاصل ہے۔
                        

Sunday, February 24, 2019

NCERT Urdu Solutions for Class 6, 7 and 8

 این سی ای آر ٹی اردو کی درسی کتابات کے حل






VIII کلاس

IX کلاس

 کلاس X (جان پہچان)





پیارے بچّوں!

 اردو ایک بہت پیاری اور آسان زبان ہے۔ تم ایک بار اس زبان میں مہارت حاصل کرلو تو یہ خود بہ خود تم کو اپنا گرویدہ بنالے گی۔ یعنی تم اس زبان کے بنا رہ نہیں پاؤگے۔ انٹرنیٹ کے زمانے میں اس کا پڑھنا اور سمجھنا اور بھی آسان ہو گیا ہے۔ اسکول میں اگر یہ زبان تمہیں مشکل لگتی ہے تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہم نے اس کا حل ڈھونڈھ لیا ہے۔ انٹرنیٹ پر جہاں دسرے سبجیکٹ کے حل موجود ہیں۔ ہم نے بھی این سی ای آر ٹی کی مختلف درجات کی اردو کتابوں کے سوال نامے کا حل یہاں پیش کیا ہے۔ یہ صرف آپ کی سہولت کے لیے ہے آپ اس پر مکمل انحصار نہ کریں بلکہ اس سے سیکھیں اور اپنے جوابات خود لکھیں۔

 ہم چاہتے ہیں کہ آپ کو جہاں بھی کچھ دشوار لگے ہم سے پوچھیں۔
اردو لکھنے پڑھنے اور سیکھنے میں جو بھی مدد آپ کوچاہیے ہم اس کے لیے تیار ہیں۔

ممکن ہے آپ کی کتاب اس سے الگ ہو۔ پریشان نہ ہوں آپ صرف اپنے سوال ہمیں بھیجیں۔اور اس کا جواب پائیں۔

 ہر سبق کے نیچے تبصرے کی جگہ موجود ہے وہاں آپ  اپنے سوالات لکھیں۔ پہلی فرصت میں اس کا جواب دیا جائے گا۔ اگر آپ واٹس اپ پر ہم سے اپنے سوالوں کا جواب چاہتے ہیں تو ہمارا نمبر ہے 9599547069

ہمارا مقصد آپ کو اردو سکھانا ہے۔ مفت ، بالکل مفت

 اردو لکھنے، پڑھنے اور سیکھنے میں آپ کے تعاون کے لیے ہمیشہ تیار۔


 آئینہ

Monday, February 18, 2019

Kalim Ajiz - Teri Masti Ke Afsane Rahein Ge


تحریر: مبشر ابن طاہرعثمانی

کلیم آئے بھی اپنی غزل سنا بھی گئے
الاپ بھی گئے رو بھی گئے رُلا  بھی گئے
سوز و گداز میں ڈوبی ہوئی ایک آواز جو ۷۰ اور ۸۰ کی دہائی میں کُل ہند مشاعروں کی جان ہوا کرتی تھی آج خاموش ہوگئی۔پدم شری ڈاکٹر کلیم عاجز اس دنیا میں نہیں رہے۔انہوں نے اپنے منفرد انداز بیان سے اردو شاعری میں میر کے لہجے کو آگے بڑھایا۔اپنی زندگی کے سب سے بڑے المناک حادثوں کو انہوں نے آفاقی بنا دیا۔ ان کی درد بھری المناک یادیں صرف انہی تک محدود نہیں  رہیں بلکہ ان کے اشعار میں وہ تاریخ کا حصّہ بن گئیں۔ لال قلعہ کے مشاعرہ میں پڑھے گئے اس شعر 

دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہے کہ کرامات کرو ہو

کو آج بھی اہل علم یاد کرتے ہیں تو اس کمزور جسم کے ناتواں انسان کےاس شدید شعری احتجاج کو نہیں بھلا پاتے۔آج بھی یہ شعر زبان زد خاص و عام ہے۔خود کلیم عاجز کو اس بات کا احساس تھا کہ یہ تلخ لہجہ اگر غزل کے حسین پیرائے میں قید نہ ہوتا تو قابل گردن زدنی قرار دیا جاتا۔یہ شعر بلکہ پوری غزل مخاطبِ غزل کے مزاج نازک پر کتنا گراں گزری یہ تو معلوم نہیں لیکن لال قلعہ کے مشاعروں میں کلیم عاجز کی شرکت ہمیشہ کے لئے ممنوع قرار پا گئی۔خوشنودی حاصل کرنے کی یہ روایت آج بھی زندہ ہے اور  اکیڈمی کے ارباب  اقتدار بخوبی اس روایت کو نہ صرف قبول کر رہے ہیں بلکہ اسے آگے بھی بڑھا رہے ہیں۔
کلیم عاجز کی شاعری ہندوستان کے سماجی و سیاسی حالات کا بھرپور منظر نامہ پیش کرتی ہے۔وہ مناظر و واقعات جو کلیم عاجز کی شاعری کا بنیادی جز بنے وہ آج بھی مختلف شکلوں میں دہرائےجا رہے ہیں۔کھونے اور لُٹ جانے کا احساس بہتوں کو ستا رہا ہے۔آج بھی لوگوں کے دل اسی طرح زخموں سے چور ہیں اور ہر درد مند انسان اس کو اپنی زندگی کا ایک حصّہ سمجھتا ہے ۔یہی سبب ہے کہ قاری ڈاکٹر عاجز کا جب بھی کوئی شعر پڑھتا ہے تو اسے وہ اپنے دل سے نکلتی ہوئی آواز محسوس کرتا ہے۔اگر اپنے اشعار کی ترسیل میں کلیم عاجز کی انا پسندی کا دخل نہ ہوتا تو شاید آج وہ ہندوستان کی گلی کوچوں کے سب سے مقبول شاعر ہوتے۔
ایک زمانہ تھا کہ کلیم عاجز ہندوستانی مشاعروں کی جان ہوا کرتے تھے۔میرے والد حضرت حکیم شاہ محمد طاہر عثمانی فردوسی ؒ جو خود بھی ایک شاعر تھے ڈاکٹر کلیم عاجز سے خصوصی لگاؤتھا۔اس زمانے میں وہ جب بھی دھنباد تشریف لاتے تو ہمارے گھر ضرور آتے۔والد محترم سے گھنٹوں ادبی و شعری گفتگو ہوتی اور باتوں ہی باتوں میں ایک شعری نشست ہوجاتی۔مشاعروں میں ایک ایک شعر کے لئے ناز و انداز دکھانے والے کلیم عاجز اتنی محبت سے شعر پر شعر سناتے کے ان کی فراخدلی دیکھتے ہی بنتی۔شاید ڈاکٹر کلیم عاجز کو احسا س تھا کے اس محفل میں ان کے سچے قدرداں موجود ہیں۔ یہی صورت حال میرے خالو سید ناطق قادری  اور ماموں طارق قادری کے ساتھ تھی۔نہیں معلوم ان کے دلوں پر اس سانحہ کے بعد کیا گزری ہوگی۔ کلیم عاجز ان کے لئےمشفق بڑے بھائی  اور ہمدم سے کم نہ تھے۔ان کے آبائی گاؤں بمنڈیہہ جو اورنگ آباد بہار میں واقع ہے وہ اکثر تشریف لاتے۔ تبلیغ کی اہم معمولات کی ادائیگی کے بعد ادبی گفتگو مشاعرہ میں تبدیل ہوجاتی اور پھر کلیم عاجز کے اشعار اور واہ واہ کی یلغار کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا اور پھر موذن ہی اس سلسلہ کو لگام لگا پاتا۔اس محفل میں کلیم عاجز نعتیں  غزلیں یہاں تک کے گیت بھی سناتےجو کبھی بہار کی ادبی روایت کا ایک حصّہ ہوا کرتی تھیں۔میرے وطن جھریا میں تو ڈاکٹر کلیم عاجز کے آنے کاسلسلہ تو رفتہ رفتہ کم ہوگیا بلکہ والدماجد کے انتقال کے بعد بالکل ہی ختم ہوگیا لیکن بمنڈیہہ آنے کا سلسلہ تا حال جاری رہا۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کے یہ شعری نشستیں ان مشاعروں سے بالکل الگ تھیں جو بین الاقوامی سطح پر عرب ممالک میں منعقد ہوا کرتی تھیں ۔ بعض وجوہات کی سبب انہوں نے ہندوستانی مشاعروں میں حصّہ لینا بہت پہلے ہی ترک کردیا تھا۔آج ادبی دنیا کی اہم شخصیتیں اردو مشاعروں کے تہذیبی زوال پر انگلیاں اٹھا رہی ہیں لیکن کلیم  عاجز کے حساس مزاج نے برسوں قبل اس ماحول سےاپنی ذات  کو الگ کرلیا تھا۔انہیں ڈر تھا

کوئی ناشناس مزاج غم کہیں ہاتھ اس کو لگا نہ دے

گرچہ یہ موقع شکوہ و شکایت کا نہیں لیکن جب ہم اس پہلو پر غور کرتے ہیں کہ آخر وہ کون سی وجوہات تھیں  جن کی بنا پر جب ان کے عہد کے دوسرے شعرا مشاعروں میں اپنی دھوم مچارہے تھیں کلیم عاجز نے ان مشاعروں سے خود کو الگ کرلیا۔آخر کیوں دبستان عظیم آباد کے اس عظیم شاعر نے دبستان دہلی اور دبستان لکھنؤ سے سجے اسٹیج پر اپنی موجودگی کو اپنی رسوائی کا سبب جانا۔خودداری کا وہ کون سا جذبہ تھا جس نے مشاعروں کے اسٹیج سے دوری کو ہی اپنے عزت نفس کی تسکین کا ذریعہ جانا۔ گرچہ اس زمانے میں میری عمر بہت کم تھی لیکن مجھے آج بھی یاد ہے شیر وانی اور چوڑی دار پاجامے میں ملبوس یہ باریش اور پرنور شخصیت کس طرح جام و مینا میں ڈوبےشاعروں کے لئے باعث تضحیک ہوتی تھی ۔ان کے سامنے زبان کھولنے کی تو کسی میں ہمت نہ تھی لیکن ان کی شاعری میں شامل علاقائی لب و لہجہ جو کسی حد تک زبان ِ میر کے قریب ہونے کے باوجودان کے لئے باعث مزاح ہوتا  تھا۔عاجز کا یہ شعر

رکھنا ہے کہیں پاؤں تو رکھو ہو کہیں پاؤں
چلنا ذرا آیا ہے تو اترائے چلو ہو

ایسے ہی ’’ناشناس مزاج غم‘‘کی جانب ایک اشارہ ہے۔بہار کے شہر جھریا میں کل ہند مشاعرہ  جس کے انعقاد میں والد ماجد کی سرگرم کوششوں کا بڑا دخل تھا بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ وہ اس مشاعرہ کے روح رواں تھےاس  مشاعرہ میں اس وقت تمام نامور شعرا نے شرکت کی تھی جن میں علامہ فرقت کاکوروی٬ہلال سیوہاروی٬ملک زاد ہ منظور احمد٬ کنور مہندر سنگھ بیدی سحر٬ڈاکٹر بشیر بدر٬اور ڈاکٹر کلیم عاجز وغیرہ شامل تھے۔جھریا سے قبل  جھارکھنڈ کےگریڈیہ کے مشاعروں میں ان تمام شعرا نے شرکت کی تھی۔اس مشاعرہ میں کسی بات پر ڈاکٹر کلیم عاجز کی انانیت کو ٹھیس پہنچی اور اس کے بعد انہوں نے ناظم مشاعرہ اور سجی سنوری شاعرات کو مقابل رکھ کر جو فی البدیہ غزل سنائی تو سبھی ہکا بکا منہ تکتہ رہ گئے۔یہاں میں نے ہکا بکا کا لفظ بطور خاص استعمال کیا ہے کہ زبان و بیان کے ٹھیکے دارسادہ الفاظ کی وسعت کو سمجھ سکیں۔مشاعرے میں نوبت یہ تھی کہ اسٹیج خاموش تھا اور پنڈال واہ واہ اور دوبارہ ارشاد کی صداؤں سے گونج رہا تھا۔

