آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Saturday, 30 May 2020

Dil Phir Tawaaf e Koye Aqeedat Ko jaye Hai - A memory on Urs e Makhdoom jehan - Chiraghaan۔p2

دل پھر طواف کوئے ”عقیدت“ کو جائے ہے
حضرت مخدوم جہاں ؒ کے ”چراغاں“ کے موقع پر دل کی گہرائیوں سے نکلی ایک تحریر
(2)
ہو بہو یہی سراپا اور یہی شخصیت جنابحضور سیدشاہ محمد امجاد فردوسی ؒ کی تھی۔غالباً ملاقات کے ایک یا دو ہی سال میں بڑے جناب حضورؒ کا انتقال ہو گیا وہ ایک بڑا سانحہ تھا جو ہمارے بزرگوں پر گذرا ۔ہم چھوٹے تھے اس لیے یہ یاد ذرا دھندلی ہے اور اُس  یادکی جگہ جناب حضور سید شاہ محمد امجاد فردوسی کی باوقار شخصیت نے لے لی ہے۔جناب حضور ؒ کی خدمت میں زیادہ  حاضر ہو نے کا موقع ملا۔ دونوں بزرگوں جناب حضور سید شاہ سجاد فردوسیؒ اور سید شاہ محمد امجاد فردوسی ؒ کی شخصیت اور سراپا میں بہت زیادہ فرق نہیں تھا بلکہ اگر کوئی آپ کو نہ بتاتا کے بڑے جناب حضور ؒکا انتقال ہوگیا ہے تو لمبے عرصہ بعد ملنے والا شخص یہی سمجھتا کہ وہ بڑے جناب حضور کی خدمت میں حاضرہے۔ دونوں کی شکل و شباہت اور مزاج بالکل یکساں تھا۔دونوں ہی انتہائی کم سخن۔بس سارا کام نظروں اور دل سے۔دل اس شدت سے اُن کی جانب کھنچتا کہ جی چاہتا کہ بس قدم پکڑے بیٹھے رہیں۔

