آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Monday, 6 April 2020

Khuda Hafiz By Shaukat Thanvi - NCERT Solutions Class IX Urdu

Khuda Hafiz a drama by Shaukat Thanvi   Chapter 9 NCERT Solutions Urdu
(اس صفحہ پر ابھی کام جاری ہے)

خداحافظ
شوکت تھانوی

(میر صاحب اپنے مصاحب اور تمام احباب میں بیٹھے ہوئے سفر کے متعلق تبادلہ خیالات کررہے ہیں)
میر صاحب : اماں تم ہی بتاؤ مرزا صاحب کہ اس ریل کے سفر میں نصیب دشمناں جان جو کھم تو نہیں ہے۔
مرزا صاحب : آپ کی بھئی واللہ کیا باتیں ہیں ۔ یعنی میں کہہ تو رہا ہوں کہ اس ریل کے سفر میں سر کے بال سفید کر لیے ہیں ۔ پھر آپ کا یہ سفر تو قدم کبیر کا ہے۔
میر صاحب : انشاء اللہ! مگر بھی بات یہ ہے کہ یہ پہلا اتفاق ہے، اسی سے بھی گھبراتا ہے۔ اماں تم بھی چلو نا ساتھ تم کو ذرا اس سفر کا تجربہ ہے اور میں بالکل نیا آدمی تمہارے سر عزیز کی تم کیا انھوں نچتا ہے۔
مرزا صاحب : اگر آپ کہتے ہیں تو مجھے کیا عذر ہوسکتا ہے مگر آپ نے تو والد کمال کر دیا۔ اس زمانے میں آپ ایسے بہت ملیں گے جور یں کے سفر سے ناواقف ہوں۔
میر صاحب : بھئی یقین جانو میں خاندانی وضع کے خلاف یہ بات کر رہا ہوں ۔ اللہ جنت نصیب کرے۔ ابا جان مرحوم تو بھی اس محلے سے باہر نہ نکلے تھے اور خدا بخشے دادا جان مرحوم کے متعلق مشہور ہے کہ وہ بھی اپنے گھر سے باہر نہیں نکلے۔ ایک میں ہوں کہ میں چھوڑ کر پردیس کی ٹھانی ہے۔
(دروازہ کھولنے اور احباب کی آواز)
مرزا صاحب : لیجیے لیجیے شیخ صاحب بھی تشریف لے آئے۔
شیخ صاحب : (آگے آ کر ) آداب بجالاتا ہوں حضور والا۔
میر صاحب : تسلیمات عرض ہے بھائی صاحب !خوب تشریف لے آئے۔
شیخ صاحب : جی ہاں! ابھی سنا تھا کہ سواری نہیں سیر و سیاحت کو جارہی ہے۔
میر صاحب : لو اور سنو، یہ سیر و سیاحت ہے کہ آدی دلیس چھوڑ کر پولیس کا ہو جائے ۔ مگر کیاکروں مجبور ہوں ۔ جائداد کا مقدمہ ہے۔ نہیں جانتا ہوں تو خاندانی جانداوجاتی ہے ورنہ بھائی تم جانتے ہو کہ ہمارے خاندان کو سفر سے کیا علاقہ ؟
شیخ صاحب : بجا فرماتے ہیں آپ، بے شک تشریف لے جانا نہایت ضروری ہے۔
مرزا صاحب : بھائی صاحب ہمارے میر صاحب ریلی کے سفر سے سخت پریشان ہیں ۔آپ ہی کچھ سمجھایئے۔
میر صاحب : میں پریشان ہوں البتہ پہلا اتفاق ہے اور سواری بھی وہ ایک جس کی نہ لگام جس پر چا بک کا اثر اور نا ہے پھر بھی وہ ہوا سے باتیں کرتی ہے۔
شیخ صاحب : اے جناب اس میں ذرا بھی تشویش کی بات نہیں ۔ میں خود برابر سفر کرتا رہتاہوں ۔ نہایت آرام کی سواری ہے۔
مرزا صاحب : میں نے پہلے عرض کیا تھالیکن آپ کو اطمینان نہیں ہوتا اور جو بھی ساتھ لیے جاتے ہیں۔
میر صاحب : تو کیا شیخ صاحب قبلہ کو میں چھوڑ دوں گا؟
شیخ صاحب : نہیں حضرت میں تو معافی چاہوں گا آج کل گھر میں ذراعلیل ہیں اور خود مجھےکو بھی منی سے چھینکیں آرہی ہیں۔
میر صاحب : یہ تو واللہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ہم پر دائیں کو سدھاریں اور ہمارے احباب دلیس میں رہیں ۔ آپ کو تو میں چھوڑ ہی نہیں سکتا۔
مرزا صاحب : بھائی صاحب آپ نے بھی میر صاحب قبل کی کسی بات میں کوئی عذر نہیں کیا۔
شیخ صاحب : میں اور عذرکروں استغفراللہ - میں تو صرف اجازت چاہتا ہوں ۔ وہ بھی اگرمنظور نہیں ہے تو جو کم ہو، بنده حاضر ہے۔
میر صاحب : بس تو صاحب آپ فورا گھر تشریف لے جا کر الٹے پیروں واپس آجایئے۔اس لیے کہ اب وقت کم ہے۔
شیخ صاحب : گاڑی چار بجے جاتی ہے اور ابھی ایک ہی تو بجا ہے۔
میر صاحب : یہ درست ہے مگر کیا اعتبار اس بے لگام گھوڑے کی گاڑی کا اور جو پہلے چل دے۔
مرزا صاحب : جی نہیں ایسا نہیں ہوسکتا مگر احتیاط اچھی چیز ہے۔ اگر گھنٹہ دو گھنٹے پہلے اسٹیشن پہنچ جائیں تو اچھا ہے۔
شیخ صاحب : تو میں اجازت چاہتا ہوں ۔ ابھی ذرا حاضر ہوا۔
میر صاحب : بسم اللہ مگر چشم براہ ہوں۔
شیخ صاحب : میں ابھی حاضر ہوا۔ بس گیا اور کیا (جاتا ہے)
(پیروں کی چاپ ، دروازے کی آواز ، دولت آتا ہے۔)
میر صاحب : کیوں دولت کیا ہے؟
دولت : سرکار بستر میں تھے، تکنیاں ، تو شک، چادر، شال - پنگ پوش رکھ دیا ہے اورکچھ تو نہ رکھا جائے گا؟
میر صاحب : اورلحاف۔
مرزا صاحب : ایں یعنی اس گرمی میں لحاف بھی لے جائے گا۔
میر صاحب : بھائی پر ریل کا معاملہ ہے۔ معلوم نہیں وہاں کا موسم کیسا ہو۔
مرزا صاحب : چار قدم پر وہ جگہ جہاں آپ تشریف لے جارہے ہیں ۔ وہاں کا موسم وہی ہے جو یہاں کا۔
میر صاحب : پھر بھی اگر لحاف رکھ لیا جائے تو کیا مضائقہ ہے اور ہاں مچھر دانی بھی بستر میں رکھ دینا۔
دولت : سرکار مچھر دانی کے بانس بھی۔
میر صاحب : بانس ہیں تو ضروری نگر کیوں بھئی مرزاصاحب! بانسوں میں ذرا طوالت ہے۔
مرزا صاحب : اجی بانس وانس نہیں جو دیکھے گا ہنسے گا۔
میر صاحب : اچھا بانس نہ رکھ کر دیکھو ایک آدھہ قالین اور ایک آدھ گاؤ تکیہ تھے ہیں علاحده ضرور باندھ لینا۔
مرزا صاحب : یہ سب کیا ہو گا؟
میر صاحب : لیکن کیا وہاں بیٹھنے وچھنے کی ضرورت نہ ہوگی؟
مرزا صاحب : دن بھر کا قیام ہے اور ایک رات گزار کر واپسی کا ارادہ ہے ۔ اس کے لیے یہ سب جھگڑا۔
میر صاحب : تو آخر بے سروسامانی کے سفر سے کیا حاصل؟
مرزا صاحب : بہتر ہے اگر آپ کی یہی مرضی ہے تو مناسب ہے۔
