آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Monday, 10 September 2018

Ek mazedaar kahani - NCERT Solutions Class 8 Urdu

ایک مزےدار کہانی
مرزا فرحت اللہ بیگ
Courtesy NCERT

ایک بڑھیا جنگل بیابان میں جہاں نہ آدم نہ آدم زاد، ایک بڑے درخت کے نیچے بیٹھی تھی۔ خدا کا کرنا کیا ہوا کہ انھیں دنوں جاڑا، گرمی اور برسات میں جھگڑا ہوا۔ جاڑا کہتا میں اچھا ،گرمی کہتی میں اچھی ، برسات کہتی میں اچھی۔ آخر یہ صلاح ہوئی کہ چلو، چل کر کسی آدم زاد سے پوچھیں۔ ان کا جو ادھر گزر ہوا تینوں نے کہا:”لو بھئی وہ سامنے ایک بڑھیا بیٹھی ہے چلو اس سے پوچھیں “
سب سے پہلے میاں جاڑے آئے۔ گوری گوری رنگت، کلّے ایسے جیسے انار کا دانہ ۔ سفید لمبی ڈاڑھی، موٹا سا روئی کا دوگلہ پہنے، خوب اوڑھے لپپٹے آئے۔ ان کا آنا تھا کہ بڑی بی کو تھرتھری چھوٹ گئی ۔ میاں جاڑے نے آ کر کہا:
”بی بی سلام“۔ بڑی بی نے کہا: ”جیتے رہو، بال بچّے خوش رہیں، مگر بیٹا ذرا دھوپ چھوڑ کر کھڑے رہو۔ مجھے تو تمھارے آنے سے کپکپی لگ رہی ہے۔“ خیر میاں جاڑے ذرا ہٹ کر کھڑے ہوئے اور کہا: ” بڑی ہی ایک بات پوچھوں؟‘‘ بڑی بی نے کہا: ”ہاں بیٹا ضرور پوچھو۔“ میاں جاڑے نے کہا: " بڑی بی جاڑا کیسا؟‘‘
بڑی بی نے کہا : ”بیٹا! جاڑے کا کیا کہنا۔ سبحان اللہ! مہاوٹ برس رہی ہے۔ دالانوں کے پردے پڑے ہیں۔ انگیٹھیاں سلگ رہی ہیں ، لحافوں میں دبکے پڑے ہیں۔ چائے بن رہی ہے۔ خود پی رہے ہیں، دوسروں کو پلا رہے ہیں ۔ صبح ہوئی اور چنے والا آیا، گرم گرم چنے لیے۔ طرح طرح کے میوے آرہے ہیں۔ سب مزے لے لے کر کھا رہے ہیں ۔ حلوہ سوہن بن رہا ہے۔ باجرے کا ملیدہ بن رہا ہے۔ رس کی کھیر پک رہی ہے۔ اِدھر کھایا اُدھر ہضم - خون چلّوؤں بڑھ رہا ہے۔ چہرے سُرخ ہورہے ہیں۔ بیٹا جاڑا، جاڑے کا کیا کہنا ، سبحان اللہ!‘‘
میاں جاڑے تھے کہ اپنی تعریفیں سن سن کر پھولے نہ سماتے تھے۔ جب بڑی بی چُپکی ہوئیں تو میاں جاڑے نے کہا :” بڑی بی، خدا تم کو زندہ رکھے، تم نے میرا دل خوش کر دیا۔ یہ لو ایک ہزار اشرفی کی تھیلی ۔ خرچ ہو جائے تو اگلے جاڑے میں مجھ سے اور آ کر لے جانا۔“
میاں جاڑے ہٹے اور گرمی مٹکتی ہوئی سامنے آئیں ۔ روشن آنکھیں، لمبی کالی چوٹی، گلے میں موتیوں کا کنٹھا، ہاتھوں میں مولسری کی لڑیاں جس میں کرن ٹکی ہوئی ۔ ہرے ڈورے کی پیازی اوڑھنی۔ غرض بڑے ٹھسّے سے آئیں اور آتے ہی کہا:
”نانی جان سلام !“
میں یہ پوچھنے آئی ہوں کہ نانی جان گرمی کیسی ؟“ بڑی بی نے کہا: ”بیٹا گرمی، گرمی کا کیا کہنا۔ سبحان اللہ! دن کا وقت ہے۔ خس خانوں میں پڑے ہیں۔ پنکھے جھلے جارہے ہیں۔ برف کی قلفیاں کھائی جا رہی ہیں۔ فصل کے میوے آرہے ہیں۔ پتلی پتلی ککڑیاں ہیں ۔ شام کو اٹھے، نہائے دھوئے ، سفید کپڑے پہنے،خَس کا عطر ملا، صحن میں چھڑکاؤ ہو گیا ہے۔ گھڑ ونچیوں پر کورے کورے مٹکے رکھے ہیں ۔ رات ہوئی کوٹھوں پر پلنگ بچھ گئے ۔ بیٹا! گرمی کا کیا کہنا۔ سبحان اللہ!“
