آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Tuesday, 28 April 2020

Sheikh Ibrahim Zauq

شیخ ابراہیم ذوق

 اصل نام  محمد ابرہیم تھا ذوق دہلوی کے نام سے مقبول ہوئے۔آپ ایک قصیدہ گو شاعر تھے۔آپ کے والد کا نام  محمد رمضان تھا۔  شاہ نصیر دہلوی، غلام رسول شوق سے شرف تلمذ حاصل کیا۔ دیباچہ دیوان ذوق مرتب آزاد دہلوی کے مطابق ذوق کی تاریخ ولادت22 اگست 1790ء ہے۔ آپ دہلی میں پیدا ہوئے اور دہلی میں ہی16نومبر 1854  بروز جمعرات وفات پائی۔ تکیہ میر کلو، قطب روڈ ، دہلی میں تدفین عمل میں آئی۔
 ذوق کی اہم تصانیف میں بارہ ہزار ۱۲۰۰۰ اشعار پر مشتمل ایک دیوان ہے۔
ایک نا تمام مثنوی نالۂ جہاں سوز یادگارہے ۔
کہتے ہیں کہ ذوق جب تک زندہ رہے ان کے سامنے کسی اور شاعر کا چراغ نہ جل سکا۔ ذوق اپنے عہد کے سب سے مقبول شاعر تھے اور عوامی مقبولیت میں انہوں نےغالب اور مومن جیسے عظیم شاعروں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ ذوق بچپن ہی سے شعر وسخن کا ذوق رکھتے تھے ۔ فطری مناسبت اور کثرت مشق کی بدولت چند ہی دنوں میں مشہور و ممتاز ہو گئے ۔ ذوق کو آخری مغل بادشاہ  بہادر شاہ ظفر کا بھی استاد ہونے کا شرف حاصل تھا۔۔ذوق کو عربی، فارسی کے علاوہ شعرو سخن، علومِ موسیقی ، نجوم ، طب، تعبیرخواب،قیافہ شناسی ، وغیرہ پر کافی دسترس حاصل تھی۔ نہایت ذہین تھے۔ حافظہ قوی تھا۔ طبیعت میں جدت و ندرت تھی۔ ذوق کی یہ شہرت بہت زیادہ دنوں تک قائم نہ رہ سکی اور بعد میں غالب اور مومن کا نام ان سے پہلے لیا جانے لگا۔
ذوق قصیده و غزل کے استاد تھے۔ وہ زبان کے بہت بڑے جوہری اور صنّاع تھے۔ نشست الفاظ، زبان کی صفائی اور پاکیزگی محاورات ، اور امثال کے استعمال میں ان کا جواب نہیں تھا۔ الفاظ کا محل استعمال فن عروض سے کما حقہ واقفیت ، زور تخیل اور بلندی مضامین ، موسیقیت اور غنائیت ان کے کلام کی خصوصیات ہیں ۔ غزلیات میں مختلف شعراء کا رنگ موجود ہے۔ میر درد، جرأ ت ، شاہ نصیر، سودا سبھی کا رنگ نمایاں ہے۔ رعایت لفظی، فن زبان محاورہ اور ضرب المثل کا پورا پورا التزام ہے۔ قصیدے کے وہ بادشاہ ہیں ۔ ان کی وسعت معلومات اورمختلف علوم سے ان کی واقفیت کا اندازہ ان کے تقصیدوں سے  ہوتا ہے۔ زبان کی صفائی تراکیب کی چستی اور نشست الفاظ میں ان کا جواب نہیں۔ ان کے کلام میں حسن و عشق  کے ساتھ ہی اخلاقی و صوفیانہ مضامین بھی  موجود ہیں۔
 نمونہ کلام : 
اگر یہ جانثے چُن چُن کے ہم کوتوڑیں گے
 توگل کبھی نہ تمنائے رنگ و بو کرتے
بقول آزاد انتقال سے تین گھنٹے قبل یہ شعر کہا:
کہتے ہیں ذوق آج جہاں سے گزر گیا
کیا خوب آدمی تھا خدا مغفرت کرے

ذوق کی ایک اور غزل
لائی حیات ا،ئی قضا لے چلی چلے

0 comments:

Post a comment

خوش خبری