آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Monday, 14 September 2020

Do Farlang Lambi Sadak By Krishan Chander Gulzar e Urdu Class 10

 دو فرلانگ لمبی سڑک

کرشن چندر

کچہریوں سے لے کر لا کالج تک بس یہی کوئی دوفرلانگ لمبی سڑک ہوگی، ہر روز مجھے اسی سڑک پر سے گزرنا ہوتا ہے، کبھی پیدل، کبھی سائیکل پر۔ سڑک کے دورویہ شیشم کے سوکھے سوکھے اداس سے درخت کھڑے ہیں۔ان میں نہ حسن ہے نہ چھاؤں،سخت کھردرے تنے اور ٹہنیوں پر گدھوں کے جھنڈ، سڑک صاف سیدھی اور سخت ہے۔ متواتر نو سال سے میں اس پر چل رہا ہوں، نہ اس میں کبھی کوئی گڑھا دیکھا ہے نہ شگاف، سخت سخت پتھروں کو کوٹ کوٹ کر یہ سڑک تیار کی گئی ہے اور اب اس پر کول تار بھی بچھی ہے جس کی عجیب سی بو گرمیوں میں طبیعت کو پریشان کردیتی ہے۔ 

سڑکیں تو میں نے بہت دیکھی بھالی ہیں لمبی لمبی، چوڑی چوڑی سڑکیں برادے سے ڈھنپی ہوئی سڑکیں، سڑکیں جن پر سرخ بجری بچھی ہوئی تھی، سڑکیں جن کے گرد سرو و شمشاد کے درخت کھڑے تھے، سڑکیں۔۔۔ مگر نام گنانے سے كیا فائده اسی طرح تو ان گنت سڑكیں دیكھی ہوں گی لیکن جتنی اچھی طرح میں اس سڑک کو جانتا ہوں کسی اپنے گہرے دوست کو بھی اتنی اچھی طرح نہیں جانتا۔متواتر نوسال سے اسے جانتا ہوں اور ہر صبح اپنے گھر سے جو کچہریوں سے قریب ہی ہے اٹھ کر دفتر جاتا ہوں جو لا کالج کے پاس واقع ہے۔ بس یہی دوفرلانگ کی سڑک،ہر صبح اور ہر شام کچہریوں سے لے کر لاکالج کے آخری دروازے تک، کبھی سائیکل پر کبھی پیدل۔ 

اس کا رنگ کبھی نہیں بدلتا، اس کی ہیئت میں تبدیلی نہیں آتی۔ اس کی صورت میں روکھا پن بدستور موجود ہے۔جیسے کہہ رہی ہو مجھے کسی کی کیا پرواہ ہے اور یہ ہے بھی سچ اسے کسی کی پرواکیوں ہو؟ سینکڑوں ہزاروں انسان، گھوڑے گاڑیاں، موٹریں اس پر سے ہر روز گزر جاتی ہیں اور پیچھے کوئی نشان باقی نہیں رہتا۔اس کی ہلکی نیلی اور سانولی سطح اسی طرح سخت اور سنگلاخ ہے جیسے پہلے روز تھی۔جب ایک یوریشین ٹھیکیدار نے اسے بنایا تھا۔ 

یہ کیا سوچتی ہے؟ یاشاید یہ سوچتی ہی نہیں، میرے سامنے ہی ان نو سالوں میں اس نے کیا کیا واقعات، حادثے دیکھے۔ہر روز ہر لمحہ کیا کیا نئے تماشے نہیں دیکھتی، لیکن کسی نے اسے مسکراتے نہیں دیکھا، نہ روتے ہی، اس کی پتھریلی چھاتی میں کبھی ایک درز بھی پیدا نہیں ہوئی۔ 

’’ہائے بابو!اندھے محتاج غریب فقیر پر ترس کر جاؤ ارے بابا، ارے بابو، خدا کے لئے ایک پیسہ دیتے جاؤ ارے بابا، ارے کوئی بھگوان کا پیارا نہیں، صاحب جی! میرے ننھے ننھے بچے بلک رہے ہیں ارے کوئی تو ترس کھاؤ ان یتمیوں پر۔ ‘‘ 

