آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Sunday, 9 August 2020

Bheek By Hayatullah Ansari NCERT Urdu ClassX Nawa e Urdu

 حیات الله انصاری

(1911 – 1999)

حیات الله انصاری لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ 1926 میں مدرسہ فرنگی محل سے مشرقی علوم کی سند حاصل کی ۔ علی گڑھ مسلم یونیورٹی سے بی۔ اے۔ کیا ۔ طالب علمی کے دوران ہی قومی تحریکوں میں دل چسپی پیدا ہوگئی تھی ۔ مہاتما گاندھی سے عقیدت کی بنا پر وہ کا نگریس میں میں شامل ہوئے اور آخر وقت تک کانگر یسی رہے۔ 1937 میں ہفتہ وار اخبار’ ہندوستان‘ جاری کیا۔ 1944 میں پنڈت جواہرلعل نہرونے لکھنؤ سے روزنامہ ”قومی آواز“ جاری کیا اور انصاری صاحب اس کے پہلے مدیر مقرر ہوئے ۔1966 اور 1982 میں راجیہ سبھاکے رکن رہے۔ حیات الله انصاری اور ان کی اہلیہ نے اردو کو اس کا جائز مقام دلانے کے لیے ڈاکٹر ذاکر حسین کے ساتھ ایک دستخطی مہم چلائی تھی۔

حیات اللہ انصاری نے افسانے ، ناولٹ اور ناولوں کے ساتھ ساتھ تنقیدی مضامین بھی لکھے اور غیر اردو داں حضرات کو اردو سکھانے کے لیے ایک قاعده” دس دن میں اردو “لکھا۔ 1952 میں لکھنؤ میں تعلیم بالغان کے لیے تعلیم گھر قائم کیا۔ حیات اللہ انصاری نے پریم چند کے افسانوں سے متاثر ہوکر افسانے لکھے لیکن ان کے افسانوں کی فضا مختلف ہے۔ ان افسانوں کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان میں مشاہدہ ،تخیل اور فکر تینوں ایک دوسرے کے متوازی ہیں ۔ ان کے افسانے زندگی کے تمام پہلووں کی ترجمانی کرتے ہیں۔

حیات الله انصاری کے افسانوں کا پہلا مجموعہ” انوکھی مصیبت‘‘1939 میں شائع ہوا۔ اس کے بعد ”بھرے بازار میں“، ”شکستہ کنگورے‘‘اور’’ ٹھکانا“ کے عنوان سے ان کے افسانوی مجموعے ، دو ناولٹ ’’مدار‘‘ اور ”گھروندا “ منظر عام پر آئے ۔ پانچ جلدوں پر مشتمل ضخیم ناول” لہو کے پھول‘‘ چھپا۔ ”جد یدیت کی سیر“ حیات اللہ انصاری کی تنقیدی کتاب ہے۔ انھوں نے بچوں کے لیے بھی کہانیاں لکھیں جو ”میاں خوخو “اور” کالا دیو“ کے نام سے شائع ہوچکی ہیں۔


0 comments:

Post a comment

خوش خبری