آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Saturday, 11 April 2020

Hakeem Shah Tahir Usmani


حکیم شاہ محمدطاہرعثمانی فردوسیؒ
نام : محمد طاہر عثمانی
ولدیت : حضرت شاہ محمد قاسم فردوسی علیہ الرحمہ
سکونت : موضع سملہ ضلع اورنگ آباد (بہار)
ولادت: 1926ء
فراغت: 1946ء
تعلیم گاه: گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ

بہار کے ضلع اورنگ آبادمیں سملہ عثمانی فردوسی خانوادے کی قدیم بستی ہے۔ اس خانوادے میں علماء صوفیاء پیدا ہوتے رہے ہیں۔ انہیں حضرت مخدوم جہاں مخدوم الملك شرف الدین بہاری علیہ الرحمة کے سلسلہ سہروردیہ فردوسیہ کی نسبت کا شرف حاصل رہا ہے۔ ہند و بیرون ہند کےاکثر سلاسل کی اجازت و خلافت بھی اس خانوادے کے اکابرین کو حاصل تھی۔ رشد و ہدایت کے ساتھ ساتھ فن طب کے ساتھ وابستگی بھی ان کا طرۂ امتیاز رہا ہے۔ حکیم شاہ محمدطاہر عثمانی صاحب کے جد امجد حکیم شاہ مجیب الحق کمالی فردوسی علیہ الرحمة نے رشد و ہدایت کے ساتھ ساتھ علاج معالجہ کا سلسلہ ہمیشہ قائم رکھا۔ آپ کا شمار علاقہ کے مشاہیراطباء میں تھا۔ آپ کے چھوٹے چچا حکیم شاہ محمد فردوسی مشہور کامیاب طبیب گذرے ہیں۔
حکیم شاہ محمد طاہر عثمانی صاحب کی ابتدائی تعلیم خانقاہ کے مدرسہ میں ہوئی۔آپ نے فارسی مولانا حفیظ الرحمن صاحب اور درسیات اپنے محترم جناب شاہ صاحب فردوسی سے پڑھی۔ 1942ء میں طب کی تعلیم کے لئے گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ میں داخل ہوئے اور1946ء میں جی یو ایم ایس کی فائنل ڈگری امتیازی حیثیت سے حاصل کی اور گولڈ مڈل حاصل کیا۔ نسخہ نویسی میں اول آئے اور جمالی دواخانہ سبزی باغ پٹنہ کا عطا کردہ گولڈمیڈل حاصل کیا۔
آپ کے ایام تعلیم میں کالج ماہرِفن اساتذہ سے معمور تھا جناب حکیم محمدادریس صاحب پرنسپل تھے۔ شفاء الملک حکیم سید مظاہراحمدصاحب، زبدة الحکما حکیم مولانا سید احمد حسین صاحب برکاتی، آفتاب حکمت حکیم عبدالشکور صاحب، ڈاکٹر ذکریاصاحب، ڈاکڑسید محمد صاحب مجنون رحمہماللہ علیہم اجمعین۔ اس کے علاوہ ڈاکٹرمناظر احسن صاحب، ڈاکٹر احسن الہدیٰ صاحب، حکیم عبدالاحدصاحب ، ماسر عبد العزیز صاحب جیسے مایۂ ناز اساتذہ سے تلّمذ کا شرف آپ کو حاصل ہے ۔
حکیم صاحب شعروشاعری کا پاکیزه ذوق رکھتے ہیں۔ آپ کے ادبی مضامین اورغزلیں مؤقر علمی وادبی جرائد و رسائل میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ مطب کی مشغولیت اور دینی و سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے اس طرف توجہ کم ہوگئی ہے لیکن آج بھی مشق سخن جاری ہے۔
حکیم صاحب 1946 میں گورنمنٹ طبّی کالج پٹنہ سے فراغت کے بعد کچھ عرصہ علیل رہے اس کے بعد مطب کی طرف توجہ کی ۱۹۵۰ سے جھریامیں مطب کرتے ہیں مطب کامیاب ہے۔ وہاں کی مذہبی تعلیمی سماجی تحریکوں کے روح رواں ہیں. ہرطبقہ میں مقبولیت حاصل ہے۔ امراء وغرباء سب کے ساتھ یکساں سلوک ہے۔ قدرت نے دست شفابخشاہے۔ مخلوق خدا آپ سے فیضیاب ہورہی ہے۔ مزاج میں انکساری و عاجزی ہے۔ ہر چھوٹے بڑے سے خندہ پیشانی سے ملتے ہیں۔ آپ خانقاه امامیہ مجیبیہ فردوسیہ سملہ کے سجادہ نشیں بھی ہیں۔ آپ کے مریدین و معتقدین کا وسیعحلقہ نہ صرف بہار بلکہ بیرون بہار میں بھی پھیلا ہوا ہے۔ آپ کے فیوض و برکات ظاہری و باطنی سے مخلوق خدا فیضیاب ہورہی ہے۔
(مندرجہ بالا مضمون ان کے صاحبزادےخبیب عثمانی سلمہ نے بھیجا ہے جس میں ضرورت کے مطابق میں نے ہلکی سی ترمیم کردی ہے۔)
تاریخ اطبائے بہار (جلد دوم)
حکیم محمد اسرار الحق،
ریٹائرڈ پروفیسرگورنمنٹ طبّی کالج پٹنہ

0 comments:

Post a comment

خوش خبری