آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Saturday, 10 October 2020

Do Bail By Munshi Prem Chand

دو بیل
منشی پریم چند
جانور وں میں گدھا سب سے بیوقوف سمجھا جاتاہے۔ جب ہم کسی شخص کوپرلے درجہ کا احمق کہنا چاہتے ہیں تو اسے گدھا کہتے ہیں۔ گدھاواقعی بیوقوف ہے۔ یا اس کی سادہ لوحی اور انتہا درجہ کی قوتِ برداشت نے اسے یہ خطاب دلوایا ہے۔ اس کا تصفیہ نہیں ہوسکتا۔ 

گائے شریف جانور ہے۔ مگر سینگ مارتی ہے۔ کتّا بھی غریب جانور ہے لیکن کبھی کبھی اسے غصّہ بھی آجاتا ہے۔ مگر گدھے کو کبھی غصّہ نہیں آتا جتنا جی چاہے مارلو۔چاہے جیسی خراب سڑی ہوئی گھاس سامنے ڈال دو۔ اس کے چہرے پر ناراضگی کے اثار کبھی نظر نہ آئیں گے۔ اپریل میں شاید کبھی کلیل کرلیتا ہو۔ پر ہم نے اسے کبھی خوش ہوتے نہیں دیکھا۔ اس کے چہرے پر ایک مستقل مایوسی چھائی رہتی ہے سکھ دکھ،نفع نقصان سے کبھی اسے شاد ہوتے نہیں دیکھا۔ رشی منیوں کی جس قدر خوبیاں ہیں۔ سب اس میں بدرجہ اتم موجود ہیں لیکن آدمی اسے بیوقوف کہتاہے۔ اعلیٰ خصلتوں کی ایسی توہین ہم نے اور کہیں نہیں دیکھی۔ممکن ہے دنیا میں سیدھے پن کے لیے جگہ نہ ہو۔ 

لیکن گدھے کا ایک بھائی اور بھی ہے۔ جو اس سے کچھ کم ہی گدھا ہے اور وہ ہے بیل، جن معنوں میں ہم گدھے کا لفظ استعمال کرتے ہیں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں۔ جو بیل کو بیوقوفوں کا سردار کہنے کو تیار ہیں۔ مگر ہمارا خیال ایسا نہیں۔بیل کبھی کبھی مارتا۔ کبھی کبھی اڑیل بیل بھی دیکھنے میں آتے ہیں۔ اور کبھی کئی طریقوں سے وہ اپنی ناپسندیدگی اور ناراضگی کا اظہار کردیتا ہے۔ لہذٰ اس کا درجہ گدھے سے نیچے ہے۔ 

جھوری کاچھی کے پاس دو بیل تھے۔ ایک کا نام ہیرا تھا دوسرے کا موتی۔دونوں پچھائیں نسل کے تھے۔ دیکھنے میں خوبصورت کام میں چوکس ڈیل ڈول میں اونچے۔ بہت دنوں سے ایک ساتھ رہتے رہتے دونوں میں محبت سی ہوگئی۔ دونوں آمنے سامنے یا ایک دوسرے کے پاس بیٹھے زبانِ خاموش میں ایک دوسرے سے بات چیت کرتے تھے وہ ایک دوسرے کے دل کی بات کیوں کر سمجھ جاتے تھے۔ یہ ہم نہیں کہہ سکتے۔ضروران میں کوئی نہ کوئی ناقابلِ فہم قوت تھی۔ جس کے سمجھنے سے اشرف المخلوقات ہونے کا مدعی انسان محروم ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو چاٹ کر اور سونگھ کر اپنی محبت کا اظہار کرتے تھے۔ کبھی دونوں سینگ ملالیا کرتے تھے۔ عناد سے نہیں محض زندہ دلی سے محض ہنسی مذاق سے جیسے یار دوستوں میں کبھی کبھی دھول دھپّا ہو جاتا ہے۔ اس کے بغیر دوستی کچھ پھیکی اور ہلکی سی رہتی ہے۔ جس پر زیادہ اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ 

جس وقت یہ دونوں بیل ہل یا گاڑی میں جوتے جاتے اور گردنیں ہلاہلا کر چلتے تو ہر ایک کی یہی کوشش ہوتی تھی کہ زیادہ بوجھ میر ی ہی گردن پر رہے۔ کام کے بعد دوپہر یا شام کو کھلتے، تو ایک دوسرے کو چوم چاٹ کر اپنی تھکان اتار لیتے ۔ ناند میں کھلی بھوسا پڑجانے کے بعد دونوں ایک ساتھ اٹھتے۔ ایک ساتھ ناند میں منہ ڈالتے اور ایک ہی ساتھ بیٹھتے ایک منہ ہٹا لیتا تو دوسرا بھی ہٹا لیتا تھا۔ 

