آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Wednesday, 13 February 2019

Gul e Abbas - NCERT Solutions Class VIII Urdu

گلِ عباس
غلام عباس
Courtesy NCERT
میں ایک چھوٹے سے کالے کالے نی میں رہتا تھا۔ یہی میرا گھر تھا۔ اس کی دیوار میں خوب مضبوط تھیں اور مجھے اس کے اندر کسی کا ڈر نہ تھا۔ یہ دیواریں مجھے سردی سے بھی بچاتی تھیں اور گرمی سے بھی۔ کچھ دن تو میں ادھر ادھر رہا لیکن میرا گھر کالی مٹی میں دبا دیا گیا کہ کوئی اٹھا کر پھینک نہ دے اور میں کسی شریر لڑکے کے پاؤں تلے نہ آ جاؤں۔ زمین کی مدھم گرمی مجھے بہت اچھی لگتی تھی اور میں نے سوچا تھا کہ بس اب میں ہمیشہ مزے سے یہیں رہوں گا ،مگر میرے کان میں اکثر میٹھی میٹھی سریلی سی آواز آتی تھی ۔ میں ٹھیک سے نہیں کہہ سکتا کہ آواز کدھر سے آتی تھی مگر میں سمجھتا ہوں کہ اوپر سے آتی تھی۔ یہ آواز مجھ سے کہا کرتی تھی کہ ”اس گھر سے نکل، بڑھ روشنی کی طرف چل“ لیکن میں زمین میں اپنے گھر کے اندر ایسے مزے سے تھا کہ میں نے اس آواز کے کہنے پر کان نہ دھرا اور جب اس نے بہت پیچھا کیا تو میں نے صاف کہہ دیا کہ : ”نہیں۔ میں تو یہیں رہوں گا۔بڑھنے اور گھر سے نکلنے سے کیا فائدہ۔ یہیں چین سے سونے میں مزہ ہے۔ یہیں! میں تو یہیں رہوں گا۔“
یہ آواز بند نہ ہوئی۔ ایک دن اس نے ایسے پر اثر انداز سے مجھ سے کہا: ”چلو روشنی کی طرف چلو“ کہ مجھے پھر پری سی آ گئی اور مجھ سے نہ رہا گیا۔ میں نے سوچا کہ اس گھر کی دیواروں کو توڑ کر باہر نکل ہی آؤں مگر دیواریں مضبوط تھیں اور میں کمزور۔ اب جب وہ آواز مجھ سے کہتی کہ ”بڑ ھے چلو“ تو میں پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جاتا تھا اور مجھے معلوم ہوتا تھا کہ میں بہت طاقتور ہوگیا ہوں ۔ آخر کو اللہ کا نام لے کر جو زور لگایا تو دیوار ٹوٹ گئی اور میں ہرا کلّہ بن کر نکل آیا۔ اس دیوار کے بعد زمین تھی ، مگر میں نے ہمت نہ ہاری اور اس کو بھی ہٹا دیا۔ اب میں نے اپنی جڑوں کو نیچے بھیجا کہ خوب مضبوطی سے جگہ پکڑ لیں۔ آخر کو ایک دن میں زمین کے اندر سے نکل ہی آیا اور آنکھیں کھول کر دنیا کو دیکھا۔ کیسی خوبصورت اور اچھی جگہ ہے۔
کچھ دنوں بعد تو خوب ادھر ادھر پھیل گیا اور ایک دن اپنی کلی کا منہ جو کھولا تو سب لوگ کہنے لگے:” دیکھو یہ کیا خوبصورت لال لال گلِ عباس ہے۔ میں نے بھی جی میں سوچا کہ اس تنک گھر کو چھوڑا تو اچھا ہی ہے۔ آس پاس اور بہت سے گُلِ عباس تھے۔ میں ان سے خوب باتیں کرتا اور ہنستا بولتا تھا۔ دن بھر ہم سورج کی کرنوں سے کھیلا کرتے تھے اور رات کو چاندنی سے ۔ ذرا آنکھ لگتی تو آسمان کے تارے آ کر ہمیں چھیڑ تے تھے اور اٹھا دیتے۔ افسوس! یہ مزے زیادہ دن نہ رہے۔ ایک دن صبح ہمارے کان میں ایک سخت آواز آئی۔” گل عباس چاہیے، ہیں گلِ عباس“ ”اچھا جتنے چاہے لے لو۔“ ہمارے سمجھ میں یہ بات کچھ نہ آئی اور ہم حیرت ہی میں تھے کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ اور ارادہ کر رہے تھے کہ ذرا چل کر اپنے دوست ستاروں سے کہیں کہ دوڑو! ہماری مدد کرو، یہ کیسا معاملہ ہے۔ اتنے میں کسی نے قینچی سے ہمیں ڈنٹھل سمیت کاٹ لیا اور ایک ٹوکری میں ڈال دیا۔
