آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Sunday, 17 May 2020

Dastaan e Gul

آئینہ نے جب پھولوں کے بارے میں اردو میں تفصیلی معلومات فراہم کرنے کا ارادہ کیا تو اُس کے پاس انگریزی سے استفادہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ خواہش تھی کہ اردو کے طلبہ کو پھولوں سے متعلق وہ تمام معلومات فراہم کی جائیں جو ان کے لیے مفید بھی ہوں اور کار آمد بھی۔ اس سلسلہ میں مطالعہ کے دوران ”آرایش محفل“ مصنف حیدر بخش حیدری دہلوی کا تحریر کردہ ایک باب پھولوں سے متعلق نظر سے گزرا۔ یہ مضمون نہ صرف اپنے زبان و بیان میں انوکھا ہے بلکہ ہندوستان میں پائے جانے والے پھولوں کا مجموعی خاکہ بھی پیش کرتا ہے۔ ہندوستان صدیوں سے طرح طرح کے پھولوں کا گلدستہ رہا ہے۔  آئیے!آپ بھی اس مضمون کی خوشبو سے اپنا دل و دماغ معطر کیجیے۔

چند سطریں پھولوں کی تعریف میں
پھول بھی یہاں سارے دیکھنے اور سونگھنے کے اپنی اپنی بہار میں بے مثال ہوتے ہیں۔ رنگ ڈھنگ میں بھی کچھ ایران توران وغیرہ کے پھولوں سے کم نہیں چُنانچہ عَبّاسی کئی رنگ کی بہت دَھدَھی اور گُلِ مہندی بھانت بھانت کی نپٹ چہچہی۔ گلاب و یاسَمن و سَوسَن کا وفُور۔ نرگس و نسرین و نسترن سے چمن کے چمن مَعمور۔ زنبق و بنفشہ جِدھر تِدھر۔ صَد بَرگ و تاجِ خُروس چَپّے چَپّے پر۔ چَمَن کے چَمَن رَیحان و اَرغَوان کے۔ تَختے کے تَختے لالہ و نافرمان کے۔ رعنا و زیبا جہاں تہاں۔ داؤدی و صد برگ کی ہزاروں کیاریاں۔ اور وے پھول جو خُصُوصیَت اس سرزمین سے رکھتے ہیں ہزاروں میں ہیں۔ اگر اُن سب کے فقط نام لکھوں تو یہ فصل برابر گلستان کے ہوجائے۔اور تھوڑے سے فایدے کے لیے کلام میں طول بہت سا لازم آئے لیکن مشہور معروف خلق میں بیشتر اتنے ہیں۔ سیوتی- سُکھ درسن، سورج مکھی، چنپا، چنبیلی، چاندنی،جائی جُوہی، جعفری، موگرا، موتیا، مدن بان، مولسری، کرنا، کَپُور، بیل، کنوَل، کیوڑا،کیتکی، گُڑھل، ہارسنگار،نِواڑی بیلا، کٹھ بیلا،رتن منجری، رائی بیل، رتن مالا، دُپَہریا۔ابیات۔
ہے اس مملکت کی عجب گل زمیں
کہیں پھول یاں کے سے ہوتے نہیں
دل بستہ دیکھ اُن کو ہر باغ باغ ###### جو سونگھے تو بھر جائے بو سے دماغ
گُندھے بِن گُندھے گر وہ محفل میں آئیں
تو مجلِس کا عالم چَمَن کا بنائیں
جو پہنے انہیں حسن اُن کا پھلے###### کہ عاشق کا دل اُن پہ دُونا چلے
جو لکھنے کے قابل ہو مو کا قلم######  نزاکت ہو کچھ سیوتی کی رقم
سفیدہ سحر کا جو حل ہو کے آئے
صباحت ذرا اُس کی تب لکّھی جائے
کروں وصف کیا مونگرے کا بیاں######  کہ ایک ایک کلی اُس کی ہے عطر داں
مُعطر ہے شدّت سے بیلے کی باس######  یہ آتی نہیں حیف عاشق کو راس