بیسیوں گداگر اسی سڑک کے کنارے بیٹھے رہتے ہیں۔ کوئی اندھا ہے تو کوئی لنجا، کسی کی ٹانگ پر ایک خطرناک زخم ہے تو کوئی غریب عورت دو تین چھوٹے چھوٹےبچےگودمیں لئےحسرت بھری نگاہوں سے راہ گیروں کی طرف دیکھتی جاتی ہے۔ کوئی پیسہ دے دیتا ہے۔ کوئی تیوری چڑھائے گزر جاتا ہے کوئی گالیاں دے رہا ہے، حرام زادے، مسٹنڈے، کام نہیں کرتے، بھیک مانگتے ہیں۔ 

کام، بےکاری، بھیک۔ 

دو لڑکے سائیکل پر سوار ہنستے ہوئے جارہے ہیں۔ ایک بوڑھا امیر آدمی اپنی شاندار فٹن میں بیٹھا سڑک پربیٹھی بھکارن کی طرف دیکھ رہا ہے، اور اپنی انگلیوں سے موچھوں کو تاؤ دے رہا ہے۔ ایک سست مضمحل کتا فٹن کے پہیوں تلے آگیا ہے۔ اس کی پسلی کی ہڈیاں ٹوٹ گئی ہیں۔ لہو بہہ رہا ہے، اس کی آنکھوں کی افسردگی، بےچارگی، اس کی ہلکی ہلکی دردناک ٹیاؤں ٹیاؤں کسی کو اپنی طرف متوجہ نہیں کرسکتی۔بوڑھا آدمی اب گدیلوں پر جھکا ہوا اس عورت کی طرف دیکھ رہا ہے جو ایک خوش نما سیاہ رنگ کی ساڑی زیب تن کئے اپنے نوکر کے ساتھ مسکراتی ہوئی باتیں کرتی جارہی ہے۔ اس کی سیاہ ساڑی کا نقرئی حاشیہ بوڑھے کی حریص آنکھوں میں چاند کی کرن کی طرح چمک رہا ہے۔ 

پھر کبھی سڑک سنسان ہوتی ہے۔صرف ایک جگہ شیشم کے درخت کی چھدری چھاؤں میں ایک ٹانگے والا گھوڑے کو سستا رہا ہے۔ گدھ دھوپ میں ٹہنیوں پر بیٹھے اونگھ رہے ہیں۔ پولس کا سپاہی آتا ہے۔ ایک زور کی سیٹی،’’او تانگے والے یہاں کھڑا کیا کررہا ہے۔ کیا نام ہے تیرا، کردوں چالان؟‘‘ 

’’ہجور‘‘ 

’’ہجور کا بچہ!چل تھانے ‘‘ 

ہجور! یہ تھوڑا ہے!‘‘ 

’’ اچھا جاتجھے معاف کیا۔‘‘ 

تانگے والا تانگے کو سرپٹ دوڑائے جارہا ہے۔ راستے میں ایک گورا آرہا ہے۔ سر پر تیڑھی ٹوپی، ہاتھ میں بید کی چھڑی، رخساروں پر پسینہ، لبوں پر کسی ڈانس کا سُر۔ 

’’کھڑا کردو کنٹونمنٹ۔‘‘ 

’’آٹھ آنے صاب۔‘‘ 

’’ویل۔ چھ آنے۔‘‘ 

’’نہیں صاب۔‘‘ 

’’کیا بکتا ہے، ٹم۔۔۔‘‘ 

تانگے والے كو مارتے مارتے بید كی چھڑی ٹوٹ جاتی ہے پھر تانگے والے کا چمڑے کا ہنٹر کام آتا ہے۔ لوگ اکٹھے ہورہے ہیں،پولس کا سپاہی بھی پہنچ گیا ہے۔’’حرام زادے! صاب بہادرسے معافی مانگو‘‘ تانگے والا اپنی میلی پگڑی کے گوشے سے آنسو پونچھ رہا ہے۔ لوگ منتشر ہوجاتے ہیں۔ 

