آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Friday, 17 August 2018

Mera Watan - NCERT Solutions Class VII Urdu

میرا وطن
شفیع الدین نیّر
Courtesy NCERT
یہ میرا وطن ہے، یہ میرا وطن
وہ چڑیا، وہ طوطا، وہ مینا، وہ مور ###وہ کوئل، وہ بلبل،وہ قُمری چکور
وہ جھیلوں کی لہریں، وہ دریا کا زور###وہ جھرنوں کا گرنا، وہ پانی کا شور
وہ سرسبز اس کے پہاڑ اور بَن
 یہ میرا وطن ہے، یہ میرا وطن
وہ غلے، وہ میوے وہ ترکاریاں ###وہ خوش رنگ پھولوں کی گُل کاریاں
 وہ سرسبز باغوں کی پھلواریاں ###وہ سیراب اور خوش نما کیاریاں
زمینیں وہ زرخیز دلکش چمن
یہ میرا وطن ہے، یہ میرا وطن
پہاڑوں کا منظر بنوں کا سماں###ہیں ان میں ہزاروں ہی چشمے رواں
کہاں تک بیاں اس کی ہوں خوبیاں### ہے فردوس کا اس چمن پر گماں
یہ باغِ ارم ہے یہ باغِ عدن 
یہ میرا وطن ہے، یہ میرا وطن

پیارے بچّو! شاعر نے اس نظم میں کچھ پرندوں کا ذکر کیا ہے۔ کیا تم نے ان پرندوں کو کبھی دیکھا ہے یا ان کی آواز سنی ہے۔ آؤ میں تمہیں ان کی تصویریں دکھاتا ہوں اور ان کا مختصر تعارف کراتا ہوں۔
کوئل کوئل کی آواز محققین کی نظر میں نغمگی سے بھرپور مانی جاتی ہے۔ یہ سیاہ رنگ کا ایک پرندہ ہے جس کی چونچ زردی مائل سبز ہوتی ہے اور آنکھیں لال ہوتی ہیں۔ نر کوئل موسم بہار میں صبح کی اولین ساعتوں سے ہی اپنی آواز کا جادو جگانے لگتا ہے۔ یہ دراصل مادہ کوئل تک اپنا پیغام پہنچانے کی ایک کوشش ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کوئل کی آواز عاشقوں کے دلوں کو گرما دیتی ہے۔
بلبل
گوریا کے برابر ایک خوش آواز و خوش رنگ پرندہ جس کے سر کی خوصورت چوٹی اور سر سیاہ ہوتا ہے۔ اس کی پیٹھ خاکستری اور دم کے نیچے سرخی ہوتی ہے ۔یہ پرندہ  پھول کا عاشق ہوتا ہے۔ اسے بھی خوش الحان پرندوں کے گروہ میں رکھا گیا ہے۔ یہ عموماً ایران میں پایا جاتا ہے۔ شاعروں نے اپنے اشعار میں مستی پیدا کرنے کے لیے اس کے نام کا استعمال کیا ہے۔ 
قُمری قُمری خانوادۂ کبوتر سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ فاختہ سے مشابہ مگر اُس سے زیدہ خوش رنگ ہوتا ہے۔ یہ تند پرواز یعنی تیز اڑتا ہے۔ س کی دم نسبتاً بلند اور گردن تنی ہوئی مگر کوتاہ  ہوتی ہے۔ یہ زمین میں دانے چُگتا اور درخت پر زندگی گزارتا ہے۔ نر و مادہ ہمشکل ہوتے ہیں۔ یہ ایران میں پایا جاتا ہے۔
چکور چکور ایک پرندہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اسے چاند سے عشق ہے۔ چاند اور چکور کی اصطلاح  ضرب المثل بن چکی ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ پرندہ چاند سے لپٹ جانا چاہتا ہے۔ وہ اُسے حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن ہمیشہ ناکام رہتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ چاند کو حاصل کرنے کے لیے اتنی بلندی تک پرواز کر جاتا ہے کہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔

معنی یاد کیجیے۔
قُمری : فاختہ کی قسم کا ایک پرندہ (اس کی آواز نہایت گونج دار ہوتی ہے)
چکور : تیتر کی قسم کا ایک پرندہ، اسے چاند کا عاشق بھی کہتے ہیں۔
بَن : جنگل
سرسبز : ہرا بھرا، تر و تازه
غلّے : اناج
میوے : خشک پھل، بادام، اخروٹ اور کشمش وغیرہ
ترکاریاں : سبزیاں
گل کاریاں : نقاشی کر نا، گل بوٹے بنانا، پھول تراشنا
سیراب : پانی سے بھرا ہوا، تر و تازه
زرخیز : جس زمین میں پیداوار زیادہ ہوتی ہے، اُپجاؤ
چشمہ : زمین سے ابلتا ہوا پانی یا سوتا
رَواں :  بہتا ہوا
فردوس : جنت ، بہشت
گماں :  شک، شبه، وہم
دلکش : دل پسند، دل کو لبھانے والا
باغِ ارم : جنت کا باغ
باغِ عدن : جنت کا وہ باغ جس میں حضرت آدم کو رکھا گیا تھا۔

