آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Saturday, 23 May 2020

Hai Eid Chale Aao - Mazhar Balgarami

ہے عید چلے آؤ
حکیم سید مظفر علی مظہر بلگرامی
Courtesy Isra Usmani

اس درجہ نہ تڑپاؤ
کچھ دل میں تو شرماؤ
اب رحم بھی فرماؤ
ایسے میں تو آجاؤ
ہے عید چلے آؤ
آنا ہے تو آجاؤ
شاید کے ہمیں پاؤ
یوں مان بھی اب جاؤ
تقصیر تو بتلاؤ
ہے عید چلے آؤ
پھر فصل بہاراں ہے
ویرانہ گلستاں ہے
حیوان بھی شاداں ہے
انسان تو انساں ہے
ہے عید چلے آؤ
دریا میں روانی ہے
موجوں میں دوانی ہے
بہتا ہوا پانی ہے
ہر شے میں جوانی ہے
ہے عید چلے آؤ
پر جوش بہاراں ہے
فردوس  بہ داماں ہے
گلزار بیاباں ہے
دیکھو جسے نازاں ہے
ہے عید چلے آؤ
یہ دن ہیں مسرت کے
یہ روز ہیں عشرت کے
ایام ہیں بہجت کے
موقعے نہیں حجت کے
ہے عید چلے آؤ
کیا مجھ پہ شباب آیا
گویا کے عذاب آیا
کیوں مجھ پہ عتاب آیا
اب تک نہ جواب آیا
ہے عید چلے آؤ
میں سخت پریشاں ہوں
تقدیر پہ گریاں ہوں
جینے سے میں نالاں ہوں
اک قالب بے جاں ہوں
ہے عید چلے آؤ
گر دید تمہاری ہو
پھر عید ہماری ہو
نالہ ہو نہ زاری ہو
نے لب پہ یہ جاری ہو
ہے عید چلے آؤ
کب تک یہ ستم آخر
کب تک میں رہوں مضطر
ہے تار نفس خنجر
آرام ملے کیوں کر
ہے عید چلے آؤ

(رسالہ ندیم، گیا میں 1941 کے شمارہ میں شائع ایک نظم)

0 comments:

Post a comment

خوش خبری