دولت : سرکار کوئی اور چیز؟
میر صاحب : کپڑوں کے دونوں بکس،لوٹے طشت، بٹن دانی ، صابن دانی منجن دانی ، تولیے، چائے کے لیے پتیلی ، گلاس، تھالیاں، انگیٹھی، کوئلوں کا تھیلا، چائے کے سب برتن وغیرہ رکھ لیے ہیں۔
مرزا صاحب : خدا کی پناہ! آخراتنا سامان۔
میر صاحب : بھائی پردیس کا معاملہ ہے کیا گھر سے یونہی چل دیا جائے۔
(دروازہ کھلتا ہے، رونق ملازمہ آتی ہے۔)
میر صاحب : کیا ہے رونق؟
رونق : الله سلامتی رکھے۔
میر صاحب : اری نیک بخت، کشتی میں کیا لائی ہے؟
رونق : قربان جاؤں سرکار کی بڑی بیگم کے یہاں سے گلوریاں، پھول اور امام ضامن بھیجے ہیں۔
میر صاحب : اچھا اچھا رکھو اور بڑی بیگم کو سلام کہلا دو۔
رونق : سرکار ابھی تو اور کشتیاں بھی ہیں۔
میر صاحب : یعنی اور ہیں ابھی؟
رونق : جی ہاں سرکار۔ اللہ رکھے سردار دلہن، بہو بیگم شمشاد بیگم نورمحل، قمر دلہن سب ہی نے تو امام ضامن بھیجے ہیں۔
میر صاحب : خوب خوب لاؤ بھئی ، وہ کشتیاں بھی لے آؤ۔
رونق : اور اللہ سلامتی رکھے، بہو بیگم اور قمر بہن نے ناشتہ بھی بھیجا ہے۔
میر صاحب : اس تکلف کی آخر کیا ضرورت تھی خیر ناشتہ و دولت کو دے دے اور کشتیاںیہاں لے آ۔
رونق : اور سرکار بیگم صاحب نے کہا ہے کہ زری محل میں بھی تشریف لے آئیں۔
میر صاحب : اچھاتو چل میں آتا ہوں۔
(روق چلی جاتی ہے۔)
میر صاحب : کیوں بھئی مرزا تو میں ہو آوں ذرا محل میں؟
مرزا صاحب : بسم اللہ ضرور تشریف لے جائیں اور میرا آداب بھی عرض کر یں بیگم صاحبسے۔ میں جب تک ذرا گھر سے ہوآ وں ۔
میر صاحب : نہیں بھائی صاحب نہیں ہوسکتا گاڑی کا وقت قریب ہے۔
مرزا صاحب : حضرت میں ابھی حاضر ہوا۔ غریب خانہ کون سا دور ہے۔
میر صاحب مگر بھئی جلدی آنا۔
مرزا صاحب : میں ابھی الٹے پیروں واپس آیا۔
(مرزاصاحب جاتے ہیں پیروں کی چاپ اور دروازے کی آواز سنائی دیتی ہے۔)
میر صاحب : اچھامیں ذرا ہوہی آؤں گل میں۔
( دروازہ کھلتا ہے بیگم آتی ہیں۔)
بیگم : اے میں کہتی ہوں سدھارنے کا وقت آ گیا اور باہر سے آنے کول ہی نہیں چاہتا۔
میر صاحب : نہیں تو بیگم میں تو بس آہی رہا تھا۔ فرامرز اصاحب اور شیخ صاحب کو ساتھ لے جانے کے لیے تیارکر رہا تھا۔
بیگم : تووہ تیار ہو گئے۔ چلو اچھا ہوا، دل بھی پہلے گا اورا کیے بھی نور ہوگئے۔
میر صاحب : ہاں صاحب ! اب اطمینان ہو گیا۔ پولیس کا معاملہ ہے ایک سے دو بھلے۔
بیگنم : مگر میرایی لگا رہے گا ، جاتے ہی خط ڈال دینا۔
میر صاحب : بھلا بھی کوئی کہنے کی بات ہے۔
بیگم : اچھا جیسے آج میں سے گئے تو کب پہنچو گے؟
میر صاحب : آج ہی بس چھے ہے۔
بیگم : چلو ہٹو، چلے ہیں مجھ سے مذاق کرنے ۔ چالیس کوس کا سفر ہے اور آج ہی بن جائیں گے بے چارے۔
میر صاحب : تمھارے سر عزیز کی قسم ۔ بس دو گھنے بلکہ اس سے بھی کم میں جائیں گے۔
بیگم : آخراتنا تیز جانے کی کیا ضرورت ہے کہ ہوا کے گھوڑے پر سوار ہو کر دی جائے ۔
میر صاحب : بھئی تو اس کو میں کیا کروں، کہتے ہیں کہ میں اتنی ہی تیز چلتی ہے بیگم  !
بیگم : اے ہے مجھے تو ہول ہوجائے گی۔
(دروازے پر دستک)
شیخ صاحب (باہر سے ) جناب میر قبلہ صاحب، اب ذرا جلدی ہے۔ وقت قریب ہے۔
میر صاحب : بہت بہتر ، میں تو آپ کا ہی منتظر تھا۔ ابھی آیا۔
بیگم صاحب : اے تو لاو میں امام ضامن باندھ دوں اور ذرا سا دہی چکھ لو ۔ اللہ اصل خیر سے واپس لائے۔
رونس : سرکاردہی مچھلی۔
بیگم : رونق ذرا کشتیاں اٹھا میں امام ضامن باندھ دوں۔
میر صاحب : ہاں ! تو ذرا جلدی کرو بیگم وقت کم ہے۔
بیگنم : اے ایک بھی کیا جلدی کہ اتھ پاؤں پھول جائیں تمہی تو اب تک بیٹھے ہے۔
رونق : لیجیے سر کار یہ بڑی بیگم کے یہاں کی کشتی ہے۔
میر صاحب : ارے صاحب جلدی جلدی۔ رونق پہلے ہار ٹھاؤ۔
رونق : لیجیے۔
بیگم : بسم الشد ( پہناتی ہے )لا و امام مضامین بھی باندھ دوں۔
رونق : لیجیے سرکار۔ ( باندھ کر ) امام ضامن کی ضامنی۔
میر صاحب : اور بھی سب جلدی جلدی سے باندھ دودیر ہورہی ہے۔
بیگم : پھر تم نے ہاتھ پیر چلائے ، لا رونق اور کشتیاں جلدی جلدی اٹھا۔
بیگم : بسم اللہ ۔ اے ہے کہ یہ بیگم کا کار چوب و الامام ضامن کیسا پیارا ہے۔
رونق : سرکار یه شمشاد بہن کے ہاں کا بار دیکھیے گوٹے کا ہے اور امام ضامن بھی اچھا ہے۔
بیگم:او
بیگم : سردار بہن کو تو دیکھو۔ میرا کیا سلک کا امام ضامن بھیجا ہے اور یہ اس میں پہیہ بندھا ہے۔
رونق : نہیں سرکار اشرفی ہے یا شاید ھی ہو۔
بیگم : ہاں یہ ہے امام ضامن - سردار ہی دیکھیں تو دیکھتی رہ جائیں کیا کہتا ہے قمر دین کا۔
میر صاحب : بس صاحب ہوگئے سب امام ضامن۔
بیگم : اے میرا امام ضامن تو بندھوا لو۔
میر صاحب : ہاں صاحب وہ بھی زیادہ ضروری ہے اور ہاں بیگم ایک ایک امام ضامن مرزا صاحب اور شیخ صاحب کو بھی بھجوا دو۔
بیگنم : آب چلے یہ چونچلے لے کر میں اب کہاں سے لاؤں امام ضامن۔
میر صاحب : ارے صاحب سی کپڑے میں ایک ایک روپیہ باندھ دو بس۔
بیگم : اچھا میں ابھی بھیجتی ہوں۔
میر صاحب : اچھا خداحافظ۔
بیگم : الله کی امان امام ضامن کی ضامنی دہی مچھلی۔
رونق : میاں دہی مچھلی۔
میر صاحب : اب تم لوگ ذرا ہٹ جاؤ۔
شیخ صاحب : باہر سے )امی حضرت تشریف لائے۔
میر صاحب : (بھائی اندر آ جاؤ میں تیار ہوں۔
(دروازے سے شیخ صاحب اور مرزاصاحب آتے ہیں ۔ چاپ)
