آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Sunday, July 31, 2016

محبوب الاولیاء اور اتباۓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم

یہ تقریر پروفیسر شاہ حسن عثمانی نے حضرت حکیم شاہ محمد طاہر عثمانی فردوسی سملوی ؒ کے سالانہ قل بتاریخ 22 ذیقعدہ  1427ھ مطابق 14 دسمبر 2006  ء کے موقع پر کی تھی جسے شعبہ نشر و اشاعت مرکز اشاعت دین ''بیت القاسم ، ذاکر نگر، جمشید پور سے شائع کیا گیا ہے۔ آئینہ اس کتاب کو اپنے سلسلہ مطبوعات کے تحت پی ڈی ایف  شکل میں پیش کر رہا ہے۔




Saturday, July 30, 2016

پودوں میں رسمِ شادی

پودوں میں رسمِ شادی



ایس.ایم. ناطق قادری


پودوں کی دنیا بہت عجیب و غریب ہے، ساخت کے اعتبار سے ان کے مختلف اقسام ،ان کا اُگنا اور نشؤو نما پانا، ان کے اندر پائے جانے والی مختلف عادات و اطوار ،قوّتِ دفاع، نقّالی کی عادت ، راحت و تکلیف سے متاثِر ہونا، کبھی کبھی اپنے دفاع کے واسطے جانوروں پر حملہ آور ہوجانا ایسی حیرت انگیز حقیقتیں ہیں کہ ان کا مطالعہ بڑا دلچسپ اور قابلِ غور ہے۔قدرت نے عام طور سے حیوانات سے نباتات کو کمزور بنایا ہے مگر پودوں کی افزائشِ نسل کے لیے قدرت کا انتظام بڑا ہی حیران کن اور جاذبِ نظر ہے۔ انسان اور حیوان کی بقا اور آبادی میں اضافہ کے لیے نر اور مادہ کا ملاپ ضروری عمل ہے، انسانی دنیا میں اس رسمِ طبعی کو رسمِ شادی سے تعبیر کرتے ہیں ۔ قدرت نے پودوں کی آبادی میں اضافہ اور اس کی نسلوں کو فروغ دینے کے لیے پودوں کے اندر بھی باہمی شادیات کابڑا لطیف اور انوکھا انتظام کر رکھّا ہے، سائنس اور علمِ نباتات کی زبان میں اس خصوصی عمل کو پالینیشن(pollination) کہتے ہیں اوراس کاانحصارپھولوں پرہے۔