اب یاد نہیں کہ اس ٹوکری میں کتنی دیر پڑے رہے۔ وہ تو خیر ہوئی کہ میں اوپر تھا نہیں تو گھٹ کر مر جاتا۔ شاید میں سو گیا ہوں گا، کیونکہ جب میں آٹھا ہوں تو میں نے دیکھا پانچ چھ اور ساتھیوں کے ساتھ مجھے بھی ایک خوبصورت تاگے سے باندھ کر کسی نے گلدستہ بنایا ہے۔ آس پاس نظر ڈالی تو نہ باغ کی روشیں تھیں، نہ چڑیوں کا گانا ۔ سڑک کے کنارے ایک چھوٹی سی میلی کچیلی دکان تھی۔ ہزاروں آدمی ادھر ادھر آ جا رہے تھے۔ یکے گاڑیاں شور مچا رہی تھیں ۔ فقیر بھیک مانگ رہے تھے اور کوئی ایک پیسہ نہ دیتا تھا۔ میرا جی ایسا گھبرایا کہ کیا کہوں ۔ ستاروں کوڈھونڈا تو ان کا پتہ نہیںں، چاند کو تلاش کیا تو وہ غائب ۔ سورج کی کرنیں بھی سڑک تک آ کر رک گئی تھیں اور میں پکارتے پکارتے تھک گیا کہ:” مجھے جانتی ہو؟ روز ساتھ کھیلتی تھیں ، ذرا پاس آؤ اور بتاؤ کہ یہ معاملہ کیا ہے؟“ مگر وہ ایک نہ سنتی تھیں ۔ شام ہونے کو آئی تو ایک خوبصورت لڑکی دکان کے پاس سے گزری ۔ ہماری طرف دیکھا۔ پھولوں والے نے مجھے اور میرے ساتھیوں کو اس زور سے جھٹکا دے کر لڑکی کے سامنے رکھا کہ میری اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی۔
پھولوں والوں نے کہا: ”بیٹی ! دیکھو کیسے خوبصورت گلِ عباس ہیں۔ ایک آنے میں گلدستہ، ایک آنے میں ۔“
لڑکی نے اکنّی دی اور ہمیں ہاتھ میں لے لیا۔ اس کے ہاتھ ایسے نرم نرم تھے کہ یہاں آ کر جان میں جان آئی ۔ لیکن تھوڑی دیر بعد شاید میں بے ہوش ہو گیا۔ اصل بات یہ تھی کہ پانی نہیں ملا تھا اور پیاس بہت لگی تھی۔ لڑکی نے شیشے کے ایک گلدان میں پانی بھر کر ہمیں پلایا تو ذرا طبیعت ٹھیک ہوئی اور میں نے سر اٹھا کر ادھر ادھر دیکھا۔ اب میں ایک صاف کمرے میں تھا۔ جس میں کئی بستر لگے ہوئے تھے۔ ایک طرف سے ایک بیمار لڑکی کی آواز سنائی دی: ”ڈاکٹر صاحب ! کیا میں اچھی نہیں ہوں گی، کیا اب میں کبھی چل پھر نہ سکوں گی؟ کیا کبھی باغ میں کھیلنے نہ جا سکوں گی۔ اور کیا اب کبھی گل عباس دیکھنے کو نہ ملیں گے؟“ یہ کہتے کہتے بچّی کی ہچکی بندھ گئی۔ آنکھوں سے آنسو پونچھ کر کروٹ لی تو اس کو میں اور میرے ساتھی گلدان میں رکھے ہوئے دکھائی دیے۔ لڑکی خوشی سے تالیاں بجانے  لگی۔ پاس جو نرسں کھڑی تھی اس نے ہمیں اٹھا کر اس لڑکی کے ہاتھ میں دے دیا۔ اس پیاری بچّی نے ہمیں چوما۔
اس کے گورے گورے گالوں میں ہماری سرخی کی ذرا سی جھلک آگئی۔
اس وقت سمجھ میں آیا۔ بیج کا گھر چھوڑ کر روشنی کی طرف بڑھنے کی غرض یہی تھی کہ ایک دکھیاری بیمار بچّی کو کم سے کم تھوڑی دیر کی خوشی ہم سے مل جائے۔