شیخ صاحب : خیر خدا خدا کر کے آپ تیار تو ہوئے۔
مرزا صاحب : اور ذراشان تو دیکھیے معلوم ہوتا ہے دولھا میاں چلے آرہے ہیں۔
شیخ صاحب : خیر دولھا نہ سہی ، حاگی صاحب تو ضرور معلوم ہوتے ہیں ۔ ان ہاروں اورامام ضامنوں میں۔
میر صاحب : بھئی کیا بتاوں عورتیں جو چاہیں بنادیں۔
شیخ صاحب : اچھا تو اب بھی منگوائے نا ایک گھنٹہ باقی رہ گیا ہے۔
میر صاحب : دولت! ارے دولت!
دولت آتا ہے)
دولت : سرکار۔
میر صاحب : دولت۔ سب سامان تیار ہے؟
دولت : جی ہاں! تیار ہے کل تیس عد د ہیں ۔
میر صاحب : تاش کی گڈی، چوسر شطرنج، یہ سب رکھ لیا ہے۔
دولت : جی ہاں سرکار یہ سب چیزیں ہیں مگر
میر صاحب : مگر کیا؟ کچھ بھول گئے تمھارے دماغ میں بھوسا بھرا ہے۔
دولت : میں نے کہا سر کار، بٹیریں حضور کو یاد کریں گی۔
میر صاحب : بٹیریں! خوب یا دولا یا بھائی ان کے کا ایک ساتھ لے لو، ورنہ واقعی ہڑک جائیں گی۔
دولت : بہت اچھا سرکار، لواب بیس عدد ہیں۔
میر صاحب : کوئی پروا نہیں تم اب دو بگھیاں فورأ لے آؤ۔
شیخ صاحب : بہت اچھا سرکار۔(جاتا ہے)
(دروازہ کھلتا ہے، رونق آتی ہے۔)
رونق : سرکار بیگم صاحب نے مرزا صاحب اور شخ صاحب کے لیے امام ضامن بھیجے ہیں اور یہ بہار ، اور کہا ہے کہ جب سے مو بیٹے کو آپ کے سدھارنے کی خبر ہوئی ہے برابر ٹیں ٹیں کر رہا ہے
میر صاحب : ارے بھئی یہ تو بڑی مصیبت ہے۔ واقعی ھو جائے تو سخت پریشان کریں گے سب کو۔
رونق : اے سرکار وہ تو اگر ذرا دیر بھی سرکار کون دیکھے تو آفت مچادیتا ہے۔
میر صاحب : کیا رائے ہے مرزاصاحب ۔ جہاں اتنا سامان ہوا وہاں ایک پنجرہ اور سہی۔
مرزا صاحب : جو رائے عالی ہومگر اتنے سامان کا تو محصول پڑ جائے گا۔
میر صاحب : تو بھی تم ہی بتا کون سی چیز ضرورت سے زیادہ ہے۔ بغیر پان دان کے کام نہیں چل سکتا ۔ بغیر نا شتے دان کے کیسے چل سکتا ہے اور اسی طرح سب چیز میں ضروری ہیں۔
شیخ صاحب : والله معلوم یہ ہوتا ہے کہ ولایت کا سفر ہے۔
مرزا صاحب : اور کیا جتنے آدی والا بیت جاتے ہیں وہ سب طوطے کا پنجرہ اور بٹیر کا کا یک لے جاتے ہیں۔
میر صاحب : تو بھی میں ان بے زبانوں کی جان تو لوں گا نہیں، چاہے کچھ بھی ہو۔
شیخ صاحب : نہیں صاحب۔ ہرگز نہیں ۔ بہر حال اب سامان نکلوانا چاہیے۔ بگھیاں آتی ہی ہوں گی۔
میر صاحب : آپ کو تکلیف کرنے کی کیا ضرورت ہے دولت آنتاہی ہوگا۔
مرزا صاحب : اپنا کام کرنے میں بھی کوئی تکلیف ہوتی ہے۔ یہ آپ نے ایک ہی ہیں ۔واللہ ہے کہ میں سامان نکالتا ہوں۔
میر صاحب : اماں تمھیں میری قسم جو سامان اٹھاؤ۔ بھی کوئی بات ہے۔
(دروازہ کھلتا ہے)
دولت : سرکارنگیاں حاضر ہیں ۔ ایک ایک روپے میں آئی ہیں ۔
میر صاحب : اچھا تو بھی مرز امیں ایک مرتبہ ذرا گھر میں ہواؤں۔
شیخ صاحب : بس تو پھر گاڑی مل چکی۔
میر صاحب : أماں ابھی آیا میں ۔ بس سامان رکھا گیا کہ میں آگیا۔
مرزا صاحب : ہاں ہاں آپ ضرور ہوئیں مگر ذرا جلدی کیجیے۔
میر صاحب : بس میں ابھی آیاتم سامان رکھو اور۔(جاتے ہیں)
مرزا صاحب : دیکھو دولت کوئی چیز نہ رہ جائے۔
دولت : کیا مجال ہے سرکار مگر ایک بگھی میں تو سامان بھی آئے گا۔
مرزا صاحب : بس تو ایک میں ہم سب آجائیں گے۔
شیخ صاحب : مگر یا رطوطے کا پنجرہ اور بٹیروں کے کا بیک میر صاحب کے پاس ہی رکھنا۔
مرزا صاحب : ہاں یہ بھی اچھی دل لگی رہے گی۔
(دروازہ کھلتا ہے)
میر صاحب : ليجیے جناب میں آ گیا۔
مرزا صاحب : بس تو بسم اللہ کیجیے(دولت کو چھینک آتی ہے۔)
میر صاحب : یہ کون تھا؟ دولت نا! لاحول ولاقوة أو بھی مرزاذ را بیٹھ جاو شگون خراب ہوگیا۔ ایک ایک پان کھالو پر چلیں گے۔ اس بدتمیز دولت کو دیکھو کہ اس وقت بدشگونی سوجھی تھی۔
شیخ صاحب : اچھا خیر ایک ایک پان کھا لیے۔
دولت : سرکار پان حاضر ہے۔
میر صاحب : لو بھئی پان کھالو (سب پان کھاتے ہیں) اب اٹھو۔
شیخ صاحب : بسم الد۔
مرزا صاحب : الا اللہ۔
میر صاحب : چل دولت باہر سے سب کو ہٹا دے۔
دولت : حضور باہر کوئی نہیں تشریف لے چلیں۔
: (سب چلتے ہیں ۔ بلّی کی آواز آتی ہے سب رک جاتے ہیں۔)
میر صاحب : ہا کمبخت راستہ کاٹ گیا۔
مرزا صاحب : یہ تو بہت برا ہوا کہ راستہ کاٹ گئی۔
میر صاحب : بس تاردیا جائے ، کہ گاڑی چھوٹ گئی۔
شیخ صاحب : قبلہ عالم کی بھی خبر ہے کہ جہاں آپ کو جاتا ہے وہاں دن بھر میں خدا جھوٹ نہ بلائے تو ہر گھنٹے پرگاڑی چھوتی ہے۔
میر صاحب : أماں تو کچھ اور سوچو۔
شیخ صاحب : تو آخر اس میں کیا مضائقہ ہے کہ آپ اب دوسری گاڑی سے چلیں۔
میر صاحب : بھائی اب بیگم ہرگز نہ جانے دیں گی۔
شیخ صاحب : تو یہ سمجھ لیجیے جائداد کا معاملہ ہے ہیں خدانخواستہ کھٹائی میں نہ پڑ جائے۔
میر صاحب : کیا عرض کروں کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔(رونق آتی ہے)
رونق : سرکار بیگم صاحب کہتی ہیں کہ اب کچھ بھی ہوجائے میں ہرگز نہ جانے دوں گی۔
میر صاحب : ارے صاحب تو میں کہاں جارہا ہوں۔
مرزا صاحب : تواب فرمایئے کس مضمون کا تاردیا جائے۔
میر صاحب : میرے خیال میں تو یہی تاردو کے مجبوراً سفر ملتوی کردیا۔
شیخ صاحب : جناب والا اس کا اثر مقدمے پر کیا پڑے گا؟
مرزا صاحب : مگر بھئی مجبوری کی وجہ سے سفر ملتوی کیا ہے نا۔
شیخ صاحب : کیا مجبوری ہے ہیں تا کہ چند ہم گھیرے ہوئے ہیں۔