ایک مرتبہ جھوری نے دونوں بیل چند دنوں کے لیے اپنے سسرال بھیجے، بیلوں کو کیا معلوم وہ کیوں بھیجے جاتے ہیں۔ سمجھے مالک نے ہمیں بیچ دیا کون جانے بیلوں کو اپنا بیچا جانا پسندآیا یا نہیں۔ لیکن جھوری کے سالے کو انھیں اپنےگاؤں تک لے جانے میں دانتوں پسینہ آگیا۔ پیچھے سے ہانکتا تو دونوں دائیں بائیں بھاگتے۔ آگے سے پکڑکر کھینچتا تو دونوں پیچھے کو زور لگاتے۔مارتا تو دونوں سینگ نیچے کرکے پھنکارتے۔ اگر ان بے زبانوں کے زبان ہوتی تو جھوری سے پوچھتے تم نے ہم غریبوں کو کیوں نکال دیا۔ ہم نے تمھاری خدمت کرنے میں کبھی کوتاہی نہیں کی۔ اگر اتنی محنت سے کام نہ چلتا تھا ۔ تو اور کام لے لیتے۔ ہم کو انکار نہ تھا۔ ہمیں تمھاری خدمت میں مرجانا قبول تھا۔ ہم نے کبھی دانے چارے کی شکایت نہیں کی۔ تم نے جو کچھ کھلایا سر جھکا کر کھالیا۔ پھر تم نے ہمیں اس ظالم کے ہاتھ کیوں بیچ دیا؟ 

شام کے وقت دونوں بیل گیاکےگاؤںمیں جا پہنچے دن بھر بھوکے تھے۔ لیکن جب ناند میں لگائے تو کسی نے بھی اس میں منہ نہ ڈالا۔ دونوں کا دل بھاری ہورہا تھا۔جسے انھوں نے اپنا گھر سمجھا تھا وہ آج ان سے چھوٹ گیا یہ نیا گھر نیاگاؤں نئے آدمی سب انھیں بے گانے لگتے تھے۔ دونوں نے چپ کی زبان میں کچھ باتیں کیں۔ ایک دوسرے کو کنکھیوں سے دیکھا اورلیٹ گئے۔ 

جب گاؤںمیں سوتا پڑگیا تو دونوں نے زور مار کر پگہتے تڑالیے اور گھر کی طرف چلے۔ پگہے مضبوط تھے کسی کو شبہہ بھی نہ ہوسکتا تھا کہ بیل انھیں توڑ سکیں گے پر ان دونوں میں اس وقت دگنی طاقت آگئی تھی۔ ایک جھٹکے میں رسیاں ٹوٹ گئیں۔ 

جھوری نے صبح اٹھ کردیکھاکہ دونوں بیل چرنی پر کھڑے تھے دونوں کی گردنوں میں آدھا آدھارسّہ لٹک رہا تھا۔ گھٹنوں تک پاؤں کیچڑ میں بھرے ہوئے تھے اور دونوں کی آنکھوں میں محبت اور ناراضگی جھلک رہی تھی۔جھوری ان کو دیکھ کر محبت سے باؤ لا ہوگیا۔ اور دوڑکر ان کے گلے سے لپٹ گیا انسان اور حیوان کی محبت کا یہ منظر نہایت دلکش تھا۔ 

گھر اورگاؤں کے لڑکے جمع ہوگئے اور تالیاںبجا بجا کران کا خیر مقدم کرنے لگے۔گاؤںکی تاریخ میں یہ واقعہ اپنی قسم کا پہلا نہ تھا۔ مگر اہم ضرور تھا۔ بال سبھا نے فیصلہ کیا کہ ان دونوں بہادروں کا ایڈریس دیا جائے۔ کوئی اپنے گھر سے روٹیاں لایا۔ کوئی گُڑ چوکر، کوئی بھوسی۔ 

ایک لڑکے نے کہا، ’’ایسے بیل اور کسی کے پاس نہ ہوں گے۔‘‘ 

دوسرے نے تائید کی، ’’اتنی دور سے دونوں اکیلے چلے آئے۔‘‘ 

تیسرا بولا، ’’پچھلے جنم میں ضرور آدمی ہوں گے۔‘‘ 

اس کی تردید کرنے کی کسی میں جرأت نہ تھی۔ سب نے کہا، ’’ہاں بھائی ضرور ہوں گے۔‘‘ 

جھوری کی بیوی نے بیلوں کودروازہ پر دیکھا تو جل اٹھی اور بولی، ’’کیسے نمک حرام بیل ہیں ایک دن بھی وہاں کام نہ کیا۔ اور بھاک کھڑے ہوئے۔‘‘ 

جھوری اپنے بیلوں پر یہ الزام برداشت نہ کرسکا۔ بولا، ’’نمک حرام کیوں ہیں۔ چارہ دانہ نہ دیا ہوگا کیا کرتے؟‘‘ 

عورت نے تنگ آکر کہا،’’بس تم ہی بیلوں کو کھلانا جانتے ہو اور تو سبھی پانی پلا پلا کر رکھتے ہیں۔‘‘ 

