آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Monday, 6 April 2020

Information Technology - NCERT Solutions Class IX Urdu

Information Technology  Chapter 8 NCERT Solutions Urdu
(اس صفحہ پر ابھی کام جاری ہے)
انفارمیشن ٹیکنالوجی
(INFORMATION TECHNOLOGY)

انفارمیشن کا مطلب ہے اطلاعات ۔ ایک وقت تھا جب کہا جاتا تھا کہ جو جس قدر جانتا ہے اتنا ہی مزے میں ہے لیکن آج معاملہ اس کے برعکس ہے لیکن جو جس قدر کم جانتا ہے اتنا ہی گھاٹے میں ہے۔ یہ اکیسویں صدی ہے جسے انفارمیشن ٹیکنالوی‘‘ کی صدی کہا جاتا ہے۔ یہاں زیادہسے زیادہ جانے والا ہی فائدے میں ہے۔ اس کی وجہ انسانی نفسیات ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ انسان میں جس کا مادہ ہے وہ ہر آن کچھ کرنا اور ہونا چاہتا ہے۔ اسی بس نے ایک ایسی ایجادات کرائیں کہ سائنس اورٹیکنالوجی کے اس دور میں بھی ان پر غور کریں تو عقل دنگ رہ جاتیہے۔ ہم ایک باخبر اور ترقی یافتہ معاشرے میں سانس لے رہے ہیں۔ ہر پل ہر کی کوئی کوئی خبر یا اطلا ع میں ملتی رہتی ہے۔
ذرا غور کیجے کہ ابتدائی انسان نے بے خبری با اعلمی کی زندگی کس طرح گزاری ہوگی۔ دیوانوں کی طرح ادھر سے ادھر دوڑتا پھرتا ہوگا۔ اس کیفیت میں ذرا سی آہٹ ، انسانی یا حیوانی چ اور دھماکے سے اس کے پورے بدن میں سنسنی دوڑ جاتی ہوگی ۔ اس کی آنکھیں جن چیزوں کے دیکھنے کی عادی ہوگئی ہوں گی ، اس کے کان جن آوازوں سے مانوس ہو چکے ہونگے، ان سے ہٹکر جو کچھ نظر آیا ہوگا اس نے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھا ہو گا ۔ جب پہلی مرتبہ ایک ڈھلان سے پڑھاتا ہوا گول کر اس کے سامنے آیا تو اس کی حرکت اور رفتار نے اسے کچھ کرنے پر اکسایا۔ بھر کے اس لڑ کے، چنے اور گھومنے کے عمل نے اسے سوچنے پر مجبور کیا اور پھر اسی واقعہ سے پیسے کی ایجاد ہوئی اور انسان بے خبری کی دنیا سے باہر آیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے انسان پتھر کے عہد سےنواۓ اردو دست کاری اور پھر مشینی عبد میں پہنچ گیا۔ طرح طرح کی ایجادات نے باخبر اور مہذب معاشرہ میں رہنے کی تحریک دی۔ چنانچہ ہاتھ سے چلائی جانے والی مختلف کاموں کی مشینیں وجود میں آئیں ۔ کاغذ اور چھپائی کی مشین ( پرنٹنگ پرلیں) کی ایجاد نے انسان کو پوری دنیا سے باخبر رہنے اور اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کا وسیله فراہم کیا۔ کتابیں ، جرائد اور اخبارات نے خبروں کی فراہمی اور خبر رسانی کے مشکل عمل کو رفته رفته آسان سے آسان تر بنادیا۔