جس طرح انسانی دنیا میں شادی کی ایک عمرطبعی ہے اُسی طرح پودوں میں بھیایک خاص مدّت کے بعد پھول کا آنا ان کے ازدواجی زندگی کا آغاز ہے ،ان ہی پھولوں میں نر اور مادہ پھول ہوتے ہیں ۔بعض پودوں میں یہ نر اور مادہ پھول ایک ساتھ ہوتے ہیں یعنی ایک ہی پھول کے کٹورے میں دونوں قسم کے جنس موجود ہوتے ہیں ، ایسے پھولوں کو مکمل pletecom flower پھول کہتے ہیں ۔ بعض پودوں میں نر اور مادہ پھول ایک ہی پودے میں ہوتے ہوئے بھی مختلف جگہ پر اُگے رہتے ہیں ۔ مکئی کے پودوں میں اس کے بالائی حصہ پر جو دھان کی بالی کی شکل کا پھول ہوتا ہے وہ نر پھول کہلاتا ہے اور پودوں کے تنے میں پتّیوں کی گانٹھ کے قریب مکئی کے بال کی موچ نکلتی ہے یہ مادہ پھول ہے۔
(
pollination) پالینیشن کے عمل کو سمجھنے کے لیے نر اور مادہ پھول کے مختلف حصوں کو سمجھنا ضروری ہے ۔نر پھول کا گھنڈی دار بالائی حصہ anther )) انتھر کہلاتا ہے ،یہ ایک پتلی سی چھڑی (filament) فیلا منٹ کے اوپر رہتا ہے ۔ نر پھول جب اپنے سنِ بلوغت کو پہنچ جاتا ہے تو بالائی حصہ پر موجود انتھر (anther) میں باریک بُرادے قوی ہو جاتے ہیں جن کو علمِ حیات میں پولن گرینس (pollen grains) کہتے ہیں یہی باریک ذرّات اپنے اندر قوّتِ تولید رکھتے ہیں اور وقتِ مقرّرہ پر مادہ پھول کے بالائی حصہ اسٹگ ما (stigma) پر قدرت کے مختلف کارندوں کی مدد سے پہنچ جاتے ہیں اور اسٹگ ما (stigma) سے نکلنے والی لس دار سیّال کی وجہ سے یہ پالن گرینس اس پر چپک جاتے ہیں اور اس طرح جنسی عمل(fertilisation ) شروع ہوتا ہے اوربیج اور پھل کی بنیاد پڑ جاتی ہے اور دیکھتے دیکھتے پھول مرجھانے لگتے ہیں اوران کی جگہ ننھا سا پھل نظر آنے لگتا ہے اور ایک معینہ مدت کے بعد وہ بھی بڑا ہو جاتا ہے ۔
نر کو مادہ پھول سے قریب کرنے میں قدرت کا بڑا انوکھا ،حیرت انگیز اور دلچسپ انتظام ہے جس کو دیکھ کر قدرت کی صنّاعی کاگرویدہ ہوجانا پڑتا ہے، نہ کوئی شور نہ ہنگامہ، نہ باجا نہ گاجا، نہ سہرا نہ مکنا ،نہ بر نہ برات، جیسا کہ انسانی سماج میں آجکل ہم نے بنا رکھّا ہے۔ہمارے یہاں زن و شو کو باہم ملانے کا بڑا پُر وقار طریقہ ہے لیکن مذہب سے دوری نے اس کو ایک بہت بڑا مسئلہ بنا دیا ہے۔
منسوب ہی طے نہیں ہو پاتی جب تک کہ لڑکے اور لڑکی کے والدین کی ناک میں دم نہ آجائے۔ خاص طور پر لڑکے والوں کی طرف سے
فرمائشوں اور انوکھی شرائط نے لڑکی والوں کی جان آفت میں ڈال رکھّی ہے۔ یہ کیا ستم ہے کہ کل تک جن بچّیوں کی چہل پہل، ان کی توتلی زبان اچھّی بھلی معلوم ہوتی تھی آج جوان ہو کر گھر کو رونق بخش رہی ہیں تو والدین کے دن کا چین اور راتوں کی نیند حرام ہوتی محسوس ہورہی ہے۔شریف او ر نادار طبقہ کے سامنے لڑکیوں کی شادی بہت بڑا مسئلہ بن کر رہ گئی ہے ۔