جھوری نے چڑھا یا، ’’چارہ ملتا ‘ تو کیوں بھاگتے؟‘‘ 

عورت چڑھی، ’’بھاگے اس لیے کہ وہ لوگ تم جیسے بدھوؤں کی طرح بیلوں کو سہلاتے نہیں کھلاتے ہیں، تو، توڑ کر جوتتے بھی ہیں، یہ دونوں ٹھہرے کام چور بھاگ نکلے۔ اب دیکھتی ہوں کہاں سے کھلی اور چوکر آتا ہے خشک بھوسے کے سوا کچھ نہ دوں گی کھائیں چاہے مریں۔‘‘ 

وہی ہوا مزدور کو تاکید کردی گئی کہ بیلوں کوصرف خشک بھوسا دیا جائے، بیلوں نے ناند میں منہ ڈالا تو پھیکا پھیکا، نہ چکناہٹ نہ رس کیا کھائیں؟ پر امید نگاہوں سے دروازے کی طرف دیکھنے لگے۔ 

جھوری نے مزدور سے کہا، ’’تھوڑی سی کھلی کیوں نہیں ڈال دیتا ہے؟‘‘ 

مزدور؛ ’’مالکن مجھے مارہی ڈالے گی۔‘‘ 

جھوری؛ ’’ڈال دے تھوڑی سی۔‘‘ 

مزدور؛ ’’نہ دادا۔ بعد میں تم بھی انھیں کی سی کہو گے۔‘‘ 

دوسرے دن جھوری کا سالا پھر آیا اور بیلوں کو لے چلا۔ اب کے اس نے دونوں کو گاڑی میں جوتا۔ دوچار مرتبہ موتی نے گاڑی کو کھائی میں گرانا چاہا مگر ہیرا نے سنبھال لیا۔اس وقت دونوں میں قوتِ برداشت زیادہ تھی۔ شام کے وقت گھر پہنچ کر گیا نے دونوں کو موٹی رسیوں سے باندھا اور کل کی شرارت کا مزہ چکھایا پھر وہی خشک بھوسہ ڈال دیا۔ اپنے بیلوں کو کھلی چونی سب کچھ کھلایا۔ 

ہیرا اور موتی اس برتاؤ کے عادی نہ تھے۔جھوری انھیں پھول کی چھڑی سے بھی نہ مارتا تھااس کی آواز پر دونوں اڑنے لگتے تھے۔ یہاں مار پڑی اس پر خشک بھوسہ۔ ناند کی طرف آنکھ بھی نہ اٹھائی۔ 

دوسرے دن گیا نے بیلوں کو ہل میں جوتا پران دونوں نے جیسے پاؤ ں اٹھانے کی قسم کھالی تھی۔ وہ مارتے مارے تھک گیا۔ مگر انھوں نے قدم نہ اٹھایا۔ ایک مرتبہ جب اس ظالم نے ہیرا کی ناک پر ڈنڈا جمایا تو موتی غصّہ کے مارے آپے سے باہرہوگیا۔ ہل لے بھاگا، ہل رسی اور جواجوت سب ٹوٹ کر برا بر ہوگئے۔ گلے میں بڑی بڑی رسیاں نہ ہوتیں ، تو دونوں نکل گئے تھے۔ ہیرا نے زبان خاموش سے کہا، ’’بھاگنا مشکل ہے۔‘‘ 

موتی نے بھی نگاہوں سے جواب دیا، ’’تمھاری تو اس نے جان لے لی تھی۔اب کے بڑی مار پڑے گی۔‘‘ 

ہیرا؛ ’’پڑنے دو۔ بیل کا جنم لیا ہے تو مار سے کہاں بچیں گے۔‘‘ 

گیا دو آدمیوں کے ساتھ دوڑا آرہا ہے۔ دونوں کے ہاتھوں میں لاٹھیاں ہیں۔ 

موتی؛ ’’کہو تو میں بھی دکھادوں کچھ مزا؟ 

ہیرا، ’’نہیں بھائی کھڑے ہوجاؤ۔‘‘ 

موتی، ’’مجھے مارے گا، تو میں ایک آدھ کو گرادوں گا۔‘‘ 

ہیرا، ’’یہ ہمارا دھرم نہیں ہے۔‘‘ 

موتی دل میں اینٹھ کر رہ گیا۔ اتنے میں گیا آپہنچا اور دونوں کو پکڑکر لے چلا۔خیریت ہوئی کہ اس نے اس وقت مارپیٹ نہ کی۔ نہیں تو موتی بھی تیار تھا۔ اس کے تیور دیکھ کر سہم گیا اور اس کے ساتھی سمجھ گئے کہ اس وقت ٹال جانا ہی مصلحت ہے۔ 