مکمل غزل ملاحظہ کریں

اس ناز اس انداز سے تم ہائے چلو ہو
روز ایک غزل ہم سے کہلوائے چلو ہو
رکھنا ہے کہیں پاؤں تو رکھو ہو کہیں پاؤں
چلنا ذرا آیا ہے تو اترائے چلو ہو
دیوانہ گل قیدیٔ زنجیر ہیں اور تم
کیا ٹھاٹ سے گلشن کی ہوا کھائے چلو ہو
مئے میں کوئی خامی ہے نہ ساغر میں کوئی کھوٹ
پینا نہیں آئے ہے تو چھلکائے چلو ہو
ہم کچھ نہیں کہتے ہیں کوئی کچھ نہیں کہتا
تم کیا ہو تمہیں سب سے کہلوائے چلو ہو
زلفوں کی تو فطرت ہی ہے لیکن مرے پیارے
زلفوں سے زیادہ تمہیں بل کھائے چلو ہو
وہ شوخ ستم گر توستم ڈھائے چلے ہے
تم ہو کہ کلیمؔ اپنی غزل گائے چلو ہو

کلیم عاجز کی انا کو جو ٹھیس لگی تھی اس کا رنگ جھریا کے مشاعرے تک نظر آیا اور ان پر جملہ کسنے والی ٹولی ان سے شرمندہ شرمندہ سی رہی۔
کلیم عاجز ٹوٹے ہوئے دل کے مالک تھے۔اور بہار میں صوفیوں کے سرتاج حضرت مخدوم الملک شیخ شرف الدین احمد یحیٰ منیری کا کہنا ہے کہ جو دل جتنا ٹوٹا ہوتا ہے اتنا ہی قیمتی ہوتا ہے۔ اقبال کی زبان میں ؃
جو شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہ آئینہ ساز میں
عاجز کا دل ایک جانب تو  زخموں سے چور تھا دوسری جانب وہ  عشق رسول ،محبت الٰہی سے سرشار اور خوف خدا سے بھی پارہ پارہ تھا

دل کی یہ شکستگی اور خاتم النبی حضرت محمد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی بے پناہ محبت کلیم عاجز کے نعتیہ اشعار میں جا بجا نظر آتی ہے۔ ان کی نعت دربار  ِ بے کس پناہ میں امت مسلمہ کی حالت  زار کا بیان اور ان کی نگاہ لطف کرم  اور ظالموں سے نجات کے لئے عرضی ہے۔  کلیم عاجز کی بیشتر نعتیں ہندوستان میں رو نما ہونے والے بدترین فسادات کے بعد کہی گئیں ۔بے سرو سامانی کی حالت میں کلیم عاجز کے لئےیہی ایک دربار ہے جہاں وہ اپنا حال دل بیان کرتے نظر آتے ہیں ۔ مراد آباد میں عید کے دن ہونے والے فسادات سےمتاثرہوکر یہ نعت کہی۔اس نعت کے چند اشعار یہاں آپ کی نذر ہیں جس میں  ان کے دل میں اپنی قوم کے درد اورظالموں سےپناہ کی خواہش صاف نظر آتی ہے


مدینہ پہونچ کر سرِعام کہیو
صبا کملی والے سے پیغام کہیو


طبیعت اندھیروں سے اکتا گئی ہے
بہت دن سے ہے شام ہی شام کہیو

خزاں بھی گذاری بہاریں بھی دیکھیں
ملا کوئی کروٹ نہ آرام کہیو

ہمیں پھول بانٹیںہمیں زخم کھائیں 
وہ آغاز تھا اور یہ انجام کہیو


وہ خود ہی نہ دریافت فرمائیں جب تک
تخلص نہ ان سے مرا نام کہیو


جس طرح غالب کی شاعری کا ذکر غالب کی نثر کے بغیر ممکن نہیں ٹھیک اسی طرح کلیم عاجز کی شاعری کا تذکرہ ہو اور ان کی نثر کو بھلا دیا جائے ایسا ممکن نہیں۔دراصل  کلیم عاجز کی نثر ان کی شاعری کا پیش لفظ ہے۔ ان کی کتاب ’’ وہ جو شاعری کا سبب ہوا•••‘‘٬ابھی سن لو مجھ سے٬ جب فصل  بہاراں آئی تھی٬یہاں سے کعبہ کعبہ سے مدینہ اورجہاں خوشبو ہی خوشبو تھی  میں  الفاظ  کی روانی٬سادگی اور ان کی معنویت نثر میں نظم کا احساس پیدا کرتی ہے۔الفاظ اتنے سادہ اور مربوط ہیں  اور اندازبیان اتنا دل کو چھو جانے والا ہے کہ آپ کی آنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔غم جاناں کس طرح غم دوراں بنتا ہے اس کا احساس بھی نہیں ہوتا ۔ان کی نثر نہ صرف ایک المناک داستان ہے بلکہ تاریخ ہے ان فسادات کی جو زمانے میں ہندوستان کے لئے ایک عفریت رہی ہے اور اس نے ہندوستان کے ہزاروں افراد کو اپنا نشانہ بنایا۔کلیم عاجز نے اس غم کو نہ صرف حرز جاں بنایا بلکہ  اپنے غم کو دوسرےحساس دلوں کی آواز بھی بنا دیا۔میں نے کلیم عاجز کی اس نثر کو متعدد بار پڑھنے کی ناکام کوشش کی لیکن اس حقیقی بیانیے نے میرے قدم روک دیے میں نے ان وحشت ناک  مناظر سے فرار میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔شاید مجھ میں ان لمحوں کو جینے کی ہمت نہ تھی۔ کلیم عاجز ۸۵ برسوں تک ان لمحوں کو سینے سے لگائے کس طرح گنگناتے رہے یہ انہی کا دل گردہ تھا۔میرا اپنا خیال ہے کہ کلیم عاجز کو پدم شری اور عزت و شہرت تو ملی لیکن عوام کو ان کی اس قدر کا موقع نہیں دیا گیا جس کے وہ مستحق تھے۔

