آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Wednesday, 12 September 2018

Hockey Aur Hockey Ka Jadoogar - NCERT Solutions Class 8 Urdu

ہاکی اور ہاکی کا جادوگر
CourtesyNCERT
Courtesy NCERT

فٹ بال، والی بال اور کرکٹ کی طرح ہاکی بھی میدانی آؤٹ ڈور کھیل ہے۔ کہتے ہیں کہ قدیم یونان اور ایران میں باکی سے ملتا جلتا ایک کھیل کھیلا جاتا تھا۔ میکسیکو میں پڑوسی قبیلے دوستانہ ماحول میں ایک دوسرے کو اس کھیل کی دعوت دیتے۔ کھیل طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک چلتا تھا۔ گول کئی کئی میل کے فاصلے پر ہوتے اور ہرٹیم میں تقریباً ایک ہزار کھلاڑی ہوتے تھے۔ کھیل اتنے جنگلی انداز میں کھیلا جاتا کہ کبھی کبھی کھلاڑیوں کے سر پھٹ جاتے اور ہاتھ پاؤں تک ٹوٹ جاتے تھے۔
صدیوں بعد ہاکی کا کھیل فرانس میں ہاکٹ (HOQUET) کے نام سے شروع ہوا۔ پندرھویں صدی عیسوی میں یہ رود بارِ انگلستان پار کر کے انگلستان (انگلینڈ) پبنچ گیا۔ وہاں اس کا نام با کی رکھا گیا۔ انگلینڈ ہی میں اس کھیل کے ضابطے بنائے گئے ۔ اسکول کے لڑکے جنگلوں سے چھڑیاں کاٹتے اور ان کو موڑ کر گیندوں سے ہاکی کھیلتے ۔ ابتدا میں کھلاڑیوں کی کوئی تعداد مقرر نہ تھی۔ بعد میں ایک ٹیم کے لیے گیارہ کھلاڑیوں کی تعداد طے کر دی گئی۔ باکی کا میدان سوگز (91میٹر ) لمبا اور ساٹھ گز (54 میٹر) چوڑا ہوتا ہے۔ امریکہ اور کناڈا وغیرہ میں میدانی ہاکی (فیلڈ ہاکی کے علاوہ بند اسٹیڈیم میں برف پر ہا کی (آئس ہاکی ) بھی کھیلی جاتی ہے۔
ہندوستان میں ہاکی کا کھیل انگریزوں کے ذریعے پہنچا۔ 1885 میں ملک کا پہلا ہاکی کلب کلکتہ میں قائم ہوا۔ ہنودستان نے پہلی دفعہ 1928 کے اولمپک کھیلوں میں ہالینڈ کو فائنل میں ہرا کر ہاکی میں طلائی تمغہ حاصل کیا۔ اس کے بعد کے تقریباً چالیس سال تک ہندوستانی ٹیم ہاکی کے کھیل میں ساری دنیا پر چھائی رہی۔
ہندستانی ہاکی کی تاریخ میجر دھیان چند کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔ وہ الہ آباد کے ایک راجپوت خاندان میں 29 اگست 1905 کو پیدا ہوئے۔ سولہ سال کی عمر میں فوج میں معمولی سپاہی کی حیثیت سے بھرتی ہوئے اور میجرکے عہدے تک ترقی کی ۔ وہ فوج کے ایک افسر کی نگرانی میں ہاکی کھیلنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے ایک عظیم کھلاڑی بن گئے۔
ہندوستان کی ہاکی ٹیم نے جب پہلی بار اولمپک کھیلوں میں حصہ لیا تو فائنل میں ہندوستان اور ہالینڈ کا مقابلہ تھا۔ دھیان چند اور ٹیم کے دوسرے ساتھی اچانک بیمار ہو گئے۔ کپتان بھی اس وقت موجود نہیں تھے۔ ٹیم کے منیجر نے” کرو یا مرو“ کا نعرہ دیا ۔ دھیان چند کو تیز بخار تھا لیکن انھوں نے سوچا کہ میں تو فوجی ہوں اور ایک فوجی کو دلیری کے ساتھ جنگ میں جانا ہی چاہیے۔ چنانچہ ہندوستانی ٹیم تمام طاقت بٹور کر میدان میں کود پڑی۔ اس میچ میں ہندوستان نے ہالینڈ کو تین گول سے ہرایا، جن میں سے دو گول وهیان چند نے کیے تھے۔ 1936 کے برلن اولمپک مقابلوں میں دھیان چند کو ہندوستان کی ہاکی ٹیم کا کپتان چنا گیا۔ فائنل مقابلہ ہندوستان اور جرمنی کی ٹیموں کے درمیان تھا۔ یہ مقابلہ بڑا سخت ثابت ہوا۔ میچ کے درمیان گیند ہر وقت دھیان چند کی ہاکی اسٹک کے ساتھ چپکی رہتی تھی۔ گیند کو اپنے قابو میں رکھنے کے اس عجیب طریقے کو دیکھ کر تماشائی حیران رہ گئے ۔ مقابلے کا انتظار کرنے والے کچھ لوگوں کو یہ شک ہونے لگا کہ کہیں دھیان چند کی اسٹک میں کوئی ایسی چیز تو نہیں لگی ہے جو گیند کو اپنی جانب کھینچے رہتی ہے۔ چنانچہ دھیان چند کو دوسری اسٹک سے کھیلنے کے لیے کہا گیا۔ دوسری اسٹک سے بھی دھیان چند نے دھڑا دھڑ گولوں کا تانتا باندھ دیا۔ اب جرمن حکّام کو یقین ہو گیا کہ جادو اسٹک کا نہیں، بلکہ دهیان چند کی لچک دار اور مضبوط کلائیوں کا ہے۔ وہاں کے تماشائیوں نے اسی وقت سےدھیان چند کوہاکی کا جادوگر کہنا شروع کردیا۔ اس اولمپک میں ہندوستانی ٹیم نے کل  38 گول کیے جن میں سے گیارہ اکیلے دھيان چند ہی نے کیے تھے۔
ساری دنیا میں مشہور ہونے کے بعد بھی دھیان چند میں کبھی بھی غرور پیدا نہیں ہوا۔ وہ کہتے تھے:” ہاکی کے میدان میں جو تھوڑی بہت خدمت مجھ سے ہوسکی اس کا سبب ہے میرے ملک کے باشندوں کی مجھ سے محبت‘‘
میجر دھیان چند نوجوان کھلاڑیوں سے ہمیشہ یہی کہتے تھے کہ ذاتی شہرت یا نام کے لیے نہیں بلکہ پوری ٹیم کو یک جان ہو کر کھیلنا چاہیے، تا کہ ملک کا نام روشن ہو۔ ہاکی کے جادوگر کا انتقال دلّی میں 3 دسمبر 1979 کو ہوا۔
(ادارہ)

