آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Tuesday, 28 April 2020

Ae Ishq Hamein Barbaad Na Kar - Akhtar Shirani


 live nor die
 اے عشق ہمیں برباد نہ کر
اختر شیرانی

اے عشق نہ چھیڑ آ آ کے ہمیں ، ہم بھولے ہوؤں کو یاد  نہ کر
 پہلے ہی بہت ناشاد ہیں ہم ، تو اور ہمیں  ہمیں ناشاد نہ کر
 قسمت کا ستم ہی کم نہیں کچھ، یہ تازہ ستم ایجاد نہ کر
یوں ظلم نہ کر بیداد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر 

جس دن سے ملے ہیں دونوں کا سب چین گیا، آرام گیا
 چہروں سے بہار صبح گئی ، آنکھوں سے فروغ شام گیا
 ہاتھوں سے خوشی کا جام چھُٹا، ہونٹوں سے ہنسی کا نام گیا
غمگیں نہ بنا، ناشاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر

 ہم راتوں کواٹھ کر روتے ہیں، رو رو کے دعائیں کرتے ہیں
 آنکھوں میں تصوّر دل میں خلش، سردھُنتے ہیں آہیں بھرتے ہیں
 اے عشق یہ کیساروگ لگا، جیتے ہیں نہ ظالم مرتے ہیں
یہ ظلم تو اے جلّاد نہ کر
 اے عشق ہمیں برباد نہ کر

یہ روگ لگا ہے جب سے ہمیں، رنجیدہ ہوں میں، بیمار ہے وہ
ہر وقت تپش، ہروقت خلش بیخواب ہوں میں بیدار ہے وہ
 جینے سے اِدھربیزار ہوں میں، مرنے پر ادھر تيار ہے وہ
اور ضبط کہے، فریاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر 

اے عشق خدارا دیکھ کہیں وہ شوخ حزیں بدنام نہ ہو
 وہ ماہ لقا بدنام نہ ہو، وہ زہرہ جبیں بدنام نہ ہو
 ناموس کا اُس کے پاس رہے، وہ پردہ نشیں بدنام نہ ہو
اس پردہ نشیں کو یاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر

 آنکھوں کو یہ کیا آزار ہوا ، ہرجذبِ نہاں پر رو دینا
 آہنگِ طرب پر جھک جانا ، آوازِ فغان پر رو دینا
 بربط کی صدا پررو دینا ، مُطرب کے بیاں پر رو دینا
احساس کو غم بنیاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر

0 comments:

Post a comment

خوش خبری