حضرت مخدوم جہاں کا مزار مبارک
ذکر ہو رہا تھا” چراغاں“ کا تو آئیے اب ”چراغاں“ کی کچھ یادیں تازہ کریں۔ شوال کا چاند نظر آتا اور والد ماجدحضرت حکیم شاہ محمد طاہر عثمانی فردوسی ؒ  حضرت مخدوم جہاں ؒکے عرس میں حاضری کی تیاریاں شروع کردیتے۔ہم سب بھائی خوشی خوشی عرس میں شرکت کے لیے تیار ہوتے۔ عید کا کرتا پاجامہ حضرت مخدوم جہاں کے عرس کے موقع پر پہننے کےلیے استری کراکر بکس میں رکھ  دیا جاتا۔ بہار شریف میں ٹھہرنے کا پروگرام ایک ہی رات کا رہتا اس لیے کپڑے وغیرہ کا اہتمام زیادہ نہیں رہتا۔بہار شریف پہنچنے پر ہم اپنے کسی رشتہ دار کے یہاں صرف سامان رکھنے کی غرض سے جاتے اور وہاں سے ضروریات سے فراغت کے بعد تیار ہوکر خانقاہ معظم پہنچتے اور جناب حضور کے در دولت پر حاضری دیتے۔ اس وقت سے ہم خانقاہ کے باضابطہ مہمان ہوتے۔بڑے ماموں جان حضرت شاہ منصور احمد فردوسیؒ بھی عرس مخدوم جہاںؒ میں شرکت کے لیے بہار شریف تشریف لا چکے ہوتے۔ ہم جناب حضور کے حجرے کے سامنے کھڑے ہوتے،   وہیں ماموں جان سے بھی ملاقات ہو جاتی۔ اُس کے بعد وہاں  حجرے میں ایسا والہانہ استقبال ہوتا  کہ ہم غلاموں کی طبیعت خوش ہوجاتی۔ ایک تو حضرت مخدوم کے سجادہ سے بے پناہ محبت و عقیدت اور دوسری جانب اُن کی وہ والہانہ نظر و توجہ ایسا لگتا جیسے دونوں جہان کی نعمت ہاتھ آگئی ہو۔آج بھی وہ منظر جب آنکھوں کے سامنے آتا ہے تو شدت جذبات سے آنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔ والد ماجد حضرت حکیم شاہ محمد طاہر عثمانی ؒاور بڑے ماموں جان حضرت مولا نا شاہ منصور احمد فردوسیؒ کا مخدوم جہاں اور سجادۂ مخدوم جہاں سے بے پناہ عشق اور اُن کا آپس میں ملنا اور ایک دوسرے کی عزت و تکریم کرنا آنکھوں کے سامنے آتا ہے تو دل تیز تیز دھڑکنے لگتا  ہے۔ میرے بزرگوں نے مخدوم جہاںؒ سے اپنی عقیدت و محبت اپنے خون کے ساتھ ہی ہماری رگوں میں منتقل کردی ہیں اور ہم سب بھائی آج بھی غلامی کا یہ تاج بڑے فخر سے اپنے سروں پر سجائے پھرتے ہیں ۔مشغولیات کے سبب اب شرکت پہلے کی طرح نہیں ہو پاتی لیکن آج بھی ہمارا دل وہیں رہتا ہے۔خاص طور سےعرس کے دنوں میں ہمارا جسم وہا ں ہو نہ ہو دل وہیں رہتا ہے۔اور ہمیں یقین ہے کہ مخدوم جہاں کا فیضان آج بھی ہمارے اوپر اسی طرح جاری و ساری ہے۔بہر حال ہم سب بھائی، بڑے  ماموں جانؒ اور اباجانؒ  جناب حضور سید شاہ محمد امجاد فردوسی ؒ کی دست بوسی کے بعد اُن کے حجرے کے سامنے حضرت سید شاہ  قسیم الدین فردوسی ؒ کے کمرے میں دست بوسی کے لیے حاضر ہوجاتے۔ اُف کیا خوب شخصیت تھی۔کیسے بلند پایہ بزرگ تھے۔ علم کا سمندر لیکن خاموشی ایسی کہ سطح آب پر کوئی ہلچل نہیں۔مخدوم جہاں کے عشق کی آگ میں تپی ہوئی یہ شخصیتیں آج بھی نظروں کے سامنے پھرتی ہیں، ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمیں ایسی شخصیات کے دیدار اور ان کی محفلوں سے فیض حاصل کرنے کا موقع ملا جو بارگاہ الٰہی اور بارگاہ نبویﷺ میں مقبول ہیں۔ماموں جان اور اباجان سے علمی گفتگو شروع ہوجاتی ماموں جانؒ اور اباجان ؒ زیادہ تر خاموش رہتے اور وہ مکتوبات حضرت مخدوم جہاں کی تشریح فرماتے جاتے۔  یہ باتیں ہماری سمجھ سے بالاتر ہوتیں لیکن ہم اس گفتگو کا فیض صاف محسوس کرتے۔ دل ان مجلسوں سے اٹھنا گوارہ نہ کرتا  لیکن وقت کی مجبوری ہوتی عرس کی دیگر تقریبات میں شرکت  کرنی ہوتی۔بعد مغرب ہم سب آستانہ مخدوم کی جانب روانہ ہوجاتے۔بازار میں کافی چہل پہل ہوتی لوگوں کا ایک ہجوم آستانہ کی جانب جاتا اور ادھر سے واپس آتا نظر آتا۔ شہر والوں کی جانب سے چادروں کا تانتا  لگا رہتا۔ہم درگاہ پہنچتے اُس وقت آستانے کے باہری گیٹ کی تعمیر نہیں ہوئی تھی ۔