آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Friday, 9 October 2020

Chaar Bahre

 چار بہرے
(ایک دلچسپ کہانی)
ایک بہرے آدمی کے پاس بکریوں کا ایک ریوڑ تھا۔ ایک دن اسے جنگل میں چرا نے کے لئے گیا۔ ان میں سے چند بکریاں گم ہو گئیں جن میں ایک لنگڑی بکری بھی تھی۔ بہرا ان کی تلاش میں نکلا ۔کچھ دور جا کر  اس نے ایک درخت کے نیچے ایک آدمی کو بیٹھے دیکھا۔ اس کے پاس جاکر پوچھا ”میری چند بکریاں گم ہو گئی ہیں کیا تم نے کہیں دیکھی ہے ۔“وہ آدمی بھی بہرا تھا۔ اس نے سمجھا مسافر ہے، راستہ بھول گیا ہے، اس لئے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اس راستہ پر چلے جاؤ ۔گڈریئے نے خیال کیا کہ میری بکریاں اسی راستے سے گئی ہیں ۔دل میں کہنے  لگا اگر مل گئیں تو اس میں سے لنگڑی بکری ضرور اس آدمی کو دے دوں گا۔ اتفاق سے تھوڑی دور جاکر اسے اپنی تمام بکریاں مل گئیں ۔بہت خوش ہوا اور  لنگڑی بکری لے کر بطور انعام دینے کے لئے اس آدمی کے پاس آیا ۔جب گڈریا نے لنگڑی بکری کو بہرے کے سامنے پیش کر کے کہا ”لو یہ میں تمہیں دیتا ہوں۔“ تو اس نے کہا ”میں نے تیری بکری کی ٹانگ نہیں توڑی ہے۔ تو جھوٹ بولتا ہے۔مجھ پر غلط الزام لگا تا ہے۔“ دونوں بہرے اپنی اپنی کہے جا رہے تھے کہ ایک طرف سے ایک سوار آگیا۔ یہ دونوں اس کے پاس گئے اور گھوڑی کی لگام پکڑ کر اپنا معاملہ بیان کرنے لگے۔ اتفاق سے یہ بھی بہرا تھا ۔اس نے یہ سمجھا یہ دونوں میری گھوڑی کو لینے کا دعویٰ کر رہےہیں۔ گھبرا کر بولاچھوڑو  لگام گھوڑی تو میری ہے، اس کا بچہ میرے گھر پر ہے میں نے اس کو سو روپے دے کر لیا ہے۔ میرے بہت سے گواہ ہیں۔ تینوں دیر تک اپنی اپنی کہتے رہے جب پریشان ہو گئے تو فیصلہ ہوا کہ قاضی کے پاس چلو، قاضی کی بیوی قاضی سے ناراض ہو کر اپنے میکے چلی گئی تھی۔ تینوں آدمیوں نے پہنچ کر قاضی سے اپنا اپنا حال بیان  کر نا شروع کیا مگر قاضی جی بھی بہت اونچا سنتے تھے۔ انہوں نے سمجھا کہ میری بیوی کے میکے کی طرف سے یہ لوگ سفارش لے کر آئے ہیں ،اس لئے انہوں نے کہنا شروع کیا ”میں اس عورت کو ہرگز نہیں رکھوں گا سر سے پاؤں تک سو نے کی بنا کر لاؤ تب بھی قبول نہیں کروں گا۔طلاق طلاق طلاق۔ تین دفعہ طلاق۔“اور ڈانٹ کر کہا ”چلے جاؤ یہاں سےورنہ ابھی بلاتا ہوں پولیس کو۔“ قاضی کی ڈانٹ سنکر تینوں ڈر گئے اور پریشان ہوکر اپنے اپنے گھر چلے گئے۔(ازعبدالسبحان)

0 comments:

Post a comment

خوش خبری