سوچیے اور بتائیے
سوال: ہاکی کھیلنے کے لیے کتنی جگہ چاہیے۔
جواب: ہاکی کھیلنے کے لیے ایک بڑا میدان چاہیے۔

قدیم زمانے میں ہاکی جیسا کھیل کہاں کھیلا جاتا تھا؟
جواب: قدیم زمانے میں ہاکی جیسا کھیل یونان اور ایران میں کھیلا جاتا تھے۔

سوال: فرانس میں کھیلے جانے وےلے کھیل کو کیا کہتے تھے؟
جواب: فرانس میں کھیلے جانے والے کھیل کو ہاکٹ کہتے تھے۔

سوال: ہاکی کے ضابطے کس ملک مں بنائے گئے؟
جواب: انگلینڈ میں اس کا نام ہاکٹ رکھا گیا اور وہیں اس کے ضابطے بنائے گئے۔

سوال: آئس ہاکی کیا ہے اور یہ کن کن ملکوں میں کھیلی جاتی ہے؟
جواب: آئس ہاکی بند اسٹیڈیم میں برف پر کھیلی جاتی ہے۔ اسے امریکہ اور کناڈا وغیرہ میں کھیلا جاتا ہے۔

سوال: ہاکی کی ٹیم میں کتنے کھلاڑی ہوتے ہیں؟
جواب: ہاکی کی ٹیم میں گیارہ کھلاڑی ہوتے ہیں۔

سوال: دھیان چند کون تھے اور ان کی پیدائش کہاں ہوئی؟
جواب: دھیان چند ہاکی کے ایک مشہور کھلاڑی تھے۔ ان کی پیدائش الہ آباد کے ایک راجپوت خاندان میں 29 اگست 1905 کو ہوئی۔

سوال: ہندوستانی ٹیم کے مینیجر نے کرو یا مرو کا نعرہ کیوں دیا؟
جواب: دھیان چند اور ٹیم کے بقیہ کھلاڑی اچانک بیمار پڑگئے تھے اور کپتان بھی اس وقت موجود نہیں تھے تب سب کا حوصلہ بڑھانے کے لیے ٹیم کے مینیجر نے ’کرو یا مرو’ کا نعرہ لگایا۔

سوال: لوگوں کو دھیان چند کی اسٹک کے بارے میں کیا شک تھا؟
جواب: میچ کے دوران گیند دھیان چند کی ہاکی اسٹک میں چپکی رہتی تھی۔ اس لیے لوگوں کو یہ شک ہونے لگا کہ کہیں ان کی اسٹک میں کوئی ایسی چیز تو نہیں جو گیند کو اپنے جانب کھینچے رہتی ہے۔