ایک عرصہ بعد اس سال مخدوم جہاںؒ کے آستانے پر حاضری کا موقع ملا اب نقشہ پہلے سے کافی بدل گیا ہے لیکن ذہن و دماغ میں وہ پرانی تصویر آج بھی اسی طرح  تازہ ہے۔درگاہ کے اندرونی حصّے میں پہنچ کر میرے بزرگوں کے دل کی عجیب کیفیت ہوتی۔  ایسالگتا جیسے ابھی جا کر حضرت مخدوم کی قبر مبارک سے لپٹ جائیں گے۔اُن کی چادر مبارک کو تھام لیں گے۔وہاں پہنچ کر وہ  سلام پیش کرکے مزار مبارک کو بوسہ دے کر ایک جانب کھڑے ہوجاتے اور فاتحہ پڑھنے میں مشغول ہوجاتے ۔وہ حضرت مخدوم جہاں کے فیضان سے فیضیاب ہونے کی دعائیں مانگتے اور ہم سب اُن کی تقلید کرتے۔ فاتحہ اور حاضری سے فارغ ہوکر مزار مبارک
حضرت مخدوم جہاں کا مصلہ
کے سامنے ہم سب اُس جگہ جمع ہوجاتے جہاں حضرت مخدوم جہاںؒ کا پتھر کا مصلّہ ہے۔ سب باری باری دو رکعت نماز نفل ادا کرتے۔ سامنے آج جہاں ایک بڑی مسجد تعمیر ہو رہی ہے وہاں ایک بڑا سائبان تھا جس میں بلخی حضرات قل فاتحہ و مجلس کرتےتھے۔ہم سب عشاء کی نماز کے بعد آستانہ کے گنبد کے سامنے اس حسین گھڑی کے انتظار میں جگہ لے کر بیٹھ جاتے جب اچانک شور اٹھتا جناب حضور کی سواری آرہی ہے۔ یہ رات کے بارہ بجے سے کچھ پہلے کا وقت ہوتا۔جناب حضور خانقاہ  معظم سے پالکی پر سوار ہوکر حضرت مخدوم کے آستانے پر تشریف لاتے ۔ پالکی کے چاروں جانب خدام کی بھیڑ ہوتی یہ پہلوان نما مریدین ہوتے جن کا کام یہ تھا کہ جناب حضور کی دست بوسی کے لیے مجمع کو بے قابو نہ ہونے دیں اور اس بھیڑ سے اُن کی حفاظت کریں۔ جناب حضور کی آمد کی خبر پر ہی ہم ہوشیار ہوجاتے۔ اس وقت خانقاہ مجیبیہ فردوسیہ ،سملہ اور خانقاہ برہانیہ کمالیہ ،دیورہ کی یہ خدمت تھی کہ وہ آستانہ کے سامنے سجادۂ مخدوم کے بیٹھنے کے لیے اُس جگہ پر چادر بچھائیں جہاں پر قل و فاتحہ ہوتا ہے۔ ہم سب وہاں  بچھانے کے لیےنئی چادر لیے سجادۂ مخدوم کے انتظار میں بے تابانہ کھڑے ہوتے اور جیسے ہی آمد کی خبر ہوتی ہم چادر بچھاکر اُس جگہ کو پوری طرح گھیر لیتے۔ سجادہ مخدوم پالکی سے اتر کر اُس جگہ تشریف لاتے اور اِس چادر کو رونق بخشتے۔یہ خدمت برسوں تک  ان دونوں خانقاہوں کے ذمّے رہی۔فاتحہ شروع ہوتا۔ فاتحہ ختم ہونے پر سجادۂ مخدوم دعا کرتے۔صرف لبوں کی جنبش پرآستانہ آمین کی صداؤں سے گونجنے لگتا۔ صاف محسوس ہوتا دعائیں مقبول بارگاہ ہو رہی ہیں۔دعا ختم ہوتی اور قُل کی مٹھائی جناب حضور کی خدمت میں پیش کی جاتی  آپ اسے اپنی زبان سے لگاتے اور یہ وقت ہماری دھڑکنیں تیز کردیتا ہم سب جناب حضور کی جانب متوجہ ہوجاتے نگاہیں ان کے دست مبارک پر ہوتیں وہ بھی دل کا حال جانتے اور یہ تبرک ہم بھائیوں میں کسی ایک کے ہاتھ میں آجاتا اس دست شفقت کو ہم کبھی بھلا نہ سکیں گے۔ ہم سب بھائی اس نعمت کو آپس میں تقسیم کرلیتے۔ مٹھائی کا وہ چھوٹا سا دانہ ہم بھائیوں اور ہمارے بزرگوں کے لیے نعمت غیر مترقبہ سے کم نہ ہوتا۔ بتاتے ہیں کہ ایک بار ہمارے دادا ابّا حضرت شاہ محمد قاسم عثمانی فردوسی ؒ کو حضرت مخدوم جہاں ؒ کے عرس کے موقع پر ایک چاول گرا ہوا ملا۔آپ نے چاول کے اُس دانے کوکاغذ کے ایک ٹکڑے میں لپیٹ لیا۔گھر آنے پر اس دانے کو پانی میں دھو دھو کر خیر و برکت کی نیت سے گھر کے ہر فرد کو پلایا۔  نہ جانے ہماری ان دو خانقاہوں کی چادر بچھانے کی اس خدمت کو کس کی نظر لگ گئی ۔حاضرین محفل ہماری اس خدمت کورشک کی نگاہوں سے دیکھا کرتے تھے۔ آستانہ پر قل و فاتحہ کے بعد جناب حضور کی دست بوسی کا ایسا سلسلہ شروع ہوتا کے خدام کو اُن کو محفوظ رکھنے میں پسینے  آجاتے۔کسی طرح وہ پالکی میں سوار ہوکر ہجوم سے بچنے میں کامیاب ہو پاتے۔یہ سارا منظر آج بھی دل کو گرما دیتا ہے۔اس کے بعد ہم سب خانقاہ معظم کے لیے روانہ ہوجاتے۔

0 comments:

Post a comment

خوش خبری