آج کل انسانی شادی میں مال و دولت کی ہوس ،نمائش کا شوق اور زندگی کے بامقصد اصولوں سے انحراف صا ف صاف نظر آتا ہے، ان کے مقابلہ میں معصوم، خاموش اور گونگے پودوں کی رسمِ شادی کہیں زیادہ صاف ستھری اور بھلی معلوم ہونے لگی ہے ۔معاف کیجیے گا ان باتوں کا تذکرہ یہاں بے جوڑ سا معلوم ہو رہا ہوگا لیکن انسانی دنیا کے ایک فرد ہونے کے ناطے قلم کچھ نہ کچھ تلخ حقیقتوں کی طرف اشارہ کر ہی یتا ہے۔ آیئے پودوں کی شادی میں چلیں، پالی نیشن (
pollination ( یعنی نر اور مادہ پھولوں کو یکجا کرنے کے لیے قدرت نے ہوا، پانی، پتنگے ، بھنورے ، مختلف قسم کی مکھیاں اور تتلیوں سے کارندوں کا کام لیا ہے، یہ سارے کارندے نر پھول کے پالن گرینس(pollengrains ( کو مادہ پھول کے ایک مخصوص عضوstigma ) ) تک پہنچانے کا کام کرتے ہیں۔ پھولوں پر منڈلاتی تتلیاں اور گنگناتے بھنورے صرف رونقِ چمن کی خاطر نہیں بلکہ قدرت نے یہ انتظام ایک اور بہت ہی اعلی مقصد کے لیے کیا ہے۔پتنگوں اور تتلیوں کے پیر اور پر وں پر چپکے پالن گرینسpollengrains))یعنی نر پھول کے باریک ذرّات،مادہ پھول کے مخصوص عضو (Stigma) پر جا پڑتے ہیں جہاں سے جنسی عمل کی شروعات ہوتی ہے اور عملِ تولید کی تکمیل کے بعد بیج اور پھل کی بنیاد پڑتی ہے ، د ھان اور گیہوں کی بالیاں ہوں، آم کے رسیلے پھل ہوں یا انگور کے سرمست خوشے، ہر طرح کے پھل، میوہ جات سب کے سب اپنے پیدا ہونے میں اسی پالی نیشن(pollination) کے عمل کے مرہونِ منّت ہیں ۔پھولوں سے اٹھتی خوشبوجہاں آپ کے دل و دماغ کو ترو تازگی پہنچاتی ہے وہیں مکھیوں، پتنگوں کو اپنی جانب کھینچنے میں بہت معاون ہے ۔ بعض پتنگوں کی خوراک پھولوں کا رس یعنی یہی نیکٹر(nectar) ہے ۔ یہ پتنگے اپنا خوراک لینے کے لیے مختلف پھولوں پر بیٹھتے رہتے ہیں اور قدرت ان کے رزق کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ان کے ذریعہ پالی نیشن (Pollination)کے عمل کوبروئے کارلاتی ہے۔ہوا کے لطیف جھونکوں کے ساتھ نر پھول کے پالن گرینس pollengrains) ) مادہ پھول پر جا گرتے ہیں ۔ اس کا مشاہدہ مکئی کے پودوں کے ساتھ بہت آسانی سے کیا جا سکتا ہے ۔ آپ ایک مکئی کے پودے کو جنبش دیں ،اس کے بالائی حصہ پراگے ہوئے دھان سے باریک ذرّات جھڑنے لگیں گے۔ یہی پالن گرینس(pollengrains ( ہیں جو مکئی کے ملائم ریشمی بالوں کے گچُھّے ( موچ ) پر گرنے سے مکئی کے بال میں دانے پڑنے شروع ہو جاتے ہیں۔ اگر کوئی اس مادہ پھول ،مکئی کے بال کے منھ پر ایک پلاسٹک کی تھیلی باندھ دے اور پالن گرینس(pollengrains ( کو مکئی کے بال پر نہ گرنے دیا جائے تو سب مکئی کے پودوں میں تو دانے ملیں گے لیکن اس مخصوص پودے میں مکئی کے بال کے دانے بالکل نظر نہیںآئیں گے۔ پانی اور ہوا تو خاص طور سے نر پھول کے پالن گرینس(pollengrains ( کو مادہ پھول تک پہنچاتے ہیں ، اس کے علاوہ کیڑے ، پتنگے ، مکھیاں او ر بھنورے بھی نر پھول سے نکلنے والی بو کے ایسے متوالے ہوتے ہیں کہ ان پھولوں پر ان کا بیٹھنا ناگزیر ہوتا ہے اور اس طرح ان کے پیروں اور پروں پرکی مدد سے پالن گرینس(pollengrains ( مادہ پھول پر پہنچ جاتے ہیں اور عملِ تولید کا سلسلہ چلتا رہتا ہے ۔آپ نے کبھی دھوکے سے شادی ہوتے نہیں سنا ہوگا ۔آئیے آپ کو الجیریا کے ایک پودے Mirrororchid جس کاحیاتیاتی نام (botanical name) ا و فرِس اسپیکولم (ophrys speculam) ہے کا بہت کامیاب دھوکے کا حال سناتا ہوں ۔اس کا پھول قدرت کی عطا کردہ بے مثال قوّتِ نقّالی کی وجہ سے خود کوایک اڑتی ہوئی مخصوص نسل کی مادہ مکھّی کی طرح بن کر پیش کرتا ہے جس کو دیکھ کر اسی نسل کا نر اس کی طرف مائل ہوتا ہے ۔
۲
نباتات کے ماہروں کا کہنا ہے کہ اس پھول کی پنکھڑی کے رنگوں کا امتزاج، اس کا بھورا اور چمکیلا نیلا رنگ اور اس کی بناوٹ نباتات کی دنیا میں بہت مثالی ہے اور سچ مچ ایک اڑتی ہوئی مکھّی نظر آتاہے ، قدرت کا یہ نظام بھی کتنا عجیب و غریب ہے کہ مادہ مکھّی ان پھولوں پر کبھی نہیں بیٹھتی بلکہ دوسرے اقسام کے پھولوں سے اپنا رزق حاصل کرتی ہے۔اس مادہ مکھّی کا نر چند روز پہلے نکل آ تاہے اور اپنی مادہ کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے اور دھوکے سے اس (پھول) کو اپنی مادہ سمجھ کر اس پر بیٹھ جاتا ہے،چونکہ اس کی جنسی بھوک کا تدارک نہیں ہوپاتااس لیے یہ ایک پھول سے دوسرے پھول پر اڑتا اور بیٹھتا رہتا ہے لیکن اس کی اس خواہشِ وصل اور احمقانہ حرکت سے نر پھول کے پالن گرینس(
pollengrains ( مادہ پھول پر پہنچ جاتے ہیں اور بیج اور پھل کی بنیاد پڑ جاتی ہے ۔ یہ بات بھی بہت دلچسپ اور غور کرنے کی ہے کہ جب مادہ مکھّی آ نکلتی ہے تو یہ نر کبھی ان پھولوں(نقلی مادہ)کی طرف راغب نہیں ہوتا ۔
پودوں کی افزائشِ نسل کے لیے قدرت کا یہ عملِ مخصوص ، پالینیشن (
pollination ( یا رسمِ شادی کہلاتا ہے ۔ یہ پودوں کی اچھّی سے اچھّی اقسام پیدا کرنے میں بہت معاون ہے۔ اس کام سے لگے ماہرین(plant- breeders )نے مختلف نرپھول کے پالن گرینس (pollengrains ( کو مادہ پھول پر تجربہ کر کے بہت ہی فائدہ مندنسلیں تیّار کی ہیں اور اسی تکنیک کی مدد سے دھان، گیہوں،گنّااور مختلف قسم کے پھلوں کی زیادہ اُ پج دینے والی قسمیں کسانوں کے پاس پہنچ رہی ہیں۔ ان قسموں کی ایجادات نے زراعت کی دنیا میں سبز انقلاب کے سنہرے خواب کی تعبیر کو حقیقت کے بہت قریب کردیا ہے۔

