آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Saturday, 17 August 2019

Neki aur badi - NCERT Solutions Class X Urdu

نیکی اور بدی

ہے دُنیا جس کا ناؤں میاں یہ اور طرح کی بستی ہے 
جو مہنگوں کو تو مہنگی ہے اور سَستوں کو یہ سَستی ہے
 یاں ہر دم جھگڑے اُٹھتے ہیں ہر آن عدالت بستی ہے
گر مَست کرے تو مستی ہے اور پَست کرے تو پستی ہے

کچھ دیر نہیں اندھیر نہیں، انصاف اور عدل پرستی ہے
 اس ہاتھ کرو اس ہاتھ مِلے، یاں سودا دست بدستی ہے 

جو اور کسی کا مان رکھے تو پھر اس کو بھی مان مِلے
 جو پان کھلاوے پان ملے، جو روٹی دے تو نان ملے
 نقصان کرے نقصان ملے، احسان کرے احسان ملے
 جو جیسا جس کے ساتھ کرے، پھرویسا اس کو آن ملے

کچھ دیر نہیں اندھیر نہیں، انصاف اور عدل پرستی ہے
اس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بدستی ہے

 جو پار اتارے اوروں کو اس کی بھی ناؤ اترنی ہے 
جو غرق کرے پھر اس کو بھی یاں ڈُبکوں ڈُبکوں کرنی ہے
 شمشیر، تبر، بندوق، سناں اور نشتر، تیر، نہرنی ہے 
یاں جیسی جیسی کرنی ہے پھر ویسی ویسی بھرنی ہے

کچھ دیر نہیں اندھیر نہیں، انصاف اور عدل پرستی ہے
اس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بدستی ہے 

جو اور کا اونچا بول کرے تو اُس کا بول بھی بالا ہے 
اور دے پٹکے تو اُس کو بھی پِھر کوئی  پٹکنے والا ہے
بے ظُلم و خطا جس ظالم نے مظلوم ذبح کر ڈالا ہے
 اس ظالم کے بھی لوہو کا پھر بہتا ندّی نالا ہے

کچھ دیر نہیں اندھیر نہیں، انصاف اور عدل پرستی ہے
اس ہاتھ کرو اس ہاتھ مِلے یاں سودا دست بدستی ہے


نظیر اکبر آبادی
(1740-1830)

نظیر اکبر آبادی کا پورا نام ولی محمد تھا۔ وہ دہلی میں پیدا ہوئے۔ اپنے خاندان کے ساتھ آگرے میں آ کر بس گئے۔ نظیر عوامی شاعر تھے۔ ان کی شاعری میں ہندوستانی ماحول کی عکّاسی کی گئی ہے۔ انھوں نے یہاں کے موسموں، میلوں، تہواروں اور انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر بہت سی نظمیں لکھی ہیں ۔ سامنے کے موضوعات کو سیدھی سادی زبان میں بیان کرنا نظیر کی بہت بڑی خوبی ہے۔ ان کے پاس الفاظ کا غیر معمولی ذخیرہ تھا۔ وہ موقعے اور موضوع کے اعتبار سے مناسب الفاظ کا استعمال کرتے ہیں ۔ ان کے کلام میں تاثیر بہت ہے۔
’روٹیاں‘، ’بنجارا نامہ‘،’ مفلسی‘، ’ہولی‘،’ آدمی نامہ‘ اور ’کرشن کنہیا کا بال پن‘ وغیرہ ان کی مشہور نظمیں ہیں۔ اسی طرح ہنددستان کے مختلف موسموں، پھلوں اور شخصیتوں پر نظیر کی نظمیں بھی اپنی خاص پہچان رکھتی ہیں۔ وہ اردو کے معروف شاعر تھے۔