اب سڑک پھر سنسان ہے۔ 

شام کے دھندلکے میں بجلی کے قمقمے روشن ہوگئے۔ میں نے دیکھا کہ کچہریوں کے قریب چند مزدور،بال بکھرے، میلے لباس پہنے باتیں کررہے ہیں۔ 

’’بھیا بھرتی ہوگیا؟‘‘ 

’’ہاں‘‘ 

’’تنخواہ تو اچھی ملتی ہوگی۔‘‘ 

’’ہاں‘‘ 

’’بڑھؤ کے لئے کمالائے گا۔ پہلی بیوی تو ایک ہی پھٹی ساڑی میں رہتی تھی۔‘‘ 

’’سنا ہے جنگ سروع ہونے والی ہے۔‘‘ 

’’کب سروع ہوگی؟‘‘ 

’’کب؟اس کا تو پتہ نہیں،مگر ہم گریب ہی تو مارے جائیں گے۔‘‘ 

’’کون جانے گریب مارے جائیں گے کہ امیر‘‘ 

’’ننھا کیسا ہے؟‘‘ 

’’بخار نہیں ٹلتا،کیا کریں، ادھر جیب میں پیسے نہیں ہیں ادھر حکیم سے دوا‘‘ 

’’بھرتی ہوجاؤ‘‘ 

’’سونچ رہے ہیں‘‘ 

’’رام رام‘‘ 

’’رام رام‘‘۔ 

پھٹی ہوئی دھوتیاں ننگے پاؤں، تھکے ہوئے قدم،یہ کیسے لوگ ہیں۔یہ نہ تو آزادی چاہتے ہیں نہ حریت۔یہ کیسی عجیب باتیں ہیں، پیٹ، بھوک، بیماری، پیسے، حکیم کی دوا، جنگ۔ 

قمقموں کی زرد، زرد روشنی سڑک پر پڑ رہی ہے۔ 

دوعورتیں، ایک بوڑھی ایک جوان، اپلوں کے ٹوکرے اٹھائے، خچروں کی طرح ہانپتی ہوئی گزر رہی ہیں۔ جوان عورت کی چال تیز ہے۔ 

’’بیٹی ذرا ٹھہر تو۔‘‘ بوڑھی عورت کے چہرے پر بے شمار جھریاں ہیں اس کی چال مدھم ہے۔ اس کے لہجے میں بے بسی ہے۔ 

’’بیٹی،میں، ذرا ٹھہر، میں تھک گئی۔۔۔ میرے الله۔‘‘ 

’’اماں، ابھی گھر جاكر روٹی پكانی ہے، تو تو باؤلی ہوئی ہے‘‘ 

’’اچھا بیٹی،اچھا بیٹی‘‘ 

بوڑھی عورت جوان عورت کے پیچھے بھاگتی ہوئی جارہی ہے۔ بوجھ کے مارے اس کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں،اس کے پاؤ ں ڈگمگا رہے ہیں۔ وہ صدیوں سے اسی سڑک پر چل رہی ہے اپلوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے،کوئی اس کا بوجھ ہلکا نہیں کرتا کوئی اسے ایک لمحہ سستانے نہیں دیتا، وہ بھاگی ہوئی جا رہی ہے اس کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں، اس کی جھریوں میں غم ہے اور بھوک، اور فکر اور غلامی اور صدیوں کی غلامی! 

