آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Sunday, 19 August 2018

Ek Khat - NCERT Solutions Class VI Urdu

ایک خط

پنڈت جواهر لعل نہرو کا خط، اپنی بیٹی اندرا کے نام 

نینی سینٹرل جیل، الہ آباد 26 اکتوبر 1930ء
پیاری بیٹی!
تمھیں اپنی سالگرہ کے موقع پرتحفے اور نیک خواہشات ملتی ہی رہی ہیں۔ نیک خواہشات کی تو اب بھی کوئی کمی نہیں لیکن میں نینی جیل سے تمھارے لیے کیا تحفہ بھیج  سکتا ہوں؟ نیک خواہشات کا تعلق تو دل سے ہے، جیسے کوئی پری تمھیں یہ سب کچھ دے رہی ہو۔ یہ وہ چیزیں ہیں جنھیں جیل کی اونچی دیواریں بھی نہیں روک سکتیں۔
تم خوب جانتی ہو کہ مجھے نصیحت کرنے سے کتنی نفرت ہے۔ جب کبھی میرا جی چاہنے لگتا ہے کہ نصیحت کروں تو ہمیشہ اس ’’عقل مند“ کی کہانی یاد آجاتی ہے جو میں نے بھی پڑھی تھی۔ شاید ایک دن تم بھی وہ کتاب پڑھو جس میں یہ کہانی بیان کی گئی ہے۔
کوئی تیرہ سو برس گزرے کہ ملک چین سے ایک سیّاح علم و دانش کی تلاش میں ہندوستان آیا ۔ اس کا نام ہیون سانگ تھا۔ وہ شمال کے پہاڑ اور ریگستان طے کرتا ہوا یہاں پہنچا۔ اسے علم کا اتنا شوق تھا کہ راستے میں اس نے سیکڑوں مصیبتیں اٹھائیں اور ہزاروں خطروں کا مقابلہ کیا۔ وہ ہندوستان میں بہت دن رہا۔ خود سیکھتا تھا اور دوسروں کو سکھاتا تھا۔ اس کا زیادہ تر وقت نالندہ ودّیا پیٹھ میں گزرا جوشهر پاٹلی پتر کے قریب واقع تھی۔ اس شہرکواب پٹنہ کہتے ہیں۔
ہیون سانگ پڑھ لکھ کر بہت قابل ہو گیا حتٰی کہ اس کو فاضلِ قانون (بدھ مت) کا خطاب دیا گیا۔ پھر اس نے سارے ہندوستان کا سفر کیا۔ اس عظیم الشان ملک کے باشندوں کو دیکھا بھالا اور ان کے بارے میں پوری معلومات حاصل کیں ۔ اس کے بعد اس نے اپنا سفر نامہ لکھا۔ اس کتاب میں وہ کہانی بھی شامل ہے جو اس وقت مجھے یاد آئی :
یہ ایک شخص کا قصہ ہے جو جنوبی ہند سے شہر ”کرنا سونا“ میں آیا۔ یہ صوبہ بہار بھاگل پور کے آس پاس کہیں تھا ہیون سانگ نے سفر نامے میں لکھا ہے کہ ایک شخص اپنے پیٹ کے چاروں طرف تانبے کی تختیاں باندھے رہتا تھا۔ سر پر ایک جلتی ہوئی مشعل رکھتا تھا۔ ہاتھ میں ڈنڈا لیے ہوئے اکڑ اکڑ کر چلتا تھا اور اس عجیب و غریب انداز میں بڑی شان سے ادھر ادھر گھومتا پھرتا تھا۔ جب کوئی اس سے پوچھتا کہ آخر آپ نے یہ کیا صورت بنارکھی ہے؟ تو وہ جواب دیتا کہ”میرے اندر بے حساب علم بھرا ہوا ہے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں میرا پیٹ نہ پھٹ جائے ۔ اس لیے میں نے اپنے پیٹ  پر تانبے کی تختیاں باندھ رکھی ہیں۔  اور چوں کہ تم سب لوگ جہالت کے اندھیرے میں رہتے ہو، مجھے تم پر ترس آتا ہے، اس لیے میں ہر وقت اپنے سر پر مشعل لیے پھرتا ہوں ۔“
