آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Sunday 30 September 2018

Yeh Hai Kolkata Meri Jaan - 2

یہ ہے کولکتہ میری جان ۔۲
صحبہ عثمانی
ناخدا مسجد کا اندرونی حصّہ

صبح جب آنکھ کھلی تو ہمارے میزبان صبح کی چائے اوراردو کا اخبار لے کر حاضر تھے۔کولکتہ میں صبح سویرے چائے کے ساتھ اردو کا اخبار پڑھنے کا رواج عام ہے۔ ایک عام دوکاندار اور کم آمدنی والا مزدور بھی اخبار خرید کر پڑھنا اپنی شان سمجھتا ہے۔یہی سبب ہے کہ آزاد ہند اور اخبار مشرق کو کولکتہ میں بے پناہ عروج حاصل ہوا ۔ مغربی بنگال کے ساتھ ساتھ یہی مزاج جھارکھنڈاوربہارمیں بھی پایا جاتا ہے اور یہاں بھی اردو کے اخبارات کافی مقبول ہیں۔خیر پاپا اور ابو صبح کی چائے کے ساتھ اخبار دیکھتے رہے اور ہم سب باہر نکلنے کی تیاری  میں لگ گئے۔ ہم سب اپنا وقت بالکل ضائع کرنا نہیں چاہتے تھے۔ہم نے کھڑکی سے باہر جھانکا سامنے ناخدا مسجد نظارے کی دعوت دے رہی تھی۔

ناخدا مسجد کا خوبصورت منبر

پاپا اور ابو صبح کی نماز پڑھ کر واپس آچکے تھے۔ کچھ نمازی ابھی بھی مسجد کے دروازے سے باہر آرہے تھے۔ اطراف کے دوکاندار  جس طرح اپنی دوکانیں چھوڑ گئے تھے وہ اسی طرح ترپالوں سے ڈھکی تھیں۔مسجد ان بے یار و مددگار دوکانداروں کے لیے ایک بڑا سہارا ہے جو فٹ پاتھ پر اپنی دوکانیں لگاتے ہیں۔ مسجد سے ملحق بھی بہت ساری دوکانیں ہیں جن کا کرایہ کمیٹیوں کے زیر انتظام ہے۔ہم سب نے سوچا ناخدا مسجد کو اندر سے دیکھنے کا یہ بہترین موقع ہے۔اس سے پہلے کے لوگوں کی بھیڑ ہو ہم خاموشی سے مسجد دیکھ آئیں۔ ہم سب فوراًہی اسے دیکھنے کے لیے اپنے کمرے سے نکل پڑے۔ مسجدکے عالیشان دروازہ پر پہنچ کر ہماری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ کسی مسجد کا اتنا بلند دروازہ ہم نے اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا۔ اندر داخل ہونے کے بعد سامنے ہی ذرا بلندی پرسنگ مرمر کا ایک حوض نظر آیا۔یہ تقریباً دو فٹ گہرا ہےجس میں پانی بھرا رہتا ہےاور  رنگ برنگی مچھلیاں تیر تی رہتی ہیں۔ معلوم ہوا  کہ حوض وضو بنانے کے لیے ہے۔ ہم نے اندر سے مسجد کی عمارت کو دیکھا۔مسجد کے اندر نقش و نگار نے ہمیں کافی متاثر کیا۔ وہ محراب و منبر جہاں امام مسجد خطبہ دیتے ہیں سنگ مر مر کا بنا تھا۔اور درمیانی گنبد میں کافی نقش و نگار بنے تھے۔ اونچائی اتنی تھی کہ سر اٹھاکر دیکھیں تو ٹوپی گرجائے۔ ہم نے کولکتہ کے سیر کا آغاز ایک خوبصورت اور پاکیزہ مقام سے کردیا تھا۔ ہم سب ہوٹل واپس آئے۔ناشتہ ہمارا انتظار کر رہا تھا۔ ناشتے سے فارغ ہوکر ہمیں اہم مقامات کی سیر کے لیے نکلنا تھا۔گاڑی آچکی تھی اور ہمارے نکلنے میں صرف ناشتہ کرنے کی دیر تھی۔

