آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Monday, May 30, 2016

مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندویؒ


مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندویؒ 

کچھ یادیں کچھ باتیں

از: طیب عثمانی ندوی

آج سے تقریباً نصف صدی سے کچھ زائد ہی 1944ء تقریباً 14 برس کی عمر میں جب میں نے بہ سلسلہ تعلیم ندوہ میں قدم رکھا اور پہلی مرتبہ حضرت مولانا علی میاںؒ کو دیکھ کر جو نقش جمیل میرے قلب پر پڑا تھا آج تک قائم ہے۔ وہ محبوب و دلنواز ذات ادب اسلامی کی نابغۂ روزگار شخصیت، شیروانی میں ملبوس، سیاہ داڑھی، آنکھوں میں یقین کا نور، چہرہ صباحت و بشاشت کا آئینہ جس پر تقویٰ کا جمال نمایاں تھا۔ اس طویل مدت کے میرے شب و روز آپ کی ذات والا صفات سے وابستہ رہے۔ ندوہ کا یہ گوہر شب چراغ، علم و ادب کا مینارہ نور اور روحانیت و تقویٰ کا یہ آفتاب بیسویں صدی کے ساتھ31؍دسمبر 1999ء کو غروب ہوگیا اور جسے رمضان المبارک ۱۴۲۰ھ کی ۲۳ویں شب قدر نے اپنی آغوش سعادت میں لے لیا۔
حضرت مولانا سیدابو الحسن ندیؒ کی وفات حسرت آیات سے بلاشبہ ندوہ میں ایک خلا پیدا ہوگیا ہے، علامہ شبلیؒ ، صاحب گل رعنا و نزہت الخواطر، مولانا عبدالحئیؒ اور مولانا سلیمان ندویؒ کی علمی و ادبی اور دینی خصوصیات و جامعیت کے ساتھ جانشینی جس طرح حضرت مولاناؒ نے کی اور ان کے علمی و ادبی کارناموں میں جو اضافہ کیا وہ قابل قدر ہے۔ مجھے یقین ہے مولانا نے ندوہ کے اہل علم و تقویٰ کی جو ٹیم چھوڑی ہے وہ انشاء اللہ ان کی جگہ لے لے گی اور ان کے بعد ندوہ انشاء اللہ محفوظ ہاتھوں میں رہے گا۔ اللہ تعالیٰ آخرت میں آپ کے درجات کو بلند سے بلند تر فرمائے۔
مولانا کی پہلی گراں قدر تصنیف سیرت سید احمد شہیدؒ ندوہ آنے سے پہلے پڑھ چکا تھا اور اس کا ایک دھندلا سا نقش ذہن پر موجود تھا، پھر جب قریب سے دیکھا تو ان کو اپنے سے قریب تر پایا۔ اپنے گھر کا ماحول دینی تھا خاندانی طور پر بیعت طریقت کے ساتھ بیعت جہاد سے کان آشنا تھے۔ اس کتاب کے پڑھنے سے شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن سمجھ میں آیا اور شوق جہد و عمل کے جذبہ میں اضافہ ہوا۔ پھر ایسا ہوا کہ مولانا کی ذات و شخصیت مجھے اپنی طرف کھینچتی چلی گئی، فکر و نظر کے بعض زاویوں کے فرق کے باوجود محبت و عقیدت سے معمور یہ دل آج بھی ویسا ہی ہے۔ مگر میرے جذبہ دل کی تاثیر عجب الٹی نکلی۔ میرا ذہن و دماغ مولانا سید ابوالا علیٰ مودودیؒ کی فکر اور ان کی کتابوں سے قریب ہوتا گیا اور فکری طور پر میں تحریک اسلامی سے قریب ہوگیا۔ مولانا علی میاںؒ ان دنوں حضرت مولانا محمد الیاسؒ کی تحریک تبلیغ سے زیادہ قریب ہوگئے تھے اور عملاً اس کے پرجوش داعی تھے۔ ندوہ میں بڑے بڑے اجتماعات ہوتے، مولانا کی پرجوش و دلنشیں تقریریں ہوتیں۔ ان کی معیت میں ہم ندوہ کے طلباء چٹھی کے دن ہر جمعرات ور جمعہ کو لکھنؤ کے اطراف ودیہات اور قصبات میں تبلیغ کے لیے نکلتے۔ اس طرح مولانا کی صحبت و معیت میں کافی وقت گزرتا اور واقعہ یہ ہے کہ بہت لگتا تھا جی صحبت میں ان کی۔ دل و دماغ کی یہ کشمکش پورے ندوہ کی تعلیمی زندگی میں میرے ساتھ رہی۔ فکر مودودویؒ نے دماغ پر قبضہ کرلیا تھا۔ مذہب کا انقلابی تصور ذہن پر سوار تھا۔ ندوہ کے ماحول میں تبدیلی آرہی تھی یا کی جارہی تھی، فکر شبلی پر ذوق رحمانی و تھانوی پروان چڑھانے کی کوشش تھی۔ وقت کے روحانی شیوخ ندوہ کے مہمان خانہ میں ہفتوں ٹھہرائے جاتے، اہل دل جمع رہتے، ہم طلباء سے مولانا فرماتے ’’ان کی صحبتوں میں بیٹھئے ان کے یہاں مغز ہے، ہمارے یہاں تو صرف چھلکا ہے۔‘‘ میں اکثر ان بزرگوں کی نشستوں میں جایا کرتا، ان کی باتیں سنتا، اہل دل بزرگوں کے قصے بیان ہوتے۔ حضرت جی کے اقوال اور باتیں ایسی جن سے زندگیاں سنورتی ہیں۔ مگر دماغ پر سے فکر مودودیؒ کا انقلابی نشہ اترتا نہ تھا۔ مولانا کے سامنے تو نہیں، ادب مانع تھا، اپنے ساتھیوں کے درمیان کہتا ’’بھائی یہ مغز جو یہاں ہے وہ تو ہمارے گھروں میں موجود ہے، ہم تو یہاں شبلی و سلیمان کے علم و ادب کے چھلکے لینے آئے ہیں۔‘‘ شیخ حرم کی باتیں ذہن کو زیادہ متاثر نہیں کرتی۔ میرے رگ و پے میں جو شوق جہاد اور انقلابی روح کارفرما تھی اس کی تسکین کے لیے فکر مودودیؒ اور اقبالؒ کے ساتھ سید احمد شہیدؒ اور مولانا اسمٰعیل شہیدؒ کے فیضان کی ضرورت تھی۔ فکرِ مغرب اور تہذیبِ جدید کے پائے چوبیں کا علاج و مداوا مجھے یہاں نظر نہیں آتا، گوشوں اور زاویوں سے آگے مجاہد کا تو مستقبل ہے میدانوں سے وابستہ۔ اس فکری فرق کے باوجود اپنا دل مولانا کی ذات اور شخصیت کا نخچیر بن چکا تھا۔ محبت و عقیدت سے معمور یہ دل کبھی ان کے سامنے اپنے تعلق خاطر کے اظہار کی جسارت نہ کرسکا۔ وقت گزرتے رہے فکر و نظر میں دوری کے باوجود، میری محبت و عقیدت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ مولانا روحانی اور قلبی طور پر میرے مخدوم بھی ہیں اور مرشد بھی۔ ان دنوں میرے ذہنی و قلبی مناسبت کا یہ حال تھا کہ ایک مرتبہ لکھنؤ کے کسی مرکزی مقام پر مولانا کاایک خطاب عام تھا، ہم طلباء بھی سننے گئے۔ تقریر بڑی دل پذیر اور موثر تھی۔ رات کے تقریباً ۱۲بجے جلسہ سے ہوسٹل واپس آئے اور قلم و کاغذ لے کربیٹھ گئے۔ پوری تقریر ’’صورت اور حقیقت‘‘ کے عنوان سے لکھ ڈالی۔ دوسرے دن حلقہ ادب اسلامی لکھنؤ کی ایک نشست تھی، میں نے وہ مضمون اس میں پڑھا، سبھوں نے پسند کیا۔ ہمارے دوست، م۔نسیم نے مشورہ دیا کہ سہ روزہ اخبار ’’الانصاف‘‘ جو اس زمانہ میں الٰہ آباد سے نکلتا تھا اور تحریک اسلامی کا ترجمان تھا، میں اشاعت کے لیے بھیج دو۔ مضمون اسی دن حوالہ ڈاک کیا جس میں مولانا کی تقریر کا حوالہ نہ تھا۔ مضمون ’’الانصاف‘‘ میں آگیا۔ مولانا نے بھی اپنی اسی تقریر کو’’صورت اور حقیقت‘‘ کے عنوان سے قلم بند فرمایا اور ہفت روزہ ’’تعمیر حیات‘‘ لکھنؤ جو زیر ادارت مولانا عبدالسلام قدوائی ندوی مرحوم صدر شعبہ دینیات، جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی سے نکلتا تھا وہ مضمون اس میں شائع ہوا۔ یہ بھی اتفاق ہے کہ دونوں کی اشاعت ایک ساتھ ہوئی۔ مضمون میں الفاظ و معانی کی ایسی مناسب اور یکسانیت تھی جیسے ایک ہی مضمون دو ناموں سے دو جگہ شائع ہوا ہو۔ مولانا عبدالماجد دریابادیؒ نے دونوں مضامین کو دو اخبار میں دو ناموں سے ایک ساتھ پڑھا اور اپنے اخبار ’’صدق جدید‘‘ میں بڑی حیرت کا اظہار کیا اور عنوان لگایا کہ کس کا سرقہ ہے؟ ایک مولانا علی میاںؒ کے نام تھا اور دوسر امجھ جیسے گمنام طالب علم کے نام! مجھے اس بات کی بڑی شرمندگی تھی کہ میں نے اپنے اس مضمون میں مولانا کی تقریر کا حوالہ نہ دیا تھا۔ مولانا سے جب ملاقات ہوئی تو بولے مجھے خوشی ہے کہ آپ کو یہ تقریر پسند آئی، میں نے اسے آپ کو دے دی۔ اسی طرح مولانا کے اقبال پر دو عربی مقالوں کا اردو ترجمہ میں نے کیا ’’اقبال کی شخصیت کے تخلیقی عناصر‘‘ اور ’’انسان کامل: اقبال کی نگاہ میں‘‘ مولانا دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ یہ دونوں مضامین مولانا کی کتاب ’’نقوق اقبال‘‘ اور میری کتاب ’’حدیث اقبال‘‘ میں شامل ہیں، اس ترجمہ کو پڑھ کر میرے اکثر احباب کا یہ تاثر تھا کہ اگر مولانا خود اپنے قلم سے اردو میں پیش کرتے تو ایسا ہی ہوتا۔ مولانا کی ذات و شخصیت سے میری اس ذہنی مناسبت اور قلبی تعلق کے باوجود ہماری راہیں جدا تھیں۔ اس زمانہ میں بھی اور بعد میں بھی بہت طلبائے جدید و قدیم مولانا کے توسط سے ذاتی اور مادی فائدے اٹھانے کے لیے مولانا سے چمٹے رہتے۔ ان میں سے اکثر نے مولانا کی ذات و اثرات سے فائدہ اٹھا کر ممالک عربیہ میں بڑے دنیاوی فائدے اور عہدے حاصل کئے۔ میں اپنی درویشی اور کم مائیگی کے باوجود کبھی اپنے ضمیر کا سودا نہ کرسکا۔ مولانا کے لیے میرے دل میں جو بے غرض محبت اور دلی اخلاص و عقیدت تھی اس میں کبھی کوئی کمی نہیں آئی اور آج بھی وہ ویسے ہی باقی ہے۔ اس دوری و مہجوری نے اس میں اضافہ ہی کیا ہے۔
مولانا کے ذاتی کمالات و صفات، ان کا تقویٰ و عبادت، ان کی پاکیزگی میرے لیے ہمیشہ باعث کشش اور نشان راہ بنی رہی، ساتھ ہی میرا ذوق علم و ادب اور قلب و مزاج کی یکسانیت و مناسبت بھی ان کے قرب کا باعث رہا، خصوصاً علامہ اقبال کی شخصیت اور ان کی شاعری کے سلسلہ میں ہم دونوں اقبال کے شیدائی ہیں، جب بھی مجھ سے ملاقات ہوتی میرے ذوق کی مناسبت سے علامہ اقبال کے ساتھ اپنی ملاقات کا ذکر اور ان کی شاعری کے محاسن بیان فرماتے۔ عرب دنیا میں اقبال پر مولانا کی مشہور کتاب ’’روائع اقبال‘‘ اقبال کی شاعری اور فکر و فن کے تعارف کا ذریعہ بنی اور اس کا اردو ترجمہ ’’نقوق اقبال‘‘ اقبالیات میں ایک اضافہ ہوا۔ اردو کے جدید اور معتبر ناقدوں کی زبان میں اردو تنقید میں بھی اس کا ایک مقام ہے۔ ان کے علاوہ مولانا کی دیگر کتابیں اسلامی ادبیات عالیہ میں شمار کئے جانے کے لائق ہیں، خصوصاً ’’تاریخ دعوت و عزیمت‘‘ مسلمانوں کے عروج و زوال کا انسانی دنیا پر اثر‘‘ مختلف تذکرے اور سوانح ہیں،خاکہ نگاری کا بہترین نمونہ ’’پرانے چراغ‘‘ان کی انشا پردازی کے شاہکار ہیں۔مولانا کی خود نوشت سوانح عمری ’’کاروان زندگی‘‘ آپ بیتی اور جگ بیتی دونوں ہی ہے۔ اس میں ان کے سفر کے احوال، خطبے اور تقاریر کے اہم اور قابل قدر حصے آگئے ہیں۔ یہ خود نوشت بجائے خود ادب و انشاء کا مرقع ہے، عام طور پر ہمارے یہاں علمائے دین کی قدر و قیمت ان کی دینی حیثیت اور مذہبی تصانیف سے ہوتی ہے، حالانکہ ان کی نگارشات کی ادبی حیثیت و وقعت بھی مسلم ہے، مثلاً علامہ سید سلیمان ندویؒ کی ’’سیرت النبیؐ‘‘ او سیرت نبوی پر ’’خطبات مدراس‘‘ جہاں سیرت پر اردو عربی کے ذخیروں میں بے مثال ہے، وہیں وہ اپنی ادبی حیثیت اور انشاء پردازی میں بھی لازوال ہے۔ اسی طرح مولانا علی میاںؒ کی ساری تصنیفات خواہ ان کا موضوع کچھ بھی ہو اپنی معنوی گہرائی و گیرائی کے ساتھ اپنی ادبی اہمیت بھی رکھتی ہیں اور ان کا ادبی جمال اور حسن انشاء اردو ادب میں اعلیٰ معیار کا نمونہ ہے جس کا اعتراف پروفیسر رشید احمد صدیقی سے لے کر شمس الرحمن فاروقی جیسے جدید ناقدین تک نے کیا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ مولانا کی علمی و دینی کارناموں کی حیثیت کا اعتراف تو سارا عالم اسلام کر رہا ہے جس کا ثبوت فیصل ایوارڈ اور حکومت دبئی کا گراں قدر ایوارڈ ہے۔ اس کے ساتھ ہی مولانا کی ادبی حیثیت کا اظہار، عالمی سطح پر رابطہ ادب اسلامی کے قیام سے ہوتا ہے جس کے مولانا موصوف ہمیشہ بانی صدر رہے۔ مولانا نے اس ادارہ کے ذریعہ ادب اسلامی کا وزن و وقار عالمی سطح پر ہر مکتب فکر کے جدید و قدیم عالموں، ادیبوں اور دانشوروں سے منوا لیا ہے۔ ایک عالم، دانشور، ادیب اور ناقد کی حیثیت سے دیکھا جائے تو مولانا ادب اسلامی کے نابغۂ روزگار تھے اور بلاشبہ جن کی ہمہ جہت، ہشت پہلو شخصیت کا معترف آج بر صغیر ہند کے ساتھ سارا عالم اسلام ہے۔ 
آسمان ان کی لحد پر شبنم افشانی کرے

حضرت مولانا شاہ محمد قاسم عثمانی فردوسیؒ


حضرت مولانا شاہ محمد قاسم عثمانی فردوسیؒ 

ایک گم نام مگر باکمال شیخ وقت، مرد درویش اور مجاہد جلیل
از: طیب عثمانی ندوی



ریاست بہار ضلع اورنگ آباد میں ایک چھوٹی سی قدیم بستی ’سِملہ‘ کے نام سے موسوم ہے۔ یہاں ایک قدیم صوفی عثمانی خانوادہ آباد ہے۔ اس خانوادہ میں شروع ہی سے علماء، صوفیاء اور اہل دل بزرگ پیدا ہوتے رہے ہیں۔ سِملہ کے یہ تمام بزرگ عام طور پر خلوت نشیں اور اہل دل رہے ہیں۔ عبادت و ریاضت، ذکر و اشغال اور خموش رشد و ہدایت میں پوری زندگی مشغول رہے۔ معروف خانقاہی مراسم کی کوئی پابندی نہیں رہی، اسی مبارک خانوادہ میں ایک معروف شخصیت شیخ وقت، مرد درویش، مجاہد جلیل حضرت مولانا شاہ محمد قاسم عثمانی فردوسیؒ کی پیدائش ہوئی۔ جنہوں نے اپنی درویشانہ زندگی اور خلوت نشینی کے باوجود زندگی کے تمام شعبوں میں اصلاحی کارنامے انجام دیے، علم و ادب، تصوف و احسان، اصلاح معاشرہ، سیاست و اجتماعیت گویا زندگی کے ہر شعبہ میں تعمیرو اصلاح کے نقوش ثبت کئے۔ اور مرجع خلائق ہوئے۔ آپ کی ولادت باسعادت، ۹؍صفر المظفر ۱۳۰۷ھ بمقام سملہ ہوئی۔ آپ کا سلسلہ نسب اڑتیسویں (۳۸ویں) پشت میں، خلیفہ راشد ثالث حضرت سیدنا عثمان غنی ذیِ النورین رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔ اس خاندان کی قدر مشترک روحانیت رہی ہے۔ ذوق عبادت، تسبیح و تلاوت اور فکر آخرت اس کا نمایاں وصف رہا ہے۔ اسی دینی و روحانی ماحول میں آپ نے آنکھیں کھولیں اور پروان چڑھے۔
خاندان کے قدیم روایت کے مطابق جناب مولانا شاہ محمد قاسم عثمانیؒ نے بھی گھر پر ابتدائی اردو نوشت و خواند، قرآن مجید اور فارسی کی تعلیم مکمل کی۔ پھر جدید تعلیم کے لئے گیا شہر کے مشہور تعلیمی ادارہ ’’ہری داس سیمنری اسکول‘‘ (ٹاؤن اسکول، گیا) میں داخل کئے گئے، گیا سے مزید اعلیٰ انگریزی تعلیم کے لئے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ، جو ان دنوں ’’اینگلو محمڈن علی گڑھ کالج‘‘ کے نام سے مشہور تھا میں داخلہ لیا اور میٹرک تک تعلیم وہاں حاصل کی۔ اسی درمیان ’’تحریک ترک موالات‘‘ اور خلافت تحریک شروع ہوگئی۔ آپ بھی اپنے دینی و ملی اور قومی جوش و جذبہ کے باعث علی گڑھ کی انگریزی تعلیم کو خیرباد کہہ کر جنگ آزادی کی تحریک سے عملاً وابستہ ہوگئے۔ پھر جب مشرق (کلکتہ) کے مطلع صحافت سے ’’الہلال‘‘ طلوع ہوا تو آپ اس کے ادارہ میں انگریزی مترجم کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ ان دنوں مولانا ابوالکلام آزاد کا اخبار ’’الہلال‘‘ اہل علم مشاہیرو علماء و ادباء کا مرکز بن گیا تھا، علامہ سید سلیمان ندوی، مولانا عبدالسلام ندوی، خواجہ عبدالحئی، عبداللہ العمادی جیسے باکمال اہل علم ’الہلال ‘ کی مجلس ادارت میں شریک تھے۔ عرصہ تک الہلال سے وابستگی کے باعث، مولانا آزاد اور دیگر اہل علموں کی صحبت نے علمی و ادبی طور پر آپ کو بہت فائدہ پہنچایا۔ جب الہلال سے وابستہ تھے، غالباً اسی زمانہ میں مولانا ابوالکلام آزاد کی نظربندی کا واقعہ بھی پیش آیا اور انگریز حکومت نے مولانا آزاد کو رانچی میں نظر بند کر دیا۔ آپ چونکہ شروع ہی سے مولانا آزاد کی تحریک ’’حزب اللہ‘‘ کے رفیق و دم ساز اور محرم راز رہے اس لئے رانچی کی نظر بندی کے زمانہ میں بھی آپ رانچی میں مولانا آزاد کے رفیق و معاون بن گئے۔ جب وہاں مولانا آزاد نے ’’مدرسہ اسلامیہ ‘‘ کا قیام عمل میں لایا، جو آج بھی وہاں موجود ہے تو آپ اس مدرسہ میں مدرس اول کی حیثیت سے کام کرنے لگے۔ مولانا آزاد کی نظر بندی کے خاتمے کے بعد اپنے فطری دینی ذوق اور تصوف و احسان سے خاندانی شغف کے باعث، خالص دینی مطالعہ اور روحانی تعلیم و تربیت کے سلسلہ میں خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف پٹنہ میں قیام فرمایا۔ جس زمانہ میں آپ پھلواری شریف میں قیام پذیر ہوکر علمی و دینی مطالعہ میں مشغول و منہمک تھے، اسی زمانہ میں، خانقاہ مجیبہ پھلواری شریف سے شائع ہونے والے ایک اہم دینی و علمی ماہنامہ ’’معارف‘‘ کے مدیر رہے، جو آپ کی علمی گہرائی، دینی بصیرت اور ادبی صلاحیتوں کی روشن یادگار ہے۔ اس طرح علی گڑھ کی تعلیم کے اختتام کے بعد آزادانہ طور پر اپنی محنت اور ذوق مطالعہ سے اپنی دینی تعلیم کی تکمیل فرمائی۔
حضرت شاہ محمد قاسم عثمانی فردوسیؒ کی زندگی کے احوال و واقعات 1912ء میں مولانا ابوالکلام آزاد کی رفاقت اور ان کے اخبار الہلال کی صحافت سے 1947ء کی جنگ آزادی تک پھیلے ہوئے ہیں۔ آپ کی ذات والا صفات اس پورے دور کی دینی و ملی اور سیاسی و اجتماعی تحریکات کی تاریخ ہے۔ 15؍اگست 1947ء کو جب ملک میں آزادی کا سورج طلوع ہونے والا تھا، اس سے ایک ماہ پہلے، 19؍جولائی 1947ء کو آپ کی زندگی کا آفتاب غروب ہوگیا۔
خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف میں، کچھ دنوں قیام اور اپنی علمی و دینی اور روحانی تعلیم و تربیت کی تکمیل کے بعد آخر میں اپنے وطن مالوف ’سملہ‘ میں مستقل قیام پذیر ہوئے، معاش کے لیے تھوڑی سی زمینداری اور کاشتکاری موجود تھی اس کی دیکھ بھال اپنے چھوٹے بھائی کے حوالہ کردی اور ذریعہ معاش سے بے فکر ہوکر، پوری زندگی توکل، فقر و درویشی کے ساتھ دین و ملت کی خدمت اور رشد و ہدایت کے لئے وقف کردی آپ کی بیعت اپنے جد امجد حضرت مولانا شاہ احمد کبیر ابوالحسن شہید فردوسی سملویؒ کے ہاتھ پر، حضرت مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمدیحیٰ منیریؒ کے سلسلہ فردوسیہ میں ہوئی۔ حضرت شہیدؒ وہ پہلے بزرگ ہیں جنھوں نے انگریزوں کے تسلط کے بعد، ہندوستان میں دین کے قیام و بقا کے لئے ’’بیعت طریقت‘‘ میں ’’بیعت جہاد‘‘ کو جاری فرمایا۔ حضرت مولانا شاد محمد قاسم عثمانی فردوسی نے اپنے جدامجد کے ہاتھوں پر، بیعت طریقت کے ساتھ بیعت جہاد بھی کیا۔ یہ بیعت جہاد اور پیر و مرشد حضرت شہیدؒ کا فیضان نظر ہی تھا، جس نے زندگی کے آخری لمحوں میں بھی آپ کے اندر، جوانوں کا سا جوش و ولولہ، دین کے قیام اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے والہانہ عشق پیدا کردیا تھا، ایسی بے چین و سیماب وش طبیعت پائی تھی کہ ملک و ملت اور دین کا درد ان کا اپنا درد بن گیا تھا، پھر پوری زندگی دین و ملت کی خدمت اور رشد ہدایت میں گذار دی۔
آج کے دور میں تصوف و احسان اور سلوک و طریقت کا موضوع بڑا نازک اور نزاعی بن گیا ہے، اس کی نت نئی تعبیر ہیں، جو مختلف حضرات، مختلف الفاظ اور اپنے اپنے انداز نظر سے کرتے ہیں، لیکن واقعہ یہ ہے کہ آپ نے تصوف و احسان کے وسیع مفہوم کو اختیار کیا آپ کے نزدیک اگر تصوف، کتاب و سنت اور شریعت کے حدود میں ہو تو لائقِ تحسین ہے۔ کتاب و سنت اور شریعت سے ہٹ کر اگر تصوف ہر کوئی چیز در آتی ہے تو قابل اصلاح ہے ورنہ کلیۃً لائق رد ہے۔ آپ کے نزدیک تصوف دراصل احسان کا نام ہے، جو شریعت کی کامل پابندی کے بغیر ممکن نہیں۔ سلوک و تصوف کی حقیقت کو جاننے کے لیے آپ کے خطوط کا مجموعہ’ نقش دوام ‘کے باب اول ’تصوف و احسان‘ کا مطالعہ مفید ہوگا۔ جن سے ہمیں فکر کی تابانی اور یقین کی گرمی دونوں ہی حاصل ہوتی ہے۔
جناب مولانا شاہ محمد قاسم عثمانی فردوسیؒ کے اخلاق و اوصاف میں خلق محمدی کا عکس نظر آتا ہے، وہ سراپا اخلاص و عمل تھے۔ عشق رسول اور اتباع رسول ان کی سیرت و کردار کا نمایاں عنصر تھا۔ اپنی گفتگو، بات چیت اور رہن سہن میں ہمیشہ اسوۂ محمدی پیش نظر رکھتے۔ عادات و خصائل پسندو ناپسند سب میں اتباع سنت کو حرز جاں بنائے ہوئے تھے۔ آپ کا لباس اور انداز شرعی اور عالمانہ تھا، کھدر کا سفید اور لانبا کرتا، ٹخنوں سے اونچا پائجامہ، سفید تہ دار عمامہ اور سفید پٹکہ ہمیشہ استعمال فرماتے۔ حالت سفر میں چستی و آسانی کے لئے پٹکہ کو جو کاندھے پر رہا کرتا تھا کمر سے باندھ لیتے تھے۔ غالباً 46ء سے پہلے کا زمانہ تھا، کانگریس اور مسلم لیگ کی کشمکش انتہائی عروج پر تھی، علماء اور اہل دین کی توہین اور استہزا عام تھا، گیا اسٹیشن پر ایک صاحب جو جدید تعلیم سے آراستہ، کوٹ، پینٹ اور ہیٹ میں ملبوس پلیٹ فارم پر ٹہل رہے تھے، آپ کو دیکھ کر ٹہلتے ہوئے آپ کے قریب آئے اور تمسخرانہ انداز میں سنجیدہ بن کر پوچھا:
’’آپ کس صاحب کے خانساماں ہیں؟‘‘
آپ نے برجستہ جواب دیا: ’’محمد صاحب کے‘‘ (ﷺ)وہ حضرت شرمندہ ہوکر الٹے پاؤں واپس ہوئے۔ اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے آپ کا چہرہ خوشی سے تمتما اٹھا، آنحضرت ؐ کی غلامی اور ان کے ’’خانساماں‘‘ ہونے کے احساس سے آپ کی آنکھیں روشن اور پیشانی تابناک ہوگئی۔
آپ عنفوان شباب ہی سے تہجد اور ذکر و اشغال کے پابند تھے، ساتھ ہی اپنے متوسلین اہل قرابت اور تعلق کو ہر خط میں نماز کی تاکید فرماتے، فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ وَاِلیٰ رَبِّکَ فَارْغَبْ آیت ربانی کی طرف متوجہ کرتے اور خود اس کے عملی نمونہ تھے، اپنے ایک عزیز کو ایک خط میں فرماتے ہیں:
’’آپ یقین کریں، حقیقی سعادت سے ہم ہرگز بہرہ ور نہیں ہوسکتے جب تک ہم عبادت کو اپنا اوڑھنا، بچھونا نہ بنالیں، عبادت دلوں کی پونجی، متقیوں کا زیور، مردوں کا ہنر، ہمت والوں کا پیشہ اور حاصلِ عمر ہے۔‘‘
آپ کی شخصیت بڑی دل آویز، ہمہ گیر، جاذب نظر اور پرسوز و پرکشش تھی، وہ محبت، معرفت اور نگاہ کے حسین امتزاج تھے، اسی چیز نے ان کے اندر بڑی جامعیت پیدا کردی تھی، انفرادی تزکیہ و اصلاح، باطنی و روحانی ارتقا اور دینی انداز فکر کے ساتھ سیاسی و اجتماعی جدوجہد کے مختلف دھارے آپ کی زندگی میں آکر ملتے تھے اور ان سب کا سرچشمہ عشق نبوی تھا، ان کی زندگی اور فکر کی ساری روشنی و تابندگی ’’چراغِ مصطفوی‘‘ ہی سے فروزاں تھی، چنانچہ حبّ رسول اور اتباع سنت سے آپ کی پوری زندگی روشن و تابندہ تھی۔
آپ کی سیاسی و اجتماعی زندگی کا آغاز، جنگ آزادی کے مجاہد کی حیثیت سے 1912ء سے ہوا، تحریک ترک موالات کے دور میں انگریزی تعلیم کو خیرباد کہہ کر تحریک خلافت میں شریک ہوئے اور اس دورے کے اہل دین علماء اور سیاسی شخصیات سے آپ کا براہ راست رابطہ و تعلق تھا۔ الہلال کی صحافت کے ساتھ مولانا ا بوالکلام آزاد کی جماعت’ حزب اللہ‘، شیخ الہند مولانا محمود الحسن صاحبؒ کی خفیہ تحریک جہاد، مولانا عبید اللہ سندھی ؒ جیسی انقلابی شخصیت سے ذاتی مخلصانہ مراسم، مولانا سندھی کا ہندوستان سے فرار اور ریشمی خطوط والا واقعہ، ان سب سے آپ کا براہ راست ربط و تعلق تھا اور تمام تحریکوں میں آپ نے بڑا اہم رول ادا کیا۔ بہار میں اقامت دین اور نظام شرعی کے قیام کی اہم تحریک امارت شرعیہ میںآپ حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجادؒ کے شریک کار اور رفیق و غمگسار رہے۔ امارت شرعیہ کی تحریک کو صوبہ کی اہم زندہ اور فعال تحریک بنانے میں آپ کی کوششوں کا بڑا دخل ہے۔ مولانا سجادؒ ، قاضی احمد حسینؒ اور شاہ محمد قاسمؒ امارت شرعیہ کے حقیقی عناصر ترکیبی تھے جن سے امارت شرعیہ بہار میں پروان چڑھی۔ آپ اپنے عنفوان شباب ہی سے عملاً اس وقت کے اکابر علماء اور سیاسی شخصیات کے ساتھ وابستہ رہے اور ان کے سیاسی کاموں میں عملاً شریک رہے لیکن جنگ آزادی کی تاریخ میں ان کا کہیں نام نظر نہیں آتا، وجہ ظاہر ہے، حضرت مخدوم الملک بہاریؒ کا فیضان ’’خاک شوگم نام شو‘‘ آپ اس کے حقیقی نمونہ تھے۔
مولانا ابوالکلام آزاد سے آپ کے کتنے قریبی تعلق تھے اور مولانا آزاد ان پر کتنا اعتماد کرتے تھے، اس کا اندازہ اس واقعہ سے بھی ہوتا ہے جس کا ذکر مولانا شاہ محمد عثمانی مدظلہ نے اپنی کتاب ’ٹوٹے ہوئے تارے‘ میں مولانا عبیداللہ سندھی کے حالات کے تذکرہ میں لکھا ہے:
’’ہمارے ایک عزیز (شاہ محمد قاسم عثمانی) نے جو ان دنوں مولانا کے معتمد لوگوں میں تھے مجھ سے کہا تھا کہ انہوں نے مولانا عبید اللہ سندھیؒ کو دہلی میں مولانا آزاد کا یہ پیغام پہنچایا تھا کہ ان کی گرفتاری کی تیاریاں ہو رہی ہیں، وہ بھاگ جائیں۔ یہ بیان قریب قیاس اس لئے بھی ہے کہ مولانا سندھی دہلی سے بھاگ کر کچھ عرصہ سندھ کے دیہاتوں میں روپوش رہے اور بہر حال مولانا افغانستان پہنچ گئے اور مولانا محمود الحسن کے بتائے نقشہ پر کام کرتے رہے۔‘‘
