آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Monday, 11 December 2017

Amrood Badshah

امرود بادشاہ
مائل خیر آبادی
   ہاں بھئی آج کون سی کہانی ہوگی ؟ امیّ جان نے آتے ہی ہم سب سے پوچھا۔ سدّو شاید سوچے  ہوئے بیٹھا تھا بولا آج میں وہ کہانی سناؤں گا جس میں  ہے کہ ایک شخص نے سورج کو نگل لیا تھا۔
ہش ایسی جھوٹی کہانی  امیّ جان نے کہا ٹنی بولا ملتانہ ڈاکو  کی کہانی سناؤ ساتھ ہی رفو  باجی کہنے لگیں نہیں الہ دین کا چراغ  والی اورپھر سب اپنی اپنی پسند کی کہانی کا نام لینے لگے۔ سعیدہ بی ابھی  تک چپ  تھیں   وہ چمک کر بولی امیّ جان امرود بادشاہ کی کہانی سناؤ۔
 امرود بادشاہ یہ نام ہم نے کہیں نہیں سنا تھا ۔سعیدہ  بی سے پوچھا گیا بھئی امرود بادشاہ کون تھا ؟ امیّ جان نے سعیدہ کی طرف دیکھا اورفرمایا  اچھا  آج سعیدہ کہانی کہیں۔ اجازت پاکر سعیدہ بی امرود بادشاہ کی کہانی اس طرح کہنے لگیں۔
 دیکھیے نا امیّ جان  وہ جو ایک بادشاہ تھا نا چار پانچ ہزار برس پہلے ۔
جی ہاں!  چار پانچ برس ہوئے اس  زمانے میں  اس کی ٹکر کا کوئی بادشاہ نہ  تھا لاو  لشکر، فوج، سپاہی پیادے سب اس کے پاس تھے  لوگ اس سے ڈرتے تھے وہ بادشاہ بڑا گھمنڈی  تھا۔  جی ہاں !ایسا گھمنڈی امی ّجان  ایسا گھمنڈی کہ بس کیا کہوں توبہ توبہ، وہ اپنےکو خدا کہتا تھا۔جی ہاں! خدا
سعیدہ بی سانس لینے کو رکیں تو ہم نے پوچھا  اسی کا نام امرود بادشاہ تھا؟
ارے ہاں میں اس کا نام بتانا تو بھول ہی گئی ۔جی ہاں! اسی کا نام تھا !
"امرود بادشاہ "
"کیا وہ امرود بہت زیادہ کھاتا تھا ؟"ہم سب نے پھر پوچھا ۔
نہیں یہ اس کا نام ہی تھا۔
اچھا پھر کیا ہوا؟
پھر یہ ہوا کہ ڈرکے مارے لوگوں نے اس کو خدا مان لیا  لیکن اللہ  میاں کے ایک بہت بڑے نبی اس زمانے میں تھے کیا نام تھا ان کا ۔سعیدہ بی سوچنے لگی  پھر خود ہی پوچھنے لگی امی جان  اسمعٰیل بھائی کے ابا جان  کا نام کیا ہے؟
"ابراہیم !"
جی ہاں جی ہاں ان کا نام تھا ابراہیم،  حضرت ابراہیم ؑ امی جان میں نے ٹھیک سے نام لیا۔
تو حضرت ابراہیم علیہ السلام  نے امرود بادشاہ کو خدا مان نے سے انکار کردیااچھا تو اللہ کہ نبی نے اس کو خدا نہ مانا  تو وہ بہت خفا ہوا۔ اپنے دربار میں طلب کیا   ۔سپاہی حضرت ابراہیم ؑکو پکڑ لے گئے۔ توبہ توبہ اس کا گھمنڈ تو دیکھیے وہ اللہ کہ نبی سے جھگڑنے لگا۔  پوچھا!
"تمہارا خدا کیا کرتا ہے ؟"
"میرا خدا مارتا اور جلاتا ہے" حضرت ابراہیم ؑنے جواب دیا ۔
یہ تو میں بھی کر سکتا  ہوں اور یہ کہہ کر امرود بادشاہ نے جیل سے دو قیدی بلائے ایک کو قتل کردیا دوسرے کو چھوڑ دیا اور کہنے لگا
دیکھو ہے نا میرے بس میں موت اور زندگی جس کو چاہوں مار ڈالوں جس کو چاہوں زندہ رکھوں۔
حضرت ابراہیمؑ نے یہ سنا تو بولے
"میرا خدا پورب سے سورج نکالتا ہے اور پچھم میں  لے جاتا ہے اگر تو خدا ہے  پچھم سے سورج نکال  دے اور پورب کی طرف لے جا ۔"
یہ سنا تو امرود بادشاہ بھوت بن گیا
بھوت ہم سب ہنسنے لگے بھوت کیسے بن گیا؟
اب سعیدہ بی بھی چپ۔ وہ جواب نہ دے سکیں تو امیّ جان نے بتایا  کہ بی سعیدہ نے کہانی سچی اور مزیدار سنائی مگر ان کو بادشاہ کا نام یاد نہ رہا ۔
دراصل وہ بادشاہ تھا نمرود ۔
جی ہاں! جی ہاں! سعیدہ بی بولیں جی ہاں!نمرود بادشاہ  ۔اس کا نام نمرود بادشاہ ہی تھا۔
اور سنو سعیدہ بی ؟  تم نے جو کہا کہ وہ بھوت بن کر رہ گیا  تو وہ لفظ بھوت نہیں ہے  تم نے جس سے کہانی سنی اس نے کہا ہوگا کہ نمرود  بادشاہ مبہوت ہو گیا تم مبہوت کو بھوت سمجھیں ۔
امیّ جان مبہوت کے معنی کیا ہے ہم سب نے پوچھا
مبہوت کے معنی ہے ہکا بکا رہ جانا  اس کا منھ کھلا کا کھلا رہ گیا  وہ کوئی جواب نہ دے سکا اس کی سمجھ بیکار سی ہوگئی سمجھے تم سب ۔
جی ہاں! سمجھیں ہم سب  کو سعیدہ  بی نے کہانی تو پرانی سنائی پر  واہ ری ان کی بھول  مزہ دے گئی۔ ان کی بھول، آہا، کیا مزیدار ہے امرود بادشاہ کی کہانی۔ واہ واہ ۔
سعیدہ بی بھی خوش ہو رہی تھیں اس کے بعد ہم جا جا کر اپنے اپنے بستروں میں گھس گئے۔



آئینۂ اطفال کی دیگر مشمولات

0 comments:

Post a comment

خوش خبری