آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Thursday, 2 April 2020

Muflisi Sab Bahar Khoti Hai - Wali - NCERT Solutions Class IX

Muflisi sab bahar khoti hai by Wali Muhammad Wali  Chapter 10 NCERT Solutions Urdu
(اس صفحہ پر ابھی کام جاری ہے)
غزل 
ولی محمد ولی

مفلسی سب بہار کھوتی ہے
 مرد کا اعتبار کھوتی ہے

کیوں کہ حاصل ہومج کوں جمعیت
 زلف تیری قرار کھوتی ہے

ہر سحرشوخ کی نگہ کی شراب
 مج انکھاں کا خمار کھوتی ہے

کیوں کے ملنا صنم کا ترک کروں
 دلبری اختیار کھوتی ہے

اے ولی آب اس پری رو کی
مج سنے کا غبار کھوتی ہے
غزل  کے معنی
عربی کا لفظ ہے ۔ اس کے اصل معنی ہیں محبوب سے باتیں کرتا ،عورتوں سے باتیں کرنا۔ وہ شاعری جسے غزل کہتے ہیں اس میں بنیادی طور پر عشقیہ باتیں بیان کی جاتی ہیں لیکن آہستہ آہستہ غزل میں دوسرے مضامین بھی داخل ہوتے گئے ہیں اور آج یہ کہا جاسکتا ہے کہ غزل میں تقریبا ہر طرح کی باتیں کی جاسکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غزل اردو کی سب سے مقبول صنف سخن ہے۔ غزل کا ہر شعر عام طور پر اپنے مفہوم کے اعتبار سے  مکمل ہوتا ہے۔
جس طرح غزل میں مضامین کی قید نہیں ہے اسی طرح اشعار کی تعداد بھی مقرر نہیں۔ یوں تو غزل میں عموماً پانچ یا سات شعر ہوتے ہیں ، لیکن بعض غزلوں میں زیادہ اشعار بھی ملتے ہیں ۔ کبھی کبھی ایک ہی بحر، قافیے اور ردیف میں شاعر ایک سے زیادہ غر لیں کہہ دیتا ہے۔ اس کو دو غزلہ، سہ غزلہ ' چہار غزلہ کہا جا تا ہے۔
کسی غزل کے اگر تمام شعر موضوع کے لحاظ سے آپس میں یکساں ہوں تو اسے غزل مسلسل کہتے ہیں اور اگر شاعر غزل کے اندر کسی ایک مضمون یا تجربے کو ایک سے زیادہ اشعار میں بیان کرے تو اسے قطعہ اور ایسے اشعار کو قطعہ بند کہتے ہیں۔
غزل کا پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع کہلاتا ہے۔ مطلع کے بعد والا شعرزیب مطلع یا حسن مطلع کہلاتا ہے۔ غزل میں ایک سے زیاده مطلع بھی ہو سکتے ہیں۔ انھیں مطلع ثانی ( دوسرا )مطلع ثالث (تیسرا) کہا جاتا ہے۔ غزل کا وہ آخری شعر جس میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا سب سے اچھا شعر بیت الغزل یا شاه بیت کہلاتا ہے۔ جس غزل میں ردیف نہ ہو اور صرف قافیے ہوں ، اس کو غیر مردف غزل کہتے ہیں۔
ولی محمد ولی
(1667ء - 1707ء)
ولی کے نام تاریخ پیدائش اور جائے پیدائش ، سب کے بارے میں اختلاف ہے۔ لیکن بیشترلوگ اس بات پر متفق ہیں کہ ان کا نام ولی محمد اورخص ولی تھا۔ وہ اورنگ آباد میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی ۔ بعد میں احمد آباد کر انھوں نے شاہ وجیہہ الدین کی خانقاہ کے مدرسے میں تعلیم مکمل کی اور یہیں شاہ نور الدین سہروردی کے مرید ہوئے۔ ولی نے فارسی الفاظ اور انداز بیان
کی آمیزش سے ایک نیا رنگ پیدا کیا ۔ ولی کے کلام کا یہ نیا رنگ نہ صرف ان کی مقبولیت کا باعث بنا بلکہ اس زمانے کے دہلی کے شعرا نے بھی اس کا اثر قبول کیا اور وہ بھی اسی انداز میں شاعری کرنے
لگے۔ ولی کے اثر سے دہلی میں اردو شاعری کا چلن عام ہوا جو آگے چل کر روز به روز ترقی کرتا گیا۔ وی کا انتقال احمدآباد میں ہوا۔
ولی اپنے زمانے کے سب سے بڑے شاعر تھے۔ انھوں نے اردو شاعری کی تقریبا تمام اصناف میں صلاحیت کے جوہر دکھائے ہیں۔ دلی سے پہلے قصیدہ اور مثنوی کا رواج زیادہ تھا۔ ولی نے غزل کو اولیت دے
کر اردو شاعری کو ایک نیا موڑ دیا۔ ان کی غزلوں میں خیال کی ندرت اور بیان کی لطافت پائی جاتی ہے۔ انھوں نے اپنی غزلوں میں حسن وشق کے مضامین کے ساتھ ساتھ تصوف ومعرفت کو بھی جگہ دی ۔ عشقیہ واردات و کیفیات کے بیان میں سرور وستی کا انداز پایا جاتا ہے۔ ولی محبوب کے حسن کے داخلی اثرات کے ساتھ ساتھ اس کے خارجی اوصاف کا بیان بڑے پرلطف اور دلکش انداز میں کرتے ہیں ۔ ولی کی زبان میں ایک خاص مٹھاس ہے، جو ہندی ، د مینی اور فارسی کے الفاظ کوتوازن کے ساتھ استعمال کرنے سے پیدا ہوئی ہے۔

