آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Tuesday, 12 May 2020

Phool Shah by Ibn e Tahir

پھول شاہ
رمضان المبارک اپنے آخری عشرے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اب سے چار دہائی قبل کا  پاکیزگی اور عظمتوں سے بھرپور رمضان۔ گھر کے سبھی افراد روزہ ہیں۔ افطار کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں۔ امّی باورچی خانے میں افطار بنانے میں مصروف ہیں ۔ ابّا جان کی نگاہیں چھت کی منڈیر سے نیچے سڑک پر ٹکی ہیں کہ افطار میں شریک ہونے کے لیے کسے آواز دیں۔ عصر کے بعد سے ہی باہر کا دروازہ کھول دیا جاتا تھا  تاکہ افطار کے وقت کسی مہمان کو کنڈی کھٹکھٹانے کی ضرورت نہ پڑے۔ عام دنوں میں گھر کا دروازہ بند رہتا تھا۔ رمضان کے اس آخری عشرے میں ہم سب بھائیوں کے کان ایک مخصوص،سریلی، میٹھی اور مانوس  آواز کا انتظار کرنے لگتے۔   اچانک عصر اور مغرب اور کبھی کبھی ظہر اور عصر کے درمیان وہ سُریلی آواز ہمارے کانوں میں گونجنے لگتی:
چمپا، چنبیلی ، مونگے، جوہی، پھولے ہزارے
سچّا ہے جو مسلماں روزے کے پھول چُن لے
جاگیے! اللہ اللہ کیجیے!
ہم سب بھائی اور چھوٹی بہن باہر دروازے کی طرف دوڑ پڑتے۔” پھول شاہ آگئے“، ”پھول شاہ آگئے“ اپنی اتنی عزت و توقیر اور اس والہانہ استقبال سے پھول شاہ بھی پھولے نہ سماتے۔ اس زمانے میں کوئی ریکارڈر نہ تھا لیکن آج بھی وہ آواز اسی طرح ذہن میں موجود ہے۔ شاید گیت کے الفاظ کچھ بدل گئے ہوں لیکن روزے کی پھولوں سے تشبیہ ہو بہو یہی ہے۔ دراز قد، دبلا پتلا جسم، لمبا کرتا، کندھے میں ٹنگا ہوا تھیلا، سفید لمبی داڑھی اور ہاتھوں میں چھڑی اور ایک کشکول۔ یہ تھا پھول شاہ کا حلیہ۔ اباجان رمضان سے قبل ہی پھول شاہ کے لیے اپنا ایک کرتا پاجامہ اور ایک نئی لنگی ان کے نام پر الگ رکھ دیتے تھے۔ لیکن یہ سب انھیں اسی وقت دیا جاتا جب وہ ہم سب کو اپنی سُریلی آواز میں پھولوں کی خوشبوؤں سے معطر اپنا گیت سُنا  دیتے۔ ہم سب اسے سننے کی بار بار ضد کرتے اور آخر وہ دوسرے دن آنے کا وعدہ کر ہی اپنی جان چھڑا پاتے۔ ہم سب ان سے بڑی ہی عزت سے پیش آتے اور پورے عزت و احترام سے اُن کا تحفہ اُن کے حوالے کردیا جاتا اور وہ خوشی سے ہمیں دعائیں دیتے روانہ ہوجاتے ۔مجھے یاد نہیں کہ وہ ہمارے گھر سے نکلنے کے بعد آس پڑوس کے کسی اور گھر میں جاتے ہوں۔ ایک خدا ترس فقیر کی جو توقیر  ہم نے اپنے  گھر میں دیکھی وہ مجھے اور کہیں نظر نہیں آئی۔ اب نہ ویسے سحری کے وقت مخلص جگانے والے اور خوددار سائل رہے اور نہ ان فقیروں اور درویشوں کی عزت و احترام کرنے والے۔ معلوم نہیں ہم آج اپنے بچّوں کی ویسی تربیت کر پا رہے ہیں یا نہیں لیکن ہمارے بڑوں نے جو ہمیں سکھایا ہم آج بھی اس سے فیضیاب ہو رہے ہیں۔ آج 18 رمضان ہے کانوں میں وہی آواز گنگنا رہی ہے
چمپا، چنبیلی ، مونگے، جوہی، پھولے ہزارے
سچّا ہے جو مسلماں روزے کے پھول چُن لے
جاگیے! اللہ اللہ کیجیے!
پھول شاہ کا سراپا سامنے ہے۔ کون تھے کہاں کے رہنے والے تھے یہ معلوم کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی بس رمضان کے آخری عشروں میں چند لمحوں کا ساتھ تھا جس نے ان کے سراپے اور ان کی سُریلی آواز کو آج بھی زندہ رکھا ہے۔ اس سے قبل کہ ایسی شخصیتیں ہماری یادوں سے بھی گُم ہوجائیں اپنے بچّوں کو اُس تہذیب سے روشناس کرادینا ضروری سمجھتا ہوں۔ 

1 comment:

خوش خبری