آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Saturday, 25 March 2017

ز مہجوری برآمد جان عالم

حضرت جامی ؒ

ز مہجوری برآمد جان عالم
ترحم یا نبی اللہ ترحم
(آپﷺ کی فرقت میں دنیا کی جان لبوں پر آگئی
رحم فرمائیے یارسول اللہ! رحم فرمائیے)
نہ آخر رحمۃ للعالمینی
ز محروماں چرا فارغ نشینی
کیا آپﷺ سارے عالم کے لئے رحمت نہیں ہیں؟پھر محروموں سے یہ بے اعتنائی کیوں ہے؟)
بروں آور سر از برد یمانی
کہ رومی تست صبحِ زندگانی
(یمنی چادر سرسے ہٹا کر اپنا جمال دکھائیے کیونکہ آپﷺ کا چہرہ ہی زندگانی کی صبح ہے)
شبِ اندوہ مارا روز گرداں
ز رویت روز ما فیروز گرداں
 (ہماری شب ِ غم کودن میں تبدیل کردیجئے،اپنے جلوے سے زندگانی کو کامرانی عطافرمائیے)
بہ تن در پوش عنبر بوئے جامہ
بہ سر بربند کافوری عمامہ
(ہماری چارہ سازی کو آنے کے لئے) معنبر لباس پہن لیجئے اور سراقدس پر کافوری عمامہ کو جگہ دیجئے)
ادیم طائفی نعلین پا کن
شراک از شتۂ جانہائے ما کن
 (طائف کے ادیم کی بنی ہوئی نعلین پہن لیجئے، اس کے تسموں کی جگہ ہمارے رشتۂ جاں کو کام میں لائیے)
فرود آویز از سر گیسواں را
فگن سایہ بہ پا سرو رواں را
(سراقدس سے دونوں طرف معنبر گیسو لٹکا لیجئے اور اپنے مناسب قد کا سایہ اپنے قدموں پر ڈالئے، یعنی ہماری مدد کو چلے آئیے)
جہانے دیدہ کردہ فرش راہند
چو فرش اقبال پا بوس تو خواہند
 (یارسول اللہ! ایک جہان آپ کی راہ میں آنکھیں بچھائے فرش کی طرح آپ کی قدم بوسی کے شرف کا مشتاق ہے)
ز حجرہ پائے در صحن حرم نِہ
بہ فرق خاک رہ بوساں قدم نِہ
(حجرے سے نکل کر حرم نبوی کے صحن میں تشریف لائیے اور خاکِ راہ چومنے والوں کے سرپر قدم رکھیے)
اگرچہ غرق دریائے گناہیم
 فتادہ خشک لب برخاک راہیم
 (اگرچہ ہم گناہوں کے دریا میں ڈوبے ہوئے ہیں پھر بھی ( آپ ﷺ کی) راہ میں پیاسے پڑے ہوئے ہیں)
تو ابرِ رحمتی آں بہ کہ گاہے
کنی برحال لب خشکاں نگاہے
 ( آپﷺ ابررحمت ہیں کیا خوب ہو کہ کبھی ہم تشنہ لبوں کے حال پر بھی نظرفرمائیں)
بہ حسن اہتمامت کار جامی
طفیل دیگراں باید تمامی
 ( کیا عجب کہ آپﷺ کی نگاہِ کرم سے دوسروں کے طفیل میں جامی کا کام بھی بن جائے۔)

0 comments:

Post a comment

خوش خبری