آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Friday, 18 September 2020

Mohammad Mujeeb

 پروفیسر محمد مجیب


(1902-1985)

محمد مجیب لکھنو میں پیدا ہوئے ۔ ان کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی ۔ 1918 میں سینیر کیمبرج کا امتحان پاس کیا۔ 1919 میں وکالت کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے انگلینڈ گئے۔ 1922 میں بی ۔ اے آنرس پاس کیا۔ لندن میں انھوں نے فرانسیسی اور لاطینی یھی۔ وہاں سے برلن گئے اور چینی زبان میں بھی کمال حاصل کیا۔
وطن واپسی کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ میں استاد مقرر ہوئے ۔ 1948 میں انھوں نے شیخ الجامعہ کی نئے داری سنبھالی اور ای عہدے سے سبکدوش ہوئے۔
نھیں کتب بینی، فن تعمیر ، سنگ تراشی، مجسمہ سازی، مصوری ، موسیقی اور باغبانی سے دی تھی ۔ علمی میدان میں تاریخ نگاری ان کا پسندیدہ موضوع تھا۔ دنیا کی کہانی (1931)، تار فلسفه سیاست (1936)، تاریخ تمدن ہند (1957) اور روی ادب کی تاریخ دو جلدیں (1960) ان کی مشہور تصانیف ہیں۔ پروفیسر مجیب کو ادب سے بھی گہری دی تھی۔ انھوں نے ڈرامے پر خصوصی توجہ دی اور آٹھ ڈرامے لکھے۔ ان میں سے کیت، انجام ، خانہ جنگی اور آزمائش جامعات کے نصاب میں شامل رہے ہیں ۔ بچوں کے لیے ایک ڈراما ” أو ڈراما کر میں بھی لکھا۔ انھوں نے افسانے بھی لکھے جن میں کیمیاگر، باغی، چراغ راه ، اند میرا اور تھر مقبول ہوئے۔ وہ ایک کامیاب مترجم بھی تھے۔ ان کی قومی، علمی اور ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت ہند نے انھیں پدم بھوشن کا خطاب دیا۔

0 comments:

Post a comment

خوش خبری