جو سوتے میں آجائے اُس کی لَپَٹ
پھڑک جائے دل نیند جاوے اُچَٹ
ہے کرنے کی اس مرتبہ مست بو
جو سُونگھے اُسے ٹُک سیہ مست ہو
مدن بان کی ادھ کھلی ہر کلی ######  بڑھاتی ہے عشاق کی بے کلی
خوشایند ہے نگہت راے بیل######  رہے بزم میں اُس کی نت ریل پیل
چاندنی کی بو ہے نزاکت بھری######  سچَکتی ہوئی سونگھے اس کو پری
یہ ہیں خُشنُما جائی جوہی کے پھول
کہ دیکھ ان کو سَرت جاتی ہے بھول
صفائی کا عالم کہوں اُن کی کیا######  کہ پائے نظر یاں پھسل ہی پڑا
بہت موتیا کی پیاری ہے بو######  ہرایک گل سے اس کی نرالی ہے بو
انوٹھی نہو کیونکہ اُس کی کلی######  نہائیت اُس کی ہے بو میں بھری
نواری کی از بسکہ میٹھی ہے بو######  دلوں کے وہ مقبول کیونکر نہو
جدا سب سے دو پہریا کا ہے روپ
کہاں اُس کی رنگت کو لگتی ہے دھوپ
گلوں سے نرالا ہے گل چاندنی ###### چَمَن کا اجالا ہے گل چاندنی
یہ چنپا کہ پھولوں میں ہَیگی مہک
لپٹ ان کی جاتی ہے گردوں تلک
میں رنگت میں تشبیہ دوں اُسے کیا
کہ بن باس جوہر ہے پُکھراج کا
ہر ایک گل کا ہے رَنگ و عالم جُدا
نہیں لُطف سے کوئی خالی ذرا
جسے دیکھیے ہر طرح خوب ہے######  طَبیعت کا ہر ایک کی مرغوب ہے
یہ گو ہر طرف سستے بکتے پھریں
یہ خوباں جہاں دیکھیں سر پر دھریں
ہوئے سستے یوں تاکہ پہنیں منگا ######  زنِ بے نَوَا و زنِ بادشا
جو عالم دکھاتے ہیں دمڑی کے پھول
وہ ہرگز نہو موتیوں سے حصول
پہنّے کا اُن کو نہو کیونکہ چاؤ######  کہ ہوتا ہے یاں کوڑیوں میں بناؤ
کسی خوب کی دل میں کھبتی نہ آن
نہ ہوتے جہاں میں اگرپھول پان
القِصّہ کوئی پھول چمنِ دہر میں رنگ و بو سے خالی نہیں۔ مصرعہ۔
ہر گُلے را رنگ و بُوئے دیگر است
لیکن موتیا چنبیلی بعضے بعضے وَصفوں میں سب سے زیادہ ہیں۔ تیل عطر انھیں کا نکلتا ہے۔اور ہر ایک صاحب طبع اُس چاہ کر مَلتا ہے۔ خصُوصاً وے عورتیں کہ جن کے مزاج میں سُتھرائی سُگھرائی بیشتر ہے۔ہمیشہ بدن کو لگائے اور بالوں کو اُس میں بسائے ہی رکھتے ہیں۔نا چاہنے والی کی خواہش زیادہ بڑھے۔ اور چاہ کی آنکھ اکثر  پڑے۔بیت
اگر تیل اور عطر ہوتے نہ یاں تو رونق پکڑتا نہ حسن ِ بتاں
بڑھائی انھوں نے ہَیں یہ اُن کی قدر
عجب چیز ہینگی غرض تیل و عطر
اور کیتکی کیوڑے کی بو باس صورت شکل کسی پھول سے نہیں ملتی۔اُن کا عالم ہی جُدا ہے۔ اگر ہزار پھول خوشبو دھرے ہوں اور کیوڑے کا ایک پھول بھی آئے۔ تو اُن کی مَہَک اُس کی لپٹ میں چھِپ جائے۔ گلاب و بید مشک اُس کے عرق سے خجالت کھینچےعطر کو اُس کے کوئی عطر لگ نہ سکے۔ بیت۔
جو ایک پھول ہو کیوڑے کا دھرا######  تو روشن نہ کیجیے کہیں لخلخا

اس موضوع پر مزید دیکھیں

0 comments:

Post a comment

خوش خبری