آج دونوں کے سامنے پھر وہی خشک بھوسا لایا گیا۔ دونوں چپ چاپ کھڑے رہے۔ گھر کے لوگ کھانا کھانے لگے۔ اسی وقت ایک چھوٹی سی لڑکی دو روٹیاں لیے نکلی اور دونوں کے منہ میں دے کر چلی گئی۔ اس ایک ایک روٹی سے ان کی بھوک تو کیا مٹتی مگر دونوں کے دل کو کھانا مل گیا۔ معلوم ہوا۔ یہاں بھی کوئی صاحب دل رہتا ہے یہ لڑکی گیا کی تھی اس کی ماں مر چکی تھی۔ سوتیلی ماں اسے مارتی تھی اس لیے ان بیلوں سے اسے ہمدردی تھی۔ 

دونوں دن بھر جوتے جاتے۔ اڑتے ، ڈنڈے کھاتے۔شام کو تھان پر باندھ دیے جاتے اوررات کو وہی لڑکی انھیں ایک ایک روٹی دے جاتی۔ محبت کے اس کھانے کی یہ برکت تھی، کہ دوچار خشک بھوسے کے لقمے کھاکر بھی دونوں کمزور نہ ہوتے تھے۔ دونوں کی آنکھوں کی نس نس میں سرکشی بھری تھی۔ 

ایک دن چپ کی زبان میں موتی نے کہا، ’’اب تو نہیں سہا جاتا ہیرا۔‘‘ 

ہیرا؛ ’’کیاکرنا چاہیے؟‘‘ 

موتی؛ ’’گیا کو سینگ پر اٹھاکر پھینک دوں؟‘‘ 

ہیرا؛ ’’مگر وہ لڑکی اس کی بیٹی ہے اسے مار کر گراؤ گے تووہ یتیم ہوجائے گی۔‘‘ 

موتی؛ ’’تومالکن کو پھینک دوں، وہ لڑکی کو ہر روز مارتی ہے۔‘‘ 

ہیرا؛ ’’عورت کو ماروگے بڑے بہادر ہو۔‘‘ 

موتی؛ ’’تم کسی طرح نکلنے ہی نہیں دیتے تو آؤآج رسّا تڑاکر بھاگ چلیں۔‘‘ 

ہیرا؛ ’’ہاں یہ ٹھیک ہے لیکن ایسی موٹی رسّی ٹوٹے گی کیونکر۔‘‘ 

موتی ؛ ’’پہلے رسّی کو چبالو پھر جھٹکا دے کر تڑالو۔‘‘ 

رات کو جب لڑکی روٹیاں دے کر چلی گئی۔ دونوں رسّیاں چبانے لگے۔ پرموٹی رسّی منہ میں نہ آتی تھی۔ بچارے بار بار زور لگاکر رہ جاتے۔ 

معاًگھر کا دروازہ کھلا اور وہی لڑکی نکلی دونوں سر جھکا کر اس کے ہاتھ چاٹنے لگے۔ دونوں کی دُمیں کھڑی ہوگئیں۔ اس نے ان کی پیشانی سہلائی اور بولی، ’’کھول دیتی ہوں۔ بھاگ جاؤ۔ نہیں تو یہ لوگ تمھیں مارڈالیں گے۔آج گھر میں مشہور ہورہا ہے کہ تمھاری ناک میں ناتھ ڈال دی جائیں۔‘‘ 

اس نے دونوں کے رسّے کھول دیے، پر دونوں چپ چاپ کھڑے رہے۔ 

موتی نے اپنی زبان میں پوچھا، ’’اب چلتے کیوں نہیں؟‘‘ 

ہیرا نے جواب دیا، ’’اس غریب پر آفت آجائے گی۔ سب اسی پر شبہہ کریں گے۔‘‘ 

یکایک لڑکی چلّائی او دادا۔اودادا۔دونوں پھوپھاوالے بیل بھاگے جارہے ہیں۔ دوڑو۔ دونوں بیل بھاگے جارہے ہیں۔‘‘ 

گیا گھبرا کر باہر نکلا اور بیلوں کو پکڑنے چلا۔ بیل بھاگے گیا نے پیچھا کیا وہ اور بھی تیز ہوگئے۔ گیا نے شور مچایا پھرگاؤں کے کچھ اور آدمیوں کو ساتھ لانے کے لیے لوٹا۔ دونوں بیلوں کو بھاگنے کاموقع مل گیا۔ سیدھے دوڑے چلے گئے یہاں تک کہ راستہ کا خیال نہ رہا۔ جس راہ سے یہاں آئے تھے اس کا پتہ نہ تھا نئے نئےگاؤں ملنے لگے۔ تب دونوں ایک کھیت کے کنارے کھڑے ہوکر سوچنے لگے۔ کہ اب کیا کرنا چاہیے؟ 

ہیرا نے اپنی زبان میں کہا، ’’معلوم ہوتا ہے راستہ بھول گئے۔‘‘ 

موتی؛ ’’تم بھی بے تحاشا بھاگے وہیں اسے مار گراتے۔‘‘ 

ہیرا؛ ’’اسے مارگراتے تو دنیا کیا کہتی وہ اپنا دھرم چھوڑدے لیکن ہم اپنا دھرم کیونکر چھوڑدیں۔‘‘ 