بی گرمی کا یہ حال تھا کہ تعریفیں سنتی جاتی تھیں اور نہال ہوتی جاتی تھیں۔ جب بڑی بی تعریف کرتے کرتے تھک کر چپ ہو گئیں تو بی گرمی نے چپکے سے نکال کر ایک ہزار اشرفی کی تھیلی ان کے ہاتھ میں دی اور کہا کہ :” نانی جان! خدا تمھارا بھلا کرے۔ تم نے آج میری لاج رکھ لی۔ میں ہر سال آیا کرتی ہوں۔ جب آؤں جو لینا ہو مجھ سے بے کھٹکے لے لیا کیجیے۔ بھلا آپ جیسے چاہنے والے مجھے ملتے کہاں ہیں ۔“
بی گرمی ذرا ہٹی تھیں کہ برسات خانم چھم چھم کرتی پہنچیں ۔ سانولا نمکین چهره، چمکدار روشن آنکھیں، بھورے بال۔ ان میں سے پانی کی باریک باریک بوندیں اس طرح ٹپک رہی تھیں جیسے موتی ۔ ہاتھوں میں دھانی چوڑیاں۔ غرض ان کے آتے ہی برکھا رت چھا گئی۔ انھوں نے بڑھ کر کہا: ”اماں جان سلام!“ بڑی بی نے کہا: ”بیٹی! جیتی رہو۔ ہونہ ہوتم بی گرمی کی بہن برسات خانم ہو؟ “بی برسات نے کہا: ”جی ہاں! میں بھی پو چھنے آئی ہوں کہ میں کیسی ہوں؟“
بڑی بی نے کہا:”بی برسات تمھارا کیا کہنا! تم نہ ہو تو لوگ جئیں ہی کیسے؟ مینہ چھم چھم برس رہا ہے۔ باغوں میں کھم گڑے ہیں ۔ جھولے پڑے ہیں۔ عورتیں ہیں کہ ہاتھوں میں مہندی رچی ہے۔ سُرخ سُرخ جوڑے، دھانی چوڑیاں پہنے جھول رہی ہیں ۔ کچھ جھول رہی ہیں، کچھ جُھلا رہی ہیں ۔ ملہار گائے جا رہے ہیں۔ اؤ دی اؤ دی گھٹائیں آئی ہوئی ہیں ۔ برسات ! بھئی برسات کا کیا کہنا۔ سبحان الله!“
بی برسات نے بھی ایک ہزار کی تھیلی بڑی بی کی نذر کی اور رخصت ہوئیں ۔ شام ہو چلی تھی۔ بڑی بی تھیلیاں سمیٹ سماٹ خوشی خوشی گھر آ گئیں۔ گھر میں بہار آ گئی۔
پڑوس میں ہی ایک اور بڑھیا رہتی تھی۔ اس نے بڑی بی کے گھر جو یہ چہل پہل دیکھی تو اس سے نہ رہا گیا۔ پوچھا: ”یہ رو پیہ تم کہاں سے لائیں؟“ بڑی بی نے کہا: ”مجھ کو یہ روپیہ جاڑے، گرمی اور برسات نے دیا ہے۔“
پڑوسن بڑھیا آفت کی پڑیا تھی۔ ایک دن گھر والوں سے لڑ جھگڑ کر جنگل میں جا بیٹھی۔ خدا کا کرنا تھا کہ جاڑا،  گرمی، برسات اسی دن پھر ملے۔ ایک نے دوسرے سے پوچھا: ”کہو بھئی، بڑھیا نے کیا تصفیہ کیا؟“ جاڑے نے کہا: ”بھئی وہ بڑھیا غضب کی تھی۔یہ انہیں بتایا کہ تینوں میں کون اچھا ہے۔ سب ہی کی تعریفیں کر کے مفت میں تین ہزار اشرفیاں مار لیں ۔ “ غرض تینوں جلے بھنے آگے بڑھے۔ دیکھا کہ ایک بڑھیا یٹھی رو رہی ہے۔ پہلے میاں جاڑے پہنچے۔ ان کا آنا تھا کہ بڑھیا سردی سے تھر تھر کانپنے لگی۔
جاڑے نے کہا: ” بڑی بی سلام ! مزاج تو اچّھا ہے۔“ بڑھیا بولی: ”چل بڈ ھے! پرے ہٹ ۔ بڑی بی ہوگی تیری ماں ۔ اب جاتا ہے یا نہیں۔“ میاں جاڑے نے کہا: ” بڑی بی، میں جاڑا ہوں ۔ سچ بتانا میں کیسا ہوں؟“
