آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Wednesday, 15 April 2020

Ek Miss Seemin Badan Se - Akbar Allahabadi


ایک مس سیمیں بدن سے کر لیا لندن میں عقد

اکبر الہ آبادی

ایک مس سیمیں بدن سے کر لیا لندن میں عقد
 اس خطا پر سن رہا ہوں طعنہ ہائے دل خراش

 کوئی کہتا ہے کہ بس اس نے بگاڑی نسل قوم
 کوئی کہتا ہے کہ یہ ہے  بدخصال و بدمعاش

 دل میں کچھ انصاف کرتا ہی نہیں کوئی بزرگ
 ہو کے اب مجبور خود اس راز کو کرتا ہوں فاش

 ہوتی تھی تاکید لندن جاؤ انگریزی پڑھو
 قوم انگلش سے ملو سیکھو وہی وضع  تراش

 جگمگاتے ہوٹلوں کا جا کے نظارہ کرو 
سوپ و کاری کے مزے لو۔ چھوڑ کر یخنی و آش

 لیڈیوں سے مل کے دیکھو ان کے انداز و طریق
ہال میں ناچو کلب میں جا کے کھیلو ان سے تاش

 باده تہذیب یورپ کے چڑھاؤ خم کے خم
 ایشیا کے شیشۂ تقویٰ کو کردو  پاش پاش

 جب عمل اس پر کیا پر یوں کا سایہ ہو گیا
 جس سے تھا دل کی حرارت کو سراسر انتعاش

 سامنے تھیں لیڈیاں زہرہ  وش جادو نظر
 یاں جوانی کی امنگ اور ان کو عاشق کی تلاش

 اس کی چتون سحر آگیں اس کی باتیں دل ربا
چال اس کی فتنہ خیز اس کی نگاہیں برق پاش

 وہ فروغ آتشِ رخ جس کے آگے آفتاب
 اس طرح جیسے کہ پیش شمع پروانے کی لاش

 جب یہ صورت تھی تو ممکن تھا کہ اک برق بلا
 دست سیمیں کو بڑھاتی اور میں کہتا دور باش؟

 دونوں جانب تھا رگوں میں جوش خونِ فتنہ زا
 دل ہی تھا آخر نہیں تھی برف کی یہ کوئی قاش

 بار بار آتا ہے اکبر میرے دل میں یہ خیال
 حضرت سیّد سے جا کر عرض کرتا کوئی کاش

 درمیان قعر دریا تختہ بندم کرده  ای
باز میگوئی کہ دامن تر مکن ہشیار باش
(دریا کی منجدھار میں مجھے تختے پر باندھ کر چھوڑ دیا ہے اور پھر کہتے ہو کہ خبردار ہشیار رہنا تمھارا دامن تر نہ ہونے پائے۔)

0 comments:

Post a comment

خوش خبری