آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Sunday, 19 August 2018

Aitbaar - NCERT Solutions Class VII Urdu

اعتبار
سدرشن
Courtesy NCERT
Courtesy NCERT

ماں کو اپنے بیٹے اور زمیندار کو اپنے لہلہاتے ہوئے سر سبز و شاداب کھیت دیکھ کر جو خوشی ہوتی ہے وہی خوشی بابا  بھارتی کو اپنا گھوڑا دیکھ کر ہوتی تھی ۔ یہ گھوڑا بڑا خوبصورت تھا۔ اس کے مقابلے کا گھوڑا سارے علاقے میں نہ تھا۔ بابا بھارتی اسے سلطان کہہ کر بلاتے تھے۔ اپنے ہاتھ سے کھر یرا کرتے ، اپنے ہاتھ سے دانہ کھلاتے اور دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے ۔ سلطان سے جدائی کا خیال بھی اُن کے لیے نا قابل برداشت تھا۔ ان کو وہم ہوگیا تھا کہ ”میں اس کے بغیر زندہ نہ رہ سکوں گا‘‘۔ وہ اس کی چال پر فریفتہ تھے۔ کہتے : ” اس طرح چلتا ہے جیسے طاؤس او دی او دی گھٹاؤں کو دیکھ کر ناچ رہا ہو ۔ گاؤں کے لوگ اس محبت پر حیران تھے ۔ بعض وقت کنکھیوں سے اشارے بھی کرتے تھے مگر بابا بھارتی کو اس کی پروا  نہ تھی۔ جب تک شام کو وہ سلطان پر سوار ہوکر آٹھ دس میل کا چکّر نہ لگاتے انھیں چین نہ آتا۔
کلہن اس علاقے کا مشہور ڈاکو تھا۔ لوگ اس کا نام سُن کر تھرّاتے تھے۔ ہوتے ہوتے سلطان کی شہرت اُس
کے بھی کانوں تک پی ۔ شوق نے دل میں چٹکی لی۔ ایک دن دوپہر کے وقت بابا بھارتی کے پاس پہنچا اور نمسکارا کر کے کھڑا ہو گیا۔
بابا بھارتی نے پوچھا: ” کابین ! کیا حال ہے؟ 
کلہن نے سر جھکا کر جواب دیا ” آپ کی مہربانی ہے۔
کہو، ادھر کیسے آگئے ؟ 
سلطان کی شہرت کی   کھینچ لائ ہے۔
عجیب جانور ہے خوش ہو جاؤ گے ۔“ ”
 میں نے بڑی تعریف سنی ہے۔“
 اس کی چال تمہارا دل موہ لے گی ۔
 کہتے ہیں شکل بھی بڑی خوبصورت ہے۔“
 کیا کہنے جو اسے ایک دفعہ دیکھ لیتا ہے، اس کے دل پر اس کی صورت نقش ہو جاتی ہے۔ 
مدت سے ترس رہا تھا، آج حاضر ہوا ہوں۔“
بابا اور کلہن دونوں اصطبل میں پہنچے۔ بابا نے بڑے غرور سے گھوڑا دکھایا ۔ کلہن نے حیرت سے گھوڑے کو دیکھا۔ اس نے ہزاروں گھوڑے دیکھے تھے ، لیکن ایسابانکا گھوڑا اس کی نگاہ سے آج تک نہ گزرا تھا۔ سوچنے لگا قسمت کی بات ہے۔ ایسا گھوڑا میرے پاس ہونا چاہیے تھا۔ اس فقیر کو ایسی چیزوں سے کیا نسبت۔ اس کی چال دیکھ کر کلہن کے سینے پر سانپ لوٹ گیا۔ وہ ڈاکو تھا۔ اس کے پاس طاقت تھی۔
اس نے کہا: ”باباصاحب! اس گھوڑے کو تو میرے پاس ہونا چاہیے تھا۔ یہ کہ کر وہ چلا گیا۔
با با خوف زدہ ہو گئے ۔ اب انھیں رات کو نیند نہ آتی تھی ۔ ساری ساری رات اصطبل کی خبر گیری میں کٹنے لگی۔ ہر وقت کلہن کا خطرہ لگا رہتا تھا، مگر کئی مہینے گزر گئے اور وہ نہ آیا۔ یہاں تک کہ بایا بھارتی کسی حد تک بے پروا ہو گئے۔
شام کا وقت تھا۔ بابا بھارتی سلطان کی پیٹھ پر سوار ہو کر سیر کو جارہے تھے۔ یکا یک ایک طرف سے آواز آئی : او با با !ذرا اک محتاج کی بات سنتے جاؤ۔ٌ
آواز میں رقّت تھی۔ بابا نے گھوڑا روک لیا۔ دیکھا تو ایک اپاہج درخت کے سائے تلے پڑا کراہ رہا تھا۔ بابا بھارتی کادل پسیج گیا، پولے: کیوں تمھیں کیا تکلیف ہے؟
اپاہج نے ہاتھ باندھ کر کہا: بابا! میں دکھی ہوں، مجھ پر مہربانی کرو۔ راما والا یہاں سے تین میل کے فاصلے پر ہے۔ مجھے وہاں جانا ہے۔ گھوڑے پر چڑھالو۔ پر ماتماتمھارا بھلا کرے گا۔
وہاں تمھارا کون ہے؟ بابا نے پوچھا۔ 
درگادت حکیم کا نام آپ نے سنا ہوگا، میں ان کا سوتیلا بھائی ہوں۔“
بابا بھارتی نے گھوڑے سے اتر کر اپاہج کو گھوڑے پر سوار کیا اور خود اس کی لگام پڑ کر آہستہ آہستہ چلنے لگے۔ اچانک انھیں ایک جھٹکا سا محسوس ہوا اور لگام ہاتھ سے چھوٹ گئی ۔ جب انھوں نے دیکھا کہ ایک ایاہج گھوڑے کی پیٹھ پرتن کر بیٹھا اسے دوڑائے لیے جارہا ہے تو ان کی حیرت کا ٹھکانہ نہیں رہا۔ ان کے منہ سے چیخ نکل گئی ۔ یہ اپاہج کلہن ڈاکو تھا۔
بابا بھارتی کچھ دیر خاموش رہے۔ اس کے بعد پوری قوت سے چلا کر کہا :” ذ راٹهر و!“
کلہن نے یہ آواز سن کر گھوڑا روک لیا اور اس کی گردن پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا: بابا صاحب! یہ گھوڑا اب نہ دوں گا۔
بابا بھارتی نے قریب آکر کہا” یہ گھوڑا تمھیں مبارک ہو۔ میں تمھیں اس کی واپسی کے لیے نہیں کہتا مگر کلہن تم سے صرف ایک درخواست کرتا ہوں، اسے ردّنہ کرنا  ور نہ میرے دل کو سخت صدمہ پہنچے گا۔ بابا حکم دیجیے !
 میں آپ کا غلام ہوں ، صرف یہ گھوڑا نہ دوں گا۔“ اب گھوڑے کا نام نہ لو۔ میں تمھیں اس کے بارے میں کچھ نہ کہوں گا۔ میری درخواست صرف یہ ہے کہ اس واقعے کا ذکر نہ ہونے پائے۔
کلہن کا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا۔ اسے خیال تھا کہ بابا بھارتی اس چوری کی اطلاع پلس میں دے کر مجھے گرفتار کرا دیں گے۔ وہ سوچ رہا تھا کہ مجھے اس گھوڑے کو لے کر روپوش ہو جانا چاہیے۔ اس نے بابا بھارتی کے چہرے پر اپنی آنکھیں گاڑیں اور پوچھا: ”بابا صاحب! اس میں آپ کو کیا خطرہ ہے؟
بابا بھارتی نے جواب دیا: ” لوگوں کو اگر اس واقعے کا علم ہو گیا تو وہ کسی غریب پر اعتبار نہ کریں گے۔
اور یہ کہتے کہتے انھوں نے سلطان کی طرف سے اس طرح منہ موڑ لیا جیسے ان کا اس سے کوئی واسطہ نہ تھا۔ با یا بھارتی تو چلے گئے مگر ان کا فقر کلہن کے کانوں میں اب تک گونج رہا تھا۔ سوچتا تھا بابابھارتی کا خیال کتنا اونچا
ہے۔ اگر چہ بابا صاحب کو اس گھوڑے سے عشق تھا، مگر آج ان کے چہرے پر ذرا بھی ملال نہ تھا۔ انھیں صرف یہ
خیال ستارہ تھا کہ کہیں لوگ غریبوں پر اعتبار کرنا نہ چھوڑ دیں۔ انھوں نے اپنے ذاتی نقصان کو انسانیت کے نقصان پر قربان کر دیا۔ ایسا آدمی آدمی نہیں فرشتہ ہے۔
رات کی تاریکی میں کلہن بابا بھارتی کے گھر پہنچا۔ چاروں طرف سناٹا تھا۔ آسمان پر تارے ٹمٹمارہے تھے۔ کلہن سلطان کی لگام پکڑے آہستہ آہستہ اسطبل کے دروازے پر پہنچا۔ دروازہ کھلا تھا۔ کبھی وہاں بابا بھارتی لاٹھی
لے کر پہرہ دیتے تھے۔ کلہن نے آگے بڑھ کر سلطان کو اس کی جگہ پر باندھ دیا اور باہر نکل کر دروازہ احتیاط سے بند کر دیا۔ اس وقت اس کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔
صبح ہوتے ہی بایا بھارتی نے اپنے کمرے سے نکل کر سرد پانی سے غسل کیا۔ اس کے بعد ان کے پاؤں اسطبل کی طرف اس طرح بڑ ھے جیسے کوئی خواب میں چل رہا ہو مگر دروازے پر پہنچتے ہی وہ چونک پڑے۔ انھیں اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اب گھوڑا وہاں کہاں تھا۔
گھوڑے نے اپنے مالک کے قدموں کی چاپ کو پہچان لیا اور زور سے ہنہنایا۔ بابا بھارتی دوڑتے ہوئے اصطبل کے اندر چلے گئے اور اپنے گھوڑے کے گلے سے لپٹ کر اس طرح رونے لگے جیسے بچھڑا ہوا  باپ مدت کے بعد بیٹے سے مل کر روتا ہے۔ بار بار اس کی گردن پر ہاتھ پھیرتے اور کہتے تھے اب کوئی غریبوں کی مدد کرنے سے انکار نہ کرے گا۔
سدرشن
سوچیے اور بتائیے
1.  بابا بھارتی اپنا گھوڑا دیکھ کر کیوں خوش ہوتے تھے ؟
جواب: بابا بھارتی اپنا گھوڑا دیکھ کر اس لیے خوش ہوتے تھے کیونکہ ان کا گھوڑا بہت ہی خوب صورت تھا۔ اس کے مقابلہ کا گھوڑا پورے علاقے میں نہ تھا۔

2.  بابا بھارتی کے گھوڑے کی چال کیسی تھی؟
جواب: بابا بھارتی کے گھوڑے کی چال ایسی تھی جیسے طاؤس اودی اودی گھٹاوں میں ناچ رہا ہو۔

3.  کلہن کون تھا؟ بابا اس سے خوفزدہ کیوں رہتے تھے؟
جواب: کلہن اس علاقہ کا مشہور ڈاکو تھا بابا اس سے خوفزدہ اس لیے تھا کیوں کہ اس کی نظر بابا بھارتی کے گھوڑے پر تھی اور وہ اسے حاصل کرنا چاہتا تھا۔

سوال: بابا بھارتی کا گھوڑا دیکھ کر کلہن کے سینے پر سانپ کیوں لوٹ گئے؟
جواب: چوںکہ بابا بھارتی کا گھوڑابہت ہی خوب صورت تھا اس کے مقابلہ کا گھوڑا پورے علاقے میں نہ تھا اس لیے کلہن کو اسے پانے کی چاہ ہوئی۔

سوال: اپاہج بن کر بابا بھارتی سے کس نے مدد مانگی؟
جواب: اپاہج بن کر بابا بھارتی سے کلہن نے مدد مانگی۔

سوال: بابا بھارتی نےکلہن سے کیا درخواست کی؟
جواب: بابا بھارتی نےکلہن سےدرخواست کی کہ کسی سے اس واقعہ کا ذکر نہ کرنا ۔

سوال: بابا بھارتی نے کلہن سے کیوں کہا کہ واقعہ کا ذکر کسی سے نہ کرنا؟
جواب: بابا نے ایسا اس لیے کہا کہ اگر لوگوں کو اس واقعے کا پتہ چلے گا تو وہ غریبوں اور معذوروں کی مدد کرنا چھوڑ دیں گے ۔

سوال: کلہن نے بابا بھارتی کہ بارے میں کیا سوچ کر گھوڑا ان کے اصطبل میں باندھ دیا؟
جواب: کلہن نے سوچا انہیں صرف یہ خیال ستا رہا ہے کہ کہیں لوگ غریبوں پر اعتبار کرنا چھوڑ نہ دیں۔ انہوں نے اپنے ذاتی نقصان کو انسانیت کے نقصان پر قربان کر دیا ۔ کلہن بابا بھارتی کے اچھے کردار سے متاثر ہوگیا اور یہ سوچ کر اس نے گھوڑا بابا بھارتی کہ اصطبل میں باندھ دیا ۔

سوال: اپنے گھوڑے کو واپس پا کر بابا بھارتی نے کیا کہا ؟
جواب: گھوڑے کو واپس پا کر بابا بھارتی نے کہا اب کوئی غریبوں کی مدد کرنے سےانکار نہیں کرے گا۔

نیچے لکھے ہوئی لفظوں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔
لہلہانا : باغ میں پھول لہلہا رہے تھے۔
فریفتہ : وہ اپنے استاد پر فریفتہ تھا۔
خوف : خوف ِخدا سے اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔
مہربانی : ہمیں سب سے مہربانی سے پیش آنا چاہیے۔
قسمت :  قسمت کے بھروسے بیٹھے رہنا ٹھیک نہیں۔
مدد : ہمیں دوسروں کی مدد کرنی چاہیے۔
بے پروا : صبا اپنے کام سے بے پروا ہے۔
درخواست : نسیم نے احمد سے مدد کی درخواست کی۔
قوت : مکے باز نے پوری قوت سے گھونسہ مارا۔
احتیاط : مچھلی کھانے میں احتیاط برتنی چاہیے۔

عملی کام
خوف زدہ ، خبر گیری ، بے پروا اور روپوش مرکب الفاظ ہیں ۔ مرکب سے مراد ایسا لفظ ہے جس میں ایک سے زیاده لفظ اس طرح مل گئے ہوں یا ملا دیے گئے ہوں کہ ان سے ایک ہی معنی لیے جاتے ہوں ۔ اس طرح آپ بھی پانچ نئے لفظ بنائیے۔

غور کیجیے اور لکھیے۔
بابا بھارتی#######دہلی#########گنگا
لڑکا###########گھوڑا#######دریا
روشنی####### خوشی #######غصّہ

* پہلی قسم کے نام خاص ہیں یا کسی خاص آدمی یا کسی شہر یا کسی خاص دریا کے لیے استعمال ہوئے ہیں انہیں اسم خاص یا اسم معرفہ کہتے ہیں۔ 
* دوسری قسم کے نام عام ہیں کہ کوئی بھی لڑکا یا کوئی بھی گھوڑا کوئی بھی دریا ہوسکتا ہے انھیں اسم عام یا اسم نکرہ کہتے ہیں۔
 * تیسری قسم کے نام کسی خاص حالت با کیفیت کو ظاہر کرتے ہیں ۔ انھیں اسم کیفیت کہتے ہیں۔ 
آپ بھی ان تینوں قسموں کے اسم تین تین سوچ کر لکھیے۔
شاہجہاں####### آگرہ ####### جمنا
لڑکی ####### بکری#######  ندی
اندھیرا ####### برائی#######  دوستی

غور کرنے کی بات 
*  پنڈت سدرشن اردو کے مشہور افسانہ نگار تھے۔ انھوں نے کئی دلچسپ اور سبق آموز کہانیاں لکھی ہیں ۔ 
*  کاہن ڈاکو بابا بھارتی کے گھوڑے کو دھوکے سے حاصل تو کر لیتا ہے لیکن وہ بابا بھارتی کے حسن اخلاق سے متاثر ہوکر گھوڑے کولوٹا دیتا ہے۔
* ہمیں یہ غور کرنا چاہیے کہ اچھے کردار کے اثر سے برے لوگ بھی متاثر ہوجاتے ہیں اور وہ اچھا عمل کرنے کی کوشش کرنے لگتے ہیں۔

0 comments:

Post a comment

خوش خبری