آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Saturday, 18 March 2017

Gyan - Natique Quadri

گیان
ناطق قادری
چلو نا، پکچر دیکھنے چلیں۔ پاکیزہ لگی ہوئی ہے۔
چلو نا،  ٹیبل ٹینس دیکھنے چلیں-
چلو نا، گھر چلیں۔
مگر وہ سگریٹ کے کش لیتا رہا، پر سکون اور خاموش تالاب میں تیرتی ہوئی چھوٹی  چھوٹی مچھلیوں کو تکتا رہاسبھی جاچکے تھے۔
اب وہ تنہا تھا۔اسے کچھ سکون ملا۔ اس نےدوسرا سگریٹ سلگایا۔ اس کا داہنا ہاتھ بار بار پیشانی پر جاتا کچھ دیر ٹھہرتا پھر ہٹ کر  تالاب کے کنارے اُگی ہوئی دوب کو نوچنے میں مصروف ہو جاتا۔ تبھی فضا میں ایک آواز ابھری۔
”تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔“
جیسے اس کا منتظر رہا ہو۔مگر اس کی پیشانی پر ننھی ننھی بوندیں نمو دار ہونے لگیں۔ہونٹ سختی سے بند ہو گئے۔اُس کے چہرے پر غصّہ اور بے چارگی کے لشکر حملہ آور تھے۔اس نے سر کو جھٹکا دیا۔ پیشانی کی بوندیں تالاب میں جا پڑیں۔ چھوٹی چھوٹی مچھلیاں اس طرف تیزی سے دوڑیں۔ مگر وہاں تو کچھ بھی نہ تھا۔بوندیں تالاب کا جز بن چکی تھیں۔بوندیں اپنا وجود کھو چکی تھیں۔
وہ پیر پھیلا کر لیٹ رہا۔ آنکھیں بند کئے نہ جانے کتنی دیر وہ پڑا رہا۔ یکایک اس نے آنکھیں کھول دیں اور جب اس کی آنکھیں کھلیں تووہی آواز پھر موجود تھی۔”تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔“
اس بار اس نے نہایت دھیمے لہجے میں جواب دیا۔
”مجھے ایسا ہی کرنا چاہے تھا۔“
تم تو ہر بات جانتے ہو۔ذرا سوچو تو
مشاہرہ دو ہزار روپے
بیوی خوبصورت، ضدی اور بدھو
ساڑی کی قیمت ”پانچ سو روپے“
تمہی بتاؤ میں کیا کرتا۔
تم تو ہوا کے دوش پر ادھر سے ادھر گھومتے پھرتے ہو۔ہم جیسے انسانوں کو تنگ کرنا تمہارا کام ہے۔
ذرا گھر بسا کر دیکھو۔ نوکری کر کے دیکھو دو ہزار روپیہ ماہوار مشاہرہ پاکر ایک خوبصورت اور جان نچھاور کرنے والی بیوی کا شوہر بن کر اور بمبئی کلاتھ اسٹور کی رنگ برنگی ساڑیوں کو دیکھتے ہوئے خاموشی سے گزر کر دکھلاؤ؟
کیوں؟ چُپ ہوگئے؟
اس کی آواز خاصی تیز ہو گئی تھی۔
پاگل معلوم ہوتا ہے۔
تالاب کے دوسرے سرے پر نہ جانے کب سے آکر بیٹھی ہوئی بچوں کی ٹولی میں سے ایک منچلے لڑکے نے ریمارک پاس کیا۔وہ چُپ ہوگیا۔
اُس نے پھر آنکھیں بند کر لیں۔
اسے سکون چاہئے تھا۔ وہ سب کچھ بھول جانا چاہتا تھا۔شام کو اپنے مکان میں واپس بھی جانا تھا۔ مگر وہاں! تو!،۔۔۔
سورج غروب ہونے والاتھا۔ دن کو ”موت“آنے والی تھی۔
اس نے سوچا۔ بستر مرگ بھی کبھی کبھی کتنا حسیں ہو جاتا ہے۔جیسے یہ شام، دن کا بستر مرگ۔ کتنی بھلی کتنا حسین
مگر وہ زیادہ دیر نہیں سوچ سکا۔وہ اس ہولناک  چیخ کی طرف متوجہ ہوگیا۔
ایک بکری چیختی ہوئی ایک سمت بے تحاشہ بھاگی جارہی تھی۔ وحشت اور خوف سے مغلوب بکری بے تحاشے بھاگی جارہی تھی۔ اس کی دردناک چیخیں سناٹے کو کھائے جارہی تھیں۔بچوں کی ٹولی پرسکون تالاب میں متواتر پتھر پھینک رہی تھی۔
بکری کے پیچے ایک موٹا سا کریہہ صورت شخص موٹا ڈنڈا لئے دوڑا جا رہا تھا۔رک جا ورنہ تیری دوسری ٹانگ بھی توڑ دوں گا۔ اُس نے ہانپتے ہوئے یہ جملہ ادا کیا تھا تبھی اس کی نظر بکری کی مجروح ٹانگ پر پڑی جہاں پٹی بندھی تھی اور ڈھیر سے ہلدی چونا لگے تھے۔
یہ دیکھ کر وہ رو پڑا ۔اپنے کئے پر رو پڑا۔ اپنے ہاتھ کو دیکھ کر رو پڑا۔
بکری میں میں کرتی ہوئی وحشی ہرن کی طرح بھاگی جا رہی تھی۔وہ اسے دیکھ رہا تھا ۔ اس منظر نے اس کے پریشان ذہن کو اور پریشان کردیا تھا۔ اس نے سوچا یہ تو چوپایا ہے۔چار ٹانگوں والی ہے  مگر جس کی صرف دو ٹانگیں ہیں۔
وہ کہاں بھاگے؟ کیسے بھاگے؟
