آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Saturday, 18 April 2020

Ishq Phir Rang Woh Laya Hae Ke Ji Jane hae - Nazeer Akbarabadi

غزل
نظیر اکبر آبادی

عشق پھر رنگ وہ لایا ہے کہ جی جانے ہے 
دل کا یہ رنگ بنایا ہے کہ جی جانے ہے 

ناز اٹھانے میں جفائیں تو اٹھائیں لیکن 
لطف بھی ایسا اٹھایا ہے کہ جی جانے ہے 

زخم اس تیغ نگہ کا مرے دل نے ہنس کر 
اس مزے داری سے کھایا ہے کہ جی جانے ہے 

اس کی دزدیدہ نگہ نے مرے دل میں چھپ کر 
تیر اس ڈھب سے لگایا ہے کہ جی جانے ہے 

بام پر چڑھ کے تماشے کو ہمیں حسن اپنا 
اس تماشے سے دکھایا ہے کہ جی جانے ہے 

اس کی فرقت میں ہمیں چرخ ستم گار نے آہ 
یہ رلایا ،یہ رلایا ہے کہ جی جانے ہے 

حکم چپی کا ہوا شب تو سحر تک ہم نے 
رتجگا ایسا منایا ہے کہ جی جانے ہے 

تلوے سہلانے میں گو اونگھ کے جھک جھک تو پڑے 
پر مزا بھی وہ اڑایا ہے کہ جی جانے ہے 

رنج ملنے کے بہت دل نے سہے لیکن نظیرؔ 
یار بھی ایسا ملایا ہے کہ جی جانے ہے

0 comments:

Post a comment

خوش خبری