انسان ہمیشہ سے خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہا ہے۔ اسی تلاش اور تھو سے ٹیلی گراف، ٹیلی فون، وائرلیس، ریڈیو ٹرانسسٹر سیٹامنٹ ، ٹیکس نفیس کمپیوٹر پیر کیبل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ جیسی ایجادات سامنے آئیں۔ اب اطلاعات خبروں کی فراہمی اورخبر رسانی کا دنیا بھر میں ایک جال بچھ گیا ہے۔ 1830 ء میں ٹیلی گراف اور 1876ء میں ٹیلی فون کی ایجاد کے وقت موجدوں نے ہی تو ضرور سوچا ہوگا کہ ہماری ایجادات آئندہ زمانے میں اضانے اور تبدیلیوں کے ساتھ دنیا کی گراں قدر خدمت انجام دیں گی لیکن انھیں یہ خیال نہیں آیا ہوگا کہ سو ڈیڑھ سو برس بعد خبر یا پیام رسانی کا ایک ایسا مضبوط اور مربوط نظام وجود میں آئے گا جو اس وسیع وعریض دنیا کو سمیٹ کر رکھ دے گا اور جسے انفارمیشن ٹیکنا لو بتی کا نام دیا جائے گا۔
آج گھر کے ایک گوشے میں میز پر رکھا ہوا ٹیلی ویژن یا کمپیوٹر میں دنیا بھر کے معاملات سے ہر پل، باخبر کرتا رہتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت 24 گھنٹے سات سمندر پار کی بڑی سے بڑی اور چھوٹی سے چھوٹی خبریں، اطلاعات اور پیغامات پلک جھپکتے ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر جاتی ہیں ۔ فوری ترسیل کے اس عمل کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس اطلاعاتی تکنیک کو ٹیلی ویژن اور کمپیوٹر نے فروغ دیا۔ یی خبر جو پہ کان کے پردے سے دماغ تک جاتی تھی اب اسکرین پر نظر آئے گی ۔ انسانی ذہن نے اسی پر اکتفانہیں کیا بلکہ ٹیلی ویژن اور کمپیوٹر کے اسکرین کو ایسے پر عطا کیے کہ دنوں کا فاصلمحوں میں طے ہونے لگا ۔ تیز رفتاری اورانفارمیشن ٹیکنالویی بروقت عمل ترسیلنے دنیا کو ایک عامی گاؤں (Global Village) بنا دیا ہے۔
(1) ٹیلی ویژن(Television)
دنیا میں چند ہی لوگ ایسے ہوں گے جو ٹیلی ویژن سے واقف نہ ہوں ۔ دن بھر میں ان گنت بار یہ نام زبان پر آتا ہے۔ ٹیلی اور ویژن دو الگ الگ زبانوں کے لفظ ہیں ٹیلی (Tele) یونانی لفظ ہےجس کے معنی ہیں فاصلے سے یا دور سے ۔ 'ویژن لا طینی زبان سے لیا گیا ہے اس کے معنی ہیں دیکھنا یا نظر آنا ۔ اس طرح ٹیلی ویژن کے مجموعی معنی ہوئے دور یا فا صلے سے دیکھنا یا نظر آ نلعام آدمی کے لیے سنیم بڑا پرده (Big Seren) ہے اور ٹیلی ویژن چھوٹا پردہ Small Screen) ہے لیکن ٹیلی ویژن کا یہ چھوٹا پردہ سنیما کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور مفید ہے۔ سنیما کی دنیا محدود ہے اور ٹیلی ویژن کی لامحدود سنیما ہال میں مقررہ وقت میں ایک ہی فلم ون کے مختلف حصوں میں دیکھےسکتے ہیں جبکہ ٹیلی ویژن کے ان گنت چیلوں میں ریموٹ کا بٹن دباتے ہی پینل بدل جاتا ہے۔ اسی طرح چینل بدل بدل کر نفر بیگی سیر میز مختلف موضوعات پر ترتیب دیئے گئے پروگرام یا خبریں 24 گھنٹے دیکھ سکتے ہیں ۔ تکنیک کے اعتبار سے ٹیلی ویژن ، ریڈ لیوکی اس کی ترقی یافتہ شکل ہے جسے ہمسنتے ہی نہیں کی بھی سکتے ہیں ۔ ٹیلی ویژن آج کل زندگی کی ضرورت بن گیا ہے۔ اس کے متعدد چین خبروں اور معلومات سے بھر پور پروگرام پیش کرتے ہیں لیکن ایسے پیار جوصرف سیر میز اور تفریحی پروگرام پیش کرتے ہیں اس کے افادی پہلو پر غالب آ گئے ہیں۔

(ii) کمپیوٹر (Computer)
اگلے وقتوں کی کہانیوں میں ایک کہانی الہ دین اور جادوئی چراغ ہے۔ الہ دین جب جب اس چراغ کو رگڑ نا تو ایک جن برآمد ہوتا اور کہتا کیا حکم ہے میرے ...بیسویں صدی کی ایجاد کمپیوٹر بھی ایک دن کی طرح ہے جو ہر وقت انسانی احکام کا تابع نظر آتا ہے۔ کمپیوٹر این مشینی
نواۓ روو آلہ ہے جو قل سے عاری ہے کرگل میں ہزاروں جنتوں پر بھاری ہے ۔ کمپیوٹرالیکٹریکس کی دین ہے جس نے ہماری زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ کمپیوٹر کا بنیادی مقصد ہرطرح کی معلومات کو کیا کرتا اور انھیں ترتیب دیا ہے۔
لاطینی زبان کا ایک لفظ کپیٹیز ہے جس کے معنی ہیں اعداد و شمار (Data) کا حساب کتاب کرنا۔ مہی لا طینی لفظ اب کمپیوٹر کی شکل میں اس الیکٹرونک ایجاد کا نام ہے۔

(ii) انٹرنیٹ Internet)
انٹرنیٹ کمپیوٹر کے کسی ایک عمل یا طریقہ کار کا نام ہیں۔ انٹرنیٹ کا تعلق ایک سے زائد کمپیوٹروں سے ہے۔ جب ایک کمپیوٹر کو کسی دوسرے کمپیوٹر سے جوڑا جاتا ہے تو دونوں ایک دوسرے کی معلومات، اعداد وشمار اور پروگرام کی فائلیں ایک سے دوسرے میں منتقل کر سکتے ہیں ۔ اسی طرح دو سے تین اور تین سے چار اور ان گنت کمپیوٹروں سے رابطے کا عمل نیٹ ورک کہلاتا ہے۔ نیٹ ورک چھوٹے پیا نے پرایک دفتر یا ایک ادارے میں ہوسکتا ہے اسے لوکل ایریا نیٹ ورک کہتے ہیں لیکن جب اسی نیٹ ورک کو وسیع پینے پر اس طرح استعمال کیا جا تا ہے کہ پوری دنیا کے کمپیوٹر باہم مربوط ہو جائیں تو یہ طریقہ کار وائڈ ایریا نیٹ ورک‘‘ کہلاتا ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ انٹرنیٹ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے نیٹ ورکس (Networks) کا نیٹ ورک (Network) ہے جس کے ذریعے پوری دنیا میں کمپیوٹر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں ۔ اس عامی انٹرنیٹ کو انفارمیشن سپر ہائی وے (لین معلومات کی شاہراہ کا نام دیا گیا ہے۔
انٹرنیٹ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ گھر بیٹھے دنیا بھر کی معلومات کم وقت اور کم خرچ میں حاصل ہوسکتی ہیں ۔ اپنے کمپیوٹر نیٹ ورک کے ذریعے دنیا بھر میں چھلے ہوۓ عزیز و اقارب سے بات چیت کر سکتے ہیں تعلیم ، کاروباری صحت اور بیماری سے متعلق مشورے دستیاب ہو سکتے ہیں۔ سفر اورطریقه سفر کے لیے انٹرنیٹ ایک رہبر کا کام انجام دیتا ہے۔ انٹرنیٹ کے وسیلے سے آپ دنیا انفارمیشن ٹیکنالوجی گھر سے بھی یا تجارتی اشیا کا آرڈر دے کر انھیں گھر بیٹھے حاصل کر سکتے ہیں ۔ دنیا بھر کے اخبارات اور رسالوں کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔
درحقیقت انٹرنیٹ نے دنیا کے مختلف حصوں میں رہنے والے افراد کو ایک چھوٹی عائمی برادری میں بدل دیا ہے۔ اب ایک جیسی دپی رکھنے والے انٹرنیٹ کے توسط سے بآسانی یکساں پی رکھنے والوں سے رابط قائم کر سکتے ہیں۔

(iv) ای - میل (Electronic Mail)
ای۔ میل الیکٹرانک میل کا مختصر نام ہے۔ اس سے مراد ہے برقی تاروں کے ذریعے پیغام رسانی ۔ آپ دنیا کے کسی بھی حقے میں پیغام یا اطلاع جینے کے لیے ڈاک تار یاٹیلی فون کا استعمال کرتے ہیں ۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ نے اس پیغام رسانی کے کام کو آسان اور تیز رفتار بنادیا ہے۔ آپ کے پاس کوئی بھی کمپیوٹر ہو اور وہ نیٹ ورک سے جڑا ہو تو آپ اپنا پیغام، اطلاع یا خبر کمپوز کریں۔ جب آپ کمپیوٹر کے ذریعے ای میل بھیجتے ہیں تو یہ براہ راست نہیں پہنچتا بلکہ آپ کا پیغام پہنچنے کے لیے متعلقه تش اور اس کے ای میل کا پہ پوز کیا جا تا ہے۔ آپ نے کسی ای میل میں اس طرح دیکھا ہوگا۔ جیسے abe
@ gel . net . in یہاںabc اس شخص یا ادارے کا نام ہے جسے ای میل بھیجا گیا ہے یا علامت ہے ای میل کی "sel د ادارہ ہے جوای میل انٹرنیٹ سروس فراہم کر رہا ہے۔ اس کے بعد اس ملک کا مختصر نام جہاں پیغام بھیجا جارہا ہے۔ مثلا انڈیا کے لیے ای میل نہ تو ڈاک ہے نہ ہی ٹیلی فون کال ۔ یہ ایک نیا مواصلاتی نظام ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ڈاک کے خطوں کے مقابلے میں انتہائی تیز رفتار اور سستا ہے۔ اس کے لیے پوسٹ مین کی آمد پاٹیلی فون کی گھنٹی بجانے کا انتظارنہیں کرنا ہوتا ۔ خط کھول کر کسی دوسرے شخص کے پڑھنے یا ڈاک کی گڑ بڑ یا دوسرے شخص کا فون سننے کا خدشہ بھی نہیں ہوتا ۔ آپ جسے
نواۓ اردو ای میل بھیج رہے ہیں وہ اپنے کمپیوٹر پر کسی بھی وقت ای - میل کھول کر پڑھ سکتا ہے اور اسی طرح اگلے لمحے جواب دے سکتا ہے۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی بنیادی طور پر کپیوٹر کی دین ہے۔ کمپیوٹر، جس کے متعلق کسی نے کہا تھا کہ اکیسویں صدی میں کمپیوٹر سے جولوگ دور رہیں گے ان کا شمار جاہلوں میں ہوگا ۔
Information Technology  Chapter 8 NCERT Solutions Urdu
مشق
لفظ ومعنی:
تجسس : کھوج، جانے کی خواہش
سانحہ : صدمہ پہنچانے والا واقعہ، حادثہ
لاعلمی : بے خبری کسی بات کا نہ جاننا
وسیلہ : ذریعہ ، واسط، سبب
فراہم کرنا : اکٹھا کرنا
موجد : ایجاد کرنے والا
گراں قدر : انتہائی قیمتی
مربوط : باہم تعلق رکھنے والا ( تحریر خیال، بیان، چیز یں، جن میں آپسی تعلق ہو)
نظام : انتظام، بندوبست
مواصلات : ایک جگہ سے دوسری جگہ خبریں یا اطلاعات پہنچانا یا لے جانے کے ذرائع
اشتراک : ساجھا، حصہ داری
أحكام : حکم کی جمع
طابع : ماتحت، فرماں بردار مطيع
عاری : خالی ، یعنی کسی چیز کے نہ ہونے کی حالت
سازگار : موافق ، مناسب، موزوں
نکات : نکتہ کی جمع، بار یک باتیں
نجی : ذاتی
غور کرنے کی بات
* اس مضمون کی ابتدا میں قدیم دور کے انسان کی زندگی پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ آج کے انسانکے مقابلے میں وہ کس قدر کم باتیں جانتا تھا۔ پینے کی ایجاد نے ایک انقلاب برپا کیا۔ پہیے کی بدولت مشینیں ایجاد ہوئیں ۔ پھر بھی سامنے آئی تو مشینیں ہاتھ کے بجائے بجلی سے چلنے گئیں۔ اخبار، رسالے اور کتابیں شائع ہونے لگیں اور اس طرح ایک خطہ کا انسان زمین
کے دوسرے خطے پر رہنے والے افراد سے واقف ہونے لگا۔ ان ایجادات نے انسان کو مزید غور وفکر اور خوب سے خوب تر کی تلاش پر آمادہ کیا ۔ یہ ایجادات موجودہ مواصلاتی نظام کی پہلی سیڑھی ہیں۔ . انیسویں صدی میں صنعتی انقلاب کے بعد سائنس اور ٹکنالوجی کے ذریعے سائنس دانوں نے ایسے آلات ایجاد کیے جو کم وقت میں زیادہ سے زیادہ کام انجام دیئے گئے ۔ مثلا تیز رفتار ریل گاڑیاں، کاریں، جہاز، راکٹ خلائی مہمات میں کام آنے والے جہاز ، اطلاعات فراہم کرنے والے ٹیلی گراف ٹیلی فون وغیرہ۔ . بیسویں صدی میں ریڈیو، ٹیلی ویژن اور کمپیوٹر نے کائنات سے متعلق انسانی معلومات میں
اضافہ کیا ۔ خاص طور پر کپیوٹر نے سوچنے کا ڈھنگ بدل دیا۔ یہی ہے کہ کمپیوٹر انسان کی طرح سوچنے اور غور کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا لیکن انسان سے کہیں زیادہ تیز رفتاری سے اپنا کام انجام دیتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک درمیانے سائز کا کمپیوٹر ایک سیکنڈ میں تقریباً
آوا
رو و
ایک مین احکامات پر عمل کر سکتا ہے جبکہ اسی کام کو کرنے میں ایک انسان کو پورا ایک سال چاہیے۔ اور وہ بھی دن رات اسی کام میں مصروف رہے تب۔

سوالوں کے جواب لکھیے:
1. ابتدائی دور کے انسان کی زندگی کیسی تھی؟

2. آج کے عہد کو انفارمیشن ٹیکنا لو جی کی صدی کیوں کہا گیا ہے؟

3. ہماری زندگی میں ٹیلی ویژن کی کیا اہمیت ہے؟

4 کمپیوٹر نے ہماری زندگی کے ہر شعبہ کس طرح متاثر کیا ہے۔ تفصیلسے لکھیے۔

5. انٹرنیٹ کے کیا فائدے ہیں؟

6. ای - میل سے کیا مراد ہے؟

عملی کام
*  انٹرنیٹ کی مدد سے اردو شاعروں اوراد بچوں کے بارے میں معلومات حاصل کیجیے۔
*  انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی کے بارے میں مختصر نوٹ لکھیے۔

کلک برائے دیگر اسباق

0 comments:

Post a comment

خوش خبری