آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Wednesday, 15 August 2018

Mitti Ka Diya - NCERT Solutions Class VI Urdu

مٹّی کا دِیا
الطاف حسین حالی

جُھٹ پُٹے کے وقت گھر سے ایک مٹّی کا دِیا
 ایک بُڑھیا نے سرِ رہ لا کے روشن کر دیا

 تا کہ رہ گیر اور پردیسی کہیں ٹھو کر نہ کھائیں 
راہ سے آساں گزر جائے ہر اک چھوٹا بڑا

 یہ دِیا بہتر ہے اُن جھاڑوں سے اور فانوس سے 
روشنی محلوں کے اندر ہی رہی جن کی سدا

گر نکل کر اک ذرا محلوں سے باہر دیکھیے
ہے اندھیرا گُھپ در و دیوار پر چھایا ہوا 

سُرخ رو آفاق میں وہ رہ نما مینار ہیں
روشنی سے جن کی ملّاحوں کے بیڑے پار ہیں

خلاصہ:
اس نظم میں خواجہ الطاف حسین حالی نے دوسروں کے ساتھ بھلائی اور نیکی کی ترغیب دی ہے۔ انہوں نے ”مٹی کا دیا“ لوگوں کے کتنے کام آتا ہے یہ بتایا ہے۔ حالی نے اس نظم میں ایک بڑھیا کی کہانی بیان کی ہے جو شام کے وقت اپنے دروازے کے باہر ایک مٹی کا دیا جلاکر رکھ دیتی ہے تاکہ رات میں جو مسافر گزریں انہیں کوئی پریشانی نہ ہو اور وہ رستے میں ٹھوکر نہ کھائیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ دِیا اس جھاڑ و فانوس سے بہتر ہے جو محلوں کے اندر جگمگاتا ہے۔ لیکن اس کی روشنی محلوں کے اندر ہی رہ جاتی ہے۔ اگر ان محلوں سے باہر نکل کر دیکھا جاتا ہے تو وہاں گہرا اندھیرا چھایا ہوتا ہے۔ حالی پھر ان رہنما میناروں کی تعریف کرتے ہیں جو سمندر میں ملاحوں کو راستہ دکھاتے ہیں۔
سوچیے اور بتائیے
1۔بڑھیانے مٹّی کا دِیا کس وقت روشن کیا؟
جواب:سورج غروب ہونے کے وقت بڑھیانےمٹّی کا دِیا روشن کیا-

2۔راستے میں مٹّی کا دیا روشن کرنے کاکیا مقصد تھا؟
جواب: راستے میں مٹّی کا دیا روشن کرنے کا مقصد یہ تھا کہ رہ گیر  ٹھوکر کھانے سے بچ  جائیں اور اپنا راستہ آسانی سے پار کرلیں۔

3۔ مٹّی کا دِیا جھاڑ اور فانوس سے بہتر کیوں ہے؟
جواب:مٹّی کا دِیا جھاڑ اور فانوس سے بہتر اس لیے ہے کہ جھاڑ اور فانوس دوسروں کو فائدہ نہیں پہنچاتے بلکہ یہ صرف گھر کی زینت کے لیے ہوتے ہیں ۔ دوسروں کو فائدہ پہچانے کے لئے بہت زیادہ قیمتی چیزوں اور روپے پیسے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ مدد کرنے کے جذبے اور درد مند دل کی ضرورت ہوتی ہے۔

4۔ محلوں کے باہر اندھیرا ہونے سے شاعر کی کیا مراد ہے؟
جواب : شاعر کہنا چاہتا ہے کہ محلوں میں رہنے والے لوگوں کو باہر کے اندھیرے کا علم نہیں ہوتا کیوں کہ ان کے پاس ہمیشہ روشنی رہتی ہے۔

5۔ رات میں ملّاحوں کو راستہ دکھانے میں کون سی چیز مدد کرتی ہے؟
جواب : رات میں ملّاحوں کو راستہ دکھانے میں رہ نما مینار مدد کرتا ہے۔

6۔دوسروں کی بھلائی کے لئے ہم کیا کیا کام کر سکتے ہیں؟
جواب : دوسروں کی بھلائی کے لئے ہم بہت کچھ کر سکتے ہیں، دوسروں کو فائدہ پہچانے کے لئے بہت زیادہ قیمتی چیزوں اور روپے پیسے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ مدد کرنے کے جذبے اور دردمند دل کی ضرورت ہوتی ہے۔