مشق

معنی یاد کیجیے: 
عدل پرستی : انصاف پرستی
شمشیر : تلوار
تبر : کلہاڑی جیسا بڑا ہتھیار
سناں : بھالا
بالا : اونچا، بلند
دست بدستی : ہاتھوں ہاتھ،” ایک ہاتھ سے دینا، دوسرے ہاتھ سے لینا“، کسی چیز کا ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں پہنچانا
نان : روٹی
غرق کرنا : ڈبونا
نہرنی : ناخن کاٹنے کا آلہ

غور کیجیے:
* اس نظم میں ناؤں، یاں اور لوہو جیسے الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے۔ پہلے یہ الفاظ رائج تھے۔ آج کل ناؤں کو نام، یاں کو یہاں اور لوہو کو لہو کہا جاتا ہے۔
*  نظم میں ایک لفظ” ذبح“ بھی آیا ہے۔ اس کا صحیح تلّفظ ’ب‘ اور‘ح‘ پر جزم کے ساتھ ہے۔

سوچیے اور بتائیے:
1. نظم کے پہلے بند میں دنیا کو کس طرح کی بستي بتایا گیا ہے؟
جواب: اس نظم میں دنیا کو ایک ایسی بستی بتایا گیا ہے جو امیروں کے لیے تو مہنگی ہے اور غریبوں کے لیے سستی ہے۔ دنیا میں ہر وقت جھگڑے اور عدالتیں ہیں اور جو یہاں مست ہیں وہ مستی سے رہتے ہیں اور جو سست ہیں ان کے لیے پستی ہے۔

2. ’کچھ دیر نہیں اندھیر نہیں‘ سے شاعر کی کیا مراد ہے؟
جواب: ’کچھ دیر نہیں اندھیر نہیں‘ سے شاعر کی مراد ہے کے اگر ابھی مصیبت ہے پھر بھی کچھ وقت کے بعد اُس کا حل نکل جائے گا  اور پریشانی ختم ہو جائیگی۔ مشہور مقولہ ہے اللہ کے گھر دیر ہے لیکن اندھیر نہیں۔

3. کس کی ناؤ پار اترتی ہے؟
جواب: اس شعر کامطلب ہے جو دوسروں کی مدد کرتا ہے اللہ  بھی اس کی مدد کرتا ہے- یعنی جو دوسروں کی نیّا پار اتارتا ہے اس کی بھی ناؤ پار لگ جاتی ہے۔

4. ظالم کو ظلم کا کیا بدلہ ملتا ہے؟
جواب: ظالم کو اس کے ظلم کی بدترین سزا ملتی ہے۔ اگر وہ ناحق کسی کا خون بہاتا ہے تو پھر اس کا خون بھی ندی نالوں میں بہہ جاتا ہے۔ ہر ظالم کو سزا ملنی یقینی ہے۔

محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجیے:
جیسی کرنی ویسی بھرنی  : ظالم کے انجام کو دیکھ کر  سب نے کہا  جیسی کرنی ویسی بھرنی ۔
بول بالا ہونا: اس کے نام کا بول بالا پوری دنیا میں ہوگیا۔
پار اتارنا : ملاح نے اس کی نیّا پار اتار دی۔
مان رکھنا: احمد نے استاد کی باتوں کا مان رکھا۔

خالی جگہوں میں اسم یافعل بھریے: 
1. یہ دنیا اور طرح کی ..........بستی........... ہے۔
2. یہاں ہر دم جھگڑے ......اٹھتے........... رہتے ہیں ۔
3. جو اوروں کو پار اتارتا ہے اس کی ناؤ بھی پار ........اتاری.......... جاتی ہے۔ 

عملی کام :
* آپ کو جو محاورے یاد ہیں ان میں سے تین محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجیے۔
تھالی کا بیگن ہونا: کئی لیڈر تھالی کا بیگن بنے رہتے ہیں۔
آگ بگولہ ہونا: کام پورا نہ ہونے پرافسر اپنے ماتحت پر آگ بگولہ ہوگیا۔
سرشار ہونا: رزلٹ دیکھ کر محتشم خوشی سے سرشار ہوگیا۔


کلک برائے دیگر اسباق

1 comment:

خوش خبری