معنی یاد کیجیے
گل عباس : ایک قسم کا پھول جن میں سے کچھ خاص سرخ، چھ گلانی، کچھ زرد اور کچھ پانچ رنگ اسے گل عباسی بھی کہتے ہیں
مدھم : دهیما، آہستہ
سریلی : مدھر آواز ، ایسی آواز جس میں شر ہو
پھریری : جھرجھری
ہرا کِلّہ : ہری کونپل
روشیں : روش کی جمع ، کیاریوں کے درمیان کا راستہ، پگڈنڈی
اکنّی : ایک آنہ، ایک لہ جو چار پیسے کے برابر ہوتا تھا۔
سوچیے اور بتائیے

1. گل عباس کا گھر کیسا تھا؟
جواب:ایک چھوٹا کالا سا بیج گلِ عباس کا گھر تھا۔جو بہت مضبوط تھا اور اسے سردی و گرمی سے بچاتا تھا۔

2.گل عباس کا نیا گھر کیسا تھا؟
جواب: گلِ عباس کا نیا گھر بڑا ہی دلکش تھا۔وہاں اس دوست تھے۔کھلا آسمان تھا۔ ٹھنڈی ہوائیں تھیں اور رات میں تاروں برا آسمان تھا۔

3. گل عباس نے بیج کی دیوار کس طرح توڑی؟
جواب:گل عباس کو جب بھی آواز آتی اسگھر سے نکل اور روشنی کی طرف بڑھ تو اس کی ہمت بڑھ جاتی۔آواز کہتی بڑھے چلو تو وہ پہلے سے اور زیادہ مضبوط ہوجاتا یہاں تک کہ ایک دن وہ زمین سے نکل آیا۔

4. باغ سے نکلنے کے بعد گل عباس پر کیا گزری؟
جواب:باغ سے نکلنے کے بعد اس کے ساتھ بدسلوکی کا دور شروع ہوگیا۔ اسے کسی نے قینچی سے ڈنٹھل سمیت کاٹ دیا اور ایک ٹوکری میں ڈال دیا۔ پھر ایک خوبصورت دھاگے سے باندھ کر اس کا گلدستہ بنا دیا گیا۔

5. گل عباس کو لڑکی کے پاس پہنچ کر کیا محسوس ہوا؟
جواب: گل عباس کو لڑکی کے پاس پہنچ کر سکون ملا۔ اس لڑکی کے ہاتھ اتنے نرم تھے کہ گل عباس کے جان میں جان آئی۔

6. ڈاکٹر سے باتیں کرتے کرتے لڑکی کی ہچکی کیوں بندھ گئی؟
جواب:'اکٹر سے بات کرتے کرتے لڑکی کی ہچکی بندھ گئی کہ اب وہ کبھی باغ میں نہیں جا سکے گی اور وہ اب کبھی گل عباس کو نہیں دیکھ سکے گی۔