انڈین میوزیم ۔ کولکتہ

ناشتہ کے بعد ہم سب جلدی جلدی گاڑی میں سوار ہو گئے۔ آج ہم سب کا پروگرام کولکتہ کے قومی میوزیم کو دیکھنے کا تھا۔ اس کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا۔ ہماری سب سے زیادہ دلچسپی یہاں رکھی ممیوں کے بارے میں تھیں۔ ممی صدیوں پرانی حنوط شدہ لاش کو کہتے ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ سب سے قدیم ممیاں اہرام مصر میں ہیں۔ دل میں کچھ خوف بھی تھا اور ممی دیکھنے کا جوش بھی۔ہم جہاں ٹھہرے تھے وہاں سے میوزیم کا فاصلہ زیادہ نہیں تھا۔ بائیں جانب دوکانوں کو دیکھتے ہوئے ہم جلد ہی میوزیم کے سامنے کھڑے تھے۔ ابّو نے میوزیم میں داخلے کا ٹکٹ منگوایا  اور ہم سب چیکنگ کے بعد میوزیم کے اندر داخل ہو گئے۔ یہ میوزیم مختلف حصّوں میں بٹا ہوا ہے۔ جانوروں کے ڈھانچے، قدیم سکے، نادر مورتیاں ، محفوظ کیے گئےنایاب پرندے اور خطرناک سانپ اس کے علاوہ تاریخی نوادرات۔ معلومات کا ایک سمندر تھا جس کی سیر ہمیں چند ہی گھنٹوں میں کر لینی تھی۔ اس میوزیم کا تنوع ہی اس کی شناخت تھا۔ہم ایک ہال میں داخل ہوئے سامنے ایک بڑے ہاتھی کا ڈھانچہ رکھا تھا۔ ہاتھی کی ہذیوں کو بڑے سلیقے سے سجا کر کھڑا کیا گیا تھا۔ ایسا محسوس ہوا کہ اب اس ڈھانچے پر گوشت اور چمڑہ چڑھے گا ،اس میں جان آجائے گی اور یہ زور سے چنگھاڑے گا لیکن ایسا کچھ نہیں تھا ہم اسے چھونے کو بیتاب تھے لیکن اسے چھونا منع تھا۔ پاس ہی ایک بڑے ڈائناسور کی بھی ہڈیاں تھیں۔ شیشے کے بڑے بڑے شو کیس بنے تھے جس میں جنگلی جانور  مثلاً چیتا، شیر اور بھالو وغیرہ بالکل اپنی اصل شکل میں موجود تھے۔ یہیں پرندوں کو بھی الگ شوکیس میں محفوظ کیا گیا تھا۔ مجھے اپنی کتاب کے سبق میں پڑھائے گئے ماہر طیور سالم علی یاد آئے جنہوں نے پرندوں کی کھالوں میں بھراؤ کر انہیں محفوظ کرنے کا علم حاصل کیا تھا۔ پرندوں کو اس شکل میں دیکھ کر ہمیں وہ بات اچھی طرح سمجھ آگئی۔ ہم نے بڑی دلچسپی سے ایک ایک پرندے کو دیکھا۔ بعض پرندے بڑے نایاب تھے۔ ریکارڈ کے لیے ہم نے ان سب کی تصویریں اتاریں۔ وہ ساری تصویریں ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔ ہم ان تصویروں کو آپ کے ساتھ ضرور شیئر کریں گے۔ اس طرح آپ اپنے گھر بیٹھے اس میوزیم کو دیکھ سکیں گے۔


میوزیم کے مختلف ہالوں میں گھومتے ہوئے اب ہم شیشے کے تابوت کے سامنے کھڑے تھا۔ دیکھا تو اس میں ایک حنوط شدہ لاش پڑی تھی۔ میرے بدن میں جھر جھری سی آگئی۔ میں ایک ممی کے سامنے کھڑی تھی۔ اس کے چہرے کا حصّہ خوفناک تھا۔ایسا لگا کسی ہارر فلم کی طرح اب وہ اپنے تابوت سے نکل جائے گی اور اس کے دانت ہماری گردن پر ہوں گے۔ ہم سب بہنیں ایک جگہ یکجا ہو گئے تھے اور تجسس بھری نظروں سے سے دیکھ رہے تھے۔


عریشہ اور اسرا آپی اس کی تصویریں لینے میں لگی تھیں۔ میں نے ہمت کرتے ہوئے اس کے قریب جا کر اس کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کی۔ ایک ڈراونی سے کھوپڑی آنکھوں کی جگہ دو بڑے سوراخ جو گہرے غار کے مانند تھے ، ناک کی جگہ خالی گڑھا اور پھر مکمل جبڑا جس پر دانت بڑے ڈراونے لگ رہے تھے۔کھوپڑی جسم پر رکھی تھی۔ ممی کا تعلق مصر سے تھا۔اہرام مصر کی ممیاں۔ کولکتہ میں بیٹھ کر مصر کی ممیاں دیکھنا ایک دلچسپ تجربہ تھا۔ممی اور اس کی نقل دونوں ایک ہی بڑے باکس میں رکھی تھیں۔
(جاری)

0 comments:

Post a Comment

خوش خبری