آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Friday, 18 September 2020

Nazeer Akbarabadi

 نظیر اکبر آبادی

(1740-1830)

نظیر اکبر آبادی کا پورا نام ولی محمد تھا۔ وہ دہلی میں پیدا ہوئے۔ اپنے خاندان کے ساتھ آگرے میں آ کر بس گئے۔ نظیر عوامی شاعر تھے۔ ان کی شاعری میں ہندوستانی ماحول کی عکّاسی کی گئی ہے۔ انھوں نے یہاں کے موسموں، میلوں، تہواروں اور انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر بہت سی نظمیں لکھی ہیں ۔ سامنے کے موضوعات کو سیدھی سادی زبان میں بیان کرنا نظیر کی بہت بڑی خوبی ہے۔ ان کے پاس الفاظ کا غیر معمولی ذخیرہ تھا۔ وہ موقعے اور موضوع کے اعتبار سے مناسب الفاظ کا استعمال کرتے ہیں ۔ ان کے کلام میں تاثیر بہت ہے۔
’روٹیاں‘، ’بنجارا نامہ‘،’ مفلسی‘، ’ہولی‘،’ آدمی نامہ‘ اور ’کرشن کنہیا کا بال پن‘ وغیرہ ان کی مشہور نظمیں ہیں۔ اسی طرح ہنددستان کے مختلف موسموں، پھلوں اور شخصیتوں پر نظیر کی نظمیں بھی اپنی خاص پہچان رکھتی ہیں۔ وہ اردو کے معروف شاعر تھے۔

0 comments:

Post a comment

خوش خبری