7. بیمار لڑکی کے خوش ہنے کی کیا وجہ تھی؟
جواب: جب اس لڑکی نے کروٹ لی تو اس نے دیکھا کہ گلِ عباس اور اس کے ساتھی گلدان میں سجے ہیں۔یہ دیکھ کر وہ خوش ہوگئی۔

8. گل عباس کے ساتھ بیمار بچی نے کیسا سلوک کیا؟
جواب:بیمار بچی نے گل عباس کو اٹھاکر چوما جس سے اس کے چہرے پر رونق آگئی۔

خالی جگہ کو صحیح لفظ سے بھریے
1. میں ایک چھوٹے سے کالے بیج میں رہتا تھا۔
2.دیواریں مجھے سردی سے بھی بچاتی تھیں اور گرمی سے بھی۔
3. دن بھ ہم سورج کی کرنوں سے کھیلا کرتے تھے۔
4. شام ہونے کو آئی تو ایک خوبصورتلڑکی دکان کے سامنے سے گزری۔
5. اس کے ہاتھ ایسےنرم نرم تھے کہ یہاں آکر جان میں جان آئی۔

صحیح جملوں کے سامنے صحیح (üاور غلط کے سامنے غلط (X کا نشان لگائیے
1. ایک کالا کالا سا بیج ہی گل عباس کا گھر تھا۔(ü)
2. گل عباس کو دنیا بڑی خوبصورت اور اچھی لگی۔(X)
3. گل عباس کا رنگ پیلا ہوتا ہے۔(X)
4. پھولوں والوں نے کہا بیٹی دیکھو کیسے خوبصورت گل عباس ہیں۔(ü)
5. فقیر بھیک مانگ رہے تھے اور کوئی ایک پیسہ نہ دیتا تھا۔(ü)
6. شام کو ایک بدصورت لڑکی دکن کے پاس سے گزری۔(X)
7. لڑکی خوشی سے تالیاں بجانے لگی۔(ü)
8.اس پیاری بچی نے ہمیں باہر پھینک دیا۔(X)

عملی کام
* گلِ عباس کی کہانی کا خلاصہ اپنے لفظوں  میں لکھیے۔
* جن پھولوں کے نام سے آپ واقف ہیں ان کی ایک فہرست بنائے اور اس کے علاوہ دوسرے پھولوں کے بارے میں بھی
واقفیت حاصل کیجیے۔

پھولوں سے متعلق مکمل تفصیلات کے لیے آئینہ کا ”داستانِ گُل“ سیکشن دیکھیں۔

 پڑھیے سمجھیے اورلکھیے۔
چور چلا گیا۔
اجنبی ہانپ رہا تھا۔
 سورج نکلا ۔
ان جملوں میں چور، اجنبیی اور سورج فاعل ہیں۔ چلا گیا، ہانپ رہا تھا اور نکلا فعل ہیں ۔ ان جملوں میں مفعول نہیں ہے۔ اس کے باوجود ان جملوں کا مطلب سمجھ میں آتا ہے۔ ایسے جملوں کے فعل کو فعل لازم کہتے ہیں۔ ایسے فعل جو فاعل کے ساتھ مل کر پورا مطلب بتادے اسے فعل لازم کہتے ہیں۔ سونا، بیٹھنا، دوڑنا، ہنسنا، رونا، آنا اور جانا سے جوفعل بنتے ہیں وہ فعل لازم ہوتے ہیں۔

 غور کرنے کی بات
*  آج کی دنیا میں رہنے والے دکھوں اور تکلیفوں سے گھرے ہوئے ہیں ، چند لمحوں کی خوشیاں بھی آسانی سے میسر نہیں ہوپاتیں۔
*  اس سبق کا مرکزی خیال یہ ہے گل عباس اپنے وجود سے ایک دکھیاری بچی کو کم سے کم تھوڑی دیر کی خوشی تو دیتا ہے۔ اس کے گورے گورے گالوں پر سُرخی کی جھلک لانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
*  لال لال گل عباس گلدان میں پاکرلڑکی خوشی سے تالیاں بجانے لگتی ہے۔

کلک برائے دیگر اسباق

0 comments:

Post a comment

خوش خبری