آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Tuesday, 31 October 2017

غزل ۔ طاہر عثمانی

غزل
تاج العرفان حکیم شاہ محمدطاہر عثمانی فردوسیؒ

مجھے راز درون دل عیاں کرنا نہیں آتا
حدیث دل سر محفل بیاں کرنا نہیں آتا

لئے پھرتی چمن میں ہر طرف ہے نکہت گل کو
صبا کو راز غنچوں کا نہاں کرنا نہیں آتا

جبین شوق مصروف تلاش حسن مطلق ہے
مجھے سجدوں کو صرف آستاں کرنا نہیں آتا

عجب بیچارگی ہے ان اسیران محبت کی
ہیں مجبور فغاں لیکن فغاں کرنا نہیں آتا

سناؤں شرح حال قلب مضطر کس طرح طاہرؔ
مجھے افشائے راز دیگراں کرنا نہیں آتا
    

0 comments:

Post a comment

خوش خبری