اور پھر اس کی نظر میں اس کے اپنے کمرہ کا منظر گھوم گیا۔ بے چین ہوکر اس نے اپنی پیشانی کو ملنا شروع کردیا۔
اس نے دیکھا  ایک گھنے پیپل کے سایہ میں بکری دم لے رہی تھی۔ بکری نے گھوم کر پیچھے دیکھا۔ وہ موٹا شخص نظر نہیں آیا۔ وہ سستانے لگی۔ اس کی سانس تیزی سے چل رہی تھی۔
ڈنڈا لئے ہوئے وہ موٹا شخص پاس کی جھاڑی سے نکل کر دبے پاؤں ا س درخت کی طرف آرہا تھا جہاں بکری تھک کر بیٹھ گئی تھی۔
کہیں دور کوئل نہ جانے کس کا ذکر کر رہی تھی۔
یکایک بکری اٹھ کھڑی ہوئی ، مگر موٹے شخص کا مضبوط اور کھرد را ہاتھ اس کی گردن پر جا پڑا تھا۔اس کی درد ناک چیخ نے ایک بار پھر سناٹے کاوجود ہلا کر رکھ دیا تھا۔
چیخ سن کر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کے قدم اس پیپل کے درخت کی طرف بڑھنے کو بیتاب ہو گئے۔
ابھی وہ اس درخت سے کچھ ہی فاصلے پر تھا  کہ اس کے قدم رک گئے ۔
کریہہ صورت والے شخص نے موٹے ڈنڈے کو دور پھینک دیا تھا۔ بکری کی گردن میں دونوں ہاتھ حمائل کرکے اس کے سر کو اپنی پیشانی ے رگڑ رہا تھا اور کچھ آہستہ آہستہ بولتا جا رہا تھا۔وہ بکری کی پیٹھ کو تھپک رہا تھا اور اس کی مجروح ٹانگ کو اپنے ہاتھوں سے سہلا رہا تھا۔بکری کی آنکھوں میں آنسو تھا۔
وہ بھی دبی زباں سے اوں اوں میں میں کررہی تھی اور بار بار اپنی پیشانی اس شخص کی گردن پر رگڑ رہی تھی۔
جب وہ پیپل کے پاس پہنچا تو دونوں پاس کی بستی کی طرف جاتے دکھائی دیے۔ بستی کے کچے مکانوں سے دھنواں نکل رہا تھا۔ دونوں گم سم تیز تیز بستی  کی طرف جا رہے تھے۔
وہ کچھ دیر کھڑا اپنی کیفیتوں کا جائزہ لیتا رہا۔وہ گھنے پیپل کے نیچے تھا۔ گھنے پیپل کے سایہ میں شام بھی رات معلوم ہونے لگی تھی۔ اس نے پیپل کے درخت کو دیکھا۔ اس نے سوچا مہاتما بدھ نے اسی کے نیچے روشنی پائی تھی یکایک اس نے محسوس کیا  کہ جیسےاس کا دل بالکل ہلکا ہوگیا ہو۔اسے ”گیان“ مل گیا ہو۔
اب وہ  دوڑ رہا تھا۔
کھیت ، پگڈنڈی پار کرکے اب وہ ایک چوڑی سڑک پر آگیا تھا۔اس نے دوڑنا کم کردیا تھا تب بھی اس کی رفتار میں کافی تیزی تھی۔اس نے گلی پار کی۔ ایک۔ دو۔ تین۔۔پھر وہ ایک پر رونق بازار میں آگیا۔ بمبئی کلاتھ اسٹور کے پاس اس کےتیز قدم سست پڑگئے۔ اس نے لٹکتی ہوئی خوشنما ساڑیوں کا جائزہ لیا۔پھر چل پڑا۔
تیز تیز
اس نے تین چار گلیاں پار کیں۔
اور اب وہ ایک مکان کے دروازے پر کھڑا اپنی سانسوں کی آمد و رفت پر قابو پانے کی کوشش کر رہا تھا۔
دروازہ بغیر کھٹکھٹائے کھل گی جیسے کوئی دروازہ سے لگ  کر اس کا منتظر بیٹھا تھا۔دروازہ کھولنے والی پچیس برس کی دلکش عورت تھی۔اس کے چہرے سے عیاں تھا کہ اس نے ابھی ابھی اپنے آنسو پوچھے ہیں۔وہ واپس ہوئی تو وہ لنگڑا کر چل رہی تھی۔ وہ اندر گیا۔لڑکی کے چہرے سے جھلاہٹ ، بے چارگی اور یاس و غم کے ساتھ ساتھ حیرت بھی نمایاں تھی۔
وہ کچھ دیر کھڑا اس کو دیکھتا رہا۔ عورت نے نظریں نیچی کر لیں۔اس کا چہرہ شکائیتوں کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔اس کی آنکھیں شبنمی ہو چلی تھیں۔
وہ اس کے اور قریب ہو گیا۔

دفعتاً و ہ جھک پڑا ۔ اس نے اس کی ٹانگوں کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ پھر جھک کر اس کی مجروح ٹانگ پر جہاں ہلدی چونا لگے تھے اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ عورت مبہوت کھڑی تھی۔ اس کی آنکھوں کے کٹورے چھلک پڑے۔ مگر ساتھ ساتھ اس کے ہونٹوں پر ایک نہایت لطیف تبسم کا جنم ہورہا تھا اور رخسار پر حیا کی شفق نمودار ہونے لگی تھی۔

0 comments:

Post a comment

خوش خبری