تری مستی کے افسانے رہیں گے
جہاں گردش میں پیمانے رہیں گے



ابھی کلیم کو کوئی پہچانتا نہیں
یہ اپنے وقت کی گدڑی  میں لعل ہیں پیارے

کلیم عاجز کے وہ اشعارجو زمانے سے میری ڈائری کی زینت ہیں ارور آج انکی اہمیت اور بھی زیادہ ہوگئے ہے۔
بکنے بھی دو عاجز کو جو بولے ہے بکے ہے
دیوانہ ہے دیوانے کی کیا بات کرو ہو

عاجز کے جسے چین نہ تھا بستر گل پر
اب چھوڑ کے سب راحت و آرام پڑا ہے

عاجز یہ تم نے کیا غزل بے مزا پڑھی
ایک شعر بھی نہیں صفت زلف یار میں


Sunday, February 17, 2019

Kundan Lal Sehgal - NCERT Solutions Class VIII Urdu

کندن لال سہگل

سوچیے اور بتائیے

1. شرت چند چٹرجی کے ناول پر بنی پہلی فلم کا کیا نام تھا اور وہ کس زبان میں تھی؟
جواب: شرت چند چٹرجی کے ناول پر بنی پہلی فلم کا نام 'دنیا پاونا' تھا اور یہ بنگالی زبان میں تھی۔

2.بی این سرکار نے اپنی دوسری فلم کس زبان میں بنائی؟
جواب: این سرکار نے اپنی دوسری فلم ہندوستانی زبان میں بنائی۔

3. کے ایل سہگل نے اپنی کس خوبی سے سرکار صاحب اور بورال دا کو متاثر کیا؟
جواب:کے ایل سہگل نے اپنے گانے سےسرکار صاحب اور بورال کو متاثر کیا۔

4. ماتھا کی شکنیں گہری ہونے سے کیا مراد ہے؟
جواب: ماتھے کی شکنیں گہری ہونے سے مراد ہے کسی بات کا پسند نہ آنا، کسی سوچ میں ڈوبے ہونا یا کسی بات پر ناراض  ہونا۔

5. کے ایل سہگل صاحب کو دیکھ کر آترتھی صاحب نے کیا کہا؟
جواب: کے ایل صاحب صاحب کو دیکھ کر آترتھی صاحب نے کہا''اس لمبے سوکھے بدن کے ساتھ کیا خاک ایکٹنگ کریں گے۔دیکھنے سے لگتا ہے جیسے بانس پر کپڑے لٹکا دیے گئے ہوں۔نہ صورت نہ صحت۔"

6. آتھرتی کی باتوں کا سہگل پر کیا اثر ہوا؟
جواب: آترتھی کی باتوں سے سہگل کی حالت خراب ہوگئی تھی۔ آترتھی کا ایک ایک لفظ ان کے دماغ پر ہتھوڑے کی طرح برس رہا تھا۔ پہلے وہ یہ سوچ کر خوش تھے کہ انہیں اپنی منزل مل گئی لیکن اب لگا کہ جسے وہ اپنی منزل سمجھ رہے تھے وہ محض ایک چھلاوہ تھا۔

7. موسیقی تو ایک مسلسل ہنر ہے بیٹے' یہ آواز سہگل نے کب محسوس کی؟
جواب: جب سہگل کی خود اعتمادی ان کا ساتھ چھوڑ چکی تھی تب انہوں نےجموں کے پیر بابا کی یہ آواز محسوس کی۔

8. سہگل میں خود اعتمادی کیسے لوٹی؟
جواب: جموں کے پیر بابا کی یہ آواز کہ موسیقی تو ایک مسلسل ہنر ہے بیٹے اور اس میں منزل نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی ۔ اگر کچھ ہوتا ہے تو بس ریاض اور ذکر جس کا کوئی خاتمہ نہیں۔ آخر دم تک اسے نبھانا پڑتا ہے۔ اگر تم یہ کر سکے تو تمہاری رح کو سکون ملے گا۔ سلمان پیر کی یہ بات یاد آتے ہی سہگل کو سچ مچ بہت سکون ملا اور ان کی خود اعتمادی جو ذرا دیر پہلے ان کا ساتھ چھوڑ چکی تھی پھر سے لوٹ آئی۔

9. آترتھی صاحب سہگل سے کیوں مطمئین ہو گئے؟
جواب:سہگل کی خود اعتمادی اور آرتھر صاحب کو دیے گئے ان کے اس جواب کو سن کر آترتھی صاحب مطمئیں ہو گئے کہ ''آپ تو پارس ہیں  لوہے کو چھولیں تو سونا بن جائے۔پھر میں آپ کی فلم کا ہیرو کیوں نہیں بن سکتا۔آپ ہی بتائیے۔میرے سر پر آپ کا ہاتھ ہوگا تو میں آسمان کو زمین پر اتار لاؤں گا۔"