ہاں تو مجھے ایسا کوئی خطرہ نہیں ہے کہ بہت زیا د علم وحکمت سے پھٹ جاؤں، اس لیے مجھے اپنے پیٹ پر تانبے کی تختیاں باندھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور  یہ بھی جانتا ہوں کہ میری عقل میرے پیٹ میں نہیں ہے، بلکہ جہاں کہیں بھی ہو، اس میں اتنی گنجائش ہے کہ بہت کچھ اور سما سکے ۔ اور جب میری عقل محدود ہے تو میں کیسے ایک عقل مند آدمی بن کر دوسروں کو مشورہ دوں ۔ اس لیے یہ جاننے کی کوشش کرتا ہوں کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط کیا کرنا چاہیے اور کیا نہ کرنا چاہیے اور اس بحث مباحثےسے کبھی کبھی کوئی سچائی نکل آتی ہے۔
اس لیے میں نصیحت نہیں کروں گا۔ پھر کیا کروں ۔ خط باتوں کی جگہ نہیں لے سکتا، کیونکہ یہ یک طرفہ ہوتا ہے۔ اس لیے میں اگر کوئی بات کہوں اور وہ تم کو نصیحت لگے  تو اسے کڑوی گولی سمجھ کر مت نگلو۔ بس یہ سمجھو کہ میں تم کومشورہ دے رہا ہوں ، اور گویا ہم تم آمنے سامنے بیٹھے باتیں کررہے ہیں۔
میں نے تم کولمبا سا  خط لکھ ڈالا ،ابھی بہت سی باتیں باقی ہیں، اتنی باتیں اس خط میں کیسے آسکتی ہیں! 
تم بڑی خوش قسمت ہو کہ اپنے ملک کی آزادی کی جدو جہد کو دیکھ رہی ہو تم اس لحاظ سے بھی خوش قسمت ہو کہ ایک بہادر عورت تمہاری ماں ہے۔ اگرتم کو کبھی کسی بات میں شبہ ہو اور  یا تم کسی پریشانی میں ہوتو تم کو ماں سے بہتر ساتھی نہیں مل سکتا ۔
خداحافظ بیٹی!- میری دعا ہے کہ تم ایک دن بہادر سپاہی بنواور ہندوستان کی خدمت کرو۔
 محبت اور نیک خواہشات کے ساتھ ۔
جواهر لعل نہرو
معنی یاد کیجیے:
 نینی جیل  الہ آباد کی ایک جیل
 سیّاح :    جگہ جگہ سیر کرنے والا،ملکوں ملکوں گھومنے والا
 علم :    واقفیت،معلومات
 دانش :    عقل،سمجھ
 نالندہ ودیا پیٹھ :    پرانے زمانے کی ایک یونیورسیٹی جو پاٹلی پتر، پٹنہ کے قریب تھی
 پاٹلی پتر :    موجودہ نام پٹنہ
 فاضل قانون :    قانون کو جاننے والا،ماہرِ قانون
 بدھ مت :    بدھ مذہب
 عظیم الشان :    بڑی شان والا، اعلیٰ
 سفر نامہ :    وہ تحریر جس میں سفر کے حالات بیان کیے گئے ہوں
 شبہ :    شک
 اندیشہ :    خطرہ، ڈر
 جہالت :    نا جاننا،علم کا نا ہونا، ناواقفیت
 ترس  :    رحم
 مشعل :    وہ ڈنڈا جس کے ایک سرے پر کپڑا لپیٹ کر جلایا جاتا ہے اور اس سے روشنی کی جاتی ہے، چراغ
 علم و حکمت :    عقل مندی، دانش مندی
 گنجائش :    سمائی، جگہ
محدود :   حد کے اندر، تنگ
بحث و مباحثہ  بحث و تکرار
 جِدّو جہد :   سخت کوشش






























Courtesy NCERT
سوچیے اور بتائیے:
سوال: پنڈت جواہر لال نہرو کون تھے؟
جواب: پنڈت جواہر لال نہرو مجاہد آزادی تھے۔

سوال:پنڈت نہرو نے یہ خط کس کے نام اور کہاں سے لکھا؟
جواب:پنڈت نہرو نے یہ خط اپنی بیٹی اندرا کے نام نینی سینٹرل جیل،آلہ آباد سے لکھا۔

سوال: چینی سیّاح کا کیا نام تھا؟
جواب: چینی سیّاح کا نام ہیون سانگ تھا۔

سوال: جواہر لال نہرو نے نصیحت کرنے کا کیا طریقہ اختیار کیا؟
جواب:جواہر لال نہرو نے اپنی بیٹی کو نصیحت کرنے کے لیے مکتوب کا سہارا لیا ۔ اپنے خط میں انہوں نے لکھا کہ  انھیں نصیحت کرنے سے نفرت ہے،لہٰذا اس خط سے بس یہ سمجھو کے میں تمہیں مشورہ دے رہا ہوں اور گویا ہم تم آمنے سامنے بیٹھے باتیں کررہے ہیں۔

سوال:چینی سیّاح ہندوستان کیوں آیا؟
جواب:چینی سیّاح، علم و دانش کی تلاش میں ہندوستان آیا۔

سوال: چینی سیّاح کو علم حاصل کرنے کے لیے کن حالات سے گزرنا پڑا؟
جواب: چینی سیّاح شمال کے پہاڑ اور ریگستان طے کرتا ہوا ہندوستان پہنچا اُسے علم حاصل کرنے کا اتنا شوق تھا کہ راستے میں اُس نے سیکڑوں مصیبتیں اٹھائیں اور ہزاروں خطروں کا مقابلہ کیا۔

سوال:ہندوستان میں چینی سیّاح کا زیادہ وقت کہاں گزرا؟
جواب: ہندوستان میں چینی سیّاح کا زیادہ وقت نالندہ ودّیا پیٹھ میں گزرا جو شہر پاٹلی پُتر جسے اب پٹنہ کے نام سے جانا جاتا ہے  کے قریب واقع تھا۔

سوال:ہیون سانگ نے اپنے سفر نامے میں ایک شخص کو عجیب و غریب کیوں کہا ہے؟
جواب: ہیون سانگ نے اپنے سفر نامے میں ایک شخص کو عجیب و غریب اس لیے کہا ہے کیونکہ وہ اپنے پیٹ کے چاروں طرف تانبے کی تختیاں باندھے رہتا تھا اور سر پر ایک جلتی ہوئی مشعل رکھتا تھا۔
سوال: اس واقعہ کا ذکر کرکے پنڈت نہرو اپنی بیٹی کو کیا سبق دینا چاہتے تھے؟
جواب: نہرو اس واقعہ کا ذکر کر کے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہمیں اپنے علم و دانسش پر بہت گھمنڈ اور دکھاوا نہیں کرنا چاہیے۔ کیوں کہ ایسی چیزیں اسے دوسروں کے سامنے رسوا کرتی ہیں اس لیے چینی سیاح نے اُس کا ذکر مزاق کے طور پر کیا۔ وہ اس کی ظاہری شکل و صورت دیکھ کر اس شخص سے ذرا بھی مرعوب نہ ہوا اور اس سب کو ڈھونگ تصور کیا۔ نہرو یہاں اپنی بیٹی کو اپنے علم و دانش پر فخر کرنے کی بجائے اُسے سادگی کی تلقین کر رہے ہیں۔
خالی جگہ کو صحیح لفظ سے بھریے:
1.نیک خواہشات کا تعلق تو دل سے ہے۔
2.چین کا ایک سیّاح علم و دانش کی تلاش میں ہندوستان آیا۔
3.ہیون سانگ پڑھ لکھ کر بہت قابل ہو گیا۔
4.اس کو فاضلِ قانون (بدھ مَت) کا خطاب دیا گیا۔
5.اس کے بعد اس نے اپنا سفرنامہ لکھا۔
6.یہ شخص اپنے پیٹ کے چاروں طرف  تانبے کی تختیاں  باندھے رہتا تھا۔
7.میں ہر وقت اپنے سر پر مشعل لیے پھرتا ہوں۔
8.اپنے ملک کی آزادی کی جِِدّو جہد کو دیکھ رہی ہو۔

0 comments:

Post a Comment

خوش خبری