مینڈ کی شہزادی

بہت دنوں کی بات ہے ملک روس میں شہنشاہ زار عالی تبار کی حکومت تھی۔اس کے تین لڑکے تھے۔ایک دن زار نے لڑکوں کو بلاکر کہا۔(پی ڈی ایف میں پڑھنے کے لئے نیچے ٹائٹل پرکلک کریں۔)


Friday, July 29, 2016

شاعر اسلام،اقبال ۔۔ شخصیت اور پیام


شاعر اسلام،اقبال ۔۔شخصیت اور پیام

طیب عثمانی ندوی

اقبالؒ ایک بڑے شاعر تھے اور اپنے عہد کے سب سے پڑھے لکھے شاعر تھے جس نے اپنے عہد کی صرف اردو فارسی شاعری پر نہیں بلکہ اس دور کے فکر و نظر پر بھی اپنا اثر ڈالا۔ میری مکتب کی تعلیم جس ماحول میں ہوئی وہ علمی و دینی بھی تھی اور شعری و ادبی بھی، جس میں تصوف کی چاشنی تھی، مجلس سماع کے ذریعہ اردو فارسی کی نعتیہ، حمدیہ اور عشقیہ غزلوں سے کان بچپن ہی سے آشنا تھے۔ ابوالکلام کی بلند آہنگ نثر، سید سلیمان ندوی کے خطبات مدراس کی انشاء پردازی کا ذکر اکثر کانوں میں پڑتا اور ساتھ ہی حالی کی مسدس اور اکبر و اقبال کی نظموں کے اشعار گھر کے بزرگوں کی زبانی سنا کرتا۔ اقبال کی مشہور نظمیں ’’بچوں کی دعا‘‘ لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری، زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری، اور ’’دعا‘‘ یا رب دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنا دے۔ جو قلب کو گرما دے، جو روح کو تڑپا دے۔ والد مرحوم نے مجھے بچپن ہی میں یاد کرا دی تھیں۔ یہ دونوں نظمیں آج بھی میرے دل پر نقش ہیں۔ پھر جب میں سن شعور کو پہنچا اور چمنستان شبلی و سلیمان ندوی کے ادبی ماحول میں اقبال کو تفصیل سے پڑھا تو واقعہ یہ ہے کہ اقبال کا شیدائی بن گیا اور پھر اقبال میرے لیے کسی عرب شاعر کے اس شعر کے مصداق ہوگئے:
أتانی ھواھا قبل أن أعرف الھوی
فصا د ف قلباً خالیا فتمکنا
(محبت میرے قریب اس حال میں آئی کہ میں محبت سے آشنا نہ تھا، بس اس نے میرے دل کو خالی پاکر اپنا قبضہ جما لیا)
اقبالؒ محبت اور ایمان و یقین کے شاعر ہیں۔ ان کا قلب حب رسول اور عشق رسول سے سرشار تھا۔ عشق و محبت ہی نے اقبال کو یقین کی لذت سے آشنا کیا تھا جس نے انہیں عرفان ذات بخشا اور وہ خودی کے نغمہ خواں بن گئے۔ اقبال مغرب کے ناقد اور مشرق کے پیامبر تھے۔ ان کا کلام، خصوصا ’’ضرب کلیم‘‘ اور ’’پیام مشرق‘‘ اس پر شاہد ہے، انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ اپنی ہی پرچھائیوں کے پیچھے بھاگتا ہے، اقبال کے یہ افکار اور جذبات، میری اپنی پرچھائیاں ہیں جو میرے شعور و احساسات سے ہم آہنگ ہیں، لہٰذا وہ میری اپنی پسند بن گئے، اور ان کی شاعری میرے اپنے دل کی آواز ہے، میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے۔
اقبالؒ کی شعریات سے میری یہ والہانہ دلچسپی اور شغف کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میرے نزدیک ان کی شخصیت انسانی کمزوریوں سے مبرا، ملکوتی تقدس سے مشابہ ہے۔ میری حمایت میں ایسی حمیت نہیں ہے جو انہیں معصوم قرار دے۔ اس موقع پر مجھے مولانا سید سلیمان ندویؒ کا وہ بلیغ جملہ یاد آرہا ہے جو انہوں نے اپنے استاد علامہ شبلی کی سوانح حیات شبلی میں لکھا ہے کہ شبلی اپنی تمام علمی و ادبی عظمت اور خوبیوں کے باوصف شبلی، شبلی تھے جنید و شبلی نہ تھے۔ میرے نزدیک بھی اقبال بیسوی صدی کے شاعر تھے، مغربی تہذیب کے لیے ایک چیلنج، وہ ایک اسلامی مفکر، فلسفی اور حکیم و دانشور تو تھے لیکن دینی رہنما اور روحانی پیشوا نہ تھے اور واقعہ یہ ہے کہ اقبال، اقبال تھے عطا رو رومی نہ تھے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اردو شاعری کی تاریخ میں میر، غالب اور اقبال کے بعد ہنوز کوئی دوسرا ایسا شاعر پیدا نہ ہوسکا، جو اقبال سے ایک قدم آگے اردو شاعری کا چوتھا ستون بن سکتا ہے۔ اقبال نہ صرف اسلامی افکار و اقدار کے ترجمان تھے بلکہ اسلام ان کے دل کی دھڑکن بن چکا تھا جو خون جگر بن کر ان کی آنکھوں سے ٹپکا اور جس نے ایسی زندہ وہ جاوید شاعری کو جنم دیا۔
اقبال کی شاعری کا بیشتر حصہ یقین کی روشنی، محبت کی گرمی اور حرکت و عمل کا ایک ایسا پرکیف و رنگین نغمہ ہے جس کی نغمگی اور آتش نوائی سے حیات کے تار جھنجھنا اٹھتے ہیں۔ اقبال کا ساز حیات بے سوز نہیں ہے بلکہ عشق نے اس میں حرارت اور خودی نے اس میں عظمت پیدا کردی ہے اور اسے جب شاعر کی انگلیاں چھیڑتی ہیں تو اس سے زندگی کے کیف آور نغمے پھوٹ پڑتے ہیں۔
اقبال کی شاعرانہ عظمت صرف یہ نہیں ہے کہ اس نے ہمارے لیے ایسے مسرت آگیں شعر و نغمہ پیش کئے جس کو سن کر ہمارے شعور وجدان کو اہتزاز و انبساط حاصل ہوتا ہے بلکہ اس نے ہمیں ایک نظریہ حیات کا احساس اور ایک نظام زندگی کا شعور اور زندگی کا ایک خاص نقطہ نظر بخشا، جس نظریہ زندگی کا وہ حامی اور جس نظام حیات کا وہ پیامبر تھا اس پر اس نے نہ صرف یہ کہ عمل کرنے کے ترغیب دی بلکہ اس کے کلام میں اس مخصوص نظریہ زندگی کا حسن، اس کا رنگ و آہنگ اور لذت و کیف اس طرح ہم آمیز اور رچا بسا ہوا ہے کہ آج بھی جب ہم اسے پڑھتے ہیں تو ہمارے کانوں میں وہی رنگ و آہنگ، وہی ساز کی جھنکار اور وہی شیریں نغمے گونجنے لگتے ہیں جس سے ہمیں مسرت، نشاط اور بصیرت حاصل ہوتی ہے۔