11. سہگل کے رونے کی کیا وجہ تھی؟
جواب:جب کیمرے کا سامنا ہوا تو سہگل گھبرا گئے اور ان  سے بار بار غلطی ہو تی گئی۔آٹھ نو بار ری ٹیک ہوچکا تھا اور آترتھی صاحب بھی غصے میںاسٹوڈیو سے باہر نکل گئے۔ یہ دیکھ کر سہگل رونے لگے۔

11. آترتھی کن خوبیوں کے مالک تھے؟
جواب: آترتھی ایک بہت اچھے ڈائریکٹر تھے۔وہ نفسیات کے ماہر تھے اور بہت ہی صبر سے کام لیتے تھے۔

12. کے ایل سہگل کو کن وجہوں سے شہرت حاصل ہوئی؟
جواب: سہگل کو ان کی آواز اور اداکری کے دم پر زبردست شہرت حاصل ہوئی۔

صحیح جملوں کے سامنے صحیح اور غلط کے سامنے غلط کا نشان لگائیے۔

1. کے ایل  سہگل کی پہلی فلم کا نام ماں کے آنسو تھا۔(غلط)

2. ہیرو کے رول کے لیے مناسب کردار موجود تھا۔(غلط)

3. کے ایل سہگل بہت اچھا گاتے تھے۔(صحیح)

4. کے ایل سہگل ایک تندرست جسم کے مالک تھے۔(غلط)

5. سلمان پیر کی بات سے سہگل کو سچ مچ بہت دکھ ہوا۔(غلط)

نیچے لکھے لفظوں کو جملوں مں استعمال کیجیے۔

دقیانوسی: سہگل کے ماں باپ دقیانوسی خیالات کے مالک تھے۔

انتخاب: وہ صدارتی انتخاب میں کمیاب ہوگیا۔

مکالمہ: فلموں کے لیے مکالمہ لکھنا آسان نہیں ہوتا۔

پارس: پارس اگر لوہے کو چھو لے تو وہ سونا بن جاتا ہے۔

توازن: اس کا دماغی توازن بگڑ گیا۔

حوصلہ افزائی: استاد ہمیشہ اپنے شاگردوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

تناؤ: امتحان کے دنوں میں بچّے تناؤ کا شکار ہوجاتے ہیں۔

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کے متضاد لکھیے۔

توازن
غیر متوازن
احساس کمتری
احساااااحساس کمتریس برتری
مناسب
۔نا مناسب
سکون
بے سکون
مطمئین
۔غیر مطمئین
اعتماد
بے اعتماد





ترتیب

Qurratul Ain Haider - NCERT Solutions Class VIII Urdu

قرۃ العین حیدر



سوال جواب
۱۔قرۃ العین حیدر کی پیدائش کب اور کہاں ہوئی تھی؟
جواب: قرۃ العین حیدر کی پیدائش 20جنوری 1928کو علی گڑھ میں ہوئی تھی۔

۲۔قرۃ العین حیدر کے والدین کے نام لکھیے۔
جواب: ان‌کے والد سید سجاد حیدر یلدرم تھے اور والدہ نذر سجاد حیدر تھیں۔

۳۔سجاد حیدر یلدرم علی گڑھ میں کس عہدے پر فائز تھے؟
جواب: سجاد حیدر یلدرم علی گڑھ میں رجسٹرار کی حیثیت سے مقرر کیےگئے تھے۔

۴۔قرۃ العین حیدر کی ابتدائی تعلیم کہاں ہوئی؟
جواب: قرۃ العین حیدر کی ابتدائی تعلیم دہرہ دون میں ہوئی ۔

۵۔قرۃ العین حیدر نے پہلی کہانی کس عمر میں لکھی؟
جواب: قرۃ العین حیدر نے پہلی کہانی گیارہ سال کی عمر میں لکھی۔

۶۔قرۃ العین حیدر کا مشہور ناول 'آگ کا دریا' کس سنہ میں شائع ہوا؟
جواب: قرۃ العین حیدر کامشہور ناول 'آگ کا دریا ' 1959 میں شائع ہوا۔

۷۔قرۃ العین حیدر کو کون کون سے اعزاز ملے؟
جواب: قرۃ العین حیدر کو پدم شری اور پدم بھوشن سے سرفراز کیا گیا ۔انہیں گیان پیٹھ اور ساہتیہ اکادمی ایوارڈ بھی دیا گیا۔

۸۔قرۃ العین حیدر کا انتقال کب ہوا؟
جواب: قرۃ العین حیدر كا انتقال21اگست2007،نوئیڈا میں ہوا۔ 

خالی جگہ کو صحیح لفظ سے بھریے

1. قرةالعین حیدر کی پیدائش علی گڑھ میں ہوئی تھی۔

2. قرةالعین حیدر کی ابتدائی تعلیم دہرہ دون میں ہوئی تھی۔

3. کہانی 'بی چڑیا' رسالہ پھول میں شائع ہوئی تھی۔

4. ناول آگ کا دریا سال 1959 میں شائع ہوا تھا۔

5. قرةالعین حیدر کو 1990 میں ملک کا سب سے بڑا انعام گیان پیٹھ دیا گیا۔

6. قرة العین حیدر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قبرستان میں دفن ہوئیں۔

جملے بنائے۔
ولادت: قرۃ العین حیدر کی ولادت علی گڑھ میں ہوئی ۔

ترجمہ: انگریزی کہانیاں اردو میں ترجمہ کرکے لکھی جاتی ہیں۔ 

ڈگری: میں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ایم. اے. کی ڈگری حاصل کی۔