تین چار نوخیز لڑکیاں بھڑکیلی ساڑھیاں پہنے، بانہوں میں بانہیں ڈالے ہوئے جا رہی ہیں۔ 

’’بہن! آج شملہ پہاڑی کی سیر کریں‘‘ 

’’بہن! آج لارنس گارڈن چلیں ‘‘ 

’’بہن! آج انار کلی !‘‘ 

’’ریگل؟‘‘ 

’’شٹ اپ ، یو فول !‘‘ 

آج سڑک پر سرخ بجری بچھی ہے، ہر طرف جھنڈیاں لگی ہوئی ہیں، پولیس کے سپاہی کھڑے ہیں، کسی بڑے آدمی کی آمد ہے، اسی لئے تو اسکولوں کے چھوٹے چھوٹے لڑکے نیلی پگڑیاں باندھے سڑک کے دونوں طرف کھڑے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں چھوٹی چھوٹی جھنڈیاں ہیں، ان کے لبوں پر پپڑ یاں جم گئی ہیں، ان کے چہرے دھوپ سے تمتما اٹھے ہیں اسی طرح کھڑے کھڑے وہ ڈیڑھ گھنٹے سے بڑے آدمی کا انتظار کر رہے ہیں۔ جب وہ پہلے پہلے یہاں سڑک پر کھڑے ہوئے تھے تو ہنس ہنس کر باتیں کر رہے تھے۔ اب سب چپ ہیں چند لڑکے ایک درخت کی چھاؤں میں بیٹھ گئے تھے۔ اب استاد انہیں کان سے پکڑ کر اٹھا رہا ہے ۔شفیع کی پگڑی کھل گئی تھی۔ استاد اسے گھور کر کہہ رہا ہے، ’’او شفی ! پگڑی ٹھیک کر‘‘ پیارے لال کی شلوار اس کے پاؤں میں اٹک گئی ہے اور ازار بند جوتیوں تک لٹک رہا ہے۔ 

’’تمہیں کتنی بار سمجھایا ہے پیارے لال!“ 

”ماسٹر جی ،پانی!“ 

”پانی کہاں سے لاؤں! یہ بھی تم نے اپنا گھر سمجھ رکھا ہے دو تین منٹ اور انتظار کرو بس ابھی چھٹی ہوا چاہتی ہے۔  

دو منٹ، تین منٹ، آدھا گھنٹہ۔ 

’’ماسٹر جی پانی !‘‘ 

’’ماسٹر جی پانی !‘‘ 

’’ماسٹر جی بڑی پیاس لگی ہے۔‘‘ 

لیکن استاد اب اس طرف متوجہ ہی نہیں ہوتے وہ ادھر ادھر دوڑتے پھر رہے ہیں۔ 

’’لڑکو! ہوشیار ہو جاؤ، دیکھو جھنڈیاں اس طرح ہلانا۔ ابے تیری جھنڈی کہاں ہے؟ قطار سے باہر ہو جا، بدمعاش کہیں کا۔۔۔‘‘ 

سواری آ رہی ہے۔  

موٹر سائیکلوں کی پھٹ پھٹ، بینڈ کا شور، پتلی اور چھوٹی جھنڈیاں بے دلی سے ہلتی ہوئی۔ سوکھے ہوئے گلوں سے پژمردہ نعرے۔ 

بڑا آدمی سڑک سے گزر گیا لڑکوں کی جان میں جان آ گئی ہے۔ اب وہ اچھل اچھل کر جھنڈیاں توڑ رہے ہیں شور مچا رہے ہیں۔ 

خوانچے والوں کی صدائیں۔ ریوڑیاں،گرم گرم چنے، حلوا پوری، نان، کباب۔ 

ایک خوانچے والا ایک طرّے والے بابو سے جھگڑ رہا ہے، ”آپ نے میرا خوانچہ الٹ دیا۔ میں آپ کو نہیں جانے دوں گا۔ میرا تین روپئے کا نقصان ہوگیا، میں غریب آدمی ہوں، میرا نقصان پورا کردیجئے تو میں جانے دوں گا۔“ 