بڑی بی نے کہا: ”اس بڑھاپے میں بھی آپ اپنی تعریف چاہتے ہیں؟ لو اپنی تعریف سنو! آپ آئے اس کو فالج ہوا، اس کو لقوہ ہوا۔ ہاتھ پاؤں پھٹے جارہے ہیں۔ ناک سُڑ سُڑ بہہ رہی ہے۔ دانت ہیں کہ کڑ کڑبج رہے ہیں ۔ کپڑے ادھر پہنے ادھر میلے ہوئے ۔  لحاف ذرا کھلا اور ہوا سر سے گھسی ۔ بچھو نے برف ہورہے ہیں ۔ توبہ تو به! آگ کی بھی تو گرمی جاتی رہتی ہے۔ لیجئے اپنی تعریف سنی یا کچھ اور سناؤں؟“
جاڑا جلا ہوا تو پہلے سے ہی تھا۔ اب جو بڑھیا کی جلی کٹی باتیں سنیں تو جل کر کوئلہ ہو گیا۔ اپنی ٹھوڑی پکڑ کر ڈاڑھی کی جو ہوا دی تو بڑھیا کو لقوہ ہو گیا۔ چلتے چلتے دو تین ٹھوکریں رسید کیں۔ ذرا فاصلے پر بی گرمی اور برسات کھڑی تھیں ان سے کہا: ”لو جاؤ ! بڑھیا سے اپنا تصفیہ کرا لاؤ، ہم تو ہار گئے۔ ‘‘
بی گرمی خوشی خوشی بڑھیا کے پاس آئیں اور کہا: ” نانی اماں! میں ہوں گرمی ۔ تم سے یہ پوچھنے آئی ہوں کہ گرمی کیسی؟“
یہ سننا تھا کہ بڑھیا کے تو آگ ہی لگ گئی ۔ گرمی، گرمی کا کیا کہنا۔ سبحان اللہ! واہ واہ!! پسینہ بہہ رہا ہے۔ کپڑوں سے بو آرہی ہے۔ صبح کو کپڑے بدلے شام تک چِکٹ ہو گئے۔ کھانا کھایا کسی طرح ہضم نہیں ہوتا۔ سینے پر رکھا ہوا ہے۔ صبح ہوئی اور لو چلنی شروع ہوئی۔ اِس کو لو لگی، اُس کو لو لگی۔ اُس کو ہیضہ ہوا۔ منہ جھلسا جاتا ہے۔ ہونٹوں پر پپڑی جمی ہوئی ہے۔ پانی پیتے پیتے جی بیزار ہو جاتا ہے۔ تمھاری جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ چل دور ہو میرے سامنے سے نہیں تو ایسی بے نقط سناؤں گی کہ تمام عمر یاد رکھے گی۔ ‘‘
بی گرمی تو آگ بگولہ ہوگئیں ۔ کہا: ”ٹھہر بڑھیا تجھے اس بدزبانی کا مزہ چکھاتی ہوں۔ مجھے تو کیا سمجھتی ہے۔“ یہ کہہ کر جو پھونک ماری تو ایسا معلوم ہوا کہ لؤ لگ گئی۔ بڑھیا تو ہائے گرمی، ہائے گرمی کرتی رہی۔ بی گرمی پیٹھ پر ایک دو ہتھڑ مارچلتی بنیں۔
جب ان کو بھی روکھی صورت بنائے آتے دیکھا تو بی برسات دل میں بہت خوش ہوئیں اور سمجھیں کہ چلو میں نے پالا مار لیا۔ بڑی مٹکتی منکاتی بڑھیا کے پاس گئیں اور کہا: ”میں برسات ہوں ۔ اچھا بتاؤ تو برسات کیسی؟“
بڑھیا نے کہا: ” برسات سے خدا بچائے۔ بجلی چمک رہی ہے۔ بادل گرج رہے ہیں ۔ کلیجہ ہلا جاتا ہے۔ دهما دهم کی آوازیں آرہی ہیں ۔ ذرا پاؤں باہر رکھا اور چھینٹے سر سے اوپر ہو گئے۔ ذرا تیز چلے اور جوتیاں کیچڑ میں پھنس کر رہ گئیں۔ رات کو مچھر ہیں کہ ستائے جارہے ہیں ۔ نہ رات کو نیند، نہ دن کو چین اور پھر اس پر بھی یہ سوال کہ نانی جان میں کیسی ہوں ۔ نانی جان سے تعریف سن لی؟ اب تو دل ٹھنڈا ہو گیا۔ اے ہے! یہ بے موسم کی گرمی کیسی؟ خدا خیر کرے۔‘‘ بڑھیا یہ کہہ رہی تھی کہ کی برسات کی نگاہ بجلی بن کر گری اور بڑی بی کے پاؤں کو چاٹتی ہوئی نکل گئی اور بی برسات بڑھیا لنگڑا کر منہ پرتھوک کر رخصت ہوئیں۔
بات یہ ہے کہ الله شکّر خورے کو شکّر ہی دیتا ہے۔ جو لوگ خوش مزاج ہوتے ہیں وہ ہر حال میں خوش رہتے ہیں اور موئے رونی صورت تو ہمیشہ جوتیاں کھاتے ہیں۔