ناول: مجھے ناول پڑھنے کاشوق ہے۔

تہذیب: ہندوستان میں گنگا جمنا تہذیب مانی جاتی ہے-

لاحقہ: جو لفظ تنہا استعمال نہیں ہوتے 'لاحقہ' کہلاتے ہیں۔

دار اور گار سے بننے والے تین تین لفظ لکھیے۔

دار
زمین دار
عزت دار
وفادار
رشتہ دار
مالدار
جاندارسمجھدار
حقدار


گار
مدد گار
خدمت گار
روز گار

ترتیب

Chacha Kababi - NCERT Solutions Class VIII Urdu

چچا کبابی دلی والے

سوچیے اور بتائیے

1. چچا کبابی اپنی دوکان کہاں لگایا کرتے تھے؟
جواب: چچا کبابی جامع مسجد کے پھُلواری والے چبوترے کے نیچے پٹری پر جہاں اور کوئی دوکاندار نہیں بیٹھتا تھا اپنی دوکان لگایا کرتے تھے۔

2. چچا کبابی کی شخصیت کی کا خوبیاں تھیں؟
جواب: چچا کبابی کو کباب بنانے میں کمال حاصل تھا۔ وہ غصہ ور شخصیت کے مالک تھے لیکن کیا مجال جو زبان سے بیہودہ لفظ نکل جائے۔

3. چچا کبابی اپنے گاہکوں کو کباب دینے کے لیے کیا طریقہ اپناتے تھے؟
جواب: چچا کبابی اپنے گاہکوں کوباری باری کباب دیا کرتے تھے۔اور اگر کوئی جلدی کرتا تو ان کا پارہ چڑھ جاتا اور وہ اس سے کہتے کہ جو پہلے آیا ہے اسے پہلے کباب ملے گا اورحضور جلدی ہے تو کسی اور سے لے لیجیے۔

4. چچا کبابی نے زندہ دل شخص کو کیا جواب دیا؟
جواب: چچا کبابی نے زندہ دل شخص  سے کہا'' حضور کبابوں میں وہ مسالہ ڈالتا ہوں جسے مست بجار پر لتھیڑ دوں تو گل کر گر پڑے۔ میرے کبابوں سے آپ کو تکلیف پہنچ جائے تو ہسپتال تک کا خرچ دوں گا، لیکن کباب جلدی نہیں دے سکتا۔ جلدی میں کباب یا تو کچّے رہ جاتے ہیں یاجل جاتے ہیں۔ اور دوسرے گاہکوں کا حق بھی چھنتا ہے،جو پہلے آیا ہے کباب اسے پہلے ملنے چاہئیں۔"

5. چچا کبابی نے بچّے کو کباب دینے سے انکار کیوں کیا؟
جواب: چچاکبابی نے بچّے کو کباب دینے سے اس لیے انکار کردیا کہ وہ بچّہ کباب کے لیے پیسے چراکر لاتا تھا۔ اور چچا کبابی نہیں چاہتے تھے کہ اسے چوری کی عادت لگ جائے۔

نیچے دیے ہوئے لفظوں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔

عیاں: اس کا درد اس کے چہرے سے عیاں ہوتا ہے۔

انتخاب: غزلوں کا اشاعت کے لیے انتخاب  کیا گیا۔

مجال: کسی کی مجال نہیں تھی کہ وہ چچا کبابی سے جلدی کباب مانگ لے۔

ترجیح: چچا کبابی کباب دینے کے لیے پہلے آنے والے کو ترجیح دیتے۔

تباہی: جنگ سے تباہی ہوتی ہے۔

مرغوب: کباب دلی والوں کی مرغوب غذا ہے۔

حجّت: حجّت کرنا چچا کبابی کی عادت تھی۔

تلملانا: چچا کبابی غصّے سے تلملا گئے۔




ترتیب

Wednesday, February 13, 2019

Aakhri Qadam - NCERT Solutions Class VI Urdu

آخری قدم
ڈاکٹر ذاکر حسین

سوچیے اور بتائیے

1. نیک آدمی میں کیا خوبیاں تھیں؟
جواب: نیک آدمی اپنی دولت غریبوں اور مستحق لوگوں پر خرچ کرتا تھا۔ نہ جانے کتنی بیوائیں اس کے روپے سے پلتی تھیں ۔وہ کتنے ہی یتیم بچوں کی کفالت کرتا اور ان کے تعلیمی خرچ اٹھاتا تھا۔

2. لوگ اس نیک آدمی کو برا کیوں کہتے تھے؟
جواب: لوگ نیک آدمی کو اس لیے برا بھلا کہتے تھے کہ وہ اپنی سخاوت کی کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دیتا اور اتنی دولت ہونے کے بعد بھی بہت سادہ زندگی گزارتامعمولی کپڑے پہنتا معمولی کھانا کھاتا۔یہاں تک کہ وہ بہت کنجوس مشہور ہوگیا تھا۔

.بعض لوگ اس کی دولت سے کیوں جلتے تھے
جواب: بعض لوگ اس کی دولت سے اس لیے جلتے تھے کہ وہ اسے رنگ رلیوں اور کھیل تماشے میں گھسیٹنا چاہتے تھے لیکن وہ اپنی ہی دھن میں لگا ر ہتا تھا۔

4. وہ نیک آدمی اپنی دولت کن کاموں پر خرچ کرنا چاہتا تھا؟
جواب: وہ نیک آدمی اپنی دولت بیواؤں کی مدد کرنے، یتیموں کی کفالت کرنے، مدرسے چلانے، بیماروں کے لیے شفاخانے کھلوانے اور دین کے فروغ  پر خرچ کرتا تھا۔

5. وہ سیدھے ہاتھ سے دیتا تو الٹے ہاتھ کو خبر نہ ہوتی اس جملے کیا مطلب ہے؟
جواب: اس جملے کا مطلب ہے کہ وہ لوگوں کی انتہائی خاموشی سے دوسروں سے چھپاکر مدد کرتا تھا۔