میر صاحب : لوٹ آو بھائی صاحب، پیشگون نہایت محسوس ہوتا ہے۔
(دروازہ کھلتا ہے رونق آتی ہے۔)
رونق : سرکار بیگم صاحبہ کہہ رہی ہیں کہ بتی راستہ کاٹ گئی ہے۔ اب میں ہرگز نہجانے دوں گی۔
میر صاحب  : ہے تو واقعی یہ بہت برا مگر مقدمے کا کیا ہوگا؟
رونق : سرکار جائداد آپ پر سے صدقے کی مگر جب مئی راستہ کاٹ جائے تو جانا نہیں چاہیے۔
میر صاحب : واقتعی اب تو میرے قدم بھی نہیں اٹھتے۔
شیخ صاحب : حضرت یہ سب وہم ہیں۔
میر صاحب : ایں بھی یہ کیا کہہ رہے ہو ۔ آماں یہ کیا کہہ رہے ہو، مینی بلی راستہ کاٹ جائے اورتم اس کو معمولی بات سمجھو۔
مرزا صاحب : نہیں صاحب کی کوئی بات نہیں ہے۔ ایسی حالت میں سفر ہرگز نہیں ہوسکتا۔
میر صاحب : بھائی شیخ صاحب میں تم سے سچ کہتا ہوں تمھارے سر عزیز کی فتم ابا جان مرحوم کے ایک دوست گھوڑے پر سوار تھے اور جنگل کا راستہ تھا کہ کئی راستہ کاٹ گئی بس پھر نہ پوچھو گھوڑے کا ایک قدم آگے بڑھنا ہی تھا کہ اس نے ٹھوکر لی اور سوار سر کے بال گرا۔
مرزا صاحب : اے ہے بڑی چوٹ آئی ہوگی ۔ جناب۔
میر صاحب : أماں چوٹ یقین جانو کہ تمام پیشانی لہولہان ہوگئی ۔
شیخ صاحب : اتفاقاً ہوگیا ایسا، یہ کیا ضروری ہے کہ ہر مرتبہ ایسا ہی ہو۔
رونق : اے واہ میاں اللہ نہ کرے ایسا ہومیر اتو سن کر کلیجہ ہی دھڑک رہا ہے۔
میر صاحب : بھئی شیخ صاحب بعض وقت تو تم نہایت تا سمجھی کی باتیں کرتے ہو، گویا یہ شگون اور بدشگونی کوئی چیز ہی نہیں۔
شیخ صاحب : صاحب میں تو ان باتوں کو مل سمجھتا ہوں ۔
مرزا صاحب : بھائی صاحب بیتونہ کہے۔ البیت یہ کہے کہ آپ بھی روشنی کے آدمی ہو کر رہ گئے ہیںأ
میر صاحب : اماں تمھیں میری تم۔ ذرا دیکھوتو شیخ صاحب کی ڈھٹائی کہ بلّی راستہ کاٹ جائے اور یہ شیرڈ ٹا رہے۔
مرزا صاحب : خیر سفر تو میری ناچیز رائے میں مناسب نہیں ہے البتہ خیال ہے تو صرف یہ کہ مقدمے کا کیا ہوگا۔
رونق : اے میاں چولھے میں گیا مقدمہ، اللہ جان سلامتی رکھے تو ایسے ایسے سیکٹروں مقدے ہوں گے ۔
میر صاحب : بھئی واللہ یہ بھی ایک ہی رہی ۔ ماں سنتے ہو مرزا کی رونق کی دعا کہ ایسے ایسے سیکڑوں مقدمے میرے لیے مانگ رہی ہیں۔
رونق : اے توبہ قربان جاؤں مجھے کیا معلوم۔
میر صاحب : تو بھئی مرزااب تم ہی بتاو اس مقدمے کا کیا کیا جائے۔
مرزا صاحب : حضرت میری عقل خود حیران ہے۔
(درواز کھلتا ہے، دولت آتا ہے)
دولت : سرکا ر تو کیا سامان اتار لیا جائے۔
میر صاحب : سامان تو خیر ضرور اترے گا خواہ مقدمہ ر ہے یا جائے ۔
دولت : توسرکار بگھی والوں کو تو کرابی دینا ہی پ ڑے گا۔
میر صاحب : ہاں ہاں تو کس نے کہا ہے کہ نہ دو۔
مرزا صاحب : میری ناقص رائے میں تو حاکم کوتار دے دیا جائے۔
میر صاحب : آخر کیا تاردیا جائے؟
شیخ صاحب : یہی کہ بلّی راستہ کاٹ گئی اور ملازم کو چھینک آگئی۔
میر صاحب : بھئی شیخ صاحب يتم والہ ہے کہ ان باتوں کو پھر ہم کہ رہے ہو یعنی بھی راستہ کاٹ جائے اور وہم۔۔
مرزا صاحب : نہیں صاحب نہیں یہ وہم نہیں بلکہ وقتی احتیاط شرط ہے۔ آخر ہمارے بزرگ کیا کرتے تھے
میر صاحب : میں آپ سے عرض کروں کہ ہمارے بزرگ تو ان ہی خیالات کی وجہ سے سفر کو مناسب نہیں سمجھتے تھے۔
(درواز دکھاتا ہے دولت آتا ہے)
دولت : سرکار سرکار غضب ہوگیا۔ ایک بھی کا گھوڑا بھاگا بھاگا پھر رہا ہے مع تمام سامان کے اور بٹیروں کا کا کیک بھی ایسی بھی پر ہے۔
(مرز اصاحب اور شیخ صاحب دروازہ کی طرف لپکتے ہیں۔)
میر صاحب : الٰہی خیر ! خدا میری بٹیروں کو حفظ و امان میں رکھے ۔ ذرا جلدی دیکھو بھئی ۔آماں ذرا جلدی جاؤ تو۔
رونق : وہ تو مواشگون ہی خراب ہو گیا تھا۔ اس موئے گئے دولت کو بھی اسی وقت چھینک آنا تھا۔
دولت : ذرا بات سنبھالے ہوئے نکٹا میں کیوں ہوتا جو کہے وہ خود اس کی سات پشت
رونق : دیکھیے سرکار یہ موا منھ بھر بھر کر میری پشتوں کو کہہ رہا ہے
میر صاحب : یہ لڑائی کا وقت نہیں ہے خدا کو یاد کرو
رونق : سرکار
دولت : سرکار۔
میر صاحب : چپ رہوسب چپ رہو۔
رونق : سرکار دیکھیے نا یہ موا۔
میر صاحب : خدا کو یاد کرو میری بٹیر میں اس وقت سخت مصیبت میں ہیں۔
(دروازہ کھلتا ہے۔ صاحب اور مرزاصاحب داخل ہوتے ہیں۔)
مرزا صاحب : لیجیے حضرت اپنی بٹیر ہیں، میں نے جاتے ہی گھوڑے کو پکڑ لیا۔
میر صاحب : بھئی واہ کمال کیا ۔ اماں ذرا دیکھو تو پیروں کے دل کیسے دھڑک رہے ہیںمگر اللہ ہے کہ خدا نے ہم لوگوں کو کیسے بچایا شکر ہے ہم بھی پر سوار نہ تھے۔
:
شیخ صاحب : صرف آپ کی صراحی گر پڑی ہے باقی سب خیریت ہے۔
میر صاحب : خیر بھی صرائی گئی تو ، جائے۔ سب کی جانوں کا صدقہ اترا۔
مرزا صاحب : ہاں صاحب، رسیده بود بلا ئے ولے بھی گزشت۔
شیخ صاحب : لاحول ولاقوة کیا ہنگامہ ہوا ہے بیٹھے بٹھائے۔
میر صاحب : ایسا ویسا ہنگامہ ، ذرا میرا کیر تو دیکھو کہ اب تک بے قابو ہے۔ دولت د را شربت انار تیار کر اور بھی مرزا میں ذرائل میں ہو آؤں تا کہ بیگم کو اطمینان ہو۔
مرزا صاحب : تو ہم لوگ اجازت چاہتے ہیں۔
میر صاحب : اچھا بھی خداحافظ ۔
شیخ صاحب : آداب بجالاتا ہوں ۔
مرزا صاحب : تسلیمات عرض کرتا ہوں۔
میر صاحب : خداحافظ - خداحافظ ۔
پیروں کی چاپ دور جاتی سنائی دیتی ہے۔)
شوکت تھانوی
مرزاصاحب میر صاحب شیخ صاحب مرزاصاحب میر صاحب