خلاصہ:
 مرزا فرحت اللہ بیگ کی تحریر کردہ یہ کہانی تین موسموں کے آپس میں برتری کی جنگ کی ایک دلچسپ کہانی ہے۔ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ جاڑا گرمی اور برسات کا آپس میں اس بات پر جھگڑا ہوا ۔گرمی کہتی ہے کہ میں اچھی ،جاڑاکہتا میں اچھا اور برسات کہتی میں اچھی ۔جھگڑا ختم ہونے کا نام ہی نہ لیتا تھا۔ آخر کار یہ فیصلہ ہوا کہ چل کرکسی سے پوچھ لیں کہ کون اچھا ہے، اس وقت انہیں راستے میں ایک بڑھیاملی۔ سب سے پہلے بڑھیا سے جاڑے نے پوچھا۔ بڑی بی ! تم کو جاڑا کیسا لگتا ہے بڑی بی نے کہا، بیٹا جاڑے میں تو اتنی خوبیاں ہیں کہ بیان نہیں کی جاسکتیں۔ جاڑا اپنی تعریف سن کر بہت خوش ہوااور بڑی بی کو ایک ہزار اشرفیوں کی تھیلی بطور انعام دیا۔ اس کے بعد گرمی نے بڑھیا سے پوچھا کہ بڑی بی گرمی کیسی لگتی ہے؟ بڑی بی نے کہا گرمی میں سخت گرمی پڑنے کے باوجود بہت مزا آتا ہے۔ گرمی نے بھی اپنی تعریفیں سن کر بڑی بی کو ایک ہزار اشرفیوں کی تھیلی انعام میں دی۔ آخر میں برسات کی باری آئی ،برسات نے پوچھا بڑی بی ! برسات کیسی ہوتی ہے ؟بڑی بی نے کہا برسات میں کالی گھٹا آتی ہے بارش ہوتی ہے۔ برسات اپنی تعریف سن کر خوشی سے پھولی نہ سمائی اور اس نے بھی ایک ہزار اشرفیاں بڑھیا کو دے دی ۔ تین ہزار اشرفیاں پا کر بڑی بی کی زندگی میں چہل پہل دیکھ کر اس کی پڑوسن نے اس کا راز پوچھا۔ راز جاننے کے بعدپڑوسن گھر والوں سے جھگڑا کر کے جنگل میں جابیٹھی ۔
 اتفاق سے تینوں موسم پھر ایک دوسرے سے ملے اور بولے کہ بڑهیابہت ہوشیارتھی مفت میں تین ہزار اشرفیاں لےگئی۔ اور فیصلہ کچھ بھی نہیں ہوا۔ آگے راستے میں پھرایک بڑھیاملی ، جاڑےنے بڑی بی سے پوچھا تمہیں جاڑا کیسالگتا ہے؟ بڑی بی نے جاڑے کی برائیاں بیان کیں ۔یہ سنکر جاڑا بڑی بی سے ناراض ہوگیا۔
 اس کے بعد گرمی نے بڑھیا سے اپنے بارے میں پوچھاکہ میں کیسی لگتی ہوں؟ بڑهیانےکہا گرمی میں تو بہت پسینہ آتا ہے۔اور وہ بہت ہی تکلیف دہ ہوتی ہے۔یہاں وہاں بیماریاں پھیل جاتی ہیں غرض بڑھیا نے گرمی کو بھی ناراض کردیا۔
 اب اس کے بعد برسات کی باری تھی ،اُس نے بڑھیا سے سوال کیا کہ میں کیسی لگتی ہوں؟بڑھیا نے کہا، برسات میں تو بادل گرجتے ہیں، ہر طرف گندگی پھیل جاتی ہے۔غرض بڑھیا نے برسات کی بھی برائیاں بیان کردیں ۔اس پر برسات نے غصے میں آکر بڑھیا کولنگڑاکر دیا اور منہ پرتھوک کر آگے روانہ ہوگئی ۔
 کہانی میں سبق یہ ہے کہ جو میٹھی باتیں کرتا ہے اسی کو انعام ملتا ہے۔ کڑوی کسیلی باتیں کرنے والوں سے سب ناراض رہتے ہیں۔جو ہر حال میں خوش رہتے ہیں اور خدا کا شار ادا کرتے ہیں ان سے سب خوش رہتے ہیں اور ہر وقت شکایت کرنے والا انسان ہمیشہ پریشان ہی رہتا ہے۔

