آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Sunday, 12 April 2020

Ramayan Ka Ek Scene - Pandit Brij Narayan Chakbast - NCERT Solutions Class IX Urdu

Ramayan Ka Ek Scene by Brij Narayan Chakbast  Chapter 17 NCERT Solutions Urdu
(اس صفحہ پر ابھی کام جاری ہے)

رامائن کا ایک سین
برج نارائن چکبست

رخصت ہوا وہ باپ سے لے کر خدا کا نام 
راو وفا کی منزل ازل ہوئی تمام

 منظور تھا جو ماں کی زیارت کا انتظام 
دامن سے اشک پونچھ کر دل سے کیا کلام

اظہار ہے کسی سے ختم ہوگا اور بھی
دیکھا میں اداس تو غم ہوگا اور بھی

 دل کو سنجالتا ہوا آخر وہ نونہال
 خاموش ماں کے پاس گیا صورت خیال

 دیکھا تو ایک دور میں ہے بیٹی وہ خستہ حال
 سکتہ سا ہو گیا ہے ، یہ ہے شدت ملال

تن میں ابو کا نام نہیں، زرد رنگ ہے
گویا بشر نہیں کوئی تصویرسنگ ہے 

کیا جانے کس خیال میں گم تھی وہ بے گناہ
 نور نظر پر دیده حسرت سے کیا نگاه 

جنبش ہوئی لبوں کو بھری ایک سرد آہ
 کی گوشہ ہائے چشم سے اشکوں نے رخ کی راہ

چہرے کا رنگ حالت دل کھولنے لگا
ہر موئے تن، زباں کی طرح بولنے لگا

 روکر کہا خموش کھڑے کیوں ہو میری جان 
میں جانتی ہوں جس لیے آئے ہوم یہاں

 سب کی خوشی نہیں ہے تو صحرا کو ہو رہوں 
لیکن میں اپنے منہ سے نہ ہرگز ہوں گی ہاں

کس طرح بن میں آنکھوں کے تارے کو تج دوں
 جوگی بنا کے راج دلارے کو بھیج دوں

 لیتی کسی فقیر کے گھر میں اگر جنم
 ہوتے نہ میری جان کو سامان یہ ہم 

ستا نہ سانپ بن کے مجھے شوکت چشم 
تم میرے لال تھے مجھے کسی سلطنت سے کم

میں خوش ہوں پھونک دے کوئی اس تخت وتاج کو
تم ہی نہیں تو آگ لگاؤں گی راج کو

 سرزد ہوئے تھے مجھ سے خدا جانے کیا گناه
 منجدھار میں جو یوں مری کشتی ہوئی تباہ 

آتی نظر نہیں کوئی امن و امان کی راہ 
اب یہاں سے کوچ ہو تو عدم میں ملے پناہ

تقصیر میری خالتي عالم مکمل کرے
آسان مجھ غریب کی مشکل آبل کرے

 سن کر زبان سے ماں کی یہ فریاد در ونیز 
اس خستہ جاں کے دل پر چل نم کی تین تیزر 

عالم یہ تھا قریب کہ آنکھیں ہوں اشک ریز 
لیکن ہزار ضبط سے رونے سے کی گریز

سوچا نہیں کہ جان سے ہے کس گزر نہ جائے
ناشاد ہم کو دیکھ کے ماں اور مر نہ جائے

 پھر عرض کی یہ مادر ناشاد کے حضور 
مایوس کیوں ہیں آپ الم کا ہے یہ وفور

 صدمہ بہ شاق عالم پیری میں ہے ضرور
 لیکن نہ دل سے کیسے صبر و قرار دور

شاید خزاں سے شکل عیاں ہو بہار کی
کچھ مصلحت اسی میں ہو پروردگار کی

 پڑتا ہے جس غریب پر رن من کا بار 
کرتا ہے اس کو صبر عطا آپ کردگار 

مایوس ہو کے ہوتے ہیں انساں گناہ گار 
ہی جانتے ہیں وہ دانائے روزگار

انسان اس کی راہ میں ثابت قدم رہے 
گردن وہی ہے امیر رضا میں جو ثم رہے

 اکثر ریاض کرتے ہیں پھولوں پر باغباں
 ہے دن کی دھوپ رات کی شبنم انھیں گراں 

لیکن جو رنگ باغ بدلتا ہے نا گہاں 
وہ گل ہزار پردوں میں جاتے ہیں رائیگاں

رکھتے ہیں جو عزیز نھیں اپنی جاں کی طرح