دونوں بھوک سے بے حال ہورہے تھے۔ کھیت میں مٹر کھڑی تھی چرنے لگے۔رہ رہ کر آہٹ لے رہے تھے کہ کوئی آ تو نہیں رہا۔ جب پیٹ بھر گیا اور دونوں کو آزادی کا احساس ہوا تو اچھلنے کودنے لگے۔ پہلے ڈکار لی پھر سینگ ملائے اور ایک دوسرے کو دھکیلنے لگے۔ موتی نے ہیرا کو کئی قدم پیچھے ہٹادیا۔ یہاں تک کہ وہ ایک کھائی میں گر گیا۔تب اسے بھی غصّہ آیا سنبھل کر اٹھا اور پھر موتی سے لڑنے لگا۔ موتی نے دیکھا کہ کھیل میں جھگڑا ہو اچاہتا ہے تو ایک طرف ہٹ گیا۔ 

ارے یہ کیا کوئی سانڈڈونکتا چلا آتا ہے۔ ہاں سانڈہی تو ہے وہ سامنے آپہنچا دونوں دوست تذبذب میں پڑگئے۔ سانڈ بھی پورا ہاتھی۔ اس سے لڑنا جان سے ہاتھ دھونا تھا لیکن نہ لڑنے سے بھی جان بچتی نظر نہ آتی تھی۔ انھیں کی طرف آرہا تھا کتنا جسیم تھا۔ 

موتی نے کہا، ’’بُرے پھسے جان کیسے بچے گی؟ کوئی طریقہ سوچو۔‘‘ 

ہیرا نے کہا، ’’غرور سے اندھا ہورہا ہے منّت سماجت کبھی نہ سنے گا۔‘‘ 

موتی؛ ’’بھاگ کیوں نہ چلیں؟‘‘ 

ہیرا؛ ’’بھاگنا پست ہمتی ہے۔‘‘ 

موتی؛ ’’تو تم یہیں مروبندہ نودوگیارہ ہوتا ہے۔‘‘ 

ہیرا؛ ’’اور جودوڑآئے تو پھر۔؟‘‘ 

موتی؛ ’’کوئی طریقہ بتاؤ۔ لیکن ذرا جلدی۔ وہ تو آپہنچا۔‘‘ 

ہیرا؛ ’’ طریقہ یہی ہے کہ ہم دونوں ایک ساتھ حملہ کردیں۔ میں آگے سے اس کو دھکیلوں تم پیچھے سے دھکیلو۔ دیکھتے دیکھتے بھاگ کھڑا ہوگا۔ جوں ہی مجھ پر حملہ کرے تم پیٹ میں سینگ چبھودینا۔ جان جوکھوں کا کام ہے۔ لیکن دوسرا کوئی طریقہ نہیں۔‘‘ 

دونوں دوست جان ہتھیلیوں پر لے کر آگے بڑھے سانڈ کو کبھی منظّم دشمن سے لڑنے کا اتفاق نہ ہوا تھا۔ وہ انفرادی جنگ کا عادی تھا جوں ہی ہیرا پرجھپٹتا موتی نے پیچھے سے ہلّہ بول دیا۔ سانڈ اس کی طرف مڑا تو ہیرا نے دھکیلنا شروع کیا۔ سانڈ چاہتا تھا ایک ایک کرکے دونوں کر گرالے۔ پھر یہ بھی استاد تھے اسے یہ موقعہ ہی نہ دیتے تھے۔ ایک مرتبہ سانڈ جھلّا کر ہیرا کو ہلاک کرنے چلا۔ تو موتی نے بغل سے آکر اس کے پیٹ میں سینگ رکھ دیے۔ بے چارہ زخمی ہوکر بھاگا اور دونوں فتحیاب دوستوں نے دور تک اس کا تعاقب کیا۔ یہاں تک کہ سانڈ بے دم ہوکر گر پڑا۔ تب دونوں نے اس کا پیچھا چھوڑدیا۔ 

دونوں بیل فتح کے نشہ میں جھومتے چلے جاتے تھے۔ موتی نے اپنے اشاروں کی زبان میں کہا، ’’میرا جی تو چاہتا تھا کہ ہتچہ جی کو مار ہی ڈالوں۔‘‘ 

ہیرا۔’’گرے ہوئے دشمن پر سینگ چلانا نا مناسب ہے۔‘‘ 

موتی؛ ’’یہ سب فضول ہے اگر اس کاداؤ چلتا تو کبھی نہ چھوڑتا۔‘‘ 

ہیرا؛ ’’اب کیسے گھر پہنچوگے؟یہ سوچو۔‘‘ 

موتی ؛ ’’پہلے کچھ کھالیں تو سوچیں ابھی عقل کام نہیں کرتی۔‘‘ 

یہ کہ کر موتی مڑکے کھیت میں گھس گیا ہیرا منع کرتا ہی رہ گیا لیکن اس نے ایک نہ سنی۔ابھی دو ہی چار منہ مارے تھے کہ دوآدمی لاٹھیاں لیے آگئے اور دونوں بیلوں کو گھیر لیا۔ ہیرا تو مینڈ پر تھا۔ نکل گیا موتی کھیت میں تھا۔ اس کے کُھر کیچڑ میں دھنسنے لگے نہ بھاگ سکا۔ پکڑا گیا۔ ہیرا نے دیکھا دوست تکلیف میں ہے تو لوٹ پڑا۔ پھنسیں گے، تو اکٹھے۔رکھوالوں نے اسے بھی پکڑ لیا۔ دوسرے دن دونوں دوست کانجی ہاؤس میں تھے۔ 