معنی یاد کیجیے
بیابان : جنگل
آدم نہ آدم زاد : جہاں کسی انسان یا جاندار کا نام و نشان نہ ہو
صلاح : مشورہ، رائے
کِلّے : درخت کی وہ کونپل جوکلی کی طرح پھوٹتی ہے
دگلہ : روئی دارلبادہ، سردی کا ایک لباس
سبحان اللہ : پاک ذات ہے اللہ کی شکر گزاری کے اظہار کے لیے کہا جا تا ہے
مہاوٹ : جاڑے کی بارش
ملیدہ : (مالیده ) نمک ، گڑ یا شکر اور روٹی کو خوب مل کر تیار کی جانے والی ایک غذا
کنٹھا : پھولوں کا ہار، موٹے موٹے موتیوں کی مالا
خس : ایک قسم کی گھاس
گھڑونچی : گھڑےرکھنے کا اسٹینڈ جو بالعموم لکڑی کا ہوتا ہے
نہال ہونا ( محاورہ) : بہت خوش ہونا، سرشار ہونا
آفت کی پڑیا : بہت زیادہ تیز ، چالاک
لاج رکھنا ( محاورہ) : شرم رکھنا ، عزت آبرو کا خیال رکھنا
ملہارگانا ( محاورہ) : برسات کے موسم کا گیت
نذر کرنا : پیش کرنا، بھینٹ دینا
تصفیہ : فیصلہ
فالج : ایک ایسی بیماری جس میں جسم کا کوئی حصہ بے حس ہو جاتا ہے
آگ لگنا ( محاورہ) : بہت زیادہ غصہ ہونا
لقوہ : ایک ایسی بیماری جس سے منہ ٹیڑھا ہو جاتا ہے
آگ بگولہ ہونا (محاورہ) : بہت غصہ میں ہونا
کلیجہ دہلنا ( محاورہ) : بہت زیا دہ خوف کھانا

