آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Saturday, 10 September 2022

Dastan-Sargazisht Azad Bakht Badshah ki-Mir Amman-NCERT Urdu Solutiona Class 11

سر گذشت آزاد بخت بادشاہ کی

 سوال 1: داستان کسے کہتے ہیں اور اس کی اہم خصوصیات کیا ہیں؟

جواب: داستان ایک طویل اور مسلسل قصے کو کہتے ہیں ۔اس میں واقعات کو پرکشش انداز میں پیش کیا جا تا ہے تا کہ پڑھنے والے کی دلچسپی  برقرار رہے اور پڑھنے والا سوچتا رہے کہ آگے کیا ہوگا ۔ داستان میں سیدھی سادی باتوں کے علاوہ مافوق الفطری واقعات بھی پیش کیے جاتے ہیں ۔حسن وعشق کی باتیں، شہزادوں اور پریوں کی ملاقاتیں، زندگی کی چھوٹی بڑی وارداتیں، پیچیدگیاں ، الجھنیں اور عجیب وغریب باتیں ہوتی ہیں ۔ زبان و بیان کی دلکشی اور لطف داستان کے لیے ضروری ہے ۔ عام طور سے داستانوں کے اندر کئی قصے  ہوتے ہیں یا ایک قصے کے اندر دوسرے قصے بیان کیے جاتے ہیں ۔

سوال 2: میرامن کے طرز تحریر کی اہم خصوصیات کیا ہیں؟

 جواب: میر امن کا طرز تحریر سادہ سلیس اور رواں دواں ہے ان کے اسلوب میں شگفتگی اور تازگی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طویل عرصہ گزرجانے کے بعد بھی ان کی عبارت سے اجنبیت ظاہر نہیں ہوتی ۔ ان کی زبان سادہ سلیس اور با محاورہ زبان ہے ۔ان کی تحریر میں آج کی سی تازگی اور رعنائی ہے ۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے بول چال کی آسان زبان استعمال کی ہے مثلا شب برات کو  انہوں نے شبرات لکھنا زیادہ پسند کیا ہے ۔اس لئے آج بھی ان کے اسلوب کی دلکشی میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ میر امن کا اسلوب سادہ پسلیس اور رواں دواں ہے یا یوں کہئے کہ میر امن کے یہاں سادگی میں پر کاری نظر آتی ہے۔

سوال 3: بادشاہ نے سوداگرکو کیا کیا سہولتیں دے رکھی تھیں؟

 جواب : بادشاہ نے سوداگر کوسند راه داری لکھ کر دی تھی جس کا مطلب تھا وہ اس کے پورے ملک میں بغیر روک ٹوک تجارت کر سکتا تھا اور اس سے کوئی ٹیکس وصول نہ کیا جائے ۔اس کے علاوہ ہر جگہ اس کے آرام کا خیال رکھا جاۓ ۔ بادشاہ نے سوداگر کو دربار میں حاضر ہونے کی بھی اجازت دے رکھی تھی۔

سوال 4: وزیر نے بادشاہ کو کیا نصیحت کی؟

 جواب : وزیر نے بادشاہ کو یہ نصیحت کی کہ بادشاہوں کو ایک حقیر سے پتھر کی اس قدر تعریف نہیں کرنی چاہئے کیونکہ آپ کے دربار میں بہت سے ملکوں کے سفیر حاضر ہیں جب یہ لوگ اپنے ملکوں میں جا کر آپ کے اس عمل کے بارے میں بتائیں گے تو وہاں کے لوگ آپ کا مذاق اڑائیں گے۔

سوال: بادشاہ نے وزیرکوسزا کیوں دی؟

 جواب : وزیر نے بادشاہ کو بتایا کہ آپ کے جواہر سے بڑے سات جواہر ایک سوداگر نے اپنے کتے کے پٹے میں لگا کر اس کے گلے میں ڈال رکھے ہیں ۔ بادشاہ کو وزیر کی یہ بات پسند نہیں آئی بلکہ اسے یہ بات بالکل جھوٹ لگی ۔اس لئے اس نے وزیر کوسزادی

سوال: فرنگ کے بادشاہ کے سفیر نے وزیرکوسزاۓ موت سے کیسے بچایا؟ 

جواب: فرنگ کے بادشاہ کے سفیر نے کہا کہ جب تک اس کا جرم ثابت نہ ہو جاۓ اس وقت تک اسے سزاۓ موت نہ دی جاۓ اور اس طرح اس نے وزیرکوموت کی سزا سے بچالیا۔

0 comments:

Post a Comment

خوش خبری