6. نیک آدمی''حسابِ امانت" میں کیا درج تھا؟
جواب: نیک آدمی ''حساب امانت'' میں اپنا پیسے پیسے کا حساب لکھا کرتا۔ اس نے جس کو کبھی بھی کچھ دیا تھا وہ اس کتاب میں درج تھا۔ کہیں کہیں کیفیت کے خانے میں بڑی دلچسپ باتیں درج تھیں۔ کسی یتیم کو تعلیم کے لیے وظیفہ دیا تھا تو پندرہ سال بعد کی تاریخ میں درج تھا کہ اب وہ احمد آباد میں ڈاکٹر ہیں اور وہاں کے یتیم خانے میں ناظم ہیں۔ کتابوں کے کاروباری کو ایک بار سخت پریشانی کے عالم میں دو ہزار روپے دیے تھے تو کئی سال بعد اس کی کیفیت میں لکھا کہ آج خط آیا ہے کہ اس شخص نے سیرت پاک کے ایک لاکھ نسخے طبع کرکے طلبہ میں مفت تقسیم کیے۔ غرض اس کتاب میں اس کی نیکی اور سخاوت کے تمام واقعات درج تھے۔

7. لوگوں کی باتوں سے تنگ آکر نیک آدمی کیا کرتا تھا؟
جواب: لوگوں کی باتیں سن کر اس نیک آدمی کو سخت رنج پہنچتا اور اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آتے۔ وہ تنہائی میں اپنی ڈائری حساب امانت کو پڑھتا جس سے اس کو قلبی سکون ملتا تھا۔

8. نیک آدمی کا ارادہ کیا تھا؟
جواب: نیک آدمی کا ارادہ تھا کا وہ اپنی کتاب حساب امانت لوگوں کہ لیے چھوڑ جائے گا تاکہ اس کے جانے کے بعد دنیا والوں کو اس کی نیکیوں کا علم ہو۔

9. نیک آدمی نے آخری وقت میں اپنے ارادے پر عمل کیوں نہیں کیا؟
جواب: آخری وقت میں اس آدی کو خیال آیا کہ کسی اور کو شرمندہ کرکے اسے کیا ملے گا۔ بلکہ اس کی زندگی بھر کی نیکی اس کے اس عمل سے ضائع ہوجائے گی۔ اس نے ارادہ کیا کہ اس کا آخری قدم کیوں ڈگمگائے۔ اس نے کتاب کو ضائع کرنے کا فیصلہ کرلیا اور اپنی کتاب کو آگ کی انگیٹھی میں ڈال دیا۔

اس سبق میں لفظ امانت دار آیا ہے۔ جس کے معنی ہیں امانت رکھنے والا۔ نیچے دیے ہوئے لفظوں کے آگے دار لگاکر لفظ بنائیے


دم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دم دار
سمجھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سمجھ دار
شان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شان دار
عزت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عزت دار
خبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خبردار
طرح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ طرح دار
وفا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وفادار
ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوا دار
جان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جان دار
خار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خار دار

نیچے دیے ہوئے محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجیے

دُھن کا پکّا ہونا:وہ اپنی دھن کا پکا تھا۔

ٹھیس لگنا:رزلٹ دیکھ کر اسے ٹھیس لگی۔

جی خون ہونا: متاثرین کو دیکھ کر اسلم کا جی خون ہو گیا۔

سر نہ اٹھنا:شرم کے مارے اسلم کا سر نہ اٹھ سکا۔

حالت غیر ہونا: بھوک سے اس کی حالت غیر ہو گئی۔


ترتیب

Hawai Qile - NCERT Solutions Class VI Urdu

ہوائی قلعے


سوچیے اور بتائیے

1. منشی جی تار کے انتظار میں کیوں بے چین تھے؟
جواب: منشی جی نے لاٹری کا ٹکٹ خریدا تھا اور وہ اس کے نتیجہ کے لیے تار کے انتظار میں تھے کیوں کہ انہیں لگ رہا تھا کہ اس بار ان کی لاٹری ضرور نکلے گی۔

2. منشی جی کو سات تاریخ کا انتظار کیوں تھا؟
جواب: اس لیے کہ سات تاریخ کو لاٹری کا نتیجہ نکلنے والا تھا۔

3. منشی جی نے لاٹری کا ٹکٹ خرید کر کیا کیا منصوبے بنا رکھے تھے؟
جواب: منشی جی نے ایک کوٹھی، بہت ساری جائدادیں، باغ، نوکر چاکر اور موٹر گاڑی خریدنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔

4. منشی جی کی بیوی ان کا مذاق کیوں اڑا رہی تھیں؟
جواب: منشی جی کی بیوی ان کا مذاق اڑا رہی تھیں کہ وہ شیخ چلیوں کی طرح منصوبہ بنا رہے ہیں ۔ انہیں لاٹری نکلنے کا یقین نہیں تھا۔

5. تار کی خبر سن کر منشی جی پر کیا اثر ہوا؟
جواب: تار کی خبر سن کر منشی جی گھبراہٹ کا شکار ہو گئے اور انہیں اختلاج ہوگیا۔

6. منشی جی تار کیوں نہیں کھولنا چاہتے تھے؟
جواب: منشی جی تار اس لیے نہیں کھولنا چاہ رہے تھے کہ انہیں لگ رہا تھا وہ اتنی بڑی خوشی رداشت نہ کر پائیں گے۔ انہیں لگ رہا تھا کہ پتہ نہیں اس تار میں کتنی رقم لکھی ہے۔

6. منشی جی نے دستخط کرنے کی جگہ کیا لکھ دیا تھا؟
جواب:منشی جی نے دستخط کرنے کی جگہ لکھ پتی لکھ دیا تھا۔

7. تار کس کا تھا اور اس میں کیا لکھا تھا؟
جواب: یہ تار محمود بھائی کا تھا جس میں لکھا تھا کہ بھابھی جان کل شام کی ٹرین سے آرہی ہیں۔