سوچیے اور بتائیے
سوال: جاڑا، گرمی اور برسات کا آپس میں جھگڑا کیوں ہوا؟
جواب: یہ تینوں موسم اپنے آپ کو دوسرے سے بہتر سمجھ رہے تھے اس لیے ان کا آپس میں جھگڑا ہو گیا۔

سوال: جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے انہوں نے کیا کیا؟
جواب: انہوں نے ایک آدم زاد سے صلاح لینے کا فیصلہ کیا۔

سوال: جاڑے کی کن خوبیں کو بڑی بی  نے بیان کیا؟
جواب: جاڑے میں انگیٹھیاں سلگ رہی ہوتی ہیں جن کے چاروں جانب بیٹھ کر گرمی کا مزا لیا جاتا ہے سرد موسم میں دولائی اوڑھ کر گرم گرم چائے کا لطف ہی کچھ اور ہوتا ہے۔

سوال: گرمی کے بارے میں بڑی بی کا کیا خیال تھا؟
جواب: گرمی میں مختلف قسم کے پھل کھانا، قلفی کھانا، طرح کی سبزیاں پھلنا اور خوبصورت پھولوں کا کھلنا بڑی بی کی نظر میں گرمی کی خوبیاں تھیں۔

سوال: مصنف نے برسات کا کیا حلیہ بتایا؟
جواب: برسات کا سانولا نمکین چہرہ تھا۔ چمکدار روشن آنکھیں، بھورے بال ان میں سے پانی ایسے ٹپک رہا تھا جیسے موتی ہو۔ ہاتھوں میں دھانی چوڑیاں کھنکھنا رہی تھیں۔

سوال: بڑی بی کو نذر میں تھیلیاں کیوں ملیں؟
جواب: بڑی بی نے سب کی تعریفیں کیں اس لیے سب نے بڑی بی کی خدمت میں تھیلیاں پیش کیں۔

سوال: بڑی بی کے گھر میں چہل پہل سے پڑوسن پر کیا اثر ہوا؟
جواب: اس سے بڑی بی کی خوشی دیکھی نہ گئی اور وہ بھی بڑی بی کی نقل میں جاکر جنگل میں بیٹھ گئی۔

سوال: بدزبان بڑھیا جاڑے کے ساتھ کس طرح پیش آئی؟
جواب: اس نے جاڑے کو بہت برا بھلا کہا۔ اس نے جاڑے کی برائی کرتے ہوئے کہا کہ جاڑے میں لوگوں کی طبیعت خراب ہوجاتی ہے۔ اور ان کی ناک بہنے لگتی ہے۔

سوال: برسات کی کون کون سی باتوں کو بڑھیا نے ناپسند کیا۔
جواب: بجلی گرنے اور بادل گرجنے سے کلیجہ ہل جاتا ہے۔ دھم دھم کی آواز آتی ہے۔ گھر سے باہر نکلتے ہی کیچڑ سے کپڑے گندے ہو جاتے ہیں۔ رات کو مچھر ستاتے ہیں۔ رات کی نیند اور دن کا چین چلا جاتا ہے۔