صبح کی ہلکی ہلکی روشنی میں بھنگی سڑک پر جھاڑو دے رہا ہے۔ اس کے منہ اور ناک پر کپڑا بندھاہے جیسے بیلوں کے منہ پر، جب وہ کولھو چلاتے ہیں۔ وہ گردو غبار میں اٹا ہوا ہے اور جھاڑو دیئے جا رہا ہے۔ 

میونسپلٹی کا پانی والا چھکڑا آہستہ آہستہ سڑک پر چھڑکاؤ کررہا ہے۔ چھکڑے کے آگے جتے ہوئے دو بیلوں کی گردنوں پر زخم پیدا ہوگئے ہیں۔ چھکڑے والا سردی سے ٹھٹھرتا ہوا کوئی گیت گانے کی کوشش کررہا ہے۔ بیلوں کی آنکھیں دیکھ رہی ہیں کہ ابھی سڑک کا کتنا حصہ باقی ہے۔ 

سڑک کے کنارے ایک بوڑھا فقیر مرا پڑا ہے۔ اس کے میلے دانت ہونٹوں کے اندر دھنس گئے ہیں۔ اس کی کھلی ہوئی بے نور آنکھیں آسمان کی طرف تک رہی ہیں ۔ 

’’خدا کے لئے مجھ غر یب پر ترس کر جاؤ رے بابا۔‘‘ 

کوئی کسی پر ترس نہیں کرتا۔ سڑک خاموش اور سنسان ہے۔ یہ سب کچھ دیکھتی ہے، سنتی ہے، مگر ٹس سے مس نہیں ہوتی۔ 

انتہائی غیض و غضب کی حالت میں اکثر میں سوچتا ہوں کہ اگر اسے ڈائنامائٹ لگا کر اڑا دیا جائے تو پھر کیا ہو، ایک بلند دھماکے کے ساتھ اس کے ٹکڑے فضا میں پرواز کرتے نظر آئیں گے۔ اس وقت مجھے کتنی خوشی حاصل ہو گی اس کا کوئی اندازہ نہیں کر سکتا۔کبھی کبھی اس کی سطح پر چلتے چلتے میں پاگل سا ہوجاتا ہوں، چاہتا ہوں کہ اسی دم کپڑے پھاڑ کر ننگا سڑک پر ناچنے لگوں اور چلا چلا کر کہوں۔ میں انسان نہیں ہوں، میں پاگل ہوں، مجھے انسانوں سے نفرت ہے، مجھے پاگل خانے کی غلامی بخش دو، میں ان سڑکوں کی آزادی نہیں چاہتا۔‘‘ 

سڑک خاموش ہے اور سنسان، بلند ٹہنیوں پر گدھ بیٹھے اونگھ رہے ہیں یہ دو فرلانگ لمبی سڑک۔۔۔ 

کرشن چندر

(1914-1977)

کرشن چندر وزیر آبا ضلع گوجرانوالہ (پنجاب) میں پیدا ہوئے ۔ ان کی ابتدائی تعلیم پونچھ (جموں وکشمیر ) میں ہوئی۔ 1930 کے بعد اعلی تعلیم کے لیے لاہور آگئے ۔ فورمین کر سچین کالج میں داخلہ لے لیا۔ 1934 میں پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی میں ایم ۔ اے کیا۔ اسی زمانے میں کرشن چندر کو آل انڈیا ریڈیو، لاہور میں ملازمت مل گئی۔ اس سلسلے میں انھوں نے کچھ وقت دہلی اور لکھنؤ میں بھی گزارا۔ اس کے بعد ان کا تعلق فلمی دنیا سے ہو گیا اور وہ اپنے آخری وقت تک ممبئی میں رہے۔ ممبئی ہی میں ان کا انتقال ہوا۔ پریم چند

کے بعد جن افسانہ نگاروں نے اردو افسانے کونئی بلندیوں تک پہنچایا، ان میں بیدی، منٹو، عصمت چغتائی اور کرشن چندر کے نام ممتاز ہیں ۔ ترقی پسند تحریک سے ان کا گہرا تعلق تھا۔ اس تعلق کا اثر ان کی کہانیوں اور ناولوں میں بہت نمایاں ہے۔