8. اس ڈرامے میں سب سے دلچسپ کردار کون سا ہے اور کیوں؟
جواب: اس ڈرامے میں سب سے دلچسپ کردار منشی جی کا ہے جو ایک لاٹری کا ٹکٹ خرید کر ہوائی قلعہ بنانے لگتے ہیں۔ وہ شیخ چلی کی طرح منصوبہ بنانے لگتے ہیں۔

خالی جگہ کو صحیح لفظ سے بھریے۔

1. یعنی معلوم بھی ہے آج سات تاریخ ہے ۔آج ہی تو تار آے گا اس لاٹری کا۔

2. راستہ میں تار گھر کا کوئی آدمی تو لال بائیسکل پر نظر نہیں آیا؟

3.اچھا تم خیالی پکاتے جاو مگر میں تو ہانڈی دیکھوں۔

4.بیٹھے بٹھاے آخر یہ بڑے آدمیوں کی سی بڑی باتیں بلا وجہ تو نہیں ہو سکتیں۔

5. میں تو باغ کے مالک کے لیے بھی اس قسم کی چارپائیاں مناسب نہیں سمجھتا۔

6. نہیں تم کھولو۔ مجھے تو کچھ اختلاج سا ہو رہا ہے۔


ترتیب

Hamare Ek Mashhoor Scince daan - NCERT Solutions Class VI Urdu

ہمارے ایک مشہور سائنس داں
سوچیے اور بتائیے

1. بنگال کو برطانوی حکومت نے ۔کب اور کتنے حصے میں تقسیم کیا تھا؟
جواب: 1905 میں برطانوی حکومت نے بنگال کو مشرقی اور مغربی دو حصوں میں بانٹا۔

2. انگریز گورنر کی آمد پر میگھ ناد ساہا اور ان کے دوستوں نے اپنے غصے کا اظہار کس طرح کیا؟
جواب: میگھ ناد ساہا اور ان کے دوست اس سخت ہدایت کے باوجود کے انگریز گورنر کی آمد پر سب کو اسکول میں موجود رہنا ہے یہ لوگ اسکول نہیں گئے۔ 

3. میگھ ناد ساہا کا وظیفہ کیوں بند ہو گیا تھا؟
جواب:اسکول سے نام کاٹ  دیے جانے کی وجہ سے میگھ ناد ساہا کا بند ہوگیا تھا۔

4. میگھ ناد ساہا کے والد انہیں کیوں نہیں پڑھانا چاہتے تھے؟
جواب: میگھ ناد ساہا کے والد کی پرچون کی ایک چھوٹی سی دکان تھی جس سے گھر کا خرچ مشکل سے نکلتا تھا اس لیے وہ چاہتے تھے کہ مگھ ناتھ بچپن سے ہی گھر کے لیے کچھ کمانا شروع کردے۔

5. میگھ ناد ساہا کا نام دنیا بھر میں ان کے کس کام کی وجہ سا مشہور ہوا؟
جواب: ایسٹرو فزکس کے ایک مسئلہ کو حل کرنے کی وجہ سےوہ دنیا بھر میں مشہور ہو گئے۔

6. میگھ ناد ساہا کے استادوں نے ان کی تعلیم کو جاری رکھنے کی کیا وجہ بتائی؟
جواب:میگھ ناد ساہا کے استادوں نے تعلیم جاری رکھنے کی وجہ ان کی ذہانت اور ان کا ہو نہار ہونا بتایا۔

7. تعلیم مکمل کرنے کے بعد میگھ ناد ساہا فزکس کے لیکچرر کہاں مقرر ہوئے؟
جواب: تعلیم مکمل رنے کے بعد میگھ ناد ساہا کلکتہ یونیورسٹی کے سائنس کالج میں فزکس کے لیکچرر ہو گئے۔

8. ایسٹرو فزکس میں کن چیزوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے؟
جواب: ایسٹرو فزکس میں ستارو کی نوعیت، ان کی گرمی، ان کی اندرونی بناوٹ اور کن کن چیزوں سے مل کر وہ بنے ہیں وغیرہ کا مطالعہ کرتی ہے۔

9. سانس کے میدان میں کام کرنے کے علاوہ میگھ ناد ساہا نے اور کیا کیا اہم کام کیے؟
جواب: ساہا ایک سماجی کارکن تھے۔انھیں ہمیشہ غریبوں کا دھیان رہتا تھا جب ملک تقسیم ہوا تو مشرقی بنگال سے آنے والوں کو آباد کرانے میں بھی اہم رول ادا کیا۔ انہوں نے سیلاب زدہ لوگوں کے لیے راحت رسانی کا کام بھی کیا انھوں نے سیلاب پر قابو پانے کے بھی کئی منصوبے تجویز کیے۔


دیے ہوئے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے۔

وطن پرستی: ہر ہندوستانی میں وطن پرستی کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔

ہونہار: ساہا ایک ہونہار طالب علم تھے۔

مسئلہ: اس مسئلہ کا حل نکالنا ضروری ہے۔

نوعیت: اس کام کی کیا نوعیت ہے۔

موضوع: اس موضوع پر بحث مناسب نہیں۔

منصوبہ: حکومت دشمن پر حملے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

واحد سے جمع اور جمع سے واحد بنائیے۔

حکومت
حکومتیں
حصّوں
۔حصّہ
مواقع
۔موقع
دوست
دوستوں
قیمتیں
۔قیمت
قربانی
قربانیاں
اقوام
۔قوم
استادوں
استاد


 ان لفظوں کے متضاد لکھیے۔

نوجوان
ضعیف
دوست
۔دشمن
آزاد
۔غلام
بھلائی
برائی
محبت
۔نفرت
اندرونی
باہری
گرمی
۔سردی

ترتیب

خوش خبری