آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Wednesday, 8 November 2017

دہلی کی آلودہ فضائیں

اگر اب بھی نہ جاگے تو۔۔۔۔
دہلی کی آلودہ فضائیں


دہلی میں فضائی آلودگی اپنے عروج پر ہے ـ آپ کی صحت کے لئے یہ صورت حال انتہائی خراب ہے ـ فضا میں صحت کے لئے خطرناک پارٹیکلس میں خطرناک حد تک اضافہ درج کیا گیا ہے. ایک رپورٹ کے مطابق رات 12 بجے کے بعد یہ اپنے عروج یعنی اے کیو آئی  700سے اوپر تھا جس میں صبح9 بجے تک کچھ بہتری آئی اس کے بعد  دن کے ایک بجے سے یہ دوبارہ بڑھنا شروع ہوا اور تین بجے تک یہ 800 سے بھی   اوپر پہنچ چکا تھا۔ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اے کیو آئی ایک ہزار سے بھی اوپر پہنچ گیا۔
کل خدیجتہ الکبری گرلس اسکول میں آلودگی کی وجہ سے ایک لڑکی کی طبیعت بگڑنے لگی اس نے سانس لینے میں تکلیف کی شکایت کی اور گھبراہٹ میں ادھر ادھر بھاگنے لگی۔ صورت حال کو دیکھتے ہوئے دہلی کے سبھی اسکول اتوار تک بند کر دیے گئے ہیں۔
 چھوٹے بچوں کے لئے آلودگی کی یہ صور ت حال بہت ہی خطرناک اور تشویشناک ہے۔اس جانب سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہےـ
دہلی کی حالت روز بروز بگڑتی جارہی ہے اور حفاظتی اقدامات کی کوئی آہٹ سنائی نہیں دیتی۔لوگوں میں سانس لینے میں دشواری کی شکایت عام ہوتی جارہی ہے لیکن حفظ ما تقدم کے طور پر کوئی قدم نہیں اٹھایا جا رہا ۔مختلف علاقوں میں ملبوں کا ڈھیر لگا ہے جس نے حالات کو اور بھی ناگفتہ بہ بنا دیا ہے۔ آنکھوں میں جلن صاف طور سےمحسوس کی جارہی ہے۔کچھ لوگوں نے ماسک لگایا ہوا ہے لیکن یہ ناکافی ہے۔
دہلی کے عوام کو چاہئے کے وہ حفاظتی انتظامات میں مزید تاخیر نہ کریں اور اس سلسلہ میں ازخود قدم اٹھائیں۔اس وقت دہلی کو پانی کے چھڑکاؤ کی سخت ضرورت ہے ـ لوگوں کو سانس لینے میں سب سے زیادہ دشواری کا سبب گرد آلود فضا ہے ۔اس کا حل ہے تعمیرات کے کام پر مکمل پابندی ، صفائی اور پانی کا چھڑکاؤ۔  ہر شخص اگر اپنے اپنے گھر کے سامنے پانی کا بھرپور چھڑکاؤ کرے تو اس پر کسی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔
 اس وقت ہمارے بچوں یعنی ملک کے مستقبل کی صحت اور جان دونوں ہی خطرے میں ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام اور حکومت دونوں ہی  خواب خرگوش سے جاگیں اور فوری اقدام کریں۔
ایک اندازہ کے مطابق دہلی میں فضائی آلودگی سے ہر سال 30 ہزار اموات ہوتی ہیں۔ اور ڈاکٹروں نے اس صورت حال کے برقرار رہنے پر سنگین حالات کا انتباہ دیا ہے۔  خاص طور سے وہ لوگ جو سانس کی بیماری یا صدر کی تکلیف میں مبتلا ہیں  ان کو سخت احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسے لوگ اپنے گھروں میں رہیں اور باہر کی سرگرمیوں سے پرہیز کریں ۔ اپنےبچوں کو بھی باہر کھیلنے کی اجازت نہ دیں اور اپنی  اور اپنے بچّوں کی صحت کا بھرپور خیال رکھیں۔ 

0 comments:

Post a comment

خوش خبری