Khuda Hafiz a drama by Shaukat Thanvi   Chapter 9 NCERT Solutions Urdu
ڈراما
ڈراما یونانی زبان کا لفظ ہے۔ اس سے مراد ہے کر کے دکھاتا ۔ اس میں کرداروں ، مکالموں اور مناظر کے ذریعے سی کہانی کو پیش کیا جاتا ہے۔ قدیم ہندوستان میں بھی اس کی روایت موجود ہے اور اس کو نادیہ کہا جاتا ہے۔
ارسطو نے ڈراما کو زندگی کی نمائندگی (Mimosis) کہا ہے۔ داستان، ناول اور افسانے کے مقابلے میں ڈراما اس لحاظ سے حقیقت سے قریب تر ہوتا ہے کہ اس میں الفاظ کے ساتھ ساتھ کردار، ان کی بول چال اور زندگی کے مناظر بھی دیکھنے والوں کے سامنے آتے ہیں ۔ کرداروں کی ذہنی اور جذباتی کشمکش کو مکا لے اور آواز کے اتار چڑھاؤ کے ذریعے پیش کیا جاتا ہے۔ ڈراما بنیادی طور پر اسنے کی چیز ہے لیکن ایسے بھی ڈرامے لکھے گئے ہیں اور لکھے جاتے ہیں جو صرف شنانے اور پڑھنے کے لیے ہوتے ہیں ۔ ریڈیو کی وجہ سے ڈراموں کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے اور ٹیلی ویژن پر جس طرح کے پروگرام سب سے زیادہ پیش کیے جاتے ہیں، ان کا تعلق بھی کسی نہ کسی طرح ڈرانے ہی کی صنف سے ہے۔
ارسطو نے ڈرامے کے اجزائے ترکی میں ہتھے چیزوں کو ضروری قرار دیا ہے۔ قصہ ، کردار، مکالمہ ، مرکزی خیال ، سجاوٹ اورمنگیت ۔ لیکن ضروری نہیں کہ ہر ڈرانے میں سنگیت یا موسیقی کا عنصر ہو۔ پلاٹ ، کردار، مکالموں اور مرکزی خیال کا ہونا البته ضروری ہے۔ ڈرامے کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اس میں واقعات کی کڑیاں اس طرح ملائی جائیں کہ بتدرتی نقطۂ عروج تکنی لیں اور ناظرین کی توجہ ایک نکتے یا خیال پر مرکوز ہوجائے ۔ اس کے بعد ڈراما انجام کی طرف بڑھتا ہے۔ واقعات سے جو نتیجہ برآمد ہوتا ہے، وہ انجام کے ذریعے پیش کردیا جاتا ہے۔ حق و باطل اور خیر وشر کی کشمش، بنیادی انسانی اقدار اور ساجی قومی اور سیاسی مسائل کوڈراموں میں پیش کیا جاتا ہے۔
شوکت تھانوی
(194ء - 1963ء)
شوکت تھانوی کا اصل نام محمد عمر تھا، وہ اردو کے مشہور مزاح نگار تھے۔ مزاحیہ تحریروں اور ناولوں کے علاوہ انھوں نے ریڈیو کے لیے ڈرامے بھی لکھے ہیں۔ ان کے قلم میں بلا کی روانی تھی۔ روز مر د کی باتوں اور آئے دن پیش آنے والے واقعات کو اس مزے سے بیان کرتے اور ان میں ایسے ایسے دلچسپ نکتے پیدا کر دیتے تھے کہ پڑھنے والا بے اختیار ہنس پڑتا ۔ وہ الفاظ کے استعمال اور جملوں سے بھی بھی پیدا کرتے تھے۔ ووشوی اور ظرافت کے ساتھ اس کا بھی خیال رکھتے تھےکہ تحریر میں تہذیب سے گری ہوئی بات یافتقرہ نہ آنے پائے۔ ان کی جودت ذہین معمولی باتوں کو بھی دلچسپ بنادی تھی ۔
سودیشی ریلی موچ تبسم، طوفان تبسم شیش محل، جوتوز، کارٹون اور قاضی جی وغیرہ ان کی مشہور کتابیں ہیں ۔شوکت تھانوی نے شاعری بھی کی ہے لیکن وہ مزاحیہ شاعری نہیں بلکہ سنجیدہ غزل کیشاعری ہے۔

