آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Sunday, December 24, 2017

Aaina Calendar 2018

آئینہ کی جانب سے سالِ نو کاایک خوبصورت تحفہ


سال ۲۰۱۸ کا اسلامی کلنڈر اپنے موبائل یا کمپیوٹر پر دیکھنے کے لئے یہاں یا نیچے کلنڈر پر کلک کریں۔





Saturday, December 16, 2017

Winter Carnival at Khadijatul Kubra Girls Public School

خدیجتہ الکبریٰ گرلس پبلک اسکول میں سرمائی میلہ کا انعقاد

نئی دہلی، 16دسمبر 2017
آج خدیجتہ الکبریٰ گرلس پبلک اسکول، جوگا بائی، نئی دہلی میں سرمائی میلہ کا انعقاد کیا گیا جس میں طالبات اور ٹیچر نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہر سال کی طرح اس سال بھی مختلف ریاستوں کی جھلکیاں پیش کی گئیں۔ مختلف قسم کے کھانوں  کے
بھی اسٹال لگائے گئے تھے  جن کا طالبات اور ان کی ماوؤں نے خوب لطف اٹھایا۔
اس سال میلہ کا تھیم ساؤتھ اور نارتھ ریاستوں پر مشتمل تھا۔ طالبات نے ان ریاستوں کی مشہور اشیا کی نمائش پیش کی۔ طالبات کے بنائے ہوئے تاریخی مقامات کے ماڈل  ان کی فن   کاری کا ثبوت پیش کر رہے تھے۔ ایک رقاصہ کی خوبصورت پینٹگ طالبات میں آرٹ کے تئیں ان کی دلچسپی اور ان کی بہترین صلاحیتوں کو ظاہر کرتی ہے۔
نیچے رکھے گئے پکوانوں سے ان کے حقیقی ہونے کا گمان ہوتا ہے۔
ساؤتھ کا اسٹال درجہ سات بی کی کلاس ٹیچر پنیت کور اور کلثوم میم نے اپنے کلاس کی طالبات صحبہ عثمانی، فبیہ، صائبہ، شاذدہ، انعم، ضحی'،سہانا، اریبہ، صابرین وغیرہ کی مدد سے سجایا۔ جسے کافی پسند کیا۔
کھانے پینے کا اسٹال میلہ گھومنے والوں کی توجہ کا خاص مرکز تھا۔ اپنی ٹیچرس کے ہاتھوں بنائی گئی پکوانیں طالبات کی خوشی دوبالا کر رہی تھی اور طالبات انہیں شوق سے خرید کر اپنی کلاس کی سہیلیوں کے ساتھ کھا رہی تھیں۔ کچھ طالبات اپنی ٹیچرس کے ساتھ تصویریں بھی کھنچوا رہی تھیں۔ طالبات اور ٹیچرس کے درمیاں دوستانہ اور مہذب ماحول اسکول میں دی جانے والی بہترین تربیت کا ثبوت پیش کر رہی تھیں۔
اسکول کی پرنسپل شبانہ خان نے میلہ کی تیاریوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ دیگر ٹیچرس نے بھی تیاری میں ان کا پورا  ساتھ دیا۔عام طور سے سادہ اسکول ڈریس میں ملبوس رہنے والی طالبات آج خوش رنگ اور جدید لباسوں میں کافی خوش نظر آرہی تھیں ۔ طالبات کے ذریعہ کی گئی سجاوٹ بھی قابل دید تھی۔
ہر سال سال کے آ خر میں منایا جانے والا یہ میلہ طالبات میں کافی مقبول ہے۔ اور اس سے طالبات کو اپنی صلاحیتیں دکھانےکا موقع ملتا ہے۔
میلہ میں بنایا گیا انڈیا گیٹ سب کی توجہ کا مرکز تھا۔ طالبات اس کے سامنے تصویریں کھنچواتی دیکھی گئیں۔
میلہ صبح دس بجے شروع ہوکر شام تین بجے ختم ہوا۔