Thursday, July 28, 2016

ڈاکٹر ضیاء الہدیٰ ؒ ۔۔ فقر غیور کاایک مثالی کردار


ڈاکٹر ضیاء الہدیٰ ؒ ۔۔۔فقر غیور کاایک مثالی کردار

از طیب عثمانی ندوی


مجھے یاد نہیں،میں نے جناب ڈاکٹر ضیاء الہدیٰ صاحب ؒ کو کب اور کیسے دیکھا؟ اپنے دور طالب علمی میں ، جب میں تحریک اسلامی سے قریب ہوا اور ندوہ سے چھٹیوں میں گھر آنا ہوتا تو کبھی کبھی پٹنہ بھی جانا ہوتا تو ڈاکٹر صاحب کا نام اکثر سنتا۔ پھر تحریک اسلامی کی قربت کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر صاحب کی شخصیت اور ان کے درس قرآن کی شہرت سے واقفیت بڑھتی گئی۔میں نے ان کو جب بھی دیکھا ایک طرح پایا،قمیص ،چوڑے مہری کا پاجامہ،کشتی نما ٹوپی،سادگی کا پیکر،چہرہ روشن،پاک دل و پاکباز ،یہ تھا ڈاکٹر صاحب کا سراپا۔ان کی شخصیت کی ایک اور شناخت ان کی سائیکل بھی تھی،جس پر وہ اپنے پاجامہ کے ایک پائنچہ میں کلپ لگائے عالم گنج سے انجمن اسلامیہ تک اور جانے کہاں کہاں رواں دواں ہوتے۔ مجھے یاد آتا ہے کہ ابتدا میں اکثر ان کو اسی طرح سائیکل پر ہی دیکھا تھا۔یہ انداز بے نیا زانہ اور طرز قلندرانہ میرے لئے باعث کشش ہوتا۔ پھر تحریکی دلچسپی کے باعث اکثر ان سے ملنے، باتیں کرنے، ان کے درس قرآن میں شریک ہونے اور تقریروں کو سننے کا موقع ملا جیسے جیسے قربت بڑھتی گئی ان کی محبت و عقیدت میں اضافہ ہوتا گیا۔ خصوصاً ان کے درس قرآن میں جی لگتا، قرآنی نکتے، سائنسی انداز بیان اور حالات حاضرہ پر ان کا انطباق، ان کے درس قرآن کی خصوصیت تھی۔ جس نے ہر مکتب فکر میں ان کی مقبولیت میں اضافہ کردیا تھا۔ خصوصاً طلبا اور نوجوانوں میں وہ بیحد مقبول تھے، ان کی سیرت کے موضوع پر تقاریر اور انجمن اسلامیہ کے جمعہ کے خطبے میں تو دور دور سے لوگ سننے کے لئے آتے۔ وہ جس ایمان و یقین کی دولت سے مالامال تھے، اس کا اثر نئی نسل پر بیحد پڑتا، ان کے ذہن و فکر میں جلا پیدا ہوتا، تشکیک و تذبذب کے اندھیرے دور ہوتے اور ان کے اندر ایمان و یقین کی قندیلیں روشن ہوجاتیں۔ ڈاکٹر صاحب کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو ان کی فقر و درویشی تھی، جو موجودہ معاشرہ اور اپنے ہم عصروں میں انہیں بہت ممتاز کر دیتی تھی۔ یہ فقر، ’’فقر خود اختیاری‘‘ تھا۔ حکومت کی اعلیٰ ملازمت اور دنیاوی ترقی کے امکانات کو چھوڑ کر ہومیوپیتھ ڈاکٹری کے پیشہ کو اختیار کیا تھا، جس سے انہیں بڑی مناسبت تھی۔ جو ان کی بقدر کفاف زندگی کا ذریعہ تھا، صاف ستھری اور سادہ رہن سہن ان کا طرۂ امتیاز تھا۔ تحریک اسلامی کے کاموں میں وہ ہمہ وقت مشغول رہتے، پھر امیر حلقہ بھی ہوئے لیکن جماعت کے ضابطہ کے مطابق بقدر کفاف، کوئی رقم اپنی ذات کے لئے قبول نہیں کی۔ ڈاکٹر صاحب کے اندر تحقیق و جستجو اور نئی نئی ایجادات کا شوق اورفطری جذبہ تھا، نئی نئی دوائیں بنانے کے تجربے کرتے، عطر سازی کا خاص ذوق اور مشغلہ بھی تھا۔ طبابت و تجارت بھی بس اتنا ہی کرتے جو ان کے لئے بقدر کفاف ہوتے۔ جلبِ منفعت ان کا مطلوب و مقصود نہ تھا، وہ کبھی کسی کی مالی طور پر ممنون احسان نہیں ہوئے، اپنے مخلص، عقیدت مند اور قریبی رفقاء جو ان سے محبت رکھتے تھے، اس معاملہ میں ان سے بھی محتاط رہتے، فقر و درویشی ان کا مزاج تھا اور یہ چیز ان کے لئے باعث لذت و مسرت ہوتی۔ واقعہ یہ ہے کہ وہ ’’فقر غیور‘‘ کے مثالی کردار تھے۔ میرے نزدیک ان کی شخصیت اور زندگی کا یہ ایسا روشن و تابناک پہلو ہے جو اس مادہ پرستانہ اور پرتعیش معاشرہ کے لئے ہمیشہ مشعل راہ رہے گا۔ 
ڈاکٹر صاحب کا تحریک اسلامی کے کاموں، سیرت کے جلسوں اور جماعت کے خطاب عام کے سلسلہ میں اکثر گیا بھی آنا ہوتا، اجتماعات کے علاوہ بھی ان کی صحبت میں مجھے بیٹھنے، ان کی باتیں سننے کا موقع ملتا، وہ زاہد خشک نہ تھے، شائستہ اور پر مزاح گفتگو کرتے، بڑے، بوڑھے اور بچے سبھی ان کی بصیرت افروز گفتگو سے لطف اندوز ہوتے، ان کے خطبے اور تقریر یں سادہ اور دلنشیں ہوتیں، وہ اپنی باتوں کو بڑے یقین اور اعتماد سے کہتے۔ ان کا ایک یقین، لاکھوں شک پر بھاری ہوتا۔ میں جب بھی ان کی تقریریں سنتا، مجھے اس بات کا بڑا احساس ہوتا کہ ڈاکٹر صاحب کا یقین اس رومانی انقلابی تصور سے زیادہ ہم آہنگ ہے، جس کا تعلق زمینی عملی زندگی سے دور اور ایک خیالی رومانس سے قریب تر ہے۔ وہ اکثر اپنی تقریروں میں اس مغربی تہذیب اور مادی دنیا کا نقشہ اس طرح کھینچتے جیسے یہ تہذیب مغرب، اقبال کی زبان میں اپنے ہاتھوں آپ خود کشی پر تلی بیٹھی ہے، شب تاریک کے بعد، نمود سحر کے آثار نمایاں ہیں اور اب اسلامی انقلاب کا سورج بس طلوع ہی ہونے والا ہے۔ اس بات کو وہ جس ایمان اور نبوی یقین و مشاہدے کے انداز سے کہتے کہ کچھ دیر کے لئے سامعین کھو جاتے اور وہ محسوس کرتے کہ اب اسلام کا اجالا پھیلنے ہی والا ہے۔ اسی لئے ڈاکٹر صاحب ملت اور مسلم مسائل سے ہٹ کر، وہ براہ راست غیر مسلموں میں دعوت اسلامی کے قائل تھے۔ میرے خیال میں اسی باعث اپنے آخری دور میں تحریک اسلامی کے بعض عملی پہلو اور ملکی حالات کے تناظر میں حکمت عملی سے خاصا اختلاف ہوگیا تھا۔ جس جماعت اور تحریک سے وہ زندگی بھر وابستہ اور پیوستہ رہے، اس کی مخالفت تو کبھی نہیں کی لیکن عملاً خموش بیٹھ گئے۔ میں اس کی وجہ ان کا وہی رومانی انقلابی تصور سمجھتا ہوں، جو ان کے جذبہ صادق اور یقین کامل سے ہم آہنگ تھا۔ ڈاکٹر صاحب کے ایمان و یقین کی یہ وہ منزل تھی، جس کے لئے ملکی حالات اور وقت درکار تھا اور موجودہ تحریک اسلامی کی اجتماعی قیادت فکر کی اِن دو انتہاؤں کے درمیان پھونک پھونک کر جس طرح قدم بڑھا رہی تھی، ڈاکٹر صاحب اس سے مطمئن نہیں تھے، اور واقعہ یہ ہے کہ آج ملک کے حالات اتنے تشویشناک، پر خطر اور سنگین ہوگئے ہیں کہ اب ضرورت عملی اقدام کی ہے۔ غیر مسلموں میں اسلام کی دعوت کے ساتھ ساتھ ضرورت اس بات کی ہے کہ آج مسلم ملت جن تہلکوں سے دوچار ہے، اور پورا ملک فسطائیت کے جس شکنجہ میں کسا جا رہا ہے اس کے تدارک کے لئے اجتماعی فکر و عمل درکار ہے۔ خدا ہماری قیادت کو حکمت و بصیرت سے نوازے۔
اخیر عمر میں ڈاکٹر صاحب کا تحقیقی ذوق تصوف کی طرف بھی مائل تھا۔ صوفیائے کرام کے اذکارو اشغال ،مشاہدہ و مراقبہ کی وہ سائنسی تحقیق و جستجو کرنا چاہتے تھے، مجھ سے انہوں نے صوفیا کے پرانے بیاض اور اذکار واوراد وظائف کی کتابوں کی فرمائش کی، میرے پاس جو کچھ تھا، ان کے حوالہ کیا، کچھ دنوں کے بعد انہیں مجھے واپس کردیا اور کہنے لگے، میں جو چاہتا تھا وہ اس میں نہیں ہے۔ وہ دراصل قدیم صوفیاء کے ان مشاہدوں اور مراقبوں کی سائنسی توجیہہ و تعبیر کرکے ان کا سائنٹفک تجربہ کرنا چاہتے تھے، نہ جانے وہ اس میں کس حد تک کامیاب ہوسکے۔
بہر حال، ڈاکٹر صاحب کی روشن پاکیزہ زندگی اور قرآنی فکر و بصیرت ہمارے لئے آج بھی شمع راہ ہے، وہ دل روشن، فکر ارجمند اور زبان ہوشمند کے مصداق تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے مراتب و درجات کو بلندفرمائے۔ اور ان کی دینی و اجتماعی کوششوں کو قبول فرمائے۔ اور ۔ ع
آسماں ان کی لحد پر شبنم افشانی کرے

Sunday, July 24, 2016

شہزادی الماس

آئینہ دی مرر بچوں کی کہانیوں کا ایک نیا کتابی سلسلہ شروع کر رہا ہے  جس میں ہم وہ کہانیاں  پی ڈی ایف شکل میں شائع کر رہے ہیں جو اب نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہیں۔ پی ڈی ایف شکل میں ان کتابوں کو آن لائن پیش کرنے کا مقصد قطعاً تجارتی نہیں۔ امید ہے وہ پبلشر جو ان کتابوں کے جملہ حقوق کے مالک ہیں ہماری اس جسارت کو معاف کریں گے اور ہمیں بخوشی اس بات کی اجازت دیں گے کہ انہو ں نے اردو زبان کے فروغ اور بچوں کی اصلاحی و اخلاقی   کردار کی بلندی کے لئے جو کاوشیں کیں ہم اسے آگے بڑھائیں۔ یہ ایک محنت طلب کام ہے لیکن اپنے بچوں کے سامنے اپنے بچپن کی
لائبریری کا یہ سرمایہ تمام پبلشروں کے شکریہ کے ساتھ پیش کرتے ہوئے خوشی محسوس کر رہے ہیں۔



Shahzadi Almas


خوش خبری