لفظ و معنی
عذر : بہانہ، کسی کام کو کرنے یا نہ کرنے کی جو وجہ بیان کی جائے (جو جھوئی بھی ہوسکتی ہے اسے غذر کہتے ہیں۔
تبادلۂ خیال : کسی موضوع پر دو یا زیادہ اشخاص کی باہمی گفتگو
خاندانی وضع : خاندانی طورطریقے
سیاحت : ملکوں کی سیر
چشم براه : بہت شد بد انتظار کرنے والا
مضائقہ : حرج ، قباحت
طوالت : لمبائی ، ( محاورتا مشکل)
غریب خانہ : انکسار کے ساتھ اپنے گھر کے لیے کہا جا تا ہے۔
امام ضامن :    وہ روپیہ یا سکہ جو مسافر کے بازو پر حفاظت سے پہنچنے کے خیال سے امام ضامن (امام موسی رضا)کے نام پر باندھا جاتا ہے اور سفر ختم ہونے پر اسے خیرات کر دیا جاتا ہے۔
محصول : ٹیکس، لگان
ملتوی کرنا : کسی کام کو جس وقت ہونا ہے اس وقت اسے نہ کرنے کا فیصلہ کرنا
لہولہان :  خون میں لتھڑا ہوا
مہمل : بے معنی
ناقص : کھوٹا ، عیب دار
رسیدہ بود بلائے ولے بخیر گذشت : (فارسی) ایک مصیبت آتی تھی لیکن خیر یت کے ساتھ ٹل گئی