 تصاویر: اقصیٰ عثمانی

Friday, December 15, 2017

Khairat by Ghayas Ahmad Gaddi

خیرات

غیاث احمد گدی

رات سرد تھی۔ بے حد سرد۔ بارش کی ہلکی ہلکی پھوار پڑ رہی تھی۔باہر اندھیرا تھا۔ اور پر اسرار ہوا کے تیز جھونکے  چیختے ہوئے گزر رہے تھے۔ اندر آتش دان میں لکڑیاں دہک رہی تھیں اور سارے ماحول پر ایک غم انگیز کیفیت طاری تھی۔  یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ابھی ابھی کوئی موت ہونے والی ہے۔ حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں تھی۔

مکمل کہانی پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

Monday, December 11, 2017

Amrood Badshah

امرود بادشاہ

مائل خیر آبادی


   ہاں بھئی آج کون سی کہانی ہوگی ؟ امیّ جان نے آتے ہی ہم سب سے پوچھا۔ سدّو شاید سوچے  ہوئے بیٹھا تھا بولا آج میں وہ کہانی سناؤں گا جس میں  ہے کہ ایک شخص نے سورج کو نگل لیا تھا۔
ہش ایسی جھوٹی کہانی  امیّ جان نے کہا ٹنی بولا ملتانہ ڈاکو  کی کہانی سناؤ ساتھ ہی رفو  باجی کہنے لگیں نہیں الہ دین کا چراغ  والی اورپھر سب اپنی اپنی پسند کی کہانی کا نام لینے لگے۔ سعیدہ بی ابھی  تک چپ  تھیں   وہ چمک کر بولی امیّ جان امرود بادشاہ کی کہانی سناؤ۔
 امرود بادشاہ یہ نام ہم نے کہیں نہیں سنا تھا ۔سعیدہ  بی سے پوچھا گیا بھئی امرود بادشاہ کون تھا ؟ امیّ جان نے سعیدہ کی طرف دیکھا او رفرمایا  اچھا  آج سعیدہ کہانی کہیں۔ اجازت پاکر سعیدہ بی امرود بادشاہ کی کہانی اس طرح کہنے لگیں۔
 دیکھیے نا امیّ جان  وہ جو ایک بادشاہ تھا نا چار پانچ ہزار برس پہلے ۔
جی ہاں!  چار پانچ برس ہوئے اس  زمانے میں  اس کی ٹکر کا کوئی بادشاہ نہ  تھا لاو  لشکر، فوج، سپاہی پیادے سب اس کے پاس تھے  لوگ اس سے ڈرتے تھے وہ بادشاہ بڑا گھمنڈی  تھا۔  جی ہاں !ایسا گھمنڈی امی ّجان  ایسا گھمنڈی کہ بس کیا کہوں توبہ توبہ، وہ اپنےکو خدا کہتا تھا۔جی ہاں! خدا
سعیدہ بی سانس لینے کو رکیں تو ہم نے پوچھا  اسی کا نام امرود بادشاہ تھا؟
ارے ہاں میں اس کا نام بتانا تو بھول ہی گئی ۔جی ہاں! اسی کا نام تھا !
"امرود بادشاہ "
"کیا وہ امرود بہت زیادہ کھاتا تھا ؟"ہم سب نے پھر پوچھا ۔
نہیں یہ اس کا نام ہی تھا۔
اچھا پھر کیا ہوا؟
پھر یہ ہوا کہ ڈرکے مارے لوگوں نے اس کو خدا مان لیا  لیکن اللہ  میاں کے ایک بہت بڑے نبی اس زمانے میں تھے کیا نام تھا ان کا ۔سعیدہ بی سوچنے لگی  پھر خود ہی پوچھنے لگی امی جان  اسمعٰیل بھائی کے ابا جان  کا نام کیا ہے؟
"ابراہیمؑ !"
جی ہاں جی ہاں ان کا نام تھا ابراہیم،  حضرت ابراہیم ؑ امی جان میں نے ٹھیک سے نام لیا۔
تو حضرت ابراہیم علیہ السلام  نے امرود بادشاہ کو خدا مان نے سے انکار کردیااچھا تو اللہ کہ نبی نے اس کو خدا نہ مانا  تو وہ بہت خفا ہوا۔ اپنے دربار میں طلب کیا   ۔سپاہی حضرت ابراہیم ؑکو پکڑ لے گئے۔ توبہ توبہ اس کا گھمنڈ تو دیکھیے وہ اللہ کہ نبی سے جھگڑنے لگا۔  پوچھا!