ان کی زندگی میں یہ پہلا موقعہ تھا کہ سارا دن گذرگیا اور کھانے کو ایک تنکا بھی نہ ملا۔ سمجھ میں نہ آتا تھا۔ یہ کیسا مالک ہے اس سے تو گیا ہی اچھا تھا۔ وہاں کئی بھینسیں تھیں، کئی بکریاں ، کئی گھوڑے، کئی گدھے چارہ کسی کے سامنے بھی نہ تھا۔ سب زمین پر مردے کی طرح پڑے تھے۔کئی تو اس قدر کمزور ہوگئے تھے کہ کھڑے بھی نہ ہوسکتے تھے۔ سارا دن دروازہ کی طرف دیکھتے رہے۔ مگر چارہ لے کر نہ آیا تب غریبوں نے دیوار کی نمکین مٹّی چاٹنی شروع کی مگر اس سے کیا تسکین ہوسکتی تھی؟ 

جب رات کو بھی کھانا نہ ملا، تو ہیرا کے دل میں سرکشی کے خیالات پیدا ہوئے۔ موتی سے بولا۔‘‘مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جان نکل رہی ہے۔‘‘ 

موتی۔’’اتنی جلدی ہمت نہ ہار و بھائی۔ یہاں سے بھاگنے کا طریقہ سوچو۔‘‘ 

ہیرا؛ ’’آؤ دیوار توڑڈالیں۔‘‘ 

موتی؛ ’’مجھ سے تو اب کچھ نہ ہوگا۔‘‘ 

ہیرا؛ ’’بس اسی بوتے پر اکڑتے تھے۔‘‘ 

موتی؛ ’’ساری اکڑ نکل گئی بھائی۔‘‘ 

باڑے کی دیوار کچی تھی ہیرا نے اپنے نوکیلے سینگ دیوار میں گاڑ دیے اور زور سے مارا تو مٹّی کا ایک چیڑ نکل آیا۔ اس سے اس کا حوصلہ بڑھ گیا۔ اس نے دوڑ دوڑ کر دیوارسے ٹکّریں ماریں ہر ٹکّر میں تھوڑی تھوڑی مٹی گرنے لگی۔ 

اتنے میں کانجی ہاوس کا چوکیدار لالٹین لے کر جانوروں کی حاضری لینے آنکلا۔ ہیرا کی وحشت دیکھ کر اس نے اسے کئی ڈنڈے رسید کیے اور موٹی سی رسّی سے باندھ دیا۔ 

موتی نے پڑے پڑے اس کی طرف دیکھا گویا زبان ِ حال سے کہا آخر مارکھائی کیا ملا۔ 

ہیرا؛ ’’ زور توآزمالیا۔‘‘ 

موتی؛ ’’ایسا زور کس کام کا ۔اور بندھن میں پڑگئے۔‘‘ 

ہیرا ؛ ’’اس سے باز نہ آؤں گا۔ خواہ بندھن بڑھتے جائیں۔‘‘ 

موتی؛ ’’جان سے ہاتھ دھو بیٹھوگے۔‘‘ 

ہیرا۔’’اس کی مجھے پرواہ نہیں۔ یوں بھی مرناہے ذرا سوچو اگر دیوار گر جاتی، تو کتنی جانیں بچ جاتیں۔ اتنے بھائی یہاں بند ہیں کسی کے جسم میں جان بھی نہیں ۔ دوچار دن یہی حال رہا تو سب مرجائیں گے۔‘‘ 

موتی نے بھی دیوار میں اسی جگہ سینگ مارا۔تھوڑی سی مٹّی گری اور ہمّت بڑھی تودیوار میں سینگ لگا کر اس طرح زور کرنے لگا۔ جیسے کسی سے لڑ رہا ہو۔ آخر کوئی دو گھنٹہ کی زور آزمائی کے بعد دیوار کا کچھ حصّہ گر گیا۔ اس نے دوگنی طاقت سے دوسرا دھکّا لگایا تو آدھی دیوار گر پڑی۔ 

دیوار کا گرنا تھا کہ نیم جان جانور اُٹھ کھڑے ہوئے تینوں گھوڑیاں بھاگ نکلیں۔ بھیڑ بکریاں نکلیں۔ اس کے بعد بھینسیں بھی کھسک گئیں۔ پر گدھے ابھی کھڑے تھے۔ 