ملتے ہیں دست یاس وہ برگ خزاں کی طرح

 لیکن جو پھول کھلتے ہیں صحرا میں بے شمار 
موقوف کچھ ریاض پر ان کی نہیں بہار 

دیکھو یہ قدرت چین آرائے روزگار 
وہ ابر و باد و برف میں رہتے ہیں برقرار

ہوتا ہے ان پر فضل جو رب کریم کا 
 موج سموم بنتی ہے جھونکا سیم کا

 اپنی نگاہ ہے کرم کارساز پر 
مرا چون بنے گا وہ ہے مہرباں اگر

 جنگل ہو یا پہاڑ سفر ہو کہ ہو حضر 
رہتا نہیں وہ حال سے بندے کے بے خبر

اس کا کرم شریک اگر ہے تو غم نہیں 
دامان دشت ،دامن مادر سے کم نہیں

پنڈت برج نرائن چکبست
(1882ء - 1926 ء)
پنڈت برج نرائن چکبست کی ولادت ایک کشمیری خاندان میں بہ مقام فیض آباد، (اتر پردیش) میں ہوئی ۔ انھوں نے لکھنؤ میں تعلیم حاصل کی ۔ ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد لکھنؤ ہی میں وکالت کرنے لگے۔ ان کا انتقال بریلی میں ہوا اور آخری رسومات لکھنؤ میں ادا کی گئیں۔
چکبست نے روایتی انداز سے شاعری شروع کی اور غزلیں بھی کہیں ۔ جلد ہی وہ نظم گوئی کی طرف متوجہ ہو گئے ۔ وطن پرستی کو موضوع بنایا۔ چکبست نے ہوم رول کے موضوع پر بہت سی نظمیں کہی ہیں ۔ ان کی نظموں میں قدرتی مناظر کی عکاسی ، بیداری وطن کے جذبات، آزادی کی تڑپ اور دردمندی کے پہلو نمایاں ہیں۔ ان کے کلام میں سلاست اور روانی پائی جاتی ہے۔ انھوں نے اپنے احباب ، بزرگوں اور قومی رہنماؤں پر مرثیے لکھ کر ان کی سیرت کی عمدہ عکاسی کی ہے۔ ان کی نظموں کا مجموعہ ”صبح وطن“ اور مضامین کا مجموعہ ”مضامین چکبست“ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔

Ramayan Ka Ek Scene by Brij Narayan Chakbast  Chapter 17 NCERT Solutions Urdu
مشق
لفظ ومعنی
زیارت : کسی متبرک مقام، چیز یاشخص کو عقیدت سے دیکھنا، کسی مقدس مقام کا سفر کرنا
ستم : ظلم
نونہال : پودا کم عمر بچہ
سکتہ : بے حس و حرکت ہوجانے کا مرض
ملال : رنج
بشر : انسان
تصویرِ سنگ : مجسمہ، پتھر کی تصویر، پتھر کی مورت
دیدهٔ حسرت : حسرت بھری نگاہ
گوشہ ہائے چشم : آنکھ کے کونے
موئے تن : جسم کے بال
جوگی : فقیر
بہم : ساتھ ساتھ، اکٹھے
شوکت و حشم : شان و شکوه، رعب داب
سرزد ہونا : پیش آنا ، واقع ہونا
منجدھار : بھنور ، دریا کے بیچوں بیچ
کوچ کرنا : روانہ ہونا
عدم : آخرت، غیر موجود ہونا
تقصیر : قصور، غلطی
بحل کرنا : معاف کرنا
اجل : موت
درد خیز : درداٹھانے والا
گریز : بچنا
ناشاد : ناخوش
الم : غم
وفور : زیادتی
شاق : سخت، دشوار
عیاں : ظاہر
رنج و محن : دکھ درد، غم ، تکلیف
امر رضا : اللہ کی مرضی
خم : ٹیڑھاپن
ریاض : بہت سے باغ
ناگہاں : اچانک
رائیگاں : بے کار
دستِ یاس ملنا : افسوس سے ہاتھ ملانا
برگِ خزاں : خزاں کے پتّے
موقوف : منحصر، ملتوی
موجِ سموم : گرم ہوا، جھلسا دینے والی ہوا ،لؤ
نسیم : ٹھنڈی ہوا
کارساز : کام بنانے والا یعنی اللہ
حضر : ایک جگہ، قیام ٹھہراؤ
دشت : جنگل
دامنِ مادر : ماں کی گود ، ماں کی آغوش