غور کرنے کی بات
* شوکت تھانوی روز مرہ کی باتوں کو بڑی خوبی سے بیان کرتے ہیں اور اس میں ایسے دلچسپ نکتے پیدا کرتے ہیں کہ قاری بغیر ہنستے ہیں رہ سکتا۔ خدا حافظ ڈراما اس کی بہترین مثال ہے ۔ اس میں زوال آمادہ تہذیب اور نوابین کی معاشرتی زندگی کی ایک جھلک پیش کی گئی ہے۔ . اس ڈرامے میں کچھ تو ہمات کا ذکر کیا گیا ہے جس کا شکار عام انسان آج بھی ہے جیسے سفر میں جانے سے پہلے اگر چھینک آجائے یا بلی راستہ کاٹ جائے تو اسے براشگون سمجھا جاتا ہے - لکھنوی تہذیب کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ سفر پر جانے سے پہلے امام ضامن باندھتے ہیں جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ آپ کو خدا کی حفاظت میں دیا۔ اسی طرح سفر پر جانے سے پہلے دہی چکھنا بھی اچھی علامت سمجھا جا تا ہے ۔ اس کے علاوہ صرانی با کسی برتن کے ٹوٹ جانے کو بھی اچھا سمجھا جاتا ہے اور یہ خیال کیا جا تا ہے کہکوئی بائل گئی۔