سوچیے اور بتائیے۔
1. شاعر نے نظم میں کن کن پرندوں کا ذکر کیا ہے؟
جواب:  شاعر نے نظم میں چڑیا،طوطا، مینا ،مور ،کوئل، بلبل، قمری  اور چکور کا ذکر کیا ہے۔

2.  دلکش چمن کس کو کہا گیا ہے؟
جواب: دلکش چمن ہمارے وطن ہندوستان کو کہا گیا ہے۔

3.  ”ہے فردوس کا اس چمن پر گماں“ اس مصرعے سے کیا مراد ہے؟
جواب: اس مصرعے سے مراد یہ ہے کہ شاعر کو اپنا وطن ہندوستان جنت کی طرح خوبصورت معلوم ہوتا ہے۔

4. اس نظم میں ہمارے وطن کی کون کون سی خوبیاں بیان کی گئی ہیں؟
جواب:  اس نظم میں پہاڑوں کا منظر، بنوں یعنی جنگلوں کا سماں اور پہاڑوں سے گرنے والے چشمہ کا ذکر کیا گیا ہے اور شاعر نے اسے باغِ ارم اور باغِ عدن کہا ہے۔

5.  اس نظم کے شاعر کا نام لکھیے؟
جواب: اس  نظم کے شاعر کا نام شفیع الدین نیّر ہے۔

6.  شاعر اس نظم میں کیا پیغام دینا چاہتا ہے؟
جواب: شاعر اس نظم میں یہ پیغام دینا چاہتے ہے کہ اس کا وطن بہت ہی خوبصورت اور جنت کی مانند ہے۔

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔
دریا : دریا میں بڑے بڑے جہاز چلتے ہیں۔
پہاڑ : میرے گاؤں کے قریب ایک اونچا پہاڑ ہے۔
وطن : ہندوستان میرا وطن ہے۔
منظر : اس وادی کا منظر بہت حسین ہے۔
صبح کا منظر بہت حسین ہے۔
چمن : چمن میں پھول کھلے ہیں۔
سماں : صبح کا سماں دلکش ہے۔

املا درست کیجیے۔
ترقاریاں :  ترکاریاں
باگوں : باغوں
منضر : منظر
صرسبز : سرسبز
وتن  :   وطن

مصرعے مکمّل کیجیے۔
(i) وہ چڑیا، وہ طوطا وہ مینا، وہ مور
(ii) وہ کوئل، وہ بلبل، وہ قُمری چکور
(iii) وہ سر سبز اس کے پہاڑ اور بَن
(iv) یہ میرا وطن ہے، یہ میرا وطن

واحد سے جمع اور جمع سے واحد بنائیے۔
چڑیا : چڑیاں
بلبل : بلبلیں
جھیل : جھیلیں
دریا : دریاؤں
جھرنوں : جھرنا
پہاڑ : پہاڑوں
میوے : میوہ
ترکاریاں : ترکاری
باغ : باغوں، باغات
پھلواری : پھلواریاں
کیاری : کیاریاں
منظر : مناظر
چشمہ : چشمے
خوبیاں : خوبی

مصرعوں کو صحیح ترتیب سے لکھ کر شعر مکمّل کیجیے۔
وہ غلّے، وہ میوے وہ ترکاریاں(1)
کہاں تک بیاں اس کی ہوں خوبیاں(2)
وہ سرسبز باغوں کی پھلواریاں (3)
وہ جھیلوں کی لہریں، وہ دریا کا زور(4)
وہ سیراب اور خوش نما کیاریاں(3)
وہ جھرنوں کا گرنا، وہ پانی کا شور(4)
ہےفردوس کا اس چمن پر گماں(2)
وہ خوش رنگ پھولوں کی گُل کاریاں(1)
 ###
عملی کام
*اس نظم کو زبانی یاد کیجیے۔

غور کرنے کی بات
* اس نظم میں ’میرا وطن‘ کے عنوان سےوطن کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔
* اس نظم میں ہمارے ملک کی خوبیاں مختصر طور پر بیان کی گئی ہیں۔
* ہمارے وطن کی محبت اور وطن دوستی کے جذبے کو نظم میں ابھارا گیا ہے۔

دیگر اسباق کے لیے کلک کریں

7 comments:

خوش خبری