سوال: جرمنی کے تماشائیوں نے دھیان چند کو کیا نام دیا؟
جواب: جرمنی کے تماشائیوں نے دھیان چند کو ہاکی کا جادوگر کہنا شروع کر دیا۔

سوال: ہندوستان نے ہاکی میں پہلا طلائی تمغہ کس اولمپک مقابلے میں حاصل کیا تھا؟
جواب: 1928 میں ہندوستان نے ہالینڈ کو ہراکر اولمپک میں پہلا طلائی تمغہ حاصل کیا۔

سوال: دھیان چند کو ہاکی کا جادوگر کیوں کہا جاتا ہے؟
جواب: دھیان چند جب ہاکی کا ایک میچ کھیل رہے تھے تب گیند ہاکی اسٹک سے ایسی چپکی معلوم ہو رہی تھی جیسے اسے چپکایا گیا ہو۔ تب لوگوں کو ان پر شک ہوا۔ انہیں دوسری ہاکی اسٹک سے کھیلنے کے لیے کہا گیا۔ اس بار بھی ایسا لگا جیسے گیند ہاکی اسٹک میں چپکی ہو۔ تب سب سمجھ گئے کہ یہ ان کی کلائیوں کا کمال ہے۔تب سے انہیں ہاکی کا جادوگر کہا جانے لگا۔

سوال: دھیان چند نوجوان کھلاڑیوں کو کیا نصیحت کیا کرتے تھے؟
جواب: وہ یہ نصیحت کیا کرتے تھے کہ ذاتی شہرت یا نام کے لیے نہیں بلکہ پوری ٹیم کو یک جان ہوکر کھیلنا چاہیے تاکہ ملک کا نام روشن ہو۔

خالی جگہ کو بھریے
ہاکی میدان میں کھیلا جانے والا کھیل ہے۔
ہاکی کا کھیل فرانس میں ہاکٹ کے نام سے شروع ہوا۔
انگلینڈ میں اس کھیل کے ضابطے بنائے گئے۔
بند اسٹیڈیم میں بھی آئس ہاکی کھیلی جاتی ہے۔
1928 میں ہالینڈ کو فائنل میں ہراکر طلائی تمغہ حاصل کیا۔
پوری ٹیم کو یکجا ہوکر کھیلنا چاہیے

واحد کی جمع اور جمع کی واحد لکھیے
طریقہ : طریقے
صدیوں : صدی
ضابطہ : ضوابط
حکّام : حاکم
خدمت : خدمات

بلند آواز سے پڑھیے۔
 یونان۔۔۔۔۔۔۔قبیلے ۔۔۔۔۔صدی۔۔۔۔۔۔۔ طلائی۔۔۔۔۔۔۔شہرت۔۔۔۔۔۔۔تمغه۔۔۔۔۔۔۔عظیم۔۔۔۔۔۔منیجر۔۔۔۔۔۔لچک دار۔۔۔۔۔۔۔مغرور۔۔۔۔۔۔ خدمت۔۔۔۔۔۔۔ باشندہ

پڑھیے اور سمجھیے۔
احمد نے ایک خط لکھا
 یاسمین سنترے کھائے گی
 پہلے جملے میں لکھا اور دوسرے جملے میں کھائے گی‘ سے کام کا کرنا ظاہر ہوتا ہے یہ الفاظ ”فعل “ہیں۔
 احمد اوریاسمین الفاظ کام کرنے والے کو ظاہر کرتے ہیں جو لفظ کام کرنے والے کے لیے آتا ہے اسے ”فاعل“ کہتے ہیں ۔ ان جملوں میں فعل اور فاعل کے علاوہ کچھ اور باتیں کہی گئی ہیں ۔ پہلے جملے میں لکھنے کا اثر خط‘ پر اور دوسرے جملے میں کھانے کا اثر سنترے پر ہوتا ہے۔ لفظ ”خط اور سنترے“ اسم ہیں ۔ جس اسم پر عمل کا اثر ظاہر ہو اسے ”مفعول‘‘ کہتے ہیں۔
غور کرنے والی بات
* کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کھیلو گے کودو گے ہو گے خراب پڑھو گے لکھو گے بنو گے نواب“ اس کا مطلب نہیں ہے کہ بچوں کو کھیلنا نہیں چاہیے تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ کھیل کود میں حصہ لے کر جسمانی صحت کی طرف توجہ دینا بھی ضروری ہے۔ شخصیت کی مکمل ترقی کے لیے پڑھنا لکھنا اور کھیل دونوں لازم ہیں کیوں کہ صحت مند جسم ہی میں صحت مند دماغ ہوتا ہے۔

الفاظ کے واحد جمع یہاں دیکھیں


 back

0 comments:

Post a comment

خوش خبری