سوالوں کے جواب لکھیے 
1. میر صاحب سفر سے پہلے کیوں گھبرارہے تھے؟
جواب: میر صاحب اپنی زندگی میں پہلی بار ریل کا سفر کر رہے تھے اور انہیں ریل کے سفر کا کوئی تجربہ نہیں تھا  اس لئے وہ ریل کے سفر سے پہلے گھبرا رہے تھے۔

2. وہ اپنے ساتھ سفر میں کیا کیا سامان لے جارہے تھے؟
جواب: میر صاحب بستر، تکیے، توشک، چادر، پلنگ پوش، لحاف، مچّھر دانی، قالین، کپڑوں کے دو بکس ،لوٹے، طشت، بٹن دانی، صابن دانی، منجن دانی، تولیے، چائے کے لیے پتیلی،  گلاس، تھالیاں، انگیٹھی، کوئلے کا تھیلا، چائے کے سب برتن، کُشتی، ناشتہ، بیٹریں کا کابُک، طو طے کا پنجرا، میر صاحب اپنے سفر میں یہ سارا سامان لیکر جا رہے تھے۔

3. میر صاحب نے اپنا سفر کیوں ملتوی کر دیا؟


4. میر صاحب کا کردار آپ کو کیساگا مختصر بیان کیجیے۔


عملی کام
اپنے ساتھیوں کی مدد سے ڈرامے کے مکالموں کو ڈرامائی انداز میں پڑھے۔ جو کردار آپ کو پسند آیا ہو اس سے متعلق چند مکالمے خوشخالیے۔

نیچے لکھے ہوئے محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجیے:
* سر کے بال سفید کرنا، کلیجہ ہاتھوں اچھلنا، ہوا سے باتیں کرنا، ڈٹے رہنا، ہاتھ پیر چھولناء الٹے پیروں واپس آنا، ہوا کے گھوڑے پر سوار ہونا، کھٹائی میں پڑتا
نے لکھے ہوئے الفاظ کو موقعوں پر استعمال ہوتے ہیں: ۔ الا اللہ، بسم الله نصیب دشمناں اس ڈرامے میں کچھ تابع مہمل الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۔ تابع مہمل وہ بے معنی لفظ ہوتے ہیں جو بامعنی الفاظ کے ساتھ بطور تا کید یا رابط بولے جائیں۔ جیسے بانس کے ساتھ وانس یہاں دو اس مہمل ہے آپ اس طرح کے کچھ الفاظ سوچ کر لکھیے۔
.

کلک برائے دیگر اسباق

0 comments:

Post a comment

خوش خبری