کرشن چندر نے ناول، افسانے ، ڈرامے، رپورتاژ اور مضامین لکھے ہیں لیکن ان کی بنیادی حیثیت افسانہ نگار کی ہے۔ ان کے افسانوی مجموعوں میں کشمیر کی کہانیاں ،طلسم خیال، زندگی کے موڑ پر، ان داتا، مہالکشمی کا پل، پشاور ایکسپر یس اور ناولوں میں ’’ شکست‘‘ ’’ جب کھیت جاگے، باون پتے‘اور’’ آسان روشن ہے‘ قابل ذکر ہیں۔ ان کی تحریروں کی مقبولیت کا اہم سبب ان کی رومانیت اور ان کا خوب صورت انداز بیان ہے۔ کرشن چندر نے بچوں کے لیے چڑیوں کی " الف لیلہ" اور "الٹا درخت‘‘ لکھا ہے۔ ان کی طنز یہ تحریروں میں" ایک گدھے کی سرگزشت" کو کافی مقبولیت حاصل ہوئی۔

خلاصہ:
دوفرلانگ لمبی سڑک، کرشن چندر کا طنز یہ افسانہ ہے۔ ایسی سڑک کسی بھی بڑے شہر میں ہوسکتی ہے۔ اور اس سڑک پر اور آس پاس وہی سب کچھ ہو سکتا ہے جو یہاں کرشن چندر نے پیش کیا ہے۔ یہ سڑک انگریزوں کے دور کی ہے۔ اور انگریز یہاں حکمراں ہیں۔ مصنف نے اپنی زبانی اس سڑک کی روداد پیش کی ہے کہ اسے ہر روز کبھی پیدل اور کبھی سائیکل پر اسی سڑک پر سے گزرنا ہوتا ہے۔ اس نے بہت کی سڑکیں دیکھی ہیں لیکن وہ اس سڑک کو اسی طرح جانتا ہے جتنا کسی گہرے دوست کو بھی نہیں جانتا۔ متواتر نوسال سے وہ ہر صبح اپنے گھر سے جو کچہری کے قریب ہے اپنے دفتر جو لاکالج کے پاس واقع ہے، پہنچتا ہے۔ کچہریوں سے لے کر لا کالج تک بس یہی کوئی دو فرلانگ لمبی سڑک ہے۔ اس نو سال میں مصنف نے ان گنت واقعات اور حادثات دیکھے مگر ان سب کا اس سڑک پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ اس سڑک کے دائیں بائیں بیسیوں گدا گر بیٹھے رہتے ہیں۔ اور صدائیں لگاتے رہتے ہیں۔ ہائے بابو! اندھے محتاج غریب فقیر پر ترس کھاؤ۔ کوئی انہیں پیسہ دیتا ہے اور کوئی گالیاں کبھی کوئی امیر اپنی فٹن میں بیٹھ کر گزرتا ہے اور کبھی کالج جانے والے کے۔ ایک بار ایک تانگے والا ایک گورے (انگریز)سے چھ آنے کرایے کے بجائے آٹھ آنے مانگتا ہے تو تا نگے والے کو بری طرح مارتا ہے۔ پولیس والا وہاں پہنچ کر کہتا ہے حرام زادے صاب بہادر سے معافی مانگو۔ اس واقعہ کے بعد سڑک سنسان ہوجاتی ہے۔ پھر شام ہوتے ہوتے لوگ اس پر سے گزرتے ہیں مختلف باتیں کرتے ہوئے کوئی جنگ کی بات کر رہا ہے کوئی اپنی بیوی کی بیماری کی۔ ان ہی میں سے کچھ لوگ پھٹی ہوئی دھوتیاں پہنے ہیں، ننگے پاؤں، تھکے ہوئے قدم ، مصنف انہیں دیکھتا ہے کہ یہ کیسے لوگ ہیں، یہ نہ تو آزادی چاہتے ہیں، نہ حر یت۔ یہ کیسی عجیب باتیں ہیں، پیٹ، بھوک، بیماری، پیسے... مصنف ایک اور منظر بیان کرتا ہے کہ اسکول کے چھوٹے چھوٹے بچے ڈیڑھ گھنٹے سے سڑک کے دونوں طرف قطار باندھے کھڑے ہیں کسی بڑے آدی کا انتظار کررہے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں چھوٹی چھوٹی جھنڈیاں ہیں جنہیں ہلا ہلا کر استقبال کرتا ہے۔ سڑک پر دھوپ گرمی ہے، اور بچے پیاس سے بے حال ہیں ، تھک گئے ہیں، دو گھنٹے بعد بڑا آدی سڑک سے گزر گیا۔لڑکوں کی جان میں جان آئی۔ سڑک خاموش تھی لیکن اب چہل پہل شروع ہوگئی ۔ خوا نچے والے صدائیں لگانے لگے۔ ریوڑیاں گرم گرم چنے حلوہ پوری ، نان کباب۔ سڑک کے کنارے ایک بوڑھا گداگر مرا پڑا ہے۔ اس کے پیلے دانت ہونٹوں کے اندر دھنس گئے ہیں۔ اس کی کھلی ہوئی بے نور آنکھیں آسمان کی طرف تک رہی ہیں۔ "خدا کیلئے مجھ غریب پرترس کر جاؤ رے بابا !" کوئی کسی پر ترس نہیں کرتا سڑک خاموش اور سنسان ہے۔ یہ سب کچھ دیکھتی ہے سنتی ہے مگر ٹس سے مس نہیں ہوتی ۔ انسان کے دل کی طرح ہے، بے رحم ، بے حس اور وحشی ہے۔ ایسے مناظر دیکھ کر مصنف پریشان ہو جاتا ہے اس کا جی چاہتا ہے کہ وہ چلا چلا کر کہے" میں انسان نہیں ہوں، میں پاگل ہوں، مجھے انسانوں سے نفرت ہے، مجھے پاگل خانے کی غلامی بخش دو، میں ان سڑکوں کی آزادی نہیں چاہتا

