آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Wednesday, 12 March 2014

عرس کا مطلب عاشق کا معشوق سے وصال ہوتا ہے

حضرت مخدوم ذ کی الدین فردوسی ؒ کے عرس کے موقع پر جناب حضور سیف الدین فردوسی کا خطاب



جھریا (نمائندہ خصوصی)
آج بتاریخ 11 مارچ 2014 کو جهارکهنڈ کی کوئلہ راجدھانی جهریا ضلع دھنباد میں سلطان المحقیقین حضرت مخدوم جہاں شیخ شرف الحق والدین رحمتہ اللہ علیہ جنہیں عرف عام میں شرفا بہاری کہا جاتا ہے کہ صاحبزادے حضرت مخدوم ذ کی الدین فردوسی ؒ جن کا آستانہ بنگال کے بیر بهوم میں ہے کا عرس ان کی تاریخ وصال کی مناسبت سے  بڑے ہی تزک و احتشام کے ساتھ منایا گیا. یہاں قابل ذکر یہ ہے کہ عرس مخدوم ذ کی ؒ کے فیض سے ہر خاص و عام مستفید ہورہا تها اور فیض تقسیم کر نے والے تهے زیب سجادہ مخدوم جہاں حضرت سید شاہ سیف الدین فردوسی مدظلہ العالی جنکی سرپرستی میں عرس کی تقریبات انجام پزیر ہوئیں. عرس میں موجود دوسرے معزز مہمان آپ کے صاحبزادے حضرت سید شاہ حافظ حسام الدین فردوسی تهے جنکا کمال یہ تها کہ انہوں نے اپنی پینتالیس منٹ کی مختصر تقریر میں ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عشق و محبت اور اولیاء اللہ سے جڑے رہنے کے فوائد اور قیامت کے دن آپ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کو عطا ہونے والے مقام محمود اور شفاعت کبریٰ ،  اولیاء اللہ کو عطا ہونے والے مقامات اور روز قیامت ان کے لئے سجائے جانے والے منبر  اور تخت کے مراحل کو ایک لڑی میں پرو کر حاظرین کو پیش کیا اور کچھ بھی تشنہ نہ چهوڑا. آپ نے بارہ ربیع الاول کی مناسبت سے ایک نعت شریف بڑی خوش الحانی سے پڑهی جسکا مصرع ہے
یہ بارہ نہ ہو تی تو کچھ بھی نہ ہو تا
پروگرام کا اختتام جناب حضور سید شاہ سیف الدین فردوسی مدظلہ العالی کی مختصر مگر جامع تقریر پر ہوا  جس میں انہوں نے حصرت مخدوم ذ کیؒ کا تعرف کرایا، خانوادہ مخدوم کے فضائل بیان کئے اور یہ سمجها یا کہ عرس کا مطلب عاشق کا معشوق سے وصال ہوتا ہے اسی لئے جب اولیاء اللہ موت کے مرحلے سے گزرتے ہیں اور اپنے مالک حقیقی اور معشوق سے انکا وصال ہوتا ہے تو یہ عرس کا دن ہوتا ہے اور اسی مناسبت سے ہر سال ان کی تاریخ وصال کے دن ان کا عرس منایا جاتا ہے جس کے بعد قل ہوا اور  بارگاہ رسالت مآب میں سلام کا نذرانہ پیش کیا گیا اور جناب حضور کی دعا پر محفل کا اختتام ہوا. 
عرس کے مہمانوں کی ضیافت کے لئے لنگر کا انتظام تها جس میں حلیم سے مہمانوں کی ضیافت کی گئی، جسے کها کر حاظرین یہ کہنے پر مجبور تهے کہ عرس کی حلیم کا مزا ہی کچھ اور ہوتا ہے۔

0 comments:

Post a comment

خوش خبری