آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Sunday, September 1, 2019

Taleem-e-niswaan


تعلیم نسواں


اقصیٰ  عثمانی            

ماں کی گود بچے کی پہلی درس گاہ ہوتی ہے یہی سبب ہے کے معاشرے میں  لڑکیوں کی تعلیم کو ضروری قرار دیا   گیا ہے کے اگر ایک لڑکی تعلیم یافتہ بن جاتی ہے تو اس کا گھر علم کا ۔گہوارہ بن جاتا ہے۔ اسلام نے بھی عورت کو معاشرے میں عزت  کا مقام دیتا ہے اور  وہ عورتوں کی دینی و دنیاوی تعلیم کے حصول پر زور دیتا ہے
اس زمانے میں لڑکیوں کی تعلیم پر بھرپور توجہ دی گئ ہے اور لڑکیاں تعلیم کے میدان میں مسلسل آگے بڑھ رہی ہیں وہ علم کے ہر میدان میں ترقی کی طرف گامزن ہیں مقابلہ جاتی امتحان میں بھی وہ لڑکوں پر بازی مار رہی ہیں  یہ سب سماج میں لڑکیوں کی تعلیم کو اہمیت دینے اور اس پر توجہ دینے کا نتیجہ ہے آج ہر جگہ اسکول اور مدرسے کھل رہے ہیں جس میں
 لڑکیوں کی تعلیم پر بھرپور توجہ دی جا رہی ہے مدرسہ البنات جہاں صرف لڑکیوں کو تعلیم دی جاتی ہے اسکی تعداد بھی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ لڑکیاں دنیاوی تعلیم میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں وہ سائنس کے میدان میں بھی آگے بڑھ رہی ہیں انجینئرنگ اور ڈاکٹری کی تعلیم بھی اب انکے لیے آسان ہے گئی ہے ہماری حکومت بھی تعلیم نسواں پر بھرپور توجہ دے رہی ہے اور اس سلسلے میں اداروں کو بھی فراہم کرتی ہے لڑکیوں کے لئے وظیفے کا بھی خصوص انتظام ہوتا ہے آج سماج کے ہر طبقے میں لڑکیوں کی تعلیم کی اہمیت کو سمجھا جاتا ہے اور والدین اپنی بیٹیوں کو پڑھنے میں فخرمحصوس کرتے ہیں وہ اپنے بجٹ کا بڑا حصہ اپنی بیٹیوں پر خرچ کرتے ہیں زمانے میں تعلیم حاصل کرنا آسان نہیں رہ گیا ہے لیکن اس کے باوجود تعلیم حاصل کرنے کے جذبے میں کوئی کمی نہیں آ رہی ہے اسکول اور مدرسوں میں لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد نظر آتی ہے تعلیم نسواں کی اہمیت کو لوگوں نے سمجھ لیا ہےاور سبھی اپنے بچوں کو دینی و دنیاوی تعلیم سے بہرہوار کرنا چاہتے ہیں  تاکہ وہ اپنے خاندان اور سماج کے لیے کارآمد ثابت ہوں  آج تعلیم کے میدان میں لڑکیوں اور لڑکوں کا فرق تقریباً ختم ہو چکا ہے اور تعلیم نسواں کی ضرورت اور کامیابی کا جو خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا اسکے شرمندہ ٔ تعمیر ہونے کا وقت آگیا ہے۔




0 comments:

Post a Comment

خوش خبری