"تمہارا خدا کیا کرتا ہے ؟"
"میرا خدا مارتا اور جلاتا ہے" حضرت ابراہیم ؑنے جواب دیا ۔
یہ تو میں بھی کر سکتا  ہوں اور یہ کہہ کر امرود بادشاہ نے جیل سے دو قیدی بلائے ایک کو قتل کردیا دوسرے کو چھوڑ دیا اور کہنے لگا
دیکھو ہے نا میرے بس میں موت اور زندگی جس کو چاہوں مار ڈالوں جس کو چاہوں زندہ رکھوں۔
حضرت ابراہیمؑ نے یہ سنا تو بولے
"میرا خدا پورب سے سورج نکالتا ہے اور پچھم میں  لے جاتا ہے اگر تو خدا ہے  پچھم سے سورج نکال  دے اور پورب کی طرف لے جا ۔"
یہ سنا تو امرود بادشاہ بھوت بن گیا
بھوت ہم سب ہنسنے لگے بھوت کیسے بن گیا؟
اب سعیدہ بی بھی چپ۔ وہ جواب نہ دے سکیں تو امیّ جان نے بتایا  کہ بی سعیدہ نے کہانی سچی اور مزیدار سنائی مگر ان کو بادشاہ کا نام یاد نہ رہا ۔
دراصل وہ بادشاہ تھا نمرود ۔
جی ہاں! جی ہاں! سعیدہ بی بولیں جی ہاں!نمرود بادشاہ  ۔اس کا نام نمرود بادشاہ ہی تھا۔
اور سنو سعیدہ بی ؟  تم نے جو کہا کہ وہ بھوت بن کر رہ گیا  تو وہ لفظ بھوت نہیں ہے  تم نے جس سے کہانی سنی اس نے کہا ہوگا کہ نمرود  بادشاہ مبہوت ہو گیا تم مبہوت کو بھوت سمجھیں ۔
امیّ جان مبہوت کے معنی کیا ہے ہم سب نے پوچھا
مبہوت کے معنی ہے ہکا بکا رہ جانا  اس کا منھ کھلا کا کھلا رہ گیا  وہ کوئی جواب نہ دے سکا اس کی سمجھ بیکار سی ہوگئی سمجھے تم سب ۔
جی ہاں! سمجھیں ہم سب  کو سعیدہ  بی نے کہانی تو پرانی سنائی پر  واہ ری ان کی بھول  مزہ دے گئی۔ ان کی بھول، آہا، کیا مزیدار ہے امرود بادشاہ کی کہانی۔ واہ واہ ۔
سعیدہ بی بھی خوش ہو رہی تھیں اس کے بعد ہم جا جا کر اپنے اپنے بستروں میں گھس گئے۔


Saturday, December 9, 2017

Anwar e Mansoor Issue 2

انوارِ منصور

  انوار البرہان ، حضرت دیورہ، ، پوسٹ اوساس ضلع گیا سے ۱۹۹۶ میں شائع ہونے والا ایک سہ ماہی رسالہ ہے۔ یہ رسالہ  اپنی دو اشاعتوں کے بعد مشکلات کا شکار ہوگیا لیکن اس نے اپنی دو ہی اشاعتوں میں جن گراں قدر مضامین کو  شامل اشاعت کیا اس نے اس کی قدر و قیمت میں بے پناہ اضافہ کیا۔ انٹرنیٹ کی اس نئی دنیا میں ضرورت تھی کہ اس رسالہ کو نہ صرف محفوظ کیا جائے بلکہ اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچایا جائے تاکہ قارئین ان مضامین سے استفادہ کرسکیں جو آج بھی زندہ و تابندہ ہیں۔
مطالعہ کے لئے یہاں یا نیچے ٹائٹل پر کلک کریں۔


 Anwar e Mansoor


خوش خبری