Muflisi sab bahar khoti hai by Wali Muhammad Wali  Chapter 10 NCERT Solutions Urdu
مشق
لفظ ومعنی
مفلسی : غریبی
کھونا : لے جانا ختم کر دینا گم کرنا
جمعیت : ٹھہراو، سکون
انکھاں : آنکھیں
خمار : پیاس لینی شراب کی طلب لیکن اسے بہت سے لوگ نشہ کے معنی میں بھی استعمال کرتے ہیں ۔ یہاں دونوں معنی صحیح ہو سکتے ہیں۔
صنم : محبوب (اصل معنی بت)
کیوںکے : کیوں کر
آب : چمک، پانی۔ یہاں چک کے معنی میں ہے۔
دلبری : محبوبیت
مچ : میرے، میرا
پری رو : پری چہرہ خوبصورت چہرے والا)
سینے : سینہ
غبار : رنجیدگی ناخوشی

 غور کرنے کی بات:
*  غزل میں بہت سے الفاظ ایسے آئے ہیں جواب نہیں بولے جاتے ۔ جیسے جج کوں (مجھ کو )،اکھاں (آنکھیں)، سنے ( سینہ ) کوں (کو)ج، مجھے معنی میرا ، میرے . اس غزل کے آخری شعر میں ایک لفظ آب آیا ہے۔ یہاں اس کے معنی چیک کے ہیں
لیکن اب پانی کو بھی کہتے ہیں۔

سوالوں کے جواب لکھیے:
 1. مرد کا اعتبار کھونے سے شاعر کی کیا مراد ہے؟

 2. کون سی چیز شاعر کے سینے کا غبار کھورہی ہے؟

3. شاعرصنم سے ملنا کیوں نہیں ترک کر پاتا ہے؟

عملی کام
* اس غزل کو بلند آواز سے پڑھے اور زبانی یاد کیجیے۔

نیچے دیے گئے الفاظ کو جملوں میں استعمال کیجیے:
لفظ : معنی : جملہ
مفلسی : ں : ں
بہار : ں : ں
اعتبار : ں : ں
سحر ں : ں
اختیار : ں : ں
غبار : ں

* کچھ الفاظ ایسے ہوتے ہیں جو لکھنے میں ایک جیسے نہیں ہوتے اور ان کو پڑھنے میں معمولی سا فرق ہوتا ہے۔ جیسے ڈرنظر ، نذر نظیر ، اشرار إصرار، الم علم عقل ۔ قل ۔ آپ اپنے استاد سے ان الفاظ کا فرق معلوم کر کے لکھیے۔

* غزل کے دوسرے شعر میں ایک لفظ حاصل آیا ہے اگر ہم اس کے شروع میں ل+ (ا) لگا دیں تو اس کے معنی ہی بدل جائیں گے اور یہ لفظ بن جائے گا لا حاصل یعنی جس سے کچھ حاصل نہ ہو۔ آپ اسی طرح لگا کر پانچ الفاظ لکھیے۔


کلک برائے دیگر اسباق

0 comments:

Post a comment

خوش خبری