سوالوں کے جواب لکھیے:

1. تانگے والے کو گورے نے کیوں مارا؟
جواب: کرایہ طے کرنے میں گورے اور تانگے والے کے درمیان کہا سنی ہو گئی۔ تانگے والا آٹھ آنے مانگ رہا تھا جب کہ گورا چھ آنے سے زیادہ دینے کے لیے تیار نہ تھا۔ تانگے والے کو اپنی محکومی کا احساس تھا اور گورے کو اپنے حکمراں ہو نے کا گھمنڈ۔ تانگے والا بھی کم پیسے پر جانے کے لیے راضی نہ تھا ۔ اسی وجہ سے دونوں کے درمیان بات کہا سنی سے مارپیٹ تک پہنچ گئی اور گورے نے طاقت کے نشے میں تانگے والے کی پٹائی کردی۔ مارتے مارتے گورا اُس کے جسم پر بید کی چھڑی توڑ دیتا ہے یہاں تک کہ وہ پھر تانگے والے کے ہنٹر سے اُس کی پٹائی کرتا ہے ۔ تانگے والا صرف آنسو پونچھ کر رہ جاتا ہے اور لوگ تماشہ دیکھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔
2. بڑے آدمی کے استقبال کی افسانہ نگار نے کیا جھلک دکھائی ہے؟
جواب:افسانہ نگار کرشن چندر نے بڑے آدمی کے استقبال کا منظر بڑے دلچسپ انداز میں کھینچا ہے اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر توجہ دی ہے۔ وہ استقبال کا نقشہ کھینچتے ہوئے بتاتے ہیں کہ سڑک پر سُرخ فرش بچھا تھا۔ اسکولی بچّے دو رویہ کھڑے تھے۔ اُن کے ہاتھوں میں چھوٹی چھوٹی جھنڈیاں تھیں۔ بڑے آدمی کے آنے میں جیسے جیسے دیر ہو رہی تھی اُن کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔ بچّے پیاس سے نڈھال ہو رہے تھے لیکن اُن کے لیے پانی کا کوئی انتظام نہ تھا۔ دیر پر دیر ہوتی چلی جا رہی تھی لیکن بچّے بڑے آدمی کا انتظار کرنے کے لیے مجبور تھے۔ استادوں کو صرف اس بات کی فکر تھی کہ بڑے آدمی کا قافلہ خیر و خوبی سے گزر جائے۔استاد ان بچّوں کو بار بار اپنی جگہ کھڑے رہنے کے لیے کہہ رہے تھے۔ جب بڑے آدمی کی موٹروں کا قافلہ وہاں سے گزرا بچّوں نے جھنڈیاں ہلا کر قافلے کا استقبال کیا اور بے دلی سے دبی دبی زبان سے نعرے لگائے۔ قافلہ گزرنے کے بعد بچوں نے اپنی آزادی کا جشن منایا اور مارے خوشی کے جھنڈیاں توڑ ڈالیں۔
3. کہانی کے اُس منظر کا بیان کیجیے جس میں آپ کو سب سے زیادہ متاثر کیا۔
جواب: اس افسانے کا وہ منظر جس میں افسانہ نگار نے ایک فقیر کی درد بھری فریاد اور بے رحم سماج کی نظروں کے سامنے اُس کی درد ناک موت کا نقشہ کھینچا ہے اس منظر نے   مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا۔ اس بوڑھے گداگر کی بے نور آنکھیں جیسے لوگوں سے فریاد کر رہی ہوتی ہیں کہ ”خدا کے لیے مجھ غریب پر ترس کر جاؤ رے بابا“ لیکن لوگ گزرتے جاتے ہیں اور کوئی وہاں رکنا گوارا نہیں کرتا۔ افسانہ نگار نے یہاں بے رحم سماج کی بے حسی اور سنگدلی کا نقشہ کھینچا ہے۔
4. سڑک کے کسی ایسے منظر کا بیان کیجیے جو عام طور پر سڑکوں پر دیکھنے کو ملتا ہے لیکن اس کہانی میں اُس کا ذکر نہیں ہے۔
جواب: سڑک پر لوگوں کا ہجوم تھا۔ کاندھے سے کاندھا چھل رہا تھا۔ سڑک کے دونوں جانب مختلف سامانوں کی ریڑیاں لگی تھیں۔ عورتیں دوکانداروں سے بحث میں مصروف تھیں اچانک ایک عورت چلّا اُٹھتی ہے ”ارے میرا پرس۔ کسی نے میرے سارے پیسے نکال لیے۔ اُف اب میں کیا کروں۔“ وہ رونے لگتی ہے۔آس پاس کی عورتیں اسے ہمدردی سے دیکھنے لگتی ہیں ۔کچھ اسے دلاسا دیتی ہیں۔ لیکن اب کچھ نہیں ہوسکتا۔ وہ عورت سامان دوکاندار کے پاس ہی چھوڑ دیتی ہے اور آداس گھر جانے کے لیے رکشے پر بیٹھ جاتی ہے۔
(نوٹ: یہ صرف ایک واقعہ ہے جو آپ کو صرف یہ بتانے کے لیے لکھا گیا ہے کہ آپ کو جواب کس طرح لکھنا ہے۔ امتحانات میں اسے نقل نہ کریں ۔ اس طرح کے درجنوں واقعات آپ نے بازار میں دیکھے ہونگے اُنہیں اپنی زبان میں لکھیں اور آئینہ کے کمینٹ باکس میں ہمیں بھیجیں۔ ہم اُن کے نوک پلک سنوار کر  اس صفحہ پر آپ کے اور آپ کے اسکول کے نام کے ساتھ شائع کریں گے۔)

0 comments:

Post a comment

خوش خبری