ہیرا نے پوچھا۔ ’’تم کیوں نہیں جاتے؟‘‘ 

ایک گدھے نے کہا، ’’کہیں پھر پکڑ لیے جائیں تو؟‘‘ 

ہیرا ؛’’پکڑ لیے جاؤ پھر دیکھا جائے گا اس وقت تو موقعہ ہے۔‘‘ 

گدھا ؛ ’’ہمیں ڈرلگتا ہے ہم نہ بھاگیں گے۔‘‘ 

آدھی رات گذر چکی تھی۔ دونوں گدھے کھڑے سوچ رہے تھے بھاگیں یا نہ بھاگیں۔ موتی اپنے دوست کی رسّی کاٹنے میں مصروف تھاجب وہ ہار گیا تو ہیرانے کہا۔تم جاؤ مجھے یہیں رہنے دو۔ شاید کبھی ملاقات ہوجائے۔ 

موتی نے آنکھوں میں آنسو لاکر کہا، ’’تم مجھے خود غرض سمجھتے ہو ہیرا، ہم اور تم اتنے دنوں ساتھ رہے۔ آج تم مصیبت میں پھنسے۔ تو میں چھوڑ کر بھاگ جاؤں۔‘‘ 

ہیرا؛ ’’بہت مار پڑے گی۔ سمجھ جائیں گے یہ تمھاری شرارت ہے۔‘‘ 

موتی؛ ’’جس قصور کے لیے تمھارے گلے میں رسّا پڑا۔ اس کے لیے اگر مجھ پر مارپڑے گی۔ توکیا بات ہے اتنا تو ہوگیا کہ نودس جانوروں کی جان بچ گئی۔‘‘ یہ کہہ کر موتی نے دونوں گدھوں کو سینگ مارمار کر باہر نکال دیا اور اپنے دوست کے پاس آکر سوگیا۔ 

صبح ہوتے ہوتے منشیوں، چوکیداروں اور دوسرے ملازموں میں کھلبلی مچ گئی۔ اس کے بعد موتی کی مرمت ہوئی اور اسے بھی موٹی رسّی سے باندھ دیا گیا۔ 

ایک ہفتہ تک دونوں بیل بندھے پڑے رہے۔ خدا جانے اس کا نجی ہاؤ س کے آدمی کیسے بے درد تھے، کہ کسی نے چارے کو ایک تنکا تک نہ ڈالا۔ ہاں ایک مرتبہ پانی دکھادیا جاتاتھا۔ یہی ان کی خوراک تھی۔ دونوں اتنے کمزور ہوگئے کہ اٹھا تک نہ جاتا تھا۔ ہڈیاں نکل آئیں۔ 

ایک دن باڑے کے سامنے ڈگڈگی بجنے لگی۔ اور دوپہر ہوتے ہوتے پچاس ساٹھ آدمی جمع ہوگئے۔ تب دونوں بیل نکالے گئے اور ان کی دیکھ بھال ہونے لگی۔لوگ آآکر ان کی صورت دیکھتے اور چلے جاتے تھے۔ ایسے نیم جان بیلوں کو کون خریدتا؟ 

معاً ایک آدمی جس کی آنکھیں سرخ تھیں اور جس کے چہرہ پرسخت دلی کے آثار نمایاں تھے۔ آیا اور منشی جی سے باتیں کرنے لگا۔ اس کی شکل دیکھ کر کسی نا معلوم احساس سے دونوں بیل کانپ اٹھے۔ وہ کون ہے اور انھیں کیوں خریدتاہے؟ اس کے متعلق انھیں کوئی شبہہ نہ رہا۔ دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور سر جھکالیا۔ 

ہیرا نے کہا؛ ’’گیا کے گھر سے ناحق بھاگے۔ اب جان نہ بچے گی۔‘‘ 

موتی نے جواب دیا، ’’کہتے ہیں۔ بھگوان سب پر مہربانی کرتے ہیں۔’’انھیں ہماری حالت پر رحم کیوں نہیں آتا؟‘‘ 

ہیرا؛ ’’بھگوان کے لیے ہمارا مرنا جینا دونوں برابر ہیں۔‘‘ 

موتی؛ ’’چلو اچھا ہے کچھ دن ان کے پاس رہیں گے۔‘‘ 

ہیرا؛ ’’ایک مرتبہ بھگوان نے اس لڑکی کے روپ میں بچایا تھاکیا اب نہ بچائیں گے۔‘‘ 

موتی؛ ’’یہ آدمی چھُری چلائے گا دیکھ لینا۔‘‘ 

ہیرا؛ ’’معمولی بات ہے مرکر ان دکھوں سے چھوٹ جائیں گے۔‘‘ 

نیلام ہوجانے کے بعد دونوں بیل اس آدمی کے ساتھ چلے دونوں کی بوٹی بوٹی کانپ رہی تھی۔ بچارے پاؤں تک نہ اٹھاسکتے تھے۔ مگر ڈر کے مارے چلے جاتے تھے ذرا بھی آہستہ چلتے تو ڈنڈا جما دیتا تھا۔ 

