آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Saturday, 5 September 2020

Karbalai Mushaira By Dilawar Figar

کربلائی مشاعرہ

دلاورفگار

(یو پی کے ایک شہر میں محرم کے ماہ میں سخت گرمی کے موسم میں ایک مشاعرہ منعقد ہوا تھا۔ جس میں شعرا کو پانی سے بھی محروم کر دیا گیا تھا۔ اس جشن تشنہ لبی میں شعرا کی جو حالت ہوئی تھی وہ اس نظم میں بیان کی گئی ہے۔ )

کل ایک مشاعرہ میں غضب ہو گیا فگارؔ
ہم اس مشاعرہ کو نہ بھولیں گے زینہار

وہ شخص جس کے ذمہ تھا محفل کا انتظام
کرتا تھا دل سے ماہ محرّم کا احترام

محفل سخن تھی محرّم کے ماہ میں
فنکار چل دئیے تھے ”شہادت“ کی راہ میں

زندہ رہیں گے حشر تک ان شاعروں کے نام
جو اس مشاعرہ میں سنانے گئے کلام

بیکلؔ کو بیکلی تھی تبسمؔ نڈھال تھے
گلزارِؔ نیم جاں بھی قریبِ وصال تھے

صدرِ مشاعرہ کہ جنابِ خمارؔ تھے
بےکس تھے بے وطن تھے غریب الدیار تھے

ماہرؔ تھے بیقرار تو احقرؔ تھے بدحواس
کوثرؔ پکارتے تھے کہ پانی کا اِک گلاس

شوقؔ و نشورؔ و ساحرؔ و شاعر فگارؔ و رازؔ
اِک مقبرہ میں دفن تھے جملہ شہیدِ ناز

ایسا بھی ایک وقت نظر سے گزر گیا
جب صابریؔ کے صبر کا پیما نہ بھر گیا

یہ میہماں تھے اور کوئی میزباں نہ تھا
ان ”آل انڈیوں“ کا کوئی قدرداں نہ تھا

گرمی سے دل گرفتہ نہ تھا صرف اِک امیرؔ
کتنے ہی شاعروں کا وہاں اٹھ گیا خمیر

رو رو کے کہہ رہا تھا اِک استادِ دھام پور
مارا دیارِغیر میں مجھ کو وطن سے دور

القصّہ شاعروں کی وہ مٹی ہوئی پلید
شاعر سمجھ رہے تھے کہ ہم اب ہوئے شہید

وہ شاعروں کا جمِّ غفیر ایک ہال میں
دم توڑتے ہوں جیسے مریض اسپتال میں

وہ تشنگی، وہ حبس، وہ گرمی کہ الاماں!
”منہ سے نکل پڑی تھی ایک استاد کی زباں“

شاعر تھے بند ایک سنیما کے ہال میں
پنچھی پھنسے ہوئے تھے شکاری کے جال میں

وہ پیاس تھی کہ جامِ قضا مانگتے تھے لوگ
وہ حبس تھا کہ لو کی دعامانگتے تھے لوگ

موسم کچھ ایسا گرم کچھ اتنا خراب تھا
شاعر جو بزمِ شعر میں آیا کباب تھا

بزمِ سخن کی رات قیامت کی رات تھی
ہم شاعروں کے حق میں شہادت کی رات تھی

کچھ اہلِ ذوق لائے تھے ساتھ اپنے تولیا
ننگے بدن ہی بیٹھے تھے کچھ پیر و اولیا

پاجامہ و قمیض نہ آیا بدن کو راس
بیٹھے تھے لوگ پہنے ہوئے قدرتی لباس

کیسے کہوں وہ اہلِ ادب بیوقوف تھے
اتنا ضرور ہے کہ وہ موسم پروف تھے

گرمی سے مضطرب تھے یہ شاعر یہ سامعین
کہتے تھے  ہم یہ رحم کر اے رب العالمین

یہ آخری گناہ تو ہو جائے در گزر!
اَب ہم مشاعرے میں نہ جائیں گے بھول کر

کچھ لوگ کہہ رہے تھے کہ کوفہ تھا وہ مقام
شاعر جہاں بلائے گئے ہیں بہ انتظام

تھے بانیانِ بزم کئی شمر اور یزید
کہتے تھے شاعروں کو سزا دوبہت شدید

سامع تلک پئیں تو منع تم نہ کیجیو
ہاں‘ شاعروں کی قوم کو پانی نہ دیجیو

یہ ہوش کس کو تھا کہ وہاں کس نے کیا کہا
سب کو یہ فکر کہ ملے جلد ”خوں بہا“

حالانکہ جان بچنے کی صورت نہ تھی کوئی
حکمِ خدا کہ اپنی قضا ملتوی ہوئی

ہم کو یقین آہی گیا اس جفا کے بعد
فنکار زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

0 comments:

Post a comment

خوش خبری