اسی سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ مولانا محمود الحسنؒ کا وہ خفیہ پیغام جو ’’ریشمی رومال‘‘ کے نام سے موسوم ہے اس کے پہنچانے میں بھی مولانا شاہ محمد قاسم عثمانی فردوسیؒ براہ راست شریک تھے۔ اس لئے کہ آپ کے براہ راست تعلقات، مولانا ابوالکلام آزادؒ ، مولانا عبیداللہ سندھیؒ اور شیخ الہند مولانا محمودالحسنؒ تینوں سے تھے۔ ان کی معیت میں آپ نے جنگ آزادی میں علمی حصہ لیا، تحریک خلافت میں شریک کار رہے۔ مسلمانوں کی دینی تشخص کے ساتھ کانگریس کی جنگ آزادی کی حمایت کی، جمعیۃ علمائے ہند سے عملی تعلق رہا اور امارت شرعیہ کے قیام سے لے کر اپنی زندگی کے آخری لمحوں تک اسی کے روح رواں اور ممد و معاون بنے رہے۔
واقعہ یہ ہے کہ آپ کی زندگی اتنی گوناگوں، متنوع اور ہر دل عزیز تھی کہ اس مختصر مضمون میں آپ کی رنگارنگ شخصیت کے حقیقی خدوخال کو ابھارنا ممکن نہیں۔ آپ بیک وقت بوریہ نشین مرد درویش تھے اور مجاہد جلیل بھی، قائد بھی تھے اور وقت پڑنے پر والنٹیراور رضاکار بھی، غرض کہ ملک و ملت کے خادم اور مخدوم دونوں ہی تھے۔ آپ نے زیادہ عمر نہیں پائی اور تقریباً ۵۹ برس کی عمر میں اپنے وقت کے یہ گم نام مگر باکمال شیخ وقت، و درویش اور مجاہد جلیل ع نشان مرد مومن باتو گویم چوں مرگ آ ید تبسم برلب اوست کے مصداق لقویٰ کے مرض الموت میں مبتلا ہوئے، فالج کا اثر چہرہ اور حلق پرہوا، مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی اور کوئی ٹھوس غذا فرو حلق نہیں ہوتی، علاج معالجہ جاری رہا ،تقریباً چھ مہینے بستر مرض پر رہے، ڈاکٹر حیرت زدہ تھے کہ چھ مہینے سے بغیر غذا کے ہیں،رقیق غذا بھی، چند قطرے مشکل سے فرو حلق ہوتی، آخر آپ زندہ کیسے ہیں؟ یہ صرف آپ کی روحانیت اور کرامت ہے۔ اس حالت میں بھی آخر وقت تک ذہن و دماغ پوری طرح کام کرتا رہا تھا۔ مسلسل لوگوں سے دین کی باتیں کرتے اور تلقین و ہدایت فرماتے رہتے۔ شدت تکلیف کے باوجود، چہرہ ہمیشہ پرسکون اور روشن رہا، اسی حال میں آخر وقت موعود آگیا اور آپ کی روح اپنے رب اعلیٰ سے جاملی، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
آخر، وقت کا یہ باکمال آفتاب رشد و ہدایت غروب ہوگیا، ۲۹؍ شعبان العظم ۱۳۶۶ھ مطابق 19؍جولائی 1947ء اپنے آبائی گاؤں سملہ سے جانب مشرق خاندانی قبرستان میں آپ کی تدفین عمل میں آئی۔ اور رمضان المبارک کا چاند بعد تدفین مطلع غرب پر پیغام مغفرت دیتانظرآیا۔ خدا مغفرت کرے ع
وہ اپنی ذات سے اک انجمن تھے
اپنے وقت کے گمنام مگر با کمال شیخ وقت، مرد درویش اور مجاہد جلیل محبوب الا ولیاء حضرت شاہ محمد قاسم فردوسی ؒ کے وصال کے بعد خانقاہ مجیبیہ فردوسیہ سملہ کی سجادگی جناب الحاج حکیم شاہ محمد طاہر عثمانی فردوسی سملوی ؒ کو عطا ہوئی،آپ کا انتقال پر ملال ماہ ۲۲ ذیقعدہ۱۴۲۵ھ ؁ مطابق 4جنوری2005ء کو ہوا اور آپ اپنے خاندانی قبرستان سملہ میں مدفون ہوئے۔آپ کے وصال کے بعد سملہ میں حضرت شاہ احمد کبیر ابو الحسن شہید ؒ کے عرس مبارک کے مو قع پر ۶ رجب المرجب۱۴۲۵ھ ؁ مطابق12اگست 2005بروز جمعہ بعد نماز مغرب علماء اور مشائخ کی موجودگی میں عزیزی مولانا شاہ ابودجانہ تسنیم عثمانی فردوسی سلمہ اللہ تعالیٰ کی دستار بندی ہوئی اور سجادگی عمل میں آئی۔اس طرح عزیز موصوف اپنے تمام خاندانی تبرکات کے محافظ اور اپنے بزرگوں کی روش اور نقش قدم پر رشد و ہدایت کے خلیفہ و مجاز ہیں۔
ہے خراب باد ہ ساقی کمالی کی دعا

حشر تک یا بوالحسن آباد میخانہ رہے

خوش خبری