غور کرنے کی بات 
*  اس نظم میں ماں اور بیٹے کے جذبات کی عکاسی کی گئی ہے۔
*   ایودھیا کے راجہ دشرتھ کی تین بیویاں تھیں کوشلیا بھائی اور مترا۔ رام چندر منی کوشلیا کے بیٹے تھے۔ جب تخت پر رام چندر جی کے بیٹھنے کا وقت آیا تو ان کی سوتیلی ماں لیلائی نے اپنا لیا ہوا وعده را جا دشرتھ کو یاد دلایا۔ آخر کار رام چندر جی کو چودہ برس کا بن باس ملا نظم کے اس سین میں رام چندری کا اپنی ماں کوشلیا سے رخصت ہونا بہت پر درد انداز میں دکھایا گیا ہے۔

سوالوں کے جواب لکھے
1. ”راو وفا کی منزل اوّل ہوئی تمام“  یہ کہہ کر شاعر نے کسی کی طرف اشارہ کیا ہے؟
جواب:

 2. مندرجہ ذیل الفاظ شاعر نے کس کے لیے استعمال کیے ہیں؟
 صورت خیال، خستہ حال ،شدت ملال ، تصویر سنگ
جواب:

3. شاعر کے خیال میں شوکت وحشم سانپ بن کر کس طرح ڈس رہا ہے؟
جواب:

4. موئے تن زبان کی طرح بولئے سے شاعر کی کیا مراد ہے؟
جواب:

5. چھٹے اور ساتویں بند کی تشریح کیجیے؟
جواب:

عملی کام

*  اس نظم سے متضاد الفاظ تلاش کر کے لکھے۔
*  نظم میں ایک لفظ ماشاء آیا ہے جس کے معنی خوش نہ ہونے کے ہیں لیکن اگر ہم اس میں سے ناک ہٹا دیں تو لفظ شاؤ بن جائے گا جس کے معنی خوش ہونے کے ہیں ۔ آپ بھی ایسے ہی کچھ الفا الکھے جس میں نا کا استعمال کیا گیا ہو۔
*  اضافت کی تعریف اس سے پہلے آپ پڑھ چکے ہیں۔ اس نظم میں بھی کچھ اضافتیں آئی ہیں۔ جیسے خالق عالم ۔ آپ نظم میں آئی اضافتوں کی نشاندہی کیجیے۔
*   اسی طرح کچھ الفاظ ایسے آئے ہیں جن میں دو الفاظ کے درمیان میں کا استعمال ہوا ہے جیسے شوکت وشم ۔ یہ لکھتے تو لگا کر ہیں لیکن پڑھتے ہیں ملاکر جیسے (شوکتواستم ) ولفظوں کو اس طرح ملانے والے وکوحرف عطف کہتے ہیں ۔ آپ اس نظم میں سے اس طرح کے الفاظ کو تلاش کر کے لکھے جن میں عطف کا استعمال ہوا ہو۔

*  مندرجہ ذیل الفاظ کے معنی لکھیے اور انھیں جملوں میں استعمال کیے:
لفظ : معنی : جملہ
بہم : ں : ں
اشک ریز : ں : ں
خالق عالم : ں : ں
عیاں : ں : ں
رنج و محن : ں : ں
منجدھار : ں : ں
الم : ں : ں
وفور : ں : ں

کلک برائے دیگر اسباق

0 comments:

Post a comment

خوش خبری