سوال: بڑھیا کے ساتھ برسات کا سلوک کیسا تھا؟
جواب: برسات کی نگاہ بجلی بن کر گری اوربڑی بی کے پیروں کو چاٹتی ہوئی نکل گئی۔ اور بی برسات بڑھیا کو لنگڑا کر کے منہ پر تھوک کر رخصت ہوئی۔

خالی جگہ کو صحیح لفظ بھریے
انھیں دنوں جاڑا، گرمی اور برسات میں جھگڑا ہوا۔
باجرے کا ملیدا بن رہا ہے رس کی کھیر پک رہی ہے۔
میاں جاڑے اپنی تعریفیں سن سن کر پھولے نہ سماتے تھے۔
نانی جان خدا تمہارا بھلا کرے تم نے آج میری  لاج رکھ لی۔
مینہہ چھم چھم برس رہا ہے۔

نیچے لکھے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے
صلاح (مشورہ) : ہمیں بڑوں کی صلاح لینی چاہیے۔
تصفیہ (فیصلہ) : ان دونوں کے درمیاں تصفیہ ہو گیا۔
بیاباں (جنگل) : وہ بیابان میں جا کر بیٹھ گئی۔
: ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بھار آئی ہے۔
آدم نہ آدم زاد : دور تک آدم نہ آدم زاد تھا۔
ملہار (برسات کے موسم میں گانے والے گیت) : کسان بارش دیکھ کر ملہار گانے لگے۔


نیچے لکھے ہوئے واحد اور جمع کو الگ الگ کرکے لکھیے
واحد : جمع
بچا : بچے
تعریف : تعریفیں
قلفی : قلفیاں
اشرفی : اشرفیاں
چوڑی : چوڑیاں
گھٹا : گھٹائیں
مہاوٹ : مہاوٹیں
فاصلہ : فاصلے

پڑھیے اور سمجھیے۔
سورج نکل رہا ہے
اکبرا بھی ناشتہ کر رہا ہے
اوپر کے جملوں میں خط کشیدہ الفاظ سے پتہ چلتا ہے کہ کام شروع تو ہوا لیکن ابھی ختم نہیں ہوا۔ انھیں حال نا تمام کہتے ہیں ۔
چاند نکل آیا ہے
وہ اسکول جا چکی ہے
اوپر کے جملوں میں خط کشیدہ افعال سے پتہ چلتا ہے کہ کام ختم ہو چکا ہے انھیں حال تمام کہتے ہیں۔

غور کرنے کی بات
* مرزا فرحت اللہ بیگ اس کہانی کے مصنف ہیں ۔ وہ اردو کے ممتاز نثر نگار تھے۔ وہ اپنی مخصوص انداز میں دلی کی بول چال کی زبان اس خوب صورتی سے لکھتے ہیں کہ پڑھنے والوں کو مزہ آتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کوئی سچ مچ ہمارے سامنے بیٹھا مزے دارکہانی سنا رہا ہو۔ انھوں نے اس کہانی میں جاڑا، گرمی اور برسات کی اچھائیوں اور برائیوں کو اپنے مخصوص دلچسپ انداز میں بیان کیا ہے۔

* ہندستان میں تین موسم ہوتے ہیں : موسم سرما، گرما اور برسات۔ اس کے علاوہ ایک اور موسم بھی کئی ملکوں میں ہوتا ہے جسے موسم بہار کہتے ہیں۔ ان موسموں کی اپنی اپنی خوبیاں اور کمیاں ہیں۔ ہر موسم میں اللہ تعالی نے مختلف پھول، پھل اور سبزیاں انسان کےلیے پیدا کیں۔ برسات کے موسم کا خاص طور پر کسان بڑا استعمال کرتے ہیں ۔ اس موسم میں کئی تہوار بھی ہوتے ہیں۔ باغوں میں جھولے پڑ جاتے ہیں ۔ ملہار اور گیت گائے جاتے ہیں۔

کلک برائے دیگر اسباق

0 comments:

Post a comment

خوش خبری