راہ میں گائے بیلوں کا ایک ریوڑ مرغزالہ میں چرتا نظر آیا۔ سبھی جانور خوش تھے کوئی اچھلتا تھا کوئی بیٹھاجگالی کرتا تھا کیسی پر مسرت زندگی تھی۔ لیکن وہ کیسے خود غرض تھے کسی کو ان کی پرواہ نہ تھی۔ کسی کو خیال نہ تھا، کہ ان کے دو بھائی موت کے پنجہ میں گرفتار ہیں۔ 

معاًانھیں ایسا معلوم ہوا، کہ یہ راستہ دیکھا ہوا ہے۔ ہاں ادھر ہی تو سے گیا ان کو اپنےگاؤں لے گیا تھا۔ وہی کھیت ہیں وہی باغ وہی گاؤں۔ اب ان کی رفتار تیز ہونے لگی۔ ساری تھکان، ساری کمزوری، ساری مایوسی رفع ہوگئی۔ ارے یہ تو اپنا کھیت آگیا۔ یہ اپنا کنواں ہے۔ جہاں ہر روز پانی پیا کرتے تھے۔ 

موتی نے کہا، ’’ہمارا گھر نزدیک آگیا۔‘‘ 

ہیرا بولا، ’’بھگوان کی مہربانی ہے۔‘‘ 

موتی؛ ’’میں تواب گھر بھاگتا ہوں۔‘‘ 

ہیرا؛ ’’یہ جانے بھی دے گا اتناسوچ لو۔‘‘ 

موتی؛ ’’اسے مارگراتا ہوں۔ جب تک سنبھلے تب تک گھرجا پہنچیں گے۔‘‘ 

ہیرا؛ ’’نہیں ڈور کر تھان تک چلو۔وہاں سے آگے نہ چلیں گے۔‘‘ 

دونوں مست ہوکر بچھڑوں کی طرح کلیلیں کرتے ہوئے گھر کی طرف دوڑے اور اپنے تھان پر جا کر کھڑے ہوگئے۔ وہ آدمی بھی پیچھے پیچھے دوڑا آتا تھا۔ 

جھوری دروازہ پر بیٹھا دھوپ کھارہا تھا۔ بیلوں کو دیکھتے ہی دوڑا۔ اور انھیں پیار کرنے لگا۔ بیلوں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ ایک جھوری کا ہاتھ چاٹ رہا تھا۔ دوسرا پیر۔ 

اس آدمی نے آکر بیلوں کی رسّیاں پکڑلیں۔ جھوری نے کہا، ’’یہ بیل میرے ہیں۔‘‘ 

’’تمھارے کیسے ہیں۔ میں نے نیلام میں لیے ہیں۔‘‘ 

جھوری؛ ’’میرا خیال ہے چراکر لائے ہو چپکے سے چلے جاؤ بیل میرے ہیں بیچوں گا تو بکیں گے، کسی کو میرے بیل کو بیچنے کا کیا حق ہے؟‘‘ 

’’میں نے تو خرید ے ہیں۔‘‘ 

’’خریدے ہوں گے۔‘‘ 

اس پروہ آدمی زبردستی بیلوں کولے جانے کے لیے آگے بڑھا۔ اسی وقت موتی نے سینگ چلایا۔ وہ آدمی پیچھے ہٹا۔ موتی نے تعاقب کیا۔اور اسے ریلتا ہواگاؤں کے باہر تک لے گیا۔ اور تب اس کا راستہ روک کھڑا ہوگیا وہ آدمی دور کھڑا دھمکیاں دیتا تھا۔ گالیاں دیتا تھا۔ پتھر پھینکتا تھا اور موتی اس کا راستہ روکے ہوئے تھاگاؤں کے لوگ یہ تماشہ دیکھتے تھے اور ہنستے تھے۔ 

جب وہ آدمی ہارکے چلا گیا تو موتی اکڑتا ہوا لوٹ آیا۔ ہیرا نے کہا، ’’میں ڈر رہا تھا کہ کہیں تم اسے مار نہ بیٹھو۔‘‘ 

موتی؛ ’’اگر نزدیک آتا تو ضرور مارتا۔‘‘ 

ہیرا؛ ’’اب نہ آئے گا۔‘‘ 

موتی؛ ’’آئے گا تو دور ہی سے خبر لوں گا۔ دیکھوں کیسے لے جاتا ہے۔‘‘ 

ذرا دیر میں ناند میں کھلی بھوسہ چوکر دانہ سب کچھ بھردیا گیا۔ دونوں بیل کھانے لگے۔ 

جھوری کھڑا ان کی طرف دیکھتا اور خوش ہوتا تھا۔ بیسوں لڑکے تماشہ دیکھ رہے تھے ساراگاؤںمسکراتامعلوم ہوتا تھا۔ 

اسی وقت مالکن نے آکر اپنے دونوں بیلوں کے ماتھے چوم لیے۔ 

0 comments:

Post a comment

خوش خبری