آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Saturday, 11 April 2020

Ghazal - Rakhshan Abdali

<

غزل
رخشاں ابدالی

تھوڑی سی ملا دیجئے مَے بھی جو دوا میں
اکسیر ہی بَن جائے گی تاثیر و شفا میں

پیشانی پر بَل ہو نہ ذرا حکمِ قضا پر
دل! دیکھ نہ دھبّہ لگے دامانِ رضا میں

ہِر پھِر کے یہیں جاتی ہیں جَم اپنی نگاہیں
کیا جذب و کشش ہے ترےنقشِ کفِ پا میں

ہم خوگر بیداد ہیں، بیداد میں خوش ہیں
وہ اور ہیں خورسند جو ہوں لُطف و عطا میں

کیوں تم کو ستم کرنے میں اب ہے یہ تکلّف
شک تم کویہ کیوں ہونے لگا میری وفا میں

کم حوصلگی تیری غضب ہے دلِ ناداں!
آرام کی!ہے فکر!تجھے راہِ! وفا !میں

دل سوزِ یقیں سے جو ہوئے خالی تو رخشاں
لہجہ میں صداقت ہے نہ تاثیر دعا میں
(المجیب ، اگست۱۹۷۰)

0 comments:

Post a comment

خوش خبری