آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Sunday, 19 April 2020

Khushhaal Nama - Nazeer Akbarabadi

خوشحال نامہ
نظیر اکبر آبادی

جوفقر میں پورے ہیں وہ ہر حال میں خوش ہیں 
ہر کام میں ہر دام میں ہر جال میں خوش ہیں
 گرمال دیا یار نے  تو مال میں خوش ہیں
 بے زر جو کیا تو اسی احوال میں خوش ہیں
اجلاس میں اد بار میں اقبال میں خوش ہیں
پورے ہیں وہی مرد جو ہر حال میں خوش ہیں

 چہر ے پہ ملامت نہ جگر میں اثر غم 
ماتھے پہ کہیں چین  نہ ابرو میں کہیں خم
 شکوہ نہ زباں پر نہ کبھی چشم ہوئی نم
غم میں بھی وہی عیش الم میں بھی وہی دم
ہر بات ہر اوقات ہرا فعال میں خوش ہیں
پورے ہیں وہی مرد جو ہر حال میں خوش ہیں

گر اس نے دیاغم تواسی غم میں رہے خوش
اور اس نے جو ماتم د یا ماتم میں رہے خوش 
کھانے کو ملاکم تو اسی کم میں رہےخوش
جس طور کہا اس نے اس عالم میں رہے خوش
دکھ درد میں آفات میں جنجال میں خوش ہیں
پورے ہیں وہی مرد جو ہر حال میں خوش ہیں

جینے کانہ اندوه نہ مرنے کا ذرا غم
یکساں ہے انہیں زندگی اور موت کا عالم 
وا قف نہ برس سے نہ مہینے سے وہ اک دم 
نہ  شب کی مصیبت نہ کبھی روز کا ماتم
دن رات گھڑی پہر مہ و سال میں خوش ہیں
پورے ہیں وہی مرد جو ہر حال میں خوش ہیں

قشقے کا ہوا حُکم تو قشقہ وہیں کھینچا
جُبّےکی رضا دیکھی توجُبّہ و ہیں پہنا
آزاد کہا ہو تو و ہیں سر کو منڈایا 
جو رنگ کہا اس نے وہی رنگ  رنگا یا
کیا زرد میں کیا سبز میں کیا لال میں خوش ہیں
پورے ہیں وہی مرد جو ہر حال میں خوش ہیں

0 comments:

Post a comment

خوش خبری