معنی یاد کیجیے
جھُٹ پُٹے کے وقت : سورج ڈوبنے کے وقت، شام کے وقت
سرِرہ : راستے میں
رہ گیر : راستہ چلنے والا، راہی
پر دیسی : مسافر، دوسری جگہ کا رہنے والا 
جھاڑ : شیشے کا بنا ہوا ایک قسم کا شمع دان
فانوس : چراغ کی حفاظت کرنے والا شیشہ، چمنی
سدا : ہمیشہ
سرخ رو : کامیاب
آفاق  : افق کی جمع، دنیا، کائنات 
رہنما مینار : وہ روشن مینارجو سمندروں میں جہازوں اور کشتیوں کو راستہ دکھانے میں مدد کرتے ہیں۔ 
ملّاح : کشتی چلانے والا
بیڑے : جہازوں اور کشتیوں کا قافلہ
بیڑہ پار ہونا  : منزل پر پہنچنا، کامیاب ہونا 
ان لفظوں کے متضاد لکھیے
آسان : مشکل
بہتر : بدتر
روشنی : تاریکی
محل  : جھونپڑی 
اندھیرا  : روشنی 

مصرعے مکمل کیجیے
1. جھُٹ پُٹے کے وقت گھر سے ایک مٹی کا دیا
2. تاکہ رہ گیر اور پردیسی کہیں ٹھوکر نہ کھائیں
3. راہ سے آساں گزر جائے ہر اک  چھوٹا بڑا
4. روشنی سے جن کی ملاحوں کے بیڑے پار ہیں

املا درست کیجیے
بُڑیا : بڑھیا
آصان : آسان
فانوص : فانوس
پردیصی : پردیسی
مہلوں  : محلوں 
بہطر  : بہتر 
صُرخ  : سُرخ 
کالم’الف‘ اور کالم ’ب‘ کے مصرعوں کو ملا کر صحیح شعر لکھیے
(الف)    (ب) 
 جھٹ پٹے کے وقت گھر سے ایک مٹّی کا دیا    تا کہ رہ گیر اور پردیسی کہیں ٹھوکر نہ کھائیں 
راہ سے آساں گزر جائے ہر اک چھوٹا بڑا      ایک بڑھیا نے سر رہ لا کے روشن کر دیا
 روشنی محلوں کے اندر ہی رہی جن کی سدا   یہ دیا بہتر ہے ان جھاڑوں سے اور فانوس سے
جواب:
جھٹ پٹے کے وقت گھر سے ایک مٹّی کا دیا
ایک بڑھیا نے سر رہ لا کے روشن کر دیا
 تا کہ رہ گیر اور پردیسی کہیں ٹھوکر نہ کھائیں
 راہ سے آساں گزر جائے ہر اک چھوٹا بڑا
 یہ دیا بہتر ہے ان جھاڑوں سے اور فانوس سے
روشنی محلوں کے اندر ہی رہی جن کی سدا

لکھیے
1. اس نظم کا مطلب اپنے لفظوں میں لکھیے 
اس نظم کا مطلب اوپر خلاصہ میں بیان کیا گیا ہے۔
2. آپ نے بھلائی کا کوئی کام ضرور کیا ہوگا، اسے اپنے الفاظ میں لکھیے
بزرگوں نے کہا ہے کہ کسی کے ساتھ بھلائی کرو تو ایسے کہ کسی کو اس کی خبر نہ ہو۔ لیکن اس سوال کے جواب میں میں صرف اتنا بتانا چاہوں گی/گا کہ ہر سال جب میں اگلے درجہ میں جاتی/جاتا ہوں تو اپنی پچھلے کلاس کی کتابیں اس لڑکی کو دے دیتی/دیتا ہوں جو نئی کتابیں نہیں خرید سکتیں/سکتے۔ میں اس بات کی کسی کو خبر نہیں لگنے دیتی/دیتا کہ اس لڑکی/لڑکے کو شرمندگی نہ ہو۔
(لڑکیاں اور لڑکے اپنے حساب سے صیغہ استعمال کریں۔)
غور کرنے کی بات
آپ نے پڑھا  کہ مٹّی کے معمولی دیے سے راہ گیروں کو کتنا فائدہ ہوا۔ وہ ٹھوکر کھانے سے بچ گئے اور دیے کی تھوڑی سی روشنی میں انھوں نے آسانی سے راستہ پار کرلیا۔ اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ لوگوں کی مدد کرنے اور دوسروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے بہت زیادہ قیمتی چیزوں اور روپے پیسے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ مدد کرنے کے جذبے اور دردمند دل کی ضرورت ہوتی ہے۔ بڑا آدمی وہی ہے جو دوسروں کے کام آئے۔


دیگر اسباق کے لیے کلک کریں

1 comment:

  1. بہت خوب! بہترین انداز میں نظم کی وضاحت کرتے ہوئے